Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 85

85 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل ثنا إبراهيم بن معقل ثنا حرملة ثنا ابن وهب ثنا مالك أنه دخل يوما على عبد الله بن يزيد بن هرمز فذكر قصة ـ ثم قال : و كان ـ يعني ابن هرمز ـ بصيرا بالكلام و كان يرد على أهل الأهواء و كان من أعلم الناس بما اختلفوا فيه من هذا الأهواء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے احمد بن سہل نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن معقل نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے حرملہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابن وہب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے مالک نے کہ وہ ایک دن عبداللہ بن یزید بن ہرمز کے پاس داخل ہوئے ۔ اور قصہ ذکر کیا ۔ پھر کہا کہ ابن ہرمز کلام میں بصیرت والا اور وہ اہل بدعت کا رد کرتا تھا اور بڑے علم والے لوگوں میں سے تھا خصوصا جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے اہل بدعت میں سے ۔

قصة ثم ← مالك أنه دخل يوما على عبد الله بن يزيد بن هرمز ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← إبراهيم بن معقل ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 85

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يكون مؤمنا بإيمان غيره · حديث 86

86 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن ح عن أبيه عن أبي هريرة ـ رضي الله عنه ـ : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل إنسان تلده أمه على الفطرة أبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه فإن كانا مسلمين فمسلم كل إنسان تلده أمه يلكزه الشيطان في حضنيه إلا مريم و ابنها رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و قد حكينا عن الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ أنه قال : كل مولود يولد على الفطرة هي الفطرة التي فطر الله تعالى عليها الخلق فجعلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ ما لم يفصحوا بالقول فيختاروا أحد القولين : الإيمان أو الكفر ـ لا حكم لهم في أنفسهم ـ إنما الحكم لهم بآبائهم فما كان آباؤهم يوم يولدون فهم بحاله إما مؤمن فعلى إيمانه أو كافر فعلى كفره فذهب الشافعي ـ رحمه الله ـ في هذا إلى أن الله تعالى خلق المولود لا حكم له في نفسه و إنما هو تبع لوالديه في الدين في حكم الدنيا حتى يعرف عن نفسه بعد البلوغ و أما في الآخرة فمنهم من ألحقهم بآبائهم في حكم الآخرة أيضا و منهم من ألحق ذراري المسلمين بهم و زعم أن أولاد المشركين خدم أهل الجنة و منهم من توقف في الجميع و وكل أمرهم إلى الله عز و جل و هذا أشبه الأقاويل بالسنن الصحيحة و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا أقاويل السلف في ذلك و ما احتج به كل فريق منهم في آخر كتاب القدر فمن أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى و متى ما أسلم الأبوان أو أحدهما صار الولد مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما و قد ذكرنا في كتاب السنن إسلام من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة و إذا سبي الصغير من دار الحرب و معه أبواه أو أحدهما فدينه دين من معه من أبويه و إن سبي وحده فدينه دين السابي لأنه وليه الذي أولى به منه فقام في دينه مقام أبويه كما قام في الولاية و الكفالة مقامهما و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( کل انسان تلدہ امہ علی الفطرۃ ابواہ یھود انہ اوینصر انہ اور یمجسانہ فان کانا مسلمین فمسلم ۔ و کل انسان تلدہ امہ یلکزہ الشیطان فی حضنی ہالا مریم و ابنھا) ہر انسان کی اس کی ماں جنم دیتی ہے ( اسلام کی ) فطرت پر ۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے یا مجوسی بناتے ہیں اگر وہ دونوں مسلمان ہوتے ہیں تو بچہ بھی مسلمان ہوتا ہے ۔ اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوں میں گھوسہ مارتا ہے مگر بی بی مریم اور اس کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ہم امام شافعی سے نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تھا : ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے موقوف قرار دیا ہے جب تک وہ اپنے قول سے وضاحت نہ کریں اور دو میں سے ایک قول کو اختیار کریں ۔ ایمان یا کفر کو فی ذاتدان کے حکم میں ہے البتہ ان کا حکم ان کے والدین والا ہے ولادت کے دن ان کے والدین جو کچھ تھے تو بچہ بھی اسی حکم میں ہو گا۔ اگر مومن تھے تو وہ ایمان پر ہوگا یا کافر تھے تو وہ کفر پر ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک اسی بارے میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مولود کو اس طرح بنایا ہے کہ فی نفسہ اس کے لئے اپنا کوئی حکم نہیں ہے بہر حال دنیا میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے دین میں یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بالغ ہونے کے بعد کچھ ظاہر کرے ۔ باقی رہا ان کا آخرت کا حکم تو کچھ لوگوں نے ان کو آخرت کے بارے میں بھی ان کے والدین کے ساتھ لاحق کیا ہے اور بعض نے مسلمانوں کی اولادوں کو ان کے ساتھ لاحق کیا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مشرکین کی اولاد اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ اور کچھ لوگوں نے تمام بچوں کے بارے میں توقف کیا ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا ہے یہ قول احادیث صحیحہ کے مطابق تمام اقوال میں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس بارے میں سلف کے تمام اقوال اور ان کے دلائل ہم کتاب القدر کے آخر میں ذکر کر رہے ہیں جو شخص ان پر اگاہی چاہے تو انشاء اللہ وہاں رجوع کرے گا۔ جب والدین دونوں یا کوئی ایک مسلمان ہو جائے گا بچہ اس کے اسلام کے ساتھ مسلمان قرار پائے گا۔ ہم نے کتاب السنن میں اولاد صحابہ میں سے جو بچے والدین یا کسی ایک اسلام کی وجہ سے مسلمان قرار پائے تھے ان کا ذکر کیا ہے ۔ جب کوئی بچہ دار الکفر سے قید ہو کر آئے اور اس کے والدین ساتھ ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ساتھ ہو تو بچھے کا دین اس کے ماں باپ والا ہوگا اگر بچہ اکیلا قیدی ہو کر آئے تو اس کا دین قید کرنے والے کا دین ہے کیونکہ وہی اس کا ولی ہے جو اس کے لئے اولیٰ ہے لہذا بچہ اپنے دین کے معاملے میں اپنے والدین کی جگہ ہے جیسے دلایت اور کفالت میں ان کی جگہ ہے واللہ اعلم ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلاء بن ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب

Shuab ul Iman · Book › The door to say about whoever is a believer in the faith of others · Hadith 86

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يصح إيمانه أو لا يصح ـ · حديث 87

87 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ثنا أبو الوليد الطيالسي و موسى بن إسماعيل قالا : ثنا حماد بن سلمة عن حماد عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رفع القلم عن ثلاثة : عن الصبي حتى يحتلم و عن المعتوه حتى يفيق و عن النائم حتى يستيقظ و أما ما روي من إسلام علي و صلاته مع النبي صلى الله عليه و سلم فقد قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : لما أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بالإسلام و الصلاة فهو آحد شيئين : أما أن يكون خصه بالخطاب لما صار من أهل التمييز و المعرفة دون سائر الصغار ليكون ذلك كرامة له و منقبة فلما توجه عليه الخطاب و الدعوة صحت منه الإجابة و سائر الصغار لا يتوجه عليهم الخطاب و الدعوة فلا يصح منهم الإسلام أو يكون خطاب النبي صلى الله عليه و سلم إياه بالدعاء إلى الإسلام و الصلاة يومئذ على أنه بالغ عنده لأن البلوغ بالسن ليس مما شرع في أول الإسلام بل ليس يحفظ قبل قصة ابن عمر في أحد و الخندق في ذلك شيء فالظاهر أن الناس كانوا يجرون في ذلك على رأيهم و ما تعارفوا من أن الصبي من لا يمكن أن يولد له و الرجل من يمكن أن يولد له و كان علي ـ رضي الله عنه ـ ابن عشر سنين لما أسلم و ظاهر قول من قال إنه ابن عشر : أنه استكمل عشرا و دخل في الحادي عشر و من بلغ هذا السن فقد يمكن أن يولد له فلما شرع البلوغ بعد ذلك بالسن نظر إلى السن فقد يمكن أن يولد له فلما شرع البلوغ بعد ذلك بالسن نظر إلى السن التي كل من بلغها جاز أن يولد له دون السن التي ينذر ممن يبلغها الإيلاد و كان من قصرت سنوه عن ذلك الحد صغيرا في الحكم و لم يجز أن يصح إسلامه و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا في كتاب السنن و في كتاب الفضائل سائر ما قيل فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الولید طیالسی نے اور موسیٰ بن اسماعیل نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے حماد سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے عائشہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا : ( رفع القلم عن ثلاثۃ عن الصبی حتی یحتلم و عن المعتوہ حتی یفیق و عن النائم حتی یستیقط ) تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا دیا گیا ہے ( یعنی خاص حالت میں فرشتے ان کے اعمال نہیں لکھتے ) چھوٹا بچہ یہاں تک کہ جوان ہو جائے اور بیہوش جب تک کے ہوش میں آئے اور نیند والا یہاں تک کے بیدار ہو جائے ۔ بہر حال حضرت علی کے اسلام کے بارے میں جو مروی ہے کہ وہ دس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا اسی بارے حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جب انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اسلام اور نماز کا حکم دیا تو وہاں دو میں سے ایک بات تھی ۔ یا تو انہیں خطاب کے لئے مخصوص کیا ہو گا ۔ اس لئے کہ وہ صاحب تمیز اور صاحب معرفت ہو گئے تھے باقی عام بچوں کے مقابلے ۔ تانکہ یہ ان کی کرامت اور منقبت ہو جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطاب ان کی طرف متوجہ ہو اور دعوت متوجہ ہوئی تو ٹھیک ان کی طرف سے اس کی اجابت بھی ہو گئی اور باقی تمام بچوں کی طرف نہ تو خطاب متوجہ ہوتا ہے اور نہ ہی دعوت لہذا ان کی طرف سے اسلام صحیح نہیں ہوتا ۔ یا پھر نبی علیہ السلام کا خطاب حضرت علی کے لئے خاص ان کو اسلام اور نماز کی دعوت ہو گا۔ اس دن اس لئے کہ وہ حضور کے نزدیک بالغ ہو چکے تھے ۔ اس لئے کہ سن کے ساتھ بالغ ہونا ابتدا اسلام میں مشروع نہیں ہوا تھا بلکہ ابن عمر کے قصہ سے قبل محفوظ نہیں جو احد یا خندق میں ہوا علاوہ اس کے کوئی بات محفوظ نہیں ہے ۔ بلکہ ظاہر یہ ہے کہ لوگ اس بارے میں اپنی رائے پر چلتے تھے ۔ اور جس بات کو لوگ جانتے وہ یہ تھی کہ صبی ( بچہ ) وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہونا ممکن نہ ہو ۔ اور آدمی وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہونا ممکن ہو۔ اور حج علی جب مسلمان ہوئے تو دس برس کے تھے یعنی دس پورے کر کے گیارہ میں داخل ہو چکے تھے ۔ اور جو اس عمر کو پہنچ جائے اس کی اولاد ہونا ممکن ہوتا ہے ۔ جب بلوغ اس کے بعد اس کے ساتھ مشروع ہوا تو سن کی طرف دیکھا جانے لگا ۔ کہ جو اس سن کو پہنچ جائے ممکن ہے کہ اس کی اولاد ہو جائے سوائے اس سنہ کے جو نادر ہو ان میں سے جو اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو جائے اور وہ جو اس متعین سنہ سے کم ہو گا وہ بچہ کے حکم میں ہو گا۔ اور یہ بھی جائز نہیں ہو گا کہ اس کا اسلام صحیح اور درست ہو۔ اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہم نے کتاب السنسن کی کتاب الفضائل میں ذکر کر دیا ہے ۔

المعتوه حتى يفيق و ← الصبي حتى يحتلم و ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو الوليد الطيالسي و موسى بن إسماعيل ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of the saying about whoever has valid faith or not · Hadith 87

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدعاء إلى الإسلام · حديث 88

88 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ محمد بن إبراهيم المزكي و أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور قالا ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ثنا زكريا ابن إسحاق المكي عن يحيى بن عبد الله بن صيفي عن أبي معبد عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعث معاذا إلى اليمن قال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك لتأتي قوما أهل كتاب فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم و ليلة فإن هم أجابوك لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم فإن هم أجابوا لذلك فإياك و كرائم أموالهم و إياك و دعوة المظلوم فإنها ليس بينها و بين الله حجاب رواه البخاري عن يحيى بن موسى عن وكيع و رواه مسلم عن إسحاق بن إبراهيم و غيره و دعاء من لم تبلغه الدعوة مستحق و دعاء من بلغته الدعوة إذا لم يحتج إلى التثبيت في قهرهم مستحب و قد مضى الكلام و ما ورد فيه من الأخبار في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد بن ابراہیم مزنی نے اور خبر دی ہے ہمیں ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے میرے دادا یحییٰ بن منصور نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن سلمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے وکیع نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے زکریا بن اسحٰق مکی نے یحییٰ بن عبداللہ صیفی سے انہوں نے ابو سعید سے انہوں نے ابن عباس سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تو اس سے فرمایا ، تم اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہو انہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت کی دعوت دینا اگر وہ لوگ تمہاری اس دعوت کو مان لیں تو پھر انہیں یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں رات دن میں ہر روز اگر وہ تمہاری اس بات کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ یعنی زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے دولت مندوں سے لی جائے گی اور ان کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی اگر وہ تیری اس بات کو مان لیں تو تم ان کے اعلیٰ ترین مالوں میں تصرف سے بچنا اور خود کو مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کو حجاب نہیں ہوتا بخاری نے اس کو یحییٰ بن منصور سے انہوں نے وکیع سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو اسحاق بن ابراہیم وغیرہ سے روایت کیا ہ ۔ جس شخص کو اسلام کی دعوت نہیں پہنچی اس کو دعوت دینا فرض ہے اور جس کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہے اس کو بلانا مستحب ہے ۔ کتاب السنن میں احادیث اور اس بارے میں کلام گزر چکے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← زكريا ابن اسحاق المكى ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى بن منصور

Shuab ul Iman · Book › The door to pray to Islam · Hadith 88

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 89

89 - قال : أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو مسلم ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان قال الحليمي رحمه الله تعالى : و هذه الشهادة فرض تجمع الاعتقاد بالقلب و الاعتراف باللسان و الاعتقاد و الإقرار و إن كانا عملين يعملان بجارحتين مختلفتين فإن نوع العمل واحد و المنسوب منه إلى القلب هو المنسوب إلى اللسان و المنسوب إلى اللسان هو المنسوب إلى القلب كما أن المكتوب ـ مما جمع بين كتبه و قوله هو المقول و المقول هو المكتوب قال : و العمل الصالح بالاعتقاد و الإقرار مجموع عدة أشياء : 1 - ـ أحدهما : إثبات البارئ جل جلاله ليقع به مفارقة التعطيل 2 - ـ و الثاني : إثبات وحدانيته لتقع به البراءة من الشرك 3 - ـ و الثالث : إثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض ليقع به البراءة من التشبيه 4 - ـ و الرابع : إثبات أن وجود كل ما سواه كان معدوما من قبل إبداعه له و اختراعه إياه ليقع به البراءة من قول من يقول بالعلة و المعلول 5 - ـ و الخامس : إثبات أنه مدبر ما أبدع و مصرفه على ما يشاء ليقع به البراءة من قول القائلين بالطبائع أو تدبير الكواكب أو تدبير الملائكة فأما البراءة بإثبات الباري جل ثناؤه و الاعتراف له بالوجود من معاني التعطيل فلأن قوما ضلوا عن معرفة الله جل ثناؤه فكفروا و ألحدوا و زعموا أنه لا فاعل لهذا العالم و أنه لم يزل على ما هو عليه و لا موجود إلا المحسوسات و ليس وراءها شيء و أن الكوائن و الحوادث إنما تكون و تحدث من قبل الطبائع التي في العناصر ـ و هي الماء و النار و الهواء و الأرض و لا مدبر للعالم يكون ما يكون باختياره و صنعه فإذا أثبت المثبت للعالم إلها و نسب الفعل و الصنع إليه فقد فارق الإلحاد و التعطيل و هذا أحسن مذاهب الملحدين و القائلون به يسميهم غيرهم من أهل الإلحاد : الفرقة المتجاهلة و يدعونهم غير الفلاسفة أما البراءة من الشرك بإثبات الوحدانية فلأن قوما ادعوا فاعلين فزعموا أن أحدهما يفعل الخير و الآخر يفعل الشر و زعم قوم أن بدء الخلق كان من النفس إلا أنه كان يقع منها لا على سبيل السداد و الحكمة فأخذ الباري على يدها و عمد إلى مادة قديمة كانت موجودة معه لم تزل فركب منها هذا العالم على ما هو عليه من السداد و الحكمة فإذا ثبت المثبت أن لا إله إلا الله واحد و لا خالق سواه و لا قديم غيره فقد انتفى عن قول الشريك الذي هو في البطلان و وجوب اسم الكفر لقائله كالإلحاد و التعطيل و أما البراءة من التشبيه بإثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض فلأن قوما زاغوا عن الحق فصفوا الباري ـ جل و عز ـ ببعض صفات المحدثين فمنهم من قال : إنه جوهر و منهم من قال : إنه جسم و منهم من أجاز أن يكون على العرش قاعدا كما يكون الملك على سريره و كل ذلك في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و التشريك فإذا ثبت أنه ليس كمثله شيء و جماع ذلك أنه ليس بجوهر و لا عرض فقد انتفى التشبيه لأنه لو كان جوهرا أو عرضا لجاز عليه ما يجوز على سائر الجواهر و الأعراض و إذا لم يكن جوهرا و لا عرضا لم يجز عليه ما يجوز على الجواهر من حيث أنها جواهر كالتأليف و التجسيم شغل الأمكنة و الحركة و السكون و لا ما يجوز على الأعراض من حيث أنها أعراض كالحدوث و عدم البقاء و أما البراءة من التعطيل بإثبات أنه مبدع كل شيء سواه فلأن قوما من الأوائل خالفوا المعطلة ثم خذلوا عن بلوغ الحق فقالوا : إن الباري موجود غير أنه علة لسائر الموجودات و سبب لها بمعنى أن وجوده اقتضى وجودها شيئا فشيئا على ترتيب لهم يذكرونه و أن المعمول إذا كان لا يفارق العلة فواجب إذا كان الباري لم يزل أن يكون مادة هذا العالم لم تزل معه فمن أثبت أنه المبدع الموجد المحدث لكل ما سواه من جوهر و عرض باختياره و إرادته المخترع لها لا من أصل فقد انتفى عن قوله التعليل الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و أما البراءة من الشريك في التدبير بإثبات أنه لا مدبر لشيء من الموجودات إلا الله فلأن قوما زعموا أن الملائكة تدبر العالم و سموها آلهة و قد قال الله تعالى للملائكة : { فالمدبرات أمرا } و معنى المدبرات : المنفذات لما دبر الله على أيديها كما يقال لمن ينفذ حكم الله بين الخصوم : حاكم و زعم قوم أن الكواكب تدر ما تحتها و أن كل كائنة و حادثة في الأرض فإنما هي من آثار حركات الكواكب و اقترافها و اقترانها و اتصالها و انفصالها و غير ذلك من أحوالها فمن أثبت أن الله ـ عز و جل ـ هو المدبر لما أبدع و لا مدبر سواه فقد انتفى عن قوله التشريك في التدبير الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتشريك في القدم أو في الخلق ثم أن الله عز و جل ثناؤه ضمن هذه المعاني كلها كلمة واحدة و هي لا إله إلا الله و أمر المأمورين بالإيمان أن يعتقدوها و يقولوها فقال جل و عز : { فاعلم أنه لا إله إلا الله } و قال فيما ذم مشركي العرب : { إنهم كانوا إذا قيل لهم لا إله إلا الله يستكبرون * ويقولون أإنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون } و المعنى أنهم إذا قيل لهم لا إله إلا الله استكبروا و لم يقولوا بل قالوا مكانها : أئنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون

فرمایا ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو مسلم نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے محمد بن کثیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا : ( الا یمان بضع و ستون اوبضع و سبعون ، افضلھا لا الہ الا اللہ و ادنا ھا اماطۃ الا زی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من اللایمان ) ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے و شاخین ہیں سب برتر شاخ لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے چھوٹی شاخ راستہ سے گندگی وغیرہ تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور حیاء ایمان کا شعبہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ شہادت فرض ہے ۔ جو اعتقاد بالقلب اور اقرار باللسان کو شامل ہے ۔ دل کا اعتقاد اور زبان کا اقرار اگرچہ دو ایسے عمل ہیں جو دو مختلف اعضاء ( دل اور زبان ) سے صادر ہوتے ہیں ۔ مگر عمل کی نوعیت واحد ہے ۔ جو چیز اس میں قلب کی طرف منسوب ہے وہی زبان کی طرف منسوب ہے ۔ اور جو چیز زبان کی طرف منسوب ہے ہی دل کی طرف منسوب ہے ۔ جیسے لفظ مکتوب وہی لکھا ہوا مکتوب ہے وہی بولا ہوا مکتوب ہے ۔ بولا ہوا وہی لکھا ہوا اور لکھا ہوا وہی بولا ہوا مکتوب ہے حلیمی نے فرمایا ۔ کہ عمل صالح اعتقاد اور اقرار سمیت مجموعی طور پر متعدد اشیاء میں ۔ اول ۔ باری تعالیٰ کے وجود کا اثبات کرنا تانکہ اس کے ساتھ تعطیل کا عقیدہ سے انکار واقع ہو۔ دوم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اثبات تانکہ اس کے ساتھ شرک سے بیزاری واقع ہو۔ سوم اس بات کا اثبات کے اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے تانکہ اس کے ساتھ عقید تشبیہ سے بیزاری واقع ہو۔ چہارم ، اس بات کا اثبات کہ اللہ کے سوا ہر شئی کا وجود اللہ تعالیٰ کے ایجاد و اختراع کرنے سے قبل معدوم تھا تانکہ اس کے ذریعہ خالق و مخلوق کے مابین علت و معلول کے تعلق و رشتہ کے عقیدہ سے بیزاری و براءۃ واقع ہو۔ پنجم ، اس بات کا اثبات کہ جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اس کا مدبر اور متصرف جیسے چاہے وہ خود ہے تانکہ اس کے ذریعے ان لوگوں سے براۃ واقع ہو سکے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کائنات طبعی طور پر چل رہی ہے یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کواکب اور ستاروں کی گردش سے یا وہ لو گ جو کہتے ہیں کہ فرشتوں کی تدبیر سے چل رہی ہے بہر حال باری تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ براۃ و بیزاری اور اللہ کے وجود کا اقرار یہ عقیدہ تعطیل کے رد میں سے ہے اس لئے کہ ایک قوم اللہ کی معرفت سے بھٹک گئی ہے اور کافر و ملحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ کر لیا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے ۔ یہ ہمیشہ اسی حالت پر ہے اور یہ کہ موجود وہی چیز ہو سکتی ہے جو محسوسات میں سے اور جو چیز محسوس نہیں ہوتی وہ موجود بھی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ حوادث اور واقعات عناصر اربعہ آگ پانی ہوا مٹی کے طبائع کے تغیر و تبدیلی سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ عالم کا کوئی مدبر نہیں ہے جس کے اختیار اور عمل سے ہو جو کچھ ہوتا ہے ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا عالم کے لئے ایک الہٰ ثابت کرتا ہے اور فعل اور صنعت کی نسبت اسی کی طرف کرتا ہے تو وہ الحاد اور تعطیل کو غلط کر دیتا ہے جب کہ وہ ملحدین کا خوبصورت مذہب ہے جس کے قائل اہل الحاد اپنے مخالفین کو فرقہ متجاہلہ کا نام دیتے ہیں اور انہیں غیر فلاسفہ و غیر معقول کہتے ہیں ۔ اسی طرح شرک سے براۃ و بیزاری وحدانیت کے اثبات سے ہوتی ہے کیونکہ ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ کائنات کے دو فاعل ہیں یا دو خالق ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خیر کے امور اور دوسرا شر کے امور انجام دیتا ہے ۔ اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تخلیق کی ابتدا روح اور نفس سے تھی لیکن غیر درست طریقہ اور غیر معقول طریقے تھی اللہ تعالیٰ نے اس تخلیق کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مادہ قدیمہ کے طرف ارادہ کیا جو ازل سے اس کے ساتھ موجود تھا ۔ اور اس عالم کو اس مادہ سے بنایا اور ترتیب دیا اس موجود ہ درست اور معقول ترکیب کے ساتھ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ الٰہ کوئی نہیں ہے اللہ کے سوا وہ ایک ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے ۔ تو وہ شریک ہونے کے قول کی نفی کرتا ہے اور یہ شریک ہونے کا کرنے والا قول باطل ہونے اور اپنے قائل کے لئے کافر کا لقب واجب کرنے میں الحاد اور تعطیل کے قول کی طرح ہے اسی طرح تشبیہ کے عقیدے سے براۃ و بیزاری یہ ثابت کرے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے اس لئے ہے کہ ایک قوم حق سے بھٹک گئے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بعض حادث صفات کے ساتھ متصف کیا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوہر ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ جسم ہے ۔ بعض نے یہ جائز رکھا ہے کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے جیسے کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جب کہ یہ ساری باتیں اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب لگانے کے لئے تعطیل اور تشریک کے عقیدے کی طرح ہیں ( کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لازم آتا ہے کہ وہ کائنات کی اشیاء سے ممثلت رکھتا ہے جب کہ وہ مثلیت سے پاک ہے ( مترجم ) جب کوئی ثابت کرتے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شئی ہے اس کی مثل کوئی بھی شئی نہیں ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ نہ وہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے تو وہ تشبیہ کی نفی کر دیتا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ جوہر یا عرض ہوتا تو اس پر وہ سب کچھ جائز اور ممکن ہوتا جو تمام جو اہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ جب وہ جوہر نہیں ہے عرض نہیں ہے تو اس پر وہ سب کچھ جائز نہیں ہے جو جواہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ جواہر میں تالیف و ترکیب ہوتی ہے تحبیم ہوتی ہے اللہ اس سے پاک ہے اور مکان اور جگہ گھیرتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے حرکت و سکون میں آتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے ور وہ کیفیات بھی س پر جائز نہیں جو اعراض پر ہوتی ہے جیسے قائم بالغیر ہونا اپنے ہونے اور وجود کے لئے کسی اور شئی کا محتاج ہونا پھر حادث و فانی ہونا وغیرہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے ۔ اسی طرح تعطیل سے براۃ و بیزاری ۔ یہ ثابت کرنے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی کو از سر نو بغیر مادہ کے بنانے والا ہے اپنی ذات کے سوا ( یہ اس لئے ضروری ہے کہ ) پہلے لوگوں میں سے ایک قوم نے فرقہ معطلہ کی مخلافت کی مگر حق تک رسائی پانے میں ناکام ہو گئے اور انہوں نے یہ قول اختیار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ جود تو ہے لیکن اسی طرح کہ وہ تمام کائنات کی موجودات کے لئے علت اور سبب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وجود نے موجودات میں سے ہر ہر شئی کے وجود کو ایک کے بعد ایک کو تقاضا کیا ہے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جس کا وہ ذکر کرتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ از سر نوع بغیر مادے اور بغیر مثال کے کائنات بنانے اور ایجاد کرنے والا ہے اور اپنے سوا ہر چیز کو از سرے نو پیدا کرنے والا ہے اپنے اختیار کے ساتھ اور اپنے ارادے کے ساتھ خواہ وہ چیز جوہر ہو یا عرض ہو بغیر کسی اصل کے اختراع کرنے والا ہے تو وہ شخص تعطیل کے قول کی نفی کرتا ہے علت و معلول کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے جو عقیدہ اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے کے لئے عقیدہ تعطیل و تشریک کی طرح ہے اسی طرح شریک سے براۃ و بیزری یعنی تدبیر میں شریک ہونا اس کی نفی ہوتی ہے اس بات کے اثبات کے ساتھ کہ موجودات میں سے کسی بھی شئی کے لئے اللہ کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ فرشتے عالم کے مدبر ہیں لہذا ان کو اللہ کا نام دے رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے بارے میں فرمایا ۔ فالمدبرات امرا ( ناز علت ) مدبرات کا معنی ہے منفذات لما دبر اللہ علی ایدیھا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے جس چیز کی تدبیر فرما دی ہے ان تدبیرات الہیہ کو نافذ کرنے والے مثال کے طور پر جیسے اللہ کے حکم کو نافذ کرنے والے کو حاکم کہتے ہیں جب وہ دو مخالفوں میں فیصلہ کرتا ے اور ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ کواکب اور ستارے اپنے نیچے مدبر ہیں اور ہر مصیبت اور ہر حادثہ جو دھرتی پر ہوتا ہے وہ کواکب کی گردش کے آثار سے ہوتا ہے اور ان کے ملنے اور جدا ہونے ان کے ملاپ اور جدائی وغیرہ کیفیات سے ہوتا ہے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ ایجاد و اختراع کیا ہے اس کا مدبر وہ خود ہے اس کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے تو وہ تدبیر میں شریک کرنے کی نفی کرتا ہے جب کہ یہ شرک اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے میں قدیم ہونے کے شرک اور تخلیق میں شرک کی طرح ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ( مذکورہ تمام شرک کی نفی کرنے اور توحید کے تمام مذکورہ و غیر مذکورہ ( پہلو اجاگر کرنے اور ثابت کرنے کے لئے ) اور مذکورہ تمام معانی کو ایک ہی کلمہ میں جمع کرنے کے لئے یہی ایک کلمہ دیا ہے وہ ہے لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے مامورین کو حکم دیا ہے کہ واسی کا عقیدہ رکھیں اور اسی کا قول و اقرار کریں اور اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا ہے : ( فاعلم انہ لا الہ الا اللہ ) ( سورۃ محمد ۱۹) یقین جاننے کہ وہ وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ ( یعنی لا موجود الا اللہ ، ولا واحد الا اللہ ، لا منزہ من الشرکاء الا اللہ لا منزہ من النشیبیہ الا اللہ ، لا مبدع ولا موجد بغیر اصلی و مادۃ الا اللہ ، لا مدب و الا متصرف فی الکو نالا اللہ ، و غیرہ ذلک من اللوازم و الصفات ) ( ازمترجم ) اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ( انھم کانوا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون و یقولون ائنا لتار کوا الھتنا لشاعر مجنون ) ( الصافات ۳۵-۳۶) بے شک ان مشرکوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نیں ہے تو وہ اکڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر اور دیوانے کے لئے اپنے بہت سارے معبودوں اور حاجت رواؤں کو چھوڑ دیں گے ؟ یعنی جب انہیں کہا جاتا کہ لا الہ الا اللہ تو وہ اخر جاتے اور اس کا اقرار نہ کرتے بلکہ اس کی جگہ یہ کہتے ہیں : ( ائنا لتار کوا التھنا لشاعر مجنون ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 89

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 90

90 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا علي بن محمد بن عيسى الحكاني أنبأ أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني سعيد بن المسيب أن أبا هريرة أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فمن قال لا إله إلا الله فقد عصم مني نفسه و ماله إلا بحقه و حسابه على الله رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے علی بن محمد بن عیسیٰ الحکانی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو ایمان نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے شعیب نے زہری سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے سعید بن مسیب نے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں حکم دیا گیا ہوں کہ میں لوگوں سے قتال کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اقرار کر لیں لاا الہ الا اللہ جو شخص یہ کلمہ پڑھ لے اس نے مجھ سے اپنی جان اور مال بچا لیا مگر اس کے حق کے ساتھ اور حساب اس کا اللہ کے ذمہ ہے ۔ بخاری نے اس کو صحیح بخاری میں ابو الیمان سے روایت کیا ہے ۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← علي بن محمد بن عيسى الحكاني أنبأ أبو اليمان ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 90

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 91

91 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب ثنا الحسين بن محمد القباني ثنا محمد بن بشار ثنا يحيى ثنا يزيد بن كيسان قال حدثني أبو حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمه : قل لا إله إلا الله أشهد لك بها يوم القيامة فقال : لولا أن تعيرني قريش إنما حمله عليه الجزع لأقررت بها عينك فأنزل الله عز و جل : { إنك لا تهدي من أحببت و لكن الله يهدي من يشاء } رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم عن يحيى بن سعيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے حسین بن محمد قبانی نے وہ کہتے ہیں ۔ ہمیں حدیث بیان کی محمدبن بشار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یزید بن کیسان نے وہ کہتے ہیں مجھے حدٰث بیان کی ہے ابو حازم نے ابو ہریرہ سے سہ فرماتے ہی ں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا تھا : (قل لا الہ الا اللہ اشھد لک یوم القیمۃ ) آپ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیجیے میں قیامت کے دن آپ کے لئے اس کی شہادت دوں گا۔ اس نے کہا اگر مجھے قریش کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ مجھے طعنہ دیں گے کہ موت گھبرا کر میں نے تیرے سامنے اقرار کر لیا تھا تو میں ضرور اقرار کرتا ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ( انک لاتھدی من اجبت ولکن اللہ یھدی من یشاء ( القصص ۵۶) آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے ۔ مسلم نے اس کو صحیح میں محمدبن حاتم سے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الحسين بن محمد القباني ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 91

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 92

92 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو محمد بن شوذب الواسطي ثنا شعيب بن أيوب ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل النهدي ثنا عبد السلام بن حرب عن عبد الله بن بشر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن عثمان بن عفان ـ رضي الله عنه ـ قال : لما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم وسوس ناس من أصحابه فكنت فيمن وسوس فمر علي عمر رضي الله عنه فسلم علي فلم أرد عليه فشكاني إلى أبي بكر رضي الله عنه فجاء فقال : سلم عليك أخوك فلم تسلم عليه ؟ فقلت : ما علمت تسليمه و إني عن ذلك لفي شغل فقال أبو بكر رضي الله عنه : و لم ؟ فقلت : قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم و لم أسأله عن نجاة هذا الأمر قال : قد سألته عن ذلك قال : فقمت إليه فاعتنقته فقلت بأبي أنت و أمي ! أنت أحق بذلك قال : قد سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نجاة هذا الأمر قال : من قبل الكلمة التي عرضتها على عمي فهي له نجاة

ہمیں خبر دی ہے ابو علی رودباری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو محمد بن شوذب واسطی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعیب بن ایوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو غان مالک بن اسماعیل نہدی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالسلام بن حرب نے عبداللہ بن بشر نے زہری سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح قبض ہوئی تو آپ کے اصحاب میں سے کئی لوگ شک میں مبتلا ہو گئے میں بھی انہیں میں سے ایک تھا حضرت عمر میرے پاس سے گزرے اور سلام کیا میں نے ان کا جواب نہ دیا انہوں نے ابو بکر صدیق کے آگے میری شکایت کر دی صدیق اکبر میرے پاس آئے اور فرمایا تیرے بھائی نے سلام کیا اور تم نے جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا مجھے تو ان کے سلام کا پتہ ہی نہیں میں اس سے بے خبر تھا اور مشغول تھا ابو بکر صدیق نے پوچھا کیسے ؟ میں نے کہا مجھے یہ خیال آ گیا تھا کہ حضور فوت ہو گئے ہیں اور میں نے ان سے اس امر کی نجات کے بارے نہیں پوچھا ؟ صدیق نے فرمایا میں نے آپ سے پوچھا تھا حضرت عثمان کہتے ہیں میں جلدی سے کھڑا ہوا اور صدیق اکبر کو گلے سے لگا لیا اور معانقہ کیا اور میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ واقعی اس کے زیادہ حق دار تھے ۔ انہوں نے فرمایا میں نے اس امر کی نجات کے بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ( من قبل الکلمۃ التی عرضتھا علی عمی فھی لہ نجاۃ ) جو شخص اس کلمہ کو قبول کر لے جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا بس وہی اس کے لئے نجات ہے ۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو محمد بن شوذب الواسطي

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 92

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 93

93 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا العباس بن محمد بن حاتم الدوري ثنا مالك بن إسماعيل : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال في آخره : من قبل الكلمة التي عرضها على عمي فردها فهي له نجاة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد خاتم دوری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مالک بن اسماعیل نے پھر انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ سابقہ حدیث کی مثل ذکر کیا ہے علاوہ ازیں آخر میں یہ کہا ہے : ( من قبل الکلمۃ التی عرضتھا علی عمی فردھا فھی لہ نجاۃ ) جو شخص وہ کلمہ قبول کر لے جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا اور اس نے اسے رد کر دیا تھا یہی کلمہ اس بندے کے لئے نجات ہے ۔

مالك بن إسماعيل فذكره بإسناده مثله غير أنه ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 93

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 94

94 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصفار الأصبهاني ثنا أحمد بن مهدي رستم ثنا أبو عاصم النبيل ثنا عبد الحميد بن جعفر حدثني صالح بن أبي غريب عن كثير بن مرة عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ابو عبداللہ الغفار اصبہانی نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی احمد بن مہدی بن رستم نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کی ابو عاصم نبیل نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی عبدالحمید بن جعفر نے وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا صالح بن ابو عریب نے کثیر بن مرہ سے ، انہوں نے معاذ بن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← صالح بن أبي غريب ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أحمد بن مهدي رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 94

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 95

95 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آبادي ثنا أبو قلابة ثنا عبد الصمد ثنا شعبة عن خالد الحذاء عن الوليد أبي بشر عن حمران بن أبان أنه سمع عثمان بن عفان رضي الله عنه يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات يعلم أنه لا إله إلا الله دخل الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالصمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے خالد حذاء سے انہوں نے ولید بن ابی بشر سے انہوں نے حمران بن ابان سے کہ انہوں نے سنا تھا عثؐان بن عفان سے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا : ( من مات یعلم انہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ) جو شخص مر گیا اور وہ یقین رکھتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← حمران بن أبان أنه ← الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آبادي

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 95

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 96

96 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي حدثنا إسماعيل بن علية عن خالد : فذكره غير أنه قال : من مات و هو يعلم أن لا إله إلا الله دخل الجنة رواه مسلم عن زهير بن حرب و غيره عن ابن علية قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا من فضائل هذه الكلمة في الجزء الخامس من كتاب الأسماء و الصفات جملة كافية فاقتصرنا ها هنا على ما ذكرنا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے احمد بن جعفر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن احمد بن حنبل نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے میرے باپ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابی علیہ نے خالد سے پھر اس مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں کہا ہے : من مات و ھو یعلم ان لا الہ الا اللہ دخؒ الجنۃ ) جو شخص مر گیا حالانکہ وہ یقین سے جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ امام مسلم نے اس کو زہیر بن حرب سے اور ابن علیہ سے روایت کیا ہے ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں ہم نے اس کلمہ کے فضائل کتاب الا اسماء و الصفات کی جز خامس میں ذکر کئے ہے تفصیل کے ساتھ یہاں ہم نے اسی پر اکتفا کیا ہے ۔

خالد فذكره غير ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن جعفر ← و،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 96

chevron_left Previous
1…7891011
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood