Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 97

97 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا البزار ـ يعني أحمد بن عمرو ـ ثنا أبو كامل ثنا أبو عوانة عن منصور عن هلال بن يساف عن الأغر عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال لا إله إلا الله نفعته يوما من دهره أصابه قبل ذلك ما أصابه

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن عبید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے بزار نے یعنی احمد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو کامل نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عوانہ نے منصور سے انہوں نے ہلال بن یساف سے انہوں نے اغر سے انہوں نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا : ( من قال لا الہ الا اللہ نفعتہ یو ما من دھرہ اصابہ قیل ذالک ما اصابہ ) جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس دن اس کی حفاظت رہے گی اس سے قبل جو اس کو تکلیف پہنچی تھی وہ پہنچ چکی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو کَامِلٍ ← البزار يعني أحمد بن عمرو ← علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 97

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 98

98 - و أخبرنا علي أنبأ أحمد ثنا ابن ملحان ثنا عمرو بن خالد ثنا عيسى بن يونس عن سفيان الثوري عن منصور : فذكره بنحوه غير أنه قال : أنجته بدل نفعته

ہمیں خبر دی ہے علی نے وہ کہتے ہیں خبر دی احمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ملحان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عمرو بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن یونس نے سفیان ثوری سے انہوں نے منصور سے پھر اسی کی ذکر کی ہے علاوہ ازیں فرمایا ۔ انجنہ نفعتہ کی جگہ ۔

أنجته بدل نفعته ← منصور فذكره بنحوه غير أنه ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ مِلْحَانَ ← علي أنبأ أحمد ← و،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 98

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 99

99 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ أحمد بن ملحان : فذكره بإسناده نحوه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن ابراہیم ملحان نے پھر اسی حدیث کو ذکر کیا اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل ۔

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 99

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 100

100 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي إملاء ببغداد ثنا حبيب بن الحسن القزاز ثنا أبو جعفر بن يحيى بن إسحاق الحلواني ثنا يحيى ـ يعني ابن عبد الحميد ـ و أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني ـ و اللفظ له ـ أنبأ أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن أبان بن ميمون السراج و أحمد بن محمد بن خالد البراثي قالا : حدثنا يحيى الحماني حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس على أهل لا إله إلا الله وحشة في قبورهم و لا في نشورهم و كأني بأهل لا إله إلا الله ينفضون عن رؤوسهم يقولون الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن تفرد به عبد الرحمن بن زيد بن أسلم قال البيهقي ـ رحمه الله : و روي من وجه آخر ضعيف عن ابن عمرو و قد أخرجناه في كتاب البعث و النشور و ذكرنا انتظام هذه الكلمة مع ما أشرنا إليه من العقائد الخمس لأن من قال لا إله إلا الله فقد أثبت الله و نفى غيره فخرج بإثبات ما أثبت من التعطيل و بما ضم إليه من نفي عن التشريك و اثبت باسم الإله الإبداع و التدبير و نفى عنه التشبيه لأن اسم الإله لا يجب إلا للمبدع و إذا وقع الاعتراف بالإبداع فقد وقع التدبير لأن الإيجاد تدبير و إبقائه و إحداث الاعراض فيه و إعدامه بعد إيجاد تدبيره و لا يجوز أن يكون له من خلقه شبيه لأنه لو كان لوجب أن يجوز عليه من ذلك الوجه ما يجوز على شبيهه و إذا جاز ذلك عليه لم يستحق اسم الإله كما لا يستحقه خلقه الذي شبهه به فدل على أن اسم الإله و الشبيه لا يجتمعان كما أن اسم الإله و نفي الإبداع لا يأتلفان و قد ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ حديث الأسامي و ضم إليها من الأسامي ما ورد في غير ذلك الحديث و جعلها منقسمة بين العقائد الخمس و نحن قد نقلنا جميع ذلك في كتاب الأسماء و الصفات و أضفنا إليه من الشواهد و معرفة الصفات و تأويل الآيات المشكلات و الأحاديث المشتبهات ما لا بد من معرفته من أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى و قد ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ في إثبات حدث العالم و ما يدل على أن له صانعا و مدبرا لا شبيه له من خلقه فصولا حسانا لا يمكن حذف شيء منها فتركتها على حالها و نقلت ها هنا من كلام غيره ما لا بد منه في هذا الباب فصل في معرفة الله عز و جل و معرفة صفاته و أسمائه ـ حقيقة المعرفة أن تعرفه موجودا قديما لم يزل و لا يفنى أحدا صمدا شيئا واحدا لا يتصور في الوهم و لا يتبعض و لا يتجزأ ليس بجوهر و لا عرض و لا جسم قائما بنفسه مستغنيا عن غيره حيا قادرا عالما مريدا سميعا بصيرا متكلما له الحياة و القدرة و العلم و الإرادة و السمع و البصر و الكلام لم يزل و لا يزال هو بهذه الصفات و لا يشبه شيء منها شيئا من صفات المصنوعات و لا يقال فيها : أنها هو و لا غيره و لا هي هو و غيره و لا يقال أنها تفارقه أو تجاوزه أو تخالفه أو توافقه أو تحله بل هي نعوت له أزلية و صفات له أبدية تقوم به موجودة بوجوده دائمة بدوامه ليست بأعراض و لا بأغيار و لا حالة في أعضاء غير مكيفة بالتصور في الأذهان و لا مقدورة بالتمثيل في الأوهام فقدرته تعم المقدورات و علمه يعم المعلومات و إرادته تعم المرادات لا يكون إلا ما يريد و لا يريد ما لا يكون و هو المتعالي عن الحدود و الجهات و الأقطار و الغايات المستغني عن الأماكن و الأزمان لا تناله الحاجات و لا تمسه المنافع و المضرات و لا تلحقه اللذات و لا الدواعي و لا الشهوات و لا يجوز عليه شيء مما جاز على المحدثات فدل على حدوثها و معناه أنه لا يجوز عليه الحركة و لا السكون و الاجتماع و الافتراق و المحاذاة و المقابلة و المماسة و المجاورة و لا قيام شيء حادث به و لا بطلان صفة أزلية عنه و لا يصح عليه العدم و يستحيل أن يكون له ولد أو زوجة أو شريك قادر على إماتة كل حي غيره و يجوز منه إفناء كل شيء غيره و إعادته الأجسام بعده و خلق أمثالها من غير قصر على حد قادر على كل شيء يتوهم على الانفراد حدوثه له الملك و له الحكم كل ما أنعم به بفضل منه و كل ما أكرمه عدل منه لا يجوز عليه جور و لا يصح منه ظلم

ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمن بن عبید اللہ بن عبداللہ حرفی نے بطور املا کے بغداد میں وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حبیب بن حسن قزاز نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر احمد بن یحییٰ بن اسحق حلوانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ نے یعنی ابن عبدالحمید نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد مالینی نے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابان بن میمون سراج نے اور احمد بن محمد بن خالد برانی نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ حمان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ۔ ( لیس علی اھل لا الہ الا اللہ و حشۃ و فی قبورھم ولا فی نشورھم و کانی باھل لا الہ الا اللہ ینقضون عن روسھم یقولون الحمد للہ الزی اذھب عن الحزن ) اہل لا الہ الا اللہ پر ان کی قبر میں وحشت نہیں ہو گی اور نہ ہی قبروں سے اٹھتے وقت میں گویا اہل لا الہ الا اللہ والوں کے ساتھ ہوں ۔ اپنے سروں سے مٹی جھاڑیں گے اور کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا۔ اس روایت میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم متفرد ہیں ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے ضعیف طریقہ مروی ہے جسے ہم نے کتاب البعث و النشور میں نقل کر دیا ہے اور ہم نے اس کلمہ کا زکر تعلق ان عقائد خمسہ ساتھ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ذکر کر دیا ہے ۔ کیونکہ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا ۔ اس نے اللہ کو ثابت کیا اور غیر اللہ کی نفی کی لہذا اس نے جو کچھ ثابت کیا اس کے ساتھ وہ عقیدہ تعطیل سے باہر آ گیا ۔ اور شرک کی نفی سے بھی جو اسی کے ساتھ مربوط ہے اور ایسے شخص نے لفظ الہ سے موجد اور مدبر ہونا بھی ثابت کر دیا۔ اور اس سے تشبیہ کی نفی بھی کر دی الہ کا لفظ مدع اور موجد کے ما سوا کے لئے درست نہیں ہو سکتا ۔ لفظ الہ سے جب مبدع اور موجد کا اعتراف ثابت ہو گیا تو مدبر ہونا خود بخود ثابت ہو گیا، اس لئے کہ ایجاد کرنا خود تدبیر کرنا ہے پھر اس ایجاد کو باقی رکھنا اور اس میں اعراض کی کیفیات پیدا کرنا اور ان کیفیات اعراض کو ختم کرنا ایجاد کے بعد ۔ یہی خود تدبیر کرنا و مدبر ہونا ہے ۔ اور الہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کی مخلوق میں سے اس کا کوئی شبیہ نہ ہو ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کوئی اس کا شبیہ ہو تو پھر لازم ہوگا کہ یہی صورت اور صفت اس کے لئے بھی جائز ہو جو اس کے شبیہ کے لئے مانی تھی ۔ جب یہ بات اس دوسرے شبیہ یا پہلے کے لئے جائز ہو تو وہ لفظ الہ کے نام کا مستحق نہیں ہو گا جیسے اس کی وہ مخلوق اس کی مستحق نہیں جو اس کی شبیہ قرار دی جا رہی ہے ۔ تو اس طرح ثابت ہوا کہ لفظ الہ اور شبیہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے جیسے لفظ الہ اور ابداع کی نفی جمع نہیں ہو سکتے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے حدیث اسماء اللہ ذکر کی ہے اور اس کے ساتھ وہ اسماء بھی ملائے ہیں جو دیگر احادیث میں وارد ہوئے ہیں اور ا ن اسماء کو عقائد خمسہ میں تقسیم کیا ہے ہم نے وہ سب کتاب الاسماء و الصفات میں نقل کئے ہیں اور ہم نے اس کے ساتھ بعض شواہد اور صفات کی معرفت اور مشکل آیات کی تاویل اوراحادیث مشتبہات کا اضافہ کیا ہے جن کی معرفت ضروری ہے جو شخص اس پر مطلع ہونا چاہے گا انشاء اللہ اس کی طرف بھی رجوع کرے گا۔ اور حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے حدوث عالم کے اثبات میں اور ان کے دلائل میں کہ اس عالم کا کوئی صانع اور بنانے والا اور مدبر یعنی چلانے والا ہے ۔ اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کا مشابہ یہ نہیں ہے ۔ کئی خوبصورت فصل ذکر کئے ہیں جن میں سے کوئی شئی حذف کرنا ممکن نہیں ہے لہذا میں نے انکو اپنی حالت پر ہی چھوڑ دیا ہے ۔ اور یہاں پر میں نے ان کے سوا اور کے کلام سے وہ حصہ نقل کیا ہے اس باب میں جس کو نقل کرنا ضروری تھا۔ معرفت الہی کی حقیقت یہ ہے کہ آپ اسے موجود سمجھیں ۔ قدیم سمجھیں ہمیشہ ہے فناء نہیں ہوگا ۔ ایک ہے صمد ہے اور ایسا ایک ہو جو وہم و گمان میں اور تصور میں نہیں آ سکتا ۔ تقسیم نہیں ہو سکتا ۔ حصے بخرے ٹکڑے نہیں ہو سکتا ۔ وہ جوہر نہیں ( قائم بالقدرت کسی جگہ میں ) عرض نہیں ہے ( قائم بالغیر ) جسم نہیں ہے ۔ قائم بفنسہ ہے ۔ غیر سے بالکل مستغنیٰ ہے ۔ زندہ ہے قادر ہے عالم ہے ۔ مرید ( ارادہ کرنے والا ) ہے سمیع ہے بصیر ہے ۔ متکلم ہے اس کی حیات ہے قدرۃ ہے علم ہے ارادہ ہے سمع ہے بصر ہے ۔ کلام ہے ۔ ہمیشہ سے ہے ۔ ہمیشہ رہے گا۔ وہ ان صفات کے ساتھ ۔ مخلوق کی کوئی صفات اس کی صفات کے مشابہ نہیں ہے ۔ یہ نہیں کہا جائے کہ صفات وہی ہیں اور نہ ہی غیر میں یہ بھی نہیں کہا جائے گا کہ اس سے جدا ہیں ۔ یا مجاوز ہیں ۔ یا مخالف ہیں ۔ یا موافق ہیں یا اس کو حلول کر چکی ہیں ۔ بلکہ ی ہ اس کی تعریف و ثنا ہیں ، ازلی ہیں ۔ اور اس کی صفات ابدی میں اسی کے ساتھ قائم ہیں اسی کے وجود کے ساتھ موجود ہیں ۔ اسی کے دوام کے ساتھ دائم ہیں ۔ نہ ہیں اعراض میں نہ ہی اغیار ہیں ۔ نہ اعضاء میں اترنے والی ہیں ۔ ذہنوں میں خیال و تصور کے اعتبار سے غیر مکلف ہیں یعنی جن کی کیفیت کا تصور میں ذھنوں نہیں آ سکتا۔ ان کی تمثیل و ہموں کے لئے غیر مقدور ہے ۔ اس کی قدرت مقدورات کو عام و شامل ہے ۔ اور اس کا علم معلومات کے لئے عام ہے اور شامل ہے ۔ اور اس کا ارادہ تمام مرادات کو شامل ہے ۔ وہی ہوتا ہے جو کچھ وہ ارادہ کرتا ہے ۔ جو کچھ نہیں ہوتا اس کا وہ ارادہ ہی نہیں کرتا ۔ وہ حدود اور جہات و اطراف سے اور غایات سے وراء ہے ۔ مکانوں اور زمانوں سے مستغنی ہے ۔ نہیں پا سکتیں اس کو حاجات اور نہیں چھو سکتے اس کو منافع اور نقصانات ۔ نہیں لاحق ہوتیں اس کو لذات نہ ہی تقاضے نہ ہی شہوات ایسی کوئی کیفیت ا س پر جائز نہیں جو حادث چیزوں پر جائز ہیں اور حادث ہونے پر دلالت کرتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ نہ حرکت درست ہے اس پر نہ ہی سکون ۔ نہ ہی اجتماع نہ ہی افتراق نہ ہی برابری نہ ہی معاملہ ۔ نہ ہی ایک دوسرے کو چھونا ۔ نہ ایک دوسرے کا مجاور ہونا پڑوسی ہونا نہ ہی کوئی حادث شئی اس کے ساتھ قائم ہے ۔ نہ ہی اس کی کوئی ازلی صفت اس سے باطل ہوتی ہے اس پر عدم صحیح نہیں ہے محال ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ۔ یا بیوی ہو یا شریک ہو ۔ اپنے سو ا ہر زندہ کو موت دینے پر قادر ہے ۔ اپنے سو ہر شئی کو فنا کر سکتا ہے ۔ فنیٰ کے بعد دوبارہ اجسام کو بنا سکتا ہے ۔ ہر شئی کی مثال بغیر کسی کمی کو کوتاہی کے پید کر سکتا ہے ۔ ہر شئی پر قادر ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے اسی کا حکم ہے ہر انعام اس کا فضل ہے ہر اکرام اس کی طرف سے انصاف ہے ۔ اس کی طرف نسبت جوڑنا جائز ہے اور اس کی طرف نسبت ظلم صحیح نہیں ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 100

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في معرفة الله عز و جل و معرفة صفاته و أسمائه ـ · حديث 101

101 - حدثنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ و أبو جعفر محمد بن صالح قالا : ثنا الحسين بن الفضل ثنا محمد بن سابق ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي بن كعب : أن المشركين قالوا : يا محمد ! انسب لنا ربك فأنزل الله عز و جل : { قل هو الله أحد * الله الصمد } قال : الصمد : الذي لم يلد و لم يولد و لم يكن له كفوا أحد لأنه ليس شيء يولد إلا سيموت و ليس شيء يموت إلا سيورث و أن الله تبارك و تعالى لا يموت و لا يورث و لم يكن له كفوا أحد لم يكن له شبيه و لا عدل و ليس كمثله شيء

ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے اور ابو جعفر محمد بن صالح نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسین بن فضل نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن سابق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر رازی نے ربیع بن انس سے انہوں نے ابو العالیہ سے انہوں نے ابی بن کعب سے کہ مشرکین نے کہا اے محمد اپنے رب اک ہمارے سامنے نسب بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ یہ آیت ناز فرمائی ۔ ( قل ھو اللہ احمد اللہ الصمد ) فرما دیجئے اللہ ایک ہے اللہ صمد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا صمد وہ ہوتا ہے ( الصمد الذی لم یلد و لم یولد و لم یکن لہ کفوا احدا) جو نہ کسی کو جنے اور نہ ہی اس کو کوئی جنے اور کوئی ایک بھی اس کس ہمسر نہ ہو۔ کیونکہ جو بھی پیدا ہوتا وہ مرتا بھی ہے اور جو مرتا ہے اس کی جگہ کوئی اور بھی اتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نہ ہی مرے گا نہ اس کی جگہ کوئی لے ۔ نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے نہ ہی کوئی اس کے مشابہ ہے ۔ نہ ہی برابر ہے کوئی شئی اس کی مثل نہیں ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ الْمُشْرِكِينَ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ،

Shuab ul Iman · Book › Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names · Hadith 101

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في معرفة الله عز و جل و معرفة صفاته و أسمائه ـ · حديث 102

102 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني أنبأ أبو بكر الإسماعيلي : و حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي محمد بن الحسين حدثنا جدي إسماعيل بن نجيد و أبو عمرو بن مطر و علي بن بندار الصيرفي و أبو عمرو بن حمدان و أبو بكر بن قريش و غيرهم قالوا ثنا الحسن بن سفيان ثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم ثنا شعيب بن أبي حمزة عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضي الله عنه ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله تسعة و تسعين اسما ـ مائة إلا واحدة إنه وتر يحب الوتر ـ من أحصاها دخل الجنة : هو الله الذي لا إله إلا هو الرحمن الرحيم الملك القدوس السلام المؤمن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الخالق البارئ المصور الغفار القهار الوهاب الرزاق الفتاح العليم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السميع البصير الحكم العدل اللطيف الخبير الحليم العظيم الغفور الشكور العلي الكبير الحفيظ المقيت الحبيب الجليل الكريم الرقيب المجيب الواسع الحكيم الودود المجيد الباعث الشهيد الحق الوكيل القوي المتين الولي الحميد المحصي المبدئ المعيد المحيي المميت الحي القيوم الماجد الواجد الواحد الأحد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الأول الآخر الظاهر الباطن البر التواب المنتقم العفو الرؤوف مالك الملك ذو الجلال و الإكرام الوالي المتعالي المقسط الجامع الغني المغني الرافع الضار النافع النور الهادي البديع الباقي الوارث الرشيد الصبور الذي ليس كمثله شيء و هو السميع البصير و قال غيره : المانع بدل قوله الرافع و قال : الوالي المتعالي عقب قوله الباطن و قال البيهقي ـ رحمه الله : و ذكر الأستاذ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد إبراهيم الاسفراييني : أن قوله من أحصاها يريد من علمها و ذكر أن من هذه الأسماء ثمانية و عشرين اسما للذات و ثمانية و عشرين اسما لصفات الذات و ثلاثة و أربعين اسما للفعل

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور احمد بن علی دامغانی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر اسماعیل نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمن سلمی نے محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے میرے دادا اسماعیل بن نجید نے اور ابو عمرو بن مطر نے اور علی بن بندار صیرفی نے اور ابو عمرو بن حمدان نے اور ابو بکر بن قریش نے وغیرہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صفوان بن صالح نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ولید بن مسلم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعیب بن ابی حمزہ نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ان اللہ تسعۃ و تسعین اسما مائۃ الا واحدۃ ۔ انہ و تر یحب الوتر ، من احصاھا دخل الجنۃ ) اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ۔ ایک سو سے ایک کم ۔ ( اللہ تعالیٰ طاق عدد ہے اور وہ طاق عدد کو پسند کرتا ہے ۔ ) جو شخص ان کو یاد کرے گا جنت میں داخل ہو گا۔ (ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الرحمن ، الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المومن ، المھیمن ، العزیز، الجبار، المتبکر، الخالق ، الباری، المصور، الغفار، القھار، الوھاب، الرزاق، الفتاح ، العلیم ، القابض ، الباسط ، الخافض ، الرافع ، المعز، المزل، السمیع، البصیر، الحکم ، العدل، اللطیف ، الخبیر، الحلیم، العظیم، الغفور ،الشکور، علی الکبیر، الحفیظ، المقیت، الحسیب، الجلیل ، الکریم، الرقیب، المجیب، اواسع، الحکم ، الودود، المجید، الباعث، الشھید، الحق ، الوکیل، القوی، المتین، الولی، الحمید، المحصی، المبدی، المعید، المحی ، الممیت ، الحی، القیوم ، الماجد، الواجد، الواحد، الاحد، الصمد، القادر، المقتدر، المقدم، الموخر، الاول ، الاخر، الظاھر، الباطن ، البر، التواب، المنقم، العفو، الروف، مالک الملک ذوالجلال و الاکرام الوالی، المتعالی ، المقسط، الجامع، الغنی، المغنی، الرافع ، الضار، النافع، النور، الھادی، البدیع، الباقی، الوارث، الرشید، الصبور، الذی لیس کمثلہ شئ و ھو السمیع البصیر، ابو ہریرہ۔ کے سوا اوروں نے الرافع کے بدلے میں المانع کہا ہے اورل الباطن کے بعد الوالی المتعالی کہا ہے ۔ امام بیہقی نے فرمایا : استاذ ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم اسفرائنی نے ذکر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان من احصاھا ۔ سے مراد ہے من علمھا جو ان اسماء کو یاد کرے سے مراد ہے جو ان کو جان لے اور ذکر فرمایا کہ یہ اسماء اٹھائیس نام ذات کے لئے ہیں اور اٹھائیس نام صفات کے لئے اور تینتالیس اسم فعل کے لئے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names · Hadith 102

شعب الإيمان · کتاب ‹ أسامی صفات الفعل · حديث 103

103 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا الوليد حسان بن محمد الفقيه يقول سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل ـ : و سئل عن قوله { تبارك } ـ فقال ارتفع و علا

ہمیں خبر دی ہی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو الولید حسان بن محمد فقیہ سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو عثمان سعید بن اسماعیل سے وہ اللہ تعالیٰ نے اس فرمان کے بارے سوال کئے گئے تھے ۔ تبارک انہوں نے فرمایا اس کا مطلب ہے ارتفع و علا ۔ اونچا ہوا اور بلند ہوا۔

قوله تبارك فقال ارتفع و علا ← أبا عثمان سعيد بن إسماعيل و سئل ← أبا الوليد حسان بن محمد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Asami, the verb adjectives · Hadith 103

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 104

104 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن الفضل الصائغ ثنا آدم ثنا أبو جعفر الرازي ثنا سعيد بن مسروق عن أبي الضحى : ـ { و إلهكم إله واحد } لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و قالوا أن محمدا يقول : و إلهكم إله واحد فليأتنا بآية إن كان من الصادقين فأنزل الله عز و جل : { إن في خلق السماوات و الأرض و اختلاف الليل و النهار } الآية يقول : إن في هذه الآيات { لآيات لقوم يعقلون }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس اصم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے احمد بن فضل صائغ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفری رازی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن مسروق نے ابو ضحیٰ سے والھکم الہ و احد، جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین حیران ہو گئے اور ایک دوسرے سے بولے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کہتا ہے ۔ : ( الھکم الہ واحد) تمہارا الہٰ معبود مشکل کشا سب کچھ کرتا دھرتا ایک ہے ۔ یہ سچا ہے تو اس بات کی کوئی نشانی کوئی دلیل ہمارے سامنے پیش کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت : ( ان فی خلق السموات و الارض و اختلاف اللیل و النھار ) بقرۃ ۱۶۴) نازل فرمائی ہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کو دیکھیں رات دن کے آنے جانے کو دیکھیں کہ یہ کس کی تدبیر و تصرف سے سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہی اللہ ہے وہی ایک ہی وہی الہٰ ہے معبود ہے مشکل کشا ہے اور آخر میں یہ بتایا کہ اس میں سمجھنے اور عقل رکھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔

أبي الضحى لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أبو جعفر الرازي ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 104

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 105

105 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن يوسف الدقيقي قال : وجدت في كتابي للشافعي رحمه الله : ( فيا عجبا كيف يعصى الإله أم كيف يجحده جاحد ) ( و لله في كل تحريكة و تسكينة أبدا شاهد ) ( في كل شيء له آية تدل على أنه واحد ) و يقال أن هذه الأبيات لأبي العتاهية

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے محمد بن یوسف دقیقی نے انہوں نے کہا میں نے اپنے پاس امام شافعی کی ایک کتاب میں یہ شعر لکھے ہوئے پائے : ( فیا عجبا کیف یعصیٰ الا الہ ام کیف یجحدہ جاحد) اے حیرانی معبود حقیقی کی کیسے نافرمانی کی جاتی ہے ۔ یا کوئی انکار کرنے والا کیسے ؟ اس کا انکار کرتا ہے ۔ ( واللہ فی کل تحریحکۃ و تسکینۃ ابداشاھد) اللہ کی قسم ہر حرکت میں اور ہر سکون میں ہمیشہ ( اس کی الوہیت ) کی دلیل موجود ہوتی ہے حرکت میں ( فی کل شئی لہ ایۃ تدل علی انہ واحد ) ( کائنات کی ) ہر شے میں اس کی نشانی موجود ہے جو دلالت کر رہی ہے کہ وہ ایک ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اشعار ابوعتاہیہ شاعر کے ہیں ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الدَّقِيقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 105

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 106

106 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا الحسين عبد الواحد بن أبي عبد الرحمن ـ ناقله أبي القاسم المذكور ـ يقول حكى جدي في كتبه عن شيوخه : أن أبا العتاهية إسماعيل بن القاسم جاء إلى دكان سقيفة الوراق فجلس و تحدث ثم ضرب بيده فكتب في ظهره : ( فيا عجبا كيف يعصى الإله أم كيف يجحده الجاحد ) ( و لله في كل تحريكة و تسكينة أبدا شاهد ) ( و في كل شيء له آية تدل على أنه واحد ) ثم ألقاه و نهض فلما كان الغد أو بعد ذلك جاء أبو نواس فجلس و تحدث و ضرب بيده إلى ذلك الدفتر فقال : أحسن قاتله الله ! و الله لوددته لي بجميع ما قلته لمن هي ؟ قلنا : لأبي العتاهية فقال : هو أحق به ثم أخذ أبو نواس الدفتر فكتب : ( سبحان من خلق الخلق من ضعيف مهين ) ( يسوقه من قرار إلى قرار مكين ) ( يحوز شيئا فشيئا في الحجب دون العيون ) ( حتى بدت حركات مخلوقة من سكون ) فلما عاد أبو العتاهية نظر فيه فقال : أحسن قاتله الله ! و الله لوددت أنها لي بجميع ما قلت و ما أقول لمن هي ؟ فقلنا لأبي نواس فقال : الشيطان ثم كتب أبو العتاهية : ( فإن أك حالكا فالمسك أحوى و ما لسواد جلدي من بقاء ) ( و لكني عن الفحشاء ناء كبعد الأرض عن جو السماء )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا میں نے سنا تھا ابو الحسن عبدالواحد میں ابو عبدالرحمن سے ان سے نقل کرنے والا ابو القاسم مذکور ہے وہ کہتے ہیں میرے دادا نے حکایت بیان کی ہے اپنی کتب میں اپنے شیوخ سے کہ ابو العتاھیہ شاعر اسماعیل ب قاسم ایک دفعہ ایک کاغذ فروش کی دکان کے چھپرے تلے آیا اور بیٹھ کر باتیں کرنے لگا باتیں کرتے کرتے اس نے ایک کاپی یا رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کی پشت پر اس نے یہ اشعار لکھ کر چھوڑئیے ۔ یعنی اوپر مذکورہ تین اشعار لکھے اور اٹھ کر چلا گیا جب اگلی صبح ہوئی یا اس کے بعد کسی دن وہاں ابو نواس شاعر بھی آ کر بیٹھا اور باتیں کرنے لگا اچانک اس نے وہی رجسٹر اٹھایا تو اس پر مذکورہ شعر لکھے دیکھے اور بولا بہت اچھا لکا ، اس کو اللہ مارے میں نے تو بھائی ان تمام اشعار کے مقابلے میں جو میں نے کہے ہیں ان کو بہت پسند کیا ہے ۔ یہ کس کا کالم ہے ؟ کس کے اشعار ہیں ؟ ہم لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو العتاھیہ نے کھے ہیں بولا ہاں یہ اسی کا حق تھا یعنی واقعی یہ وہی لکھ سکتا ہے ۔ پھر ابو نواس شاعر نے رجسٹر اٹھایا اور ( ابو العتاھیہ کی طرح اللہ کی توحید اورشان میں اشعار ) لکھے وہ یہ ہیں : ( سبحان من خلق الخلق من ضعیف مھین ) پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوق کو کمزور اورحقیر نطفے سے پیدا کیا۔ ( یسو قہ من قرار الیٰ قرار مکین ) چلاتا ہے اس کو ایک ٹھکانے سے دوسرے مضبوط ٹھکانے کی طرف۔ ( یحوز شیئا مشیا فی الحجب دون العیون ) درجہ بدرجہ اس کی حفاظت کرتاہے کئی کئی پردوں میں نگاہوں سے بچا کر ( حتیٰ بدت حرکات مخلوقۃ من سکون ) یہاں تک کہ حرکات ظاہر ہوجاتی ہیں بچے میں ( ایک طویل ) سکون کے بعد ۔ اتفاق سے ابو العتاھیہ شاعر جب واپس اسی جگہ آیا تو اس نے ابونواس کے یہ اشعار لکھے ہوئے دیکھے اس نے بھی وہی جملے کہے جو اس کے بارے ابونواس نے کہے تھے کہ بہت اچھا لکھا ہے ۔ اللہ اس کو مارے ۔ اللہ کی قسم میں اپنے تمام کلام کے مقابلے جو میں نے کہا ہے اس کو پسند کرتا ہوں یہ کس کا کلام ہے ۔ ہم نے اسے بتایا کہ یہ ابونواس شاعر کا کلام ہے ۔ ابوالعتاھیہ نے جواب میں کہا کہ اچھا یہ اس شیطان نے کہا ہے ؟ پھر اس نے یعنی ابو العتاہیہ نے لکھا ۔ ( فانک حالکا فالمسک اھوی و مالسواد جلدی من بقاء ) اگر میں کالا ہوں تو ( کیا ہوا ) کستوری بھی تو کالی ہوتی ہے ۔ میرے چمڑے کی سیاھی باقی رہنے والی نہیں ہے ۔ ( ولکنی عن الفحشاء نا ، کبعد الارض عن جوالسماء ) مگر میں برائیوں اور بے حیائیوں سے تو دور ہوں جیسے کہ زمین آسمان کی فضا سے دور ہے ۔

شيوخه ← حكى جدي في كتبه ← أبا الحسين عبد الواحد بن أبي عبد الرحمن ناقله أبي القاسم المذكور ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 106

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 107

107 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر بن صالح بن هاني ثنا السري بن خزيمة ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله تعالى : { و لقد خلقناكم ثم صورناكم } قال : خلقوا في أصلاب الرجال ثم صوروا في أرحام النساء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر محمد بن صالح بن ھانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان بتائی ہے سری بن خزیمہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے سفیان نے اعمش سے منھال بن عمرو سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں ( و لقد خلقنا کم ثم صورناکم ) ( اعراف لا ) البتہ تحقیق ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری ہم نے شکل و صورت بنائی ۔ حضرت ابن عباس نے تفسیر بتائی ۔ ( خلقوا فی اصلاب الرجال ۔ ثم صورو افیارحام النساء ) اس سے مراد ہے کہ پہلے مردوں کی پیٹھ میں پیدا کئے گئے پھر عورتوں کی رحموں میں ان کی شکلیں بنائی گئیں۔

خلقوا في أصلاب الرجال ثم صوروا في أرحام النساء ← ابن عباس في قوله تعالى و لقد خلقناكم ثم صورناكم ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر بن صالح بن هاني

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 107

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 108

108 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنبأ عبد الله بن محمد بن علي بن زياد الدقيقي ثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن المديني ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنبأ بقية بن الوليد ثنا بحير بن سعيد عن خالد بن معدان قال : قال أبو ذر رضي الله عنه : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أفلح من أخلص الله قلبه للإيمان و جعل قلبه سليما و لسانه صادقا و نفسه مطمئنة و خليقته مستقيمة و جعل أذنه مستمعة و عينه ناظرة فأما الأذن فقمع و أما العين فمقرة لما يوعى القلب و قد أفلح من جعل الله قلبه واعيا

ہمیں بیان کیا امام ابو النصیر سہل بن محمد بن سلیمان نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد دقیقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے عبداللہ بن محمد عبدالرحمن مدینی نے انہوں نے کہا ہمیں بتایا ہے اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی بقیہ بن ولید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا بحیر بن سعید نے خالد بن معدان سے وہ کہتے ہیں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ( قد افحلح من اخلص اللہ قلبہ للایمان ، و جعل قلبہ سلیما ، ولسانہ صادقا ، و نفسہ مطمئنۃ ، و خلیقتہ مستقمیۃ ، و جعل اذنہ مستمعۃ و عینہ ناظرۃ ، فاما الازن فقمع و اما العین ، فمقرۃ لما یوعی القلب ، و قد افلح من جعل اللہ قلبہ و اعیاِ ) کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لئے خالص کر لیا۔ اور اس کی دل کو حق شناس بنا دیا ۔ اس کیزبان کو سچا۔ اور اس کے نفس مطمئن بنا دیا ۔ اس کی فطرت کو درست بنا دیا ۔ اس کے کان کو حق سننے والا۔ آنکھ کو حق دیکھنے والا بنا دیا۔ بہر حال کان توقیف ہیں ( بات اندر پہچانے کے لئے ) اور آنکھ دل کی محفوظ کردہ چیز کاپیالہ میں ۔ تحقیق کامیاب ہو گیا وہ شخص اللہ نے جس کے دل کو ایمان کو محفوظ کرنے والا بنا دیا ۔

أَبُو ذَرٍّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنبأ بقية بن الوليد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ،

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 108

chevron_left Previous
1…891011
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood