شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 148
148 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا السري بن يحيى ثنا عثمان بن زفر ثنا يعقوب القمي عن جعفر عن سعيد بن جبير في قوله : ـ { كان من الجن } قال : كان من الجنانين الذين يعملون في الجنة قال الحليمي رحمه الله : ثم إن الملائكة يسمون روحانيين ـ بضم الراء و سمى الله عز و جل جبريل عليه السلام الروح الأمين و روح القدس و قال : { يوم يقوم الروح و الملائكة صفا } فقيل : إن المراد به جبريل عليه السلام و قيل : إنه ملك عظيم سوى جبريل يقوم وحده صفا و الملائكة صفا و من قال هذا قال : الروح جوهر و قد يجوز أن يؤلف الله سبحانه أرواحا فيجسمها و يخلق خلقا ناطقا عاقلا و قد يجوز أن تكون أجسام الملائكة على ما هي عليه اليوم مخترعة كما اخترع عيسى و ناقة صالح عليهما السلام و قال بعض الناس إن الملائكة روحانيون ـ بفتح الراء ـ بمعنى أنهم ليسوا محصورين في الأبنية و الظلل و لكنهم في فسحة و بساطة و قد قيل إن ملائكة الرحمة هم الروحانيون و ملائكة العذاب هم الكروبيون فهذا من الكرب و ذاك من الروح و الله تعالى أعلم قال البيهقي رحمه الله : و ذكر وهب بن منبه أنبأ الكروبيين سكان السماء السابعة يبكون و ينتحبون و قد ذكرنا الأخبار التي وردت في تفسير الروح و الملك الذي يسمى روحا في الثالث عشر من كتاب الأسماء و الصفات و قد تكلم الناس قديما و حديثا في المفاضلة بين الملائكة و البشر فذهب ذاهبون إلى أن الرسل من البشر أفضل من الرسل من الملائكة و الأولياء من البشر أفضل من الأولياء من الملائكة و ذهب آخرون إلى أن الملأ الأعلى مفضلون على سكان الأرض و لكن واحد من القولين وجه
ہمیں خبر دی ہے ابو اللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے سری بن یحییٰ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن زفر نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب قمی نے جعفر سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : ( کان من الجن ) ( کہف ۵۰) کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔ فرمایا کہ ان جنوں میں سے تھا جو جنت میں کام کرتے تھے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ملائکہ روحانیین نام رکھے گئے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جبرائیل کا نام بھی روح الامین ۔ اور روح القدس رکھا ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ( ہوم یقوم الروح و الملائکۃ صفا) ( النساء ۳۸) جس دن روح اور فرشتے بحالت صف کھڑے ہوں گے ۔ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جبرائیل ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ جبرائیل نہیں بلکہ وہ کوئی اور بڑا فرشتہ ہے وہ اکیلا بحالت صف کھڑا ہوگا۔ اور دیگر ملائکہ الگ صف میں جنہوں نے یہ بات کہی ہے وہ کہتے ہیں وہ روح جوہر ہے اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کئی کئی روحوں کو مرکب کر کے ان کو ایک جس بنا دے اور ایک ناطق اور عاقل مخلوق بنادے اور ممکن ہے کہ ملائکتہ اجسام ہوں جس حالت پر آج ایجاد شدہ ہیں جب عیسیٰ علیہ السلام او صالح علیہ السلام کی اونٹنی اختراع کئے گئے تھے ۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ ملائکہ روحانیین ہیں ( را کی زبر کے ستھ ) بایں معنی کہ وہ مکانوں اور سائیوں میں محصور میں ہیں بلکہ فضا اور فراخی میں ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رحمت والے فرشتے روحانی میں اور عذاب والے فرشتے کربی ہیں یہ کرب سے بنا ہے اور وہ روح سے بنا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہب بن منبہ نے ذکر کیا ہے کہ کربی ساتویں آسمان پر رہنے والے ہیں روتے ہیں اور نوحہ اور بین کرتے رہتے ہیں ۔ ( یعنی اللہ کے خوف سے ) ہم نے اپنی کتاب الاسماء و الصفات کے تیرہ نمبر پر وہ تمام روایات ذکر کی ہیں جو روح اور ملک کے تفسیر کے بارے میں جنہیں روح کہا جاتا ہے وارد ہوئی ہیں ۔ نئے اور پرانے زمانے سے لوگوں نے فرشتوں کے اور انسانوں کے مابین فضیلت کے بارے میں کلام کیا ہے کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں ۔ انسانوں میں سے جو رسول ہیں اور وہ ان رسولوں سے افضل جو فرشتوں میں سے ہیں اور انسانوں میں سے جو اولیاء ہیں وہ ان اولیاء سے افضل ہیں جو فرشتوں میں سے اولیاء ہیں اور کچھ دوسرے لوگ اس طرف گئے ہیں کہ ملاء الاعلیٰ جملہ اہل زمین سے افضل ہیں اور سب کے پاس اپنے اپنے قول کی دلیل موجود ہے ۔
الحليمي ثم ← كان من الجنانين الذين يعملون في الجنة ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فِي قَوْلِهِ ← جَعْفَرٌ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 148
