Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 148

148 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا السري بن يحيى ثنا عثمان بن زفر ثنا يعقوب القمي عن جعفر عن سعيد بن جبير في قوله : ـ { كان من الجن } قال : كان من الجنانين الذين يعملون في الجنة قال الحليمي رحمه الله : ثم إن الملائكة يسمون روحانيين ـ بضم الراء و سمى الله عز و جل جبريل عليه السلام الروح الأمين و روح القدس و قال : { يوم يقوم الروح و الملائكة صفا } فقيل : إن المراد به جبريل عليه السلام و قيل : إنه ملك عظيم سوى جبريل يقوم وحده صفا و الملائكة صفا و من قال هذا قال : الروح جوهر و قد يجوز أن يؤلف الله سبحانه أرواحا فيجسمها و يخلق خلقا ناطقا عاقلا و قد يجوز أن تكون أجسام الملائكة على ما هي عليه اليوم مخترعة كما اخترع عيسى و ناقة صالح عليهما السلام و قال بعض الناس إن الملائكة روحانيون ـ بفتح الراء ـ بمعنى أنهم ليسوا محصورين في الأبنية و الظلل و لكنهم في فسحة و بساطة و قد قيل إن ملائكة الرحمة هم الروحانيون و ملائكة العذاب هم الكروبيون فهذا من الكرب و ذاك من الروح و الله تعالى أعلم قال البيهقي رحمه الله : و ذكر وهب بن منبه أنبأ الكروبيين سكان السماء السابعة يبكون و ينتحبون و قد ذكرنا الأخبار التي وردت في تفسير الروح و الملك الذي يسمى روحا في الثالث عشر من كتاب الأسماء و الصفات و قد تكلم الناس قديما و حديثا في المفاضلة بين الملائكة و البشر فذهب ذاهبون إلى أن الرسل من البشر أفضل من الرسل من الملائكة و الأولياء من البشر أفضل من الأولياء من الملائكة و ذهب آخرون إلى أن الملأ الأعلى مفضلون على سكان الأرض و لكن واحد من القولين وجه

ہمیں خبر دی ہے ابو اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے سری بن یحییٰ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن زفر نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب قمی نے جعفر سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : ( کان من الجن ) ( کہف ۵۰) کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔ فرمایا کہ ان جنوں میں سے تھا جو جنت میں کام کرتے تھے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ملائکہ روحانیین نام رکھے گئے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جبرائیل کا نام بھی روح الامین ۔ اور روح القدس رکھا ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ( ہوم یقوم الروح و الملائکۃ صفا) ( النساء ۳۸) جس دن روح اور فرشتے بحالت صف کھڑے ہوں گے ۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جبرائیل ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ جبرائیل نہیں بلکہ وہ کوئی اور بڑا فرشتہ ہے وہ اکیلا بحالت صف کھڑا ہوگا۔ اور دیگر ملائکہ الگ صف میں جنہوں نے یہ بات کہی ہے وہ کہتے ہیں وہ روح جوہر ہے اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کئی کئی روحوں کو مرکب کر کے ان کو ایک جس بنا دے اور ایک ناطق اور عاقل مخلوق بنادے اور ممکن ہے کہ ملائکتہ اجسام ہوں جس حالت پر آج ایجاد شدہ ہیں جب عیسیٰ علیہ السلام او صالح علیہ السلام کی اونٹنی اختراع کئے گئے تھے ۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ ملائکہ روحانیین ہیں ( را کی زبر کے ستھ ) بایں معنی کہ وہ مکانوں اور سائیوں میں محصور میں ہیں بلکہ فضا اور فراخی میں ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رحمت والے فرشتے روحانی میں اور عذاب والے فرشتے کربی ہیں یہ کرب سے بنا ہے اور وہ روح سے بنا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہب بن منبہ نے ذکر کیا ہے کہ کربی ساتویں آسمان پر رہنے والے ہیں روتے ہیں اور نوحہ اور بین کرتے رہتے ہیں ۔ ( یعنی اللہ کے خوف سے ) ہم نے اپنی کتاب الاسماء و الصفات کے تیرہ نمبر پر وہ تمام روایات ذکر کی ہیں جو روح اور ملک کے تفسیر کے بارے میں جنہیں روح کہا جاتا ہے وارد ہوئی ہیں ۔ نئے اور پرانے زمانے سے لوگوں نے فرشتوں کے اور انسانوں کے مابین فضیلت کے بارے میں کلام کیا ہے کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں ۔ انسانوں میں سے جو رسول ہیں اور وہ ان رسولوں سے افضل جو فرشتوں میں سے ہیں اور انسانوں میں سے جو اولیاء ہیں وہ ان اولیاء سے افضل ہیں جو فرشتوں میں سے اولیاء ہیں اور کچھ دوسرے لوگ اس طرف گئے ہیں کہ ملاء الاعلیٰ جملہ اہل زمین سے افضل ہیں اور سب کے پاس اپنے اپنے قول کی دلیل موجود ہے ۔

الحليمي ثم ← كان من الجنانين الذين يعملون في الجنة ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ ← جَعْفَرٌ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 148

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 149

149 - و قد أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو زرعة الرازي حدثنا هشام بن عمار ثنا عبد ربه بن صالح القرشي ثنا عروة بن رويم عن الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله آدم عليه السلام و ذريته قالت الملائكة يا رب خلقتهم يأكلون و يشربون و ينحكون و يركبون فاجعل لهم الدنيا و لنا الآخرة فقال الله تبارك و تعالى : لا أجعل من خلقته بيدي و نفخت فيه من روحي كمن قلت له كن فكان قال البيهقي رحمه الله و قال فيه غيره عن هشام بن عمار بإسناده عن جابر بن عبد الله الأنصاري و في ثبوته نظر و من قال في الملائكة هم قبيلان أشبه أن يقول في هذا : أراد القبيل الذي كان منهم إبليس دون الملأ الأعلى و هم الأشراف و العظماء و الله تعالى أعلم و روينا عن عبد الله بن سلام أنه قال : إن أكرم خليقة الله تعالى على الله سبحانه أبو القاسم صلى الله عليه و سلم قال بشر قلت رحمك الله فأين الملائكة قال : فنظر إلي و ضحك فقال : يا ابن أخي ! و هل ما تدري ما الملائكة إنما الملائكة خلق كخلق الأرض و خلق السماء و خلق السحاب و خلق الجبال و خلق الرياح و سائر الخلائق و إن أكرم الخلائق على الله تعالى أبو القاسم صلى الله عليه و سلم و ذكر الحديث

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوذرعہ رازی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدربہ بن صالح قرشی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عروہ بن رویم نے انصاری سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اس کی اولاد کو بھی تو فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے انہیں پیدا تو فرمایا ہے وہ کھائیں گے اور پئیں گے شادی بیاہ کریں سواری کریں گے لہذا آپ دنیا کو ان کے لئے خاص کر دیں اور آخرت کو ہمارے لئے مخصوص کر دیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں ایسا نہیں کروں گا ان کے لئے جن کو میں اپنے ( بے مثال ) ہاتھ سے پیدا کیا اور جس میں ، میں نے اپنی ( بے مثال ) روح پھونک دی ۔ ( ان جیسا نہیں کروں گا ) جن کو میں نے کن کہا اور وہ ہو گئے ۔ ( یعنی انسانوں کو تمہارے برابر نہیں کروں گا ۔ ) امام بیہقی نے فرمایا : ابو طاہر اور ابو حامد کے علاوہ دیگر لوگوں نے ہشام بن عمار سے اس کی اسناد کے ساتھ جابر بن عبداللہ انصاری سے ( ہی کچھ ) کہا ہے مگر اس کے ثبوت میں نظر ہے ۔ جنہوں نے ملائکہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ دو قسم ہیں انہوں نے زیادہ بہتر بات کہی ہے اس میں سے جو اس بارے میں کہی جا سکتی ہے ۔ اور انہوں نے اس قسم سے جس میں سے ابلیس ہے ان سے کم تر مراد لی ہے جو ملاء الاعلیٰ میں ہیں کیونکہ وہ زیادہ شرف اور عزت والے ہیں ۔ اور ہم نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نزدیک ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں بشر کہتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ ان کے اوپر رحم فرمائے ، فرشتے کہا گئے ؟ یعنی ان کا مرتبہ کہاں گیا ؟ تو عبداللہ بن سلام نے میری طرف غور سے دیکھا اور ہنس پڑے اور فرمانے لگے اے بھتیجے کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا چیز ہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ فرشتے ایک مخلوق میں جیسے زمین مخلوق ہے آسمان مخلوق ہے جیسے بادل مخلوق ہیں پہاڑ مخلوق ہیں ہوائیں مخلوق ہیں اور جیسے دیگر تمام مخلوقات ہیں سب سے زیادہ عزت والی مخلوق اللہ کے نزدیک ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ اور عبداللہ بن سلام نے اوپر والی حدیث ذکر فرمائی ۔

الْأَنْصَارِيُّ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و قد

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 149

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 150

150 - أخبرناه أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي بن ميمون ثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب عن بشر بن شغاف عن ابن سلام : فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے کہ خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحاق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسماء نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے مہدی بن میموں نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ بن ابو یعقوب نے بشر بن شغاف نے حضرت عبداللہ بن سلام سے اور مذکورہ بات ذکر کی ہے ۔

ابن سلام فذكره ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 150

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 151

151 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترقفي حدثنا حفص بن عمر عن الحكم عن عكرمة قال سمعت ابن عباس رضي الله عنه يقول : إن الله عز و جل فضل محمدا صلى الله عليه و سلم على أهل السماء و على الأنبياء قالوا يا ابن عباس ما فضله على أهل السماء ؟ قال لأن الله عز و جل قال لأهل السماء : { ومن يقل منهم إني إله من دونه فذلك نجزيه جهنم كذلك نجزي الظالمين } و قال لمحمد صلى الله عليه و سلم : { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } قالوا يا ابن عباس ! ما فضله على الأنبياء ؟ قال لأن الله عز و جل يقول : { و ما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه } و قال الله تعالى لمحمد صلى الله عليه و سلم : { و أرسلناك للناس رسولا } فأرسله الله تعالى إلى الإنس و الجن و كذلك رواه إبراهيم بن الحكم بن أبان عن أبيه و ليس بالقوي و من قال بالقول الآخر عارضه بقوله عز و جل : { لئن أشركت ليحبطن عملك و لتكونن من الخاسرين } إلا أن يقول قائل : الخطاب وقع إليه و المراد به غيره أو يقول إن كان هو المراد به فقد أمنه بالآية التي قرأها ابن عباس فيما روي عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یحیٰ بن عبدالجبار شکری نے بغداد میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن عبداللہ ترقفی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حفص بن عمر نے حکم سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے کہا میں نے سنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو تمام اہل آسمان پر فضیلت عطا فرمائی ہے اور تمام انبیاء پر بھی فضیلت عطا فرمائی ہے لوگوں نے سوال کیا اے ابن عباس اہل آسمان پر آپ کی فضیلت کیا ہے ؟ فرمایا کہ وہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل آسمان کے بارے میں فرمایا : ( ومن یقل منھم انی الہ من دونہ فذالک نجزیہ جھنم کذالک نجزی الظالمین ) ( البنیآ ۲۹) جو بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں اللہ کے سوا تو ایسے کو ہم جہنم کی سزا دیں گے اور ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بارے میں فرمایا : ( انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک و ما تاخر ) ( الفتح ۱-۲) بے شک فتح دی ہم نے آپ کو فتح کھلی۔ تانکہ معاف کر دے ان کے لئے اللہ جو پہلے ہو چکا کوئی گناہ آپ سے اور جو پیچھے رہا۔ لوگوں نے کہا اے ابن عباس ۔ انبیآء پر آپ کی کیا فضیلت ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں ۔ ( و ما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ ) ( ابراہیم ۴) نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس کی اپنی قومی زبان کے ساتھ ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( و ما ارسلناک للناس رسولا ) ( النساء ۷۹) ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے ۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن حکم بن ابان نے اپنے والد سے مگر وہ قوی نہیں ہے ۔ اور جس نے دوسرا قول کیا ہے اور اللہ کے اس قول کے ساتھ معارضہ کیا ہے ۔ ( لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخسرین ) ( الزمر ۶۵) اگر آپ نے شرک کیا ( بالفرض و المحال ) تو آپ کے عمل اکارت ہو جائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں ہو جائیں گے ۔ مگر یہ کہ کوئی کہنے والا یہ کہے ( اور روایت مذکورہ کی تاویل کرے ) کہ آیت میں خطاب تو محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ہے مگر مراد آپ نہیں ہیں بلکہ( امت کے لوگ ہیں ) ۔ یا یہ تاویل کی جائے کہ اگر یہی ہے وہی مراد ہو جو ظاہر الفاظ سے واضح ہے تو پھر اللہ نے آپ کو اس آیت کے ذریعہ اس سے پناہ دے دی ہے جسے ابن عباس نے پڑھا ہے ان کی روایت کے مطابق ( یعنی سورۃ فتح کی آیت کے ساتھ ) ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمِ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 151

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 152

152 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأزهر ثنا أبو قتيبة ثنا حماد بن سلمة عن أبي المهزم عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : المؤمن أكرم على الله من الملائكة كذا رواه أبو المهزم عن أبي هريرة موقوفا و أبو المهزم متروك

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الازہر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو فقیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے ابو المھزوم سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : ( المومن اکرم علی اللہ من الملائکۃ ) ایماندار انسان اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو المھزوم نے ابو ہریرہ سے بطور موقوف روایت اور ابو لمھزوم متروک ہے ۔

أبي هريرة موقوفا و أبو المهزم متروك ← المؤمن أكرم على الله من الملائكة كذا رواه أبو المهزم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْمُهَزِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 152

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 153

153 - أخبرنا الأستاذ أبو منصور عبد القاهر بن طاهر من أصله ثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد العمروي إملاء ثنا أبو بكر محمد بن حمويه بن عباد السراج ثنا محمد بن يحيى ثنا عبد الغفار بن عبيد الله ثنا عبيد الله بن تمام السلمي عن خالد الحذاء عن بشر بن شغاف عن أبيه عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من شيء أكرم على الله من ابن آدم قال قيل يا رسول الله ! و لا الملائكة ؟ قال : الملائكة مجبورون بمنزلة الشمس و القمر تفرد به عبيد الله بن تمام قال البخاري : عنده عجائب و رواه غيره عن خالد الحذاء موقوفا على عبد الله بن عمرو و هو الصحيح

ہمیں خبر دی ہے استادذ ابو منصور عبدالقادر بن طاہر نے اپنی اصل ( کتاب یا سند ) سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس احمد بن محمد بن احمد العمروی نے بطور املاء کے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن محمد بن حمویہ بن عباد سراج نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالغفار بن عبداللہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن تمام سلمی نے خالد حذاء سے انہوں نے بشر شغاف سے انہوںنے اپنے باپ سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ما من شئی اکرم علی اللہ من ابن ادم قال قیل یا رسول اللہ ولا الملائکۃ ؟ قال الملائکۃ مجبورون بمنزلۃ الشمس و القمر ) کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابن ادم سے زیادہ عزت والی نہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا ؟ فرشتے بھی نہیں آپ نے فرمایا فرشتے تو مجبور محض میں جاندار سورج کی طرح۔ اس روایت میں عبید اللہ بن تمام متفرد ہیں ۔ امام بخاری نے کہا ابن تمام کے نزدیک کئی عجیب و غریب روایات ہیں اس کے علاوہ خالد حذاء سے جو موقوف میں عبداللہ بن عمرو پر وہی صحیح ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عبيد الله بن تمام السلمي ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر محمد بن حمويه بن عباد السراج ← أبو العباس أحمد بن محمد بن أحمد العمروي إملاء ← الأستاذ أبو منصور عبد القاهر بن طاهر من أصله

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 153

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 154

154 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا ابن أبي قماش ثنا وهب بن بقية عن خالد الحذاء عن بشر بن شغاف عن أبيه ـ قال ـ قال سمعت عبد الله بن عمرو يقول : ليس شيء أكرم على الله عز و جل من ابن آدم قلت الملائكة ؟ قال أولئك بمنزلة الشمس و القمر أولئك مجبورون

ہمیں اسی کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی قماش نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وحب بن بقیہ نے خالد حذاء سے انہوں نے بشر بن شغاف سے اس نے اپنے باپ سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے تھے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابن آدم سے بڑھ کر کوئی شئی زیادہ عزت والی نہیں ہے ۔ میں نے کہا کیا فرشتے بھی نہیں انہوں نے فرمایا وہ چاند و سورج کے بمنزلے میں وہ تو مجبور محض ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 154

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 155

155 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الديبلي ثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا الحارث بن عبيد الأيادي عن أبي عمران الجوني عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بينا أنا قاعد إذ جاء جبريل عليه السلام فوكز بين كتفي فقمت إلى شجرة فيها مثل وكري الطير فقعدت في أحدهما و قعد في الآخر فسميت و ارتفعت حتى إذا سدت الخافقين و أن أقلب طرفي و لو شئت أن أمس السماء مسست فالتفت فإذا جبريل عليه السلام كأنه حلس لاطئ فعرفت فضل علمه بالله عز و جل علي و رواه حماد بن سلمة عن أبي عمران الجوني عن محمد بن عمير بن عطارد عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال : صلى الله عليه و سلم : فوقع جبريل مغشيا عليه كأنه حلس فعرفت فضل خشيته على خشيتي فأوحي إلي : نبيا ملكا أو نبيا عبدا ؟ أو إلى الجنة ؟ فأومأ إلى جبريل وهو مضطجع أن تواضع فقلت : لا بل نبيا عبدا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے کہ خبر دی ہے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد دیبلی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن علی بن زید صائغ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن منصور نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حارث بن عبیدایادی نے ابو عمران جونی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ میں اس کے درمیان بیٹھا ہوا تھا اچانک جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان چوکا مارا ، اور میں اٹھ کر ایک درخت کی طرف چلا گیا اس میں جیسے پرندے کے دو آشیانے کی طرح تھے ایک میں ، میں بیٹھ گیا اور دوسرے میں جبرائیل میں نے بسم اللہ پڑھی اور میں بلند ہو گیا اوپر کو چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب آسمان کے دونوں کنارے بھر گئے اور میں نے اپنا پہلو بدلا ۔ میں اگر چاہتا تو آسمان کو چھو سکتا تھا میں نے توجہ کی تو جبرائیل علیہ السلام لپٹے ہوئے ٹاٹ کی مانند تھے لہذا میں نے اللہ تعالیٰ کے علم کے بارے میں جبرائیل کے علم کی فضیلت کو پہچان لیا۔ حماد بن سلمہ نے اس کو ابو عمران جونی سے انہوں نے محمد بن عمیر بن عمار سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل گر کر بے ہوش ہو گیا گویا کہ وہ ٹاٹ ہے لہذا میں نے اپنی خدا خوفی پر اس کی خدا خوفی کی فضیلت و برتری کو جان لیا پھر میری طرف وحی کی گئی بادشاہ نبی یا بندہ و غلام نبی ؟ یا جنت کی طرف ؟ جبرائیل نے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی کرنا ۔ حالانکہ وہ لیٹے ہوئے تھے میں نے جواب میں کہا نہیں بادشاہ نبی نہیں بلکہ عبد و بندہ نبی یعنی میں اللہ کی بندگی میں رہنا پسند کرتا ہوں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الحارث بن عبيد الإيادي، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد الديبلي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 155

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 156

156 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن عبد الله الزاهد الأصبهاني ثنا أبو السري موسى بن الحسن بن عباد ثنا حبيش بن مبشر الفقيه قال كنا عند يزيد بن هارون ـ فذكر قصة ثم قال يزيد ثنا حماد بن سلمة أخبرنا أبو عمران الجوني عن محمد بن عمير بن عطارد بن حاجب التميمي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما أسري بي كنت أنا في شجرة و جبريل في شجرة فغشينا من أمر الله بعض ما غشينا فخر جبريل عليه السلام مغشيا عليه و ثبت على أمري فعرفت فضل إيمان جبريل على إيماني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ زاہد اصفہانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو السری موسیٰ بن حسن بن عباد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حبیش بن مبشر فقیہ نے انہوں نے کہا ہم یزید بن ہارون کے پاس تھے انہوں نے قصہ ذکر کیا پھر یزید بن ہارون نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عمران جونی نے محمد بن عمر بن عطارد بن حاجب تممی سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ جب مجھے معراج کرائی گئی ۔ میں ایک درخت میں تھا اور جبرائیل دوسرے درخت میں تھا پھر ہمیں چھپا لیا اللہ کے امر میں سے بعض چیز نے جو کچھ چھپانا تھا ۔ اور جبرائیل اس وقت گر کے بیہوش ہو گئے مگر میں ( الحمد اللہ ) اپنی حالت پر ثابت رہا اور میں نے جبرائیل کے ایمان کی اپنے ایمان پر فضیلت پہچان لی ۔

أَبِيهِ ← محمد بن عمير بن عطارد بن حاجب التميمي ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ: ← كنا عند يزيد بن هارون فذكر قصة ثم ← حبيش بن مبشر الفقيه ← أبو السري موسى بن الحسن بن عباد ← أبو عبد الله بن عبد الله الزاهد الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 156

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 157

157 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو أسامة عبد الله بن أسامة الكلبي ثنا محمد بن عمران بن أبي ليلى ثنا ابن أبي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال : بينما رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم و معه جبريل عليه السلام يناجيه عليه السلام يناجيه إذا انشق أفق السماء فأقبل جبريل يتضاءل و يدخل بعضه في بعض و يدنو من الأرض فإذا ملك قد مثل بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا محمد ! إن ربك يقرئك السلام و بخيرك بين أن تكون نبيا ملكا و بين أن تكون نبيا عبدا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فأشار جبريل إلي بيده أن تواضع فعرفت أنه ناصح فقلت عبدا نبيا فعرج ذلك الملك إلى السماء فقلت يا جبريل ! قد كنت أردت أن أسألك عن هذا فرأيت من حالك ما شغلني عن المسألة فمن هذا يا جبريل ؟ قال هذا إسرافيل خلقه الله يوم خلقه بين يديه صافنا قدميه لا يرفع طرفه بينه و بين الرب سبعون نورا ما منها نور يدنو منه إلا احترق بين يديه اللوح المحفوظ فإذا أذن الله من السماء أو في الأرض ارتفع ذلك اللوح يظرب جبينه فينظر فيه فإن كان من عملي أمرني به و إن كان من عمل ميكائيل أمره به قلت يا جبريل على أي شيء أنت ؟ قال على الرياح و الجنود قلت على أي شيء ميكائيل ؟ قال على النبات قلت على أي شيء ملك الموت ؟ قال على قبض الأنفس و ما ظننت أنه هبط إلا بقيام الساعة و ما ذاك الذي رأيت مني إلا خوفا من قام الساعة قوله بينه و بين الرب سبعون نورا يحتمل أن يريد بينه و بين عرش الرب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسامہ عبداللہ بن اسامہ کلبی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عمران ابن ابی لیلیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے انہوں نے مقسم سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ جبرائیل سر گوشی کر رہے تھے ۔ اچانک آسمان کا کنارا پھٹا اور جبرائیل علیہ السلام متوجہ ہوئے کمزور ہوئے سکڑنے لگے اور بعض ان کا بعض میں داخل ہونے لگا اور زمین کے قریب ہو گئے ۔ اتنے میں ایک فرشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا ۔ اے محمد ! بے شک تیرا رب تجھ پر سلام کہتا ہے اور تجھے اختیار دیا ہے کہ آپ بادشاہ نگی بنیں یا عبد ( غلام ) نبی بنے ۔ رسول اللہ نے فرمایا جبرائیل نے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی کیجیئے میں سمجھ گیا کہ وہ خیر خواہ ہیں میں نے جواب دیا بندہ نبی بننا پسند کروں گا چنانچہ و ہ فرشتہ آسمان کی طرف چڑھ گیا ۔ میں نے کہا اے جبرائیل میں نے تم سے پوچھنے کا ارادہ کیا تھا آپ کے بارے میں مگر میں نے جب تیرا حال دیکھا تو اس نے مجھے مشغول کر دیا سوال کرنے سے ۔ اے جبرائیل بتائیے کہ کون تھے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ اسرافیل علیہ السلام تھے اللہ نے جب اس کو پیدا کیا تھا اپنے سامنے ۔ دونوں قدم برابر رکھنے والا کھڑا تھا اپنی نگاہ نہیں اٹھاتا تھا اس کے درمیان اور اس کے رب کے درمیان نور کے ستر پردے تھے ہر نور ایسا تھا کہ اگر اس کے قریب ہو تو وہ جلا دے ۔ اس کے آگے لوح محفوظ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے آسمان سے یا زمین میں یہ لوح اٹھ جاتی ہے اپنی جبین کو پوجتا ہے پھر اس میں دیکھتے اگر اس میں میرا کوئی کام ہوتا مجھے اس کا حکم دیتا ہے اگر وہ حکم میکائیل کے کام کے متعلق ہوتا ہے تو اسے اس کا حکم دیتا ہے میں نے کہا اے جبرائیل آپ کس چیز پر مقرر ہیں ۔ فرمایا ہواؤں پر اور لشکروں پر۔ میں نے پوچھا میکائیل کس چیز پر مقرر ہے بتایا کہ نباتات پر یعنی اگانے پر میں نے پوچھا ملک الموت کس چیز پر مقرر ہے جواب دیا کہ جانوں کے قبض کرنے پر نہیں گمان کرتا میں کہ وہ اتریں گے مگر قیامت قائم ہونے کے ساتھ نہیں ہے یہ کیفیت میرے ساتھ جو آپ نے دیکھی مگر بوجہ خوف قائم ہونے قیامت کے ۔ نوٹ : یہ قول کہ اس کے اور رب کے درمیان ستر نور کے پردے تھے ۔ احتمال رکھتا ہے کہ اس سے یہ ارادہ کیا ہو اس کے درمیان اور رب کے عرش کے درمیان ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 157

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 158

158 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو حفص عمر بن محمد الجمحي بمكة ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن سابط قال : يدبر أمر الدنيا أربعة : جبريل و ميكائيل و ملك الموت و إسرافيل فأما جبريل فوكل بالرياح و الجنود و أما ميكائيل فوكل بالقطر و النبات و أما ملك الموت فوكل بقبض الأرواح و أما إسرافيل فهو ينزل بالأمر عليهم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو حفص عمر بن محمد جمخی نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن عبدالعزیز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نعیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے عبدالرحمن بن سابط سے انہوں نے کہا ۔ دنیا کے امور کا انتظام چار لوگ کرتے ہیں ۔ جبرائیل ، میکائیل اور ملک الموت اور اسرافیل بہر حال جبرائیل ہواؤں اور لشکروں پر مقرر ہے ۔ اور میکائیل بارش اور نباتات پر مقرر ہے ۔ ملک الموت قبض ارواح پر مقرر ہے اور اسرافیل وہ لوگوں پر اللہ کے عذاب کے امر کو نازل کرتے ہیں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو حفص عمر بن محمد الجمحي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 158

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 159

159 - أخبرنا أبو الحسن أحمد بن الحسن أنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم بن صبيح عن مسروق قال : قال عبد الله : إن من السموات لسماء ما فيها موضع شبر إلا و عليها جبهة ملك أو قدماه ثم قرأ : { وإنا لنحن الصافون * وإنا لنحن المسبحون }

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن حسن نے کہ خبر دی ہے حاجب بن احمد نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حماد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے اعمش سے انہوں نے مسلم بن صحیح سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا عبداللہ نے کہا : ( ان من السموات لسما ما فیھا موضع شب رالا و علیھا جبھۃ ملک اوقد ماہ ثم قراء و انا لنحن الضافون و انا لنحن المسبحون ) ( صفا سے ۱۶۵-۱۶۶) آسمانوں میں سے ایک آسمان ایسا ہے جس میں ایک بالشت بھر جگہ نہیں ہے مگر اس پر کسی نہ کسی فرشتے کی پیشانی ٹکی ہوئی ہے یا اس کے قدم پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی بے شک ہم البتہ صف باندھنے والے ہیں اور بے شک ہم البتہ تسبیح کرنے والے ہیں ۔

مَسْرُوقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو الحسن أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 159

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood