Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 136

136 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التفسير أنبأ عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : قالت قريش : إنما يعلم محمدا عبد لآل الحضرمي رومي و كان صاحب كتب يقول الله عز و جل : { لسان الذي يلحدون إليه أعجمي } ـ أي يتكلم بالرومية ـ { و هذا لسان عربي مبين }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تفسیر میں کہ خبر دی ہے عبدالرحمن بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم بن ابی ایاس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقاء نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا قریش نے کہا تھا یقینا ً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آل حضرمی کا رومی غلام پڑھاتا ہے اور وہ صاحب کتب تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی ) جس کی طرف اس قرآن کو منسوب کر رہے ہیں اس کی زبان عجمی یعنی عربی ہے یعنی رومی زبان میں بات کرتا ہے ۔ اور یہ قران صاف ستھری عربی ہے ۔

قريش إنما يعلم محمدا عبد لآل الحضرمي رومي و كان صاحب ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي التَّفْسِيرِ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 136

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 137

137 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في كتاب المستدرك و قال عن مجاهد عن ابن عباس ـ رضي الله عنهما : ـ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اپنی کتاب المتسدرک میں اور کہتا ہے مجاہد سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أبو عبد الله الحافظ في كتاب المستدرك و ← و،

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 137

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 138

138 - و بهذا الإسناد ثنا ورقاء عن حصين بن عبد الرحمن عن عبيد الله بن مسلم الحضرمي قال : كان لنا غلامان نصرانيان من أهل عين التمر يسمى أحدهما يسار و الآخر جبر و كان يقرآن كتابا لهما فربما مر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام عليهما فقال المشركون : إنما يتعلم محمد منهما فأنزل الله عز و جل هذه الآية و زعم الكلبي فيما روى عن أبي صالح عن ابن عباس رضي الله عنهما أنهما كانا أسلما فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتيهما فيحدثهما و يعلمهما و كانا يقرآن كتابهما بالعبرانية قال البيهقي ـ رحمه الله ـ و من تعلق بهذا الضعيف لم يسكت عن شيء يتهمه به فدل على أنهم لو اتهموه بشيء مما نفيناه عنه لذكروه و لم يسكتوا عنه و بالله التوفيق و بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ كلامه في الإشارة إلى ما في كتاب الله عز و جل من أنواع العلوم و ما في ذلك من الإعجاز ثم إن له وراء القرآن من الآيات الباهرة إجابة الشجرة إياه لما دعاها و تكلم الذراع المسمومة إياه و ازدياد الطعام لأجله حتى أصاب منه ناس كثير و خروج الماء من بين أصابعه في المخصب حتى توضأ منه ناس كثير و حنين الجذع و ظهور صدقه في مغيبات كثيرة أخبر عنها و غير هذه مما قد ذكر و دون و في الواحد منها كفاية غير أن الله ـ جل ثناؤه ـ لما جمع له بين أمرين : أحدهما : بعثه إلى الجن و الإنس عامة و الآخر : ختمه النبوة به ظاهر له بين الحجج حتى إن شذت واحدة عن فريق بلغتهم أخرى و إن لم تنجع واحدة نجعت أخرى و إن درست على الأيام واحدة بقيت أخرى و لله في كل حال الحجة البالغة و له الحمد على نظره لخلقه و رحمته إياهم كما يستحقه و ذكر الحليمي ـ رحمه الله ـ فصولا في الكهنة و مسترقي السمع و قد ذكرنا في كتاب دلائل النبوة ما ورد في ذلك من الأخبار ما وجد من الكهنة و الجن في تصديق نبينا صلى الله عليه و سلم و إشاراتهم إلى أوليائهم الإنس و بالإيمان به و لا يجوز على مؤمني الجن أن يحملوا أولياءهم على الكذب على الله أو على متابعة من يكذب على الله و على كفارهم أن يأمروا أولياءهم بالإيمان بمن كفروا به فدل على أن أمر من آمن به منهم إنما هو لمعرفة وقعت له بصدقه لمن آمن به من الإنس و بالله التوفيق

اسی مذکورہ اسناد کے ساتھ ہمیں بیان کیا ہے ورقاء نے حصین بن عبدالرحمن سے عبداللہ بن مسلم بن حضرمی سے انہوں نے کہا ہمارے دعائی غلام لڑکے تھے اہل عین تمر سے دونوں میں سے ایک کا نام یسار دوسرے کا نام جبر تھا اور وہ اپنی کتاب پڑھتے رہتے تھے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے گزرتے تو وہاں ذرا سا کھڑے ہو جاتے لہذا مشرکین نے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان دونوں سے سیکھتے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرما ان کا رد فرما دیا۔ کلبی کا گمان ہے کہ اس روایت کے مطابق جو ابو صالح سے ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ دونوں عیسائی لڑکے مسلمان ہو گئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے ان کو سکھاتے اور ان سے باتیں بھی کرتے اور وہ دونوں اپنی کتاب کو عبرانی زبان سے پڑھتے تھے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : جو شخص اس مذکورہ کمزور کہانی کے پیچھے پڑا وہ کسی بات سے خاموش نہیں رہ سکتا۔ وہ اسی طرح کی تہمت آپ کو لگاتا رہے گا یہ بات دلیل ہے اس کی کہ اگر وہ لوگ کسی ایسی چیز کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تہمت لگائیں جس کی ہم نفی کر چکے ہوں تو بھی اس کو ذکر کرتے رہیں گے اور اس اتہام سے خاموش نہیں ہوں گے ۔ شیخ حلیمی نے تفصیلی کلام کیا ہے اس اشارے کے بارے میں جو علوم کے انواع و اقسام کے بارے میں کتاب اللہ میں ہے اور اس کے بارے میں اسی میں جو اعجاز ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے قرآن مجید کے علاوہ جو آیات باہرہ ہیں : ( 1۔ مثلاً آپ کے لئے درخت کا آپ کا کہنا مان کر چلے آنا جب آپ نے اس کو بلایا تھا۔ 2۔ زہر آلود بکری کی نلی کا آپ کے ساتھ کلام کرنا۔ 3۔ آپ کے لئے کھانے کا بڑھ جانا اور لوگوں کی بڑی تعداد کو کافی ہو جانا۔4۔ اور آپ کے ہاتھ کی انگلیوں سے بڑے ٹپ میں پانی کا بہنا یہاں تک کہ اس سے لوگوں کی کثیر تعداد نے وضو کر لیا۔ 5۔ کھجور کے خشک تنے کا بول پڑنا اور رو پڑنا۔ 6۔ آپ کا بہت سی غیب کی خبروں کی خبر دینا اور اس کا سچا ہو جانا علاوہ اس کے جو کچھ معجزات مذکور ہیں اور مدون ہیں ۔ کسی ایک بات میں کفایت ہے یعنی ان باتوں میں سے کوئی بات بھی یقین کرنے کے لئے کافی ہے علاوہ ازیں جب اللہ عزوجل نے آپ کے لئے دو امر جمع فرمائے ہیں ایک آپ کی جنات اور انسانوں کی طرف بعشت عامہ اور دوسری آپ کے ساتھ نبوت و رسالت کے سلسلہ کو ختم کر دینا یہ واضح طور پر آپ کے لئے حج واضحہ میں سے ہے حتیٰ کہ اگر ایک چیز کسی فریق سے رہ جائے تو دوسری ان کو ضرور پہنچ جائے گی۔ ایک چیز فائدہ نہ دے اس کی تو دوسری فائدہ دے گی گردش زمانہ سے اگر ایک چیز مٹ گئی تو دوسری باقی رہے گی ۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے لئے حجت بالغہ ہے اسی کا شکر ہے ۔ اس کی حفاظت پر اور شفقت پر اپنی مخلوق کے لئے خاص طور پر ایسا جس کا وہ مستحق ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے کاہنوں اور بات چرانے والوں کے بارے میں کئی فصل ذکر کئے ہیں ہم نے اپنی کتاب دلائل النبورۃ میں ذکر کیا ہے ۔ ان اخبار کو جو اس بارے میں وارد ہوئے ہیں جو کاہنوں اور جنوں کے بارے میں پائے گئے ہیں ۔ ہمارے نبی کریم کی تصدیق کی بابت اور ان کے اشارت کی بابت ان کے انسانی دوستوں کے بارے میں آپ کے ساتھ ایمان کے بارے میں مومن جنوں کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو اللہ پر جھوٹ بولنے پر آمادہ کریں ۔ یا اس کی تابعداری پر آمادہ کریں ۔ جو اللہ پر جھوٹ بولے اور کافر جنوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ اپنے اولیاء کو حکم کریں ایمان کا اس انسان کے ساتھ جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ۔ تو یہ بات دلالت کرتی ہے ۔ اس پر کہ اس کا حکم جو ان میں سے اللہ رسول پر ایمان لایا سو وہ معرفت کی وجہ سے ہے جو اس کے لئے واقع ہو چکی ہے بسبب اس کی تصدیق کرنے کے اس شخص کی جو اللہ رسول کے ساتھ ایمان لا چکا انسانوں میں سے ۔

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 138

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 139

139 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا يحيى ـ هو ابن بكير ـ ثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب أنه قال : قال سعيد بن المسيب : أن أبا هريرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بعثت بجوامع الكلم و نصرت بالرعب و بينا أنا نائم أتيت بمفاتيح خزائن الأرض فوضعت في يدي قال أبو هريرة : فذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنتم تنتثلونها قال ابن شهاب : و بلغني أن جوامع الكلم أن الله تعالى جمع له الأمور الكثيرة التي كانت تكتب في الكتب قبله في الأمر الواحد و الأمرين أو نحو ذلك رواه البخاري في الصحيح عن ابن بكير و أخرجه مسلم من حديث يونس عن ابن شهاب

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے کہ خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید بن شریک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحیٰ نے وہ ابن بکیر سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث نے عقیل سے ابن شہاب سے کہ انہوں نے کہا کہ سعید بن مسیب نے فرمایا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے : ( بعثت بجوامع الکلم ، و نصرت بالرعب و بینا انا اوتیت بمفاتیح خزائن الارض قوضعت فی یدی ) میں جامع ترین کلمات کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور میں رعب و ہیبت کےساتھ امداد کیا گیا ہوں اور یکایک میں زمین کے خزانوں کی چابیاں دیا گیا ہوں بس وہ میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے چلے گئے اور تم اسے حاصل کر رہے ہو ابن شہاب نے کہا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جوامع الکلم یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے امور کثیرہ جمع کر رہے ہیں جو آپ سے پہلے کتابوں میں لکھے جاتے تھے ایک امر میں اور دو امروں میں یا اس کی مثل اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں ابن بکیر سے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 139

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 140

140 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آبادي ثنا أبو بكر عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا جويرية بن بشير الهجيمي قال سمعت الحسن قرأ يوما هذه الآية : ـ { إن الله يأمر بالعدل و الإحسان } إلى آخرها ثم وقف فقال : إن الله عز و جل جمع لكم الخير كله و الشر كله في آية واحدة فو الله ما ترك العدل و الإحسان من طاعة الله شيئا إلا جمعه و لا ترك الفحشاء و المنكر و البغي من معصية الله شيئا إلا جمعه

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر عمر بن حفص سدوسی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عاصم بن علی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے جوبر میہ بن بشیر ھجیمی نے انہوں نے کہا میں نے سنا حسن سے انہوں نے ایک دن یہ ایت پڑھی : ( ان اللہ یا مر بالعدل و الاحسان الیٰ آخرہ ) ( نحل ۹۰) بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا ۔۔۔ آخر تک ۔ آیت پڑھنے کے بعد رک گئے اور فرمایا بیشک اللہ عزوجل نے تمہارے لئے ساری خیر کو جمع کر دیا ہے اور سارے شر کو بھی جمع کر دیا اس ایک آیت میں ۔ پس اللہ کی قسم اس نے نہیں چھوڑا عدل کو اور احسان کو اللہ کی اطاعت میں سے کسی شئی کو مگر اس کو جمع کر دیا ہے ۔ اور نہیں چھوڑا بے حیائی اور برائی کو اور سر کشی کو یعنی اللہ کی معصیت میں سے کسی شے کو مگر اس کو جمع کر دیا ہے ۔

جُوَيْرِيَةَ بْنِ بَشِيرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← أَبُو بَكْرٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 140

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 141

141 - قال البيهقي رحمه الله و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التفسير لهذه الآية أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد : في قوله تعالى : { و جعلوا بينه و بين الجنة نسبا } قال : قال كفار قريش : الملائكة بنات الله تعالى فقال لهم أبو بكر الصديق رضي الله عنه : فمن أمهاتهم ؟ فقالوا بنات سروات الجن فقال الله عز و جل : { و لقد علمت الجنة إنهم لمحضرون } يقول : إنها ستحضر للحساب قال : و الجنة هي الملائكة و روينا عن قتادة أنه قال : جعلوا الملائكة بنات الله من الجن و كذب أعداء الله و عن أبي عمران الجوني قال : قالت اليهود : إن الله صاهر الجن فخرجت الملائكة و روينا عن الكلبي أنه قال : يقول ذلك لقولهم الملائكة بنات الله يقول الله عز و جل : { و لقد علمت الجنة إنهم لمحضرون } محضرون النار الذين قالوا الملائكة بنات الله قال : و يقال نزلت هذه الآية في الزنادقة و ذلك أنهم قالوا خلق الله الناس و الدواب و الأنعام فقال إبليس لأخلقن خلقا أضرهم فخلق الحيات و العقارب و السباع فذلك قوله تعالى : { و جعلوا بينه و بين الجنة نسبا } قالوا هو إبليس أخزاه الله تعالى الله عما يشركون

امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں کہ خبر دی ہے عبدالرحمن بن حسن قاضی کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقآء نے ابن ابو نحیح سے انہوں نے مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے بارے میں : ( و جعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا ) ( صافات ۱۵۱) مجاہد فرماتے ہیں کہ کفار قریش نے کہا ۔ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، حضرت ابو بکر صدیق نے ان سے فرمایا ان کی مائیں کون ہیں ؟ بولے سردار جنوں کی بیٹیاں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( و لقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون ) ( الصافات ۱۵۸) البتہ تحقیق جن جانتے کہ وہ حاضر کئے جائیں گے کہ عنقریب حساب کے لئے حاضر کئے جائیں گے ۔ اور جن وہی ملائکہ ہیں ہم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا ( مشرکوں نے ) ملائکہ کو جنوں میں سے اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ بولا۔ ابو عمران جونی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہودی کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں سے مصاہرت کی اس کے نتیجے میں ملائکہ پیدا ہوئے ۔ اور ہم نے کلبی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا۔ یہودی یہ کہتے تھے ۔ اپنی بات کی بنا پر کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ولقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون ) جن اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ حاضر کئے جائیں گے ۔ یعنی جہنم پر حاضر کئے جائیں گے یعنی وہ لوگ جو کہ کہتے ہیں کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ( کلبی نے ) کہا اور کہا جاتا ہے کہ یہ آیت زندیقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کہا تھا اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا اور چوپایوں ک اور مویشیوں کو ابلیس نے کہا تھا کہ میں بھی ضرور ایک مخلوق پیدا کروں گا جو ان سب کو نقصان پہنچائے گی سو اس نے سانپ پید ا کئے بچھو اور درندے پیدا کئے ۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا ۔ ( رجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا ) ( صافات ۱۵۸) بولے وہ ابلیس ہے اللہ اس کو رسوا کرے ۔ اللہ اس سے برتر ہے جو وہ شرک کرتے ہیں ۔

الله عز و جل ← بنات سروات الجن ← لهم أبو بكر الصديق فمن أمهاتهم ← كفار قريش الملائكة بنات الله تعالى ← مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أبو عبد الله الحافظ في التفسير لهذه الآية ← البيهقي و قد

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 141

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 142

142 - أخبرناه أبو عبد الرحمن الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون أنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مراون عن الكلبي : فذكره قال الحليمي رحمه الله تعالى : و أما قول الله عز و جل { خلق الإنسان من صلصال كالفخار * وخلق الجان من مارج من نار } فإنما هو بيان ما ركبه من خلق متقدم فلم تدخل الملائكة في ذلك لأنهم مخترعون قال الله عز و جل : كونوا فكانوا كما قال للأصل الذي منه خلق الجن و الأصل الذي خلق منه الإنس هو التراب و الماء و النار و الهواء : كن فكان فكانت الملائكة في الاختراع كأصول الجن و الإنس لا كأعيانهم فلذلك لم يذكروا معهم والله أعلم قال البيهقي رحمه الله تعالى : و أبين من هذا كله في أن الملائكة صنف غير الجن حديث عائشة رضي الله عنه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبدالرحمن دھان نے کہ خبر دی ہے حسین بن محمد بن ہارون نے کہ خبر دی ہے احمد بن محمد بن نصر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن بلال کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن مروان نے کلبی سے پھر اس نے مذکورہ روایت ذکر کی ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : بہرحال اللہ تعالیٰ کا یہ قول : ( خلق الانسان من صلصال کالفخار و خلق الجان من مارج من نار ) ( الرحمن ۱۴-۱۵) انسان کو ٹھیکری کی مانند بجنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ اور جنوں کو آگ کے مارج سے پیدا کیا ۔ ( شعلے سے ) ۔ یہ بیان ہے اس کیفیت کا جب پہلی تخلیق کے وقت ان کو ترکیب دیا تھا ملائکہ اس میں داخل نہیں ہیں کیونکہ وہ غیر مذکورہ مادہ کے ) اختراع کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہو جاؤ پس ہو گئے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس پہلے اصل کو جس سے جن پیدا ہوئے تھے اور اس اصل کو جس سے انسان کو پیدا کیا تھا وہ مٹی پانی آگ اور ہوا ہے ۔ کہ ہو جا پس ہو گئی ۔ فرشتے اختراع و ایجاد میں جنوں اور انسانوں کے اصول کی طرح ہیں اور ان کی ذوات کی طرح نہیں اس لئے ان کے ساتھ ذکر نہیں کئے گئے ۔ واللہ اعلم ۔

الْكَلْبِيِّ، فَذَكَرَهُ. ← محمد بن مراون ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّهَّانُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 142

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 143

143 - و ذلك ما أخبرنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أخبرنا أبو حامد بن الشرقي ثنا محمد بن يحيى و أبو الأزهر و حمدان السلمي قالوا : ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنه قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خلقت الملائكة من نور و خلق الجان من مارج من نار و خلق آدم مما و صف لكم رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق و في فصله بينهما في الذكر دليل على أنه أراد نورا آخر غير نور النار و الله تعالى أعلم

یہ وہ روایت ہے جس کی ہمیں خبر دی ہے سید ابو الحسن محمد بن حسین علوی نےکہ ہمیں خبر دی ہے ابو حامد بن شرقی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ ابو الازہر اور حمدان سلمی نے ان سب نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرزاق نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے معمر نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ( خلقت الملائکہ من نور، و خلق الجان من مارج من نار ، و خلق آدم مما و صف لکم ) فرشتے نور سے پیدا کئے گئے تھے اور جن آگ کے شعلے سے پیدا کئے تھے اور آدم اس چیز سے جو تمہارے لئے بیان کی گئی ہے ۔ اس کو مسلم نے محمد بن رافع سے انہوں نے عبدالرزاق سے روایت کیا ہے ۔ دونوں کے مابین فرق کے ذکر میں دلیل ہے اس بات پر کہ انہوں نے نور سے مراد آگ کے نور کے علاوہ نور مراد لیا ہے ۔ ( و اللہ تعالیٰ اعلم )

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن يحيى و أبو الأزهر و حمدان السلمي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي ← و ذلك ما

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 143

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 144

144 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا زهير بن محمد عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن صالح موالى التوأمة عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : إن من الملائكة قبيلة يقال لها الجن و كان إبليس منها وكان يسوس ما بين السماء و الأرض فسخط الله عليه فمسخه شيطانا رجيما قال البيهقي رحمه الله تعالى فهذا إن ثبت يدل على مفارقة هؤلاء القبيلة غيرهم من الملائكة في التسمية و زعم مقاتل بن سليمان : أن خلق إبليس و خلق هؤلاء وقع من نار السموم و من مارج من نار و هم كانوا خزان الجنة رأسهم إبليس و كانوا أهل السماء الدنيا فهبطوا إلى الأرض حين اقتتلت الجن الذين كانوا سكان الأرض و هم الذي أوحى الله عز و جل إليهم : { إني جاعل في الأرض خليفة } و زعم الكلبي : أنهم كانوا خزان الجنان يقال لذلك الجنة الجن اشتق لهم اسم من الجنة و كان مع إبليس أقاليد الجنان و خلقه من مارج من نار و هي نار لا دخان لها فاقتتل الجن بنو الجان فيما بينهم فبعث الله تعالى إبليس من السماء الدنيا في جند من الملائكة فهبطوا إلى الأرض فأخرجوا الجن بني الجان منها و ألحقوهم بجزائر البحر و سكنوا الأرض و هم الذين قال الله عز و جل لهم { إني جاعل في الأرض خليفة } و لم يعن به الملائكة الذين في السماء قال البيهقي رحمه الله تعالى فعلى هذا يحتمل إن كان خلق هؤلاء أيضا و قع من مارج من نار أن يكونوا إنما يسمون الجن لما ذكره الكلبي أو لموافقتهم الجن في أصل الخلقة و خلق غيرهم من الملائكة وقع من نور كما روينا من حديث عائشة وقوله : { و جعلوا بينه و بين الجنة نسبا } يحتمل أن يكون المراد به هذه القبيلة التي يقال لها الجن دون غيرهم من الملائكة و الله تعالى أعلم قال الحليمي رحمه الله تعالى : و مما يدل على مفارقة الجن الملائكة أن الله عز و جل أخبر أنه يسأل الملائكة يوم القيامة عن المشركين فيقول لهم : { أهؤلاء إياكم كانوا يعبدون } فيقول الملائكة : { سبحانك أنت ولينا من دونهم بل كانوا يعبدون الجن } فثبت بهذا أن الملائكة غير الجن فقال الشيخ رحمه الله و يحتمل أن يكون هذا التبري من الملأ الأعلى الذين كانوا لا يسمون جنا و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر قطان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابرہیم بن حارث بغدادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زہیر بن محمد شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے انہوں نے صالح سے جو مولی ہیں تو امہ کے انہوں نے حضرت ابن عباس سے رضی اللہ عنہ کہ انہوں نے فرمایا : ( ان من الملائکہ قبیلۃ یقال لھا الجن و کان ابلیس منھا و کان یسوس ما بین السماء و الارض فسخط اللہ علیہ فمسخہ شیطانا رجیما ) بیشک ملائکہ میں سے ایک قبیلہ ہے جسے جن کہا جاتا ہے ابلیس اسی قبیلے سے تھا انتظام کرتا تھا درمیان آسمان و زمین کے سوا اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گیا لہذا اس کو شیطان مردود کے طور پر مسخ کر دیا۔ بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ بات اگر ثابت ہو جائے تو یہ دلالت کرے گی اس قبیلے کی مفارقت پر دیگر ملائکہ سے نام کے اندر ۔ اور مقاتل بن سلیمان کا خیال ہے کہ ابلیس کی پیدائش اور جنوں کے مذکورہ قبیلے کی پیدائش نارسموم سے اور مارج نار سے تھی اور وہ سب جنت کے خازن تھے ان کا سردار ابلیس تھا اور یہ سب آسمان دنیا کے رہنے والے تھے جب دھرتی پر رہنے ولے جن قتل ہو گئے تو یہ سب دھرتی پر اتر آئے اور وہ سب وہی لوگ تھے جن کی طرف اللہ عزوجل نے یہ وحی کی تھی ۔ ( انی جاعل فی الاراض خلیفۃ ) ( بقرہ ۳۰) کلبی کا خیال ہے کہ بیشک یہ سب جنت کے دربان تھے ۔ ان کو اسی لئے جنتہ کہا جاتا ہے الجن انہیں کے لئے مشتق کیا گیا اسم جنتہ سے ۔ ابلیس کے پاس جنت کی چابیاں تھیں اس کی پیدائش اگ کے مارج سے تھی یہ وہ آگ ہوتی ہے جس کا دھواں نہیں ہوتا۔ اور جنون آپ س میں لڑائی کر کے جنوں کی اولادوں کو قتل کر دیا لہذا اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا سے ابلیس بھیجا فرشتوں کی ایک لشکر کے ساتھ یہ زمین پر اتر آئے تو جنوں اولاد کو جنات سے نکال دیا اور ان کو سمندر کے جزیروں میں دھکیل دیا اور دھرتی پر سکونت اختیار کر لی یہی لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا ؛ ( انی جاعل فی الارض خلیفہ ) کہ میں زمین پر ایک نائب بنانے والا ہوں ۔ اس کے ساتھ ملائکہ سے کو مراد نہیں لیا جو کہ آسمان پر تھے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ قول کی بنا پر احتمال ہے کہ ان کو بھی اللہ نے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہو۔ اور وہ جن کا نام اس لئے رکھے گئے ہوں کہ جو کلبی نے ذکر کیا ہے ۔ یا اصل خلقت میں جن کے ساتھ ان کی موافقت کی وجہ سے ۔ اور ان کے علاوہ دیگر کو پیدا کیا ہو ملائکہ سے ( نور سے واقع ہوئے ) جیسے ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے روایت کیا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول : ( و جعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا ) ( ۱۵۸) احتمال رکھتی ہے کہ اس سے مراد یہی قبیلہ ہو جس کو جن کہا جاتا ہے ان کے سوا دیگر ملائکہ مراد نہ ہوں ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : وہ دلائل جو جنوں اور فرشتوں کے الگ اور جدا مخلوق ہونے پر دلالت کرتے ہیں یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ قیامت کے دن فرشتوں سے سوال کریں گے مشرکین کے بارے میں اور ان سے کہیں گے ۔ ( اھؤلاء ایاکم کانوا یعیدون ) ( سورہ سبا ۴۰) کیا یہی ہیں جو تمہاری عبادت کرتے تھے ۔ فرشتے جواب دیں گے ۔ ( سبحنک انت و لینا من دونھم بن کانوا یعبدون الجن ) ( سبا ۴۱) تو پاک ہے تو ہی ہے ہمارا دوست نہ کہ وہ ( مشرک ) بلکہ وہ تو پوجتے تھے جنوں کو ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ملائکہ جنوں سے الگ مخلوق ہیں ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ احتمال ہے کہ یہ برات و بیزاری ملاء الاعلیٰ کی طرف سے ہو جو جن کے نام سے موسوم نہیں ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← صالح موالى التوأمة ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 144

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 145

145 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن أبي إسحق عن عمرو بن عبد الله الأصم عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : إن ناركم هذه التي توقدون لجزء من سبعين جزءا من نار جهنم و إن السموم الحار التي خلق الله تعالى منها الجان لجزء من سبعين جزءا من نار جهنم

ہمیں خبردی ہے ابو الحسن بن بشران نے خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن منصور نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے معمر نے ابو اسحٰق سے انہوں نے عمر بن عبداللہ اصم سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: ( ان نار کم ھذہ التی توقدون لجزء من سبعین جزء امن نار جھنم و ان السموم الحار التی خلق اللہ تعالیٰ منھا الجان لجزء من سبعین جزئ من نار جھنم ) بے شک یہ تمہاری آگ ( دنیا والی ) جسے تم سلگاتے ہو ایک حصہ ہے ستر حصوں میں سے جہنم کی آگ سے اور بے شک گرم ہوا جس سے اللہ نے جنوں کو پیدا کیا ہے ایک حصہ ستر حصوں میں سے جہنم کی آگ سے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عمرو بن عبد الله الأصم ← أَبِي إِسْحَقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 145

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 146

146 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحق ثنا سعيد بن سليمان ثنا عباد عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كان اسم إبليس عزازيل و كان من أشراف الملائكة من ذوي الأربعة الأجنحة ثم أبلس بعد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے کہ خبر دی ہے ابو عمرو بن سماک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حنبل بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن سلیمان نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عباد نے سفیان بن حسین سے انہوں نے یعلیٰ بن مسلم سے انہوں نے سعید بن جیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا : ( کان اسم ابلیس عزازیل و کان من اشراف الملائکۃ من ذوالاربعۃ الا جنحۃ ثم ابلس بعدہ ) کہ ابلیس کا نام عزازیل تھا اور وہ چار پروں والے باعزت فرشتوں میں سے تھا پر اس کے بعد نافرمان ہو گیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَقَ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو عمرو بن السماك

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 146

شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 147

147 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : كان إبليس من خزان الجنة و كان يدبر أمر سماء الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبدالجبار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع نے اعمش سے انہوں نے حبیب بن ابو ثابت سے انہوں نے حضرت سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : ( کان ابلیس من خزان الجنۃ و کان یدیبر امر السماء الدینا ) ابلیس جنت کے خازنوں میں سے تھا آسمان دنیا کا انتظام کرتا تھا۔

كان إبليس من خزان الجنة و كان يدبر أمر سماء الدنيا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 147

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood