Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 61

61 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد قال حدثت عن علي بن المديني عن خلف بن خليفة عن ليث عن مجاهد : في قوله تعالى : { و لكن ليطمئن قلبي } قال : أزداد إيمانا إلى إيماني ورويناه أيضا عن سعيد بن جبير و إبراهيم النخعي

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنانی نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے کہ بات بیان کی ہم سے عثمان بن سعید نے فرماتے ہیں مجھے حدیث بیان کی گئی ہے علی بن مدینی سے خلیفہ سے انہوں نے لیث سے انہوں نے مجاہد سے اس ارشاد الٰہی کے بارے میں : ( ول کن لیطمن قلبی ) ( البقرہ ۲۶۰) تانکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ۔ مجاہد نے کہا : ( از داد ایمانا الی ایمانی ) اپنے ایمان کی طرف ایمان کو زیادہ کرو۔ ہم نے اس کو بھی روایت کیا ہے سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی سے ۔

سعيد بن جبير و إبراهيم النخعي ← أزداد إيمانا إلى إيماني ورويناه أيضا ← مجاهد في قوله تعالى و لكن ليطمئن قلبي ← لَيْثٌ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 61

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 62

62 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب أنبأ سليمان بن حرب ثنا أبو هلال ثنا بكر بن عبد الله المزني قال : قال عيسى عليه الصلاة و السلام لبعض الحواريين : أرني يدك يا قصير الإيمان و هذا حين مشى على الماء فتبعه واحد فذهب يضع رجله فإذا هو قد انغمر فقال له عيسى عليه الصلاة و السلام : هات يدك يا قصير الإيمان :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ابو بکر بن اسٰحق نے انہوں نے کہا خبر دی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سلیمان بن حرب نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا ہے ابو ہلال نے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی بکر بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بعض حواریوں سے کہا : ارنی یدک قصیر الایمان ) پنا ہاتھ مجھے دیکھائے اے چھوٹے ایمان والے ۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ پانی پر چلے تھے اور ایک آدمی ان کے پیچھے لگا ۔ اس نے اپنا پیر رکھا اور غوطہ کھایا ( ڈوبنے لگا ) عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا ھات یدک یا قصیر الایمان ادھر ہاتھ کر اے کوتاہ ایمان والے ۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← أَبُو هِلَالٍ؛

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 62

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 63

63 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو شهاب عن ليث عن عبد الرحمن بن سابط قال : و الله ما أرى إيمان أهل الأرض يعدل إيمان أبي بكر رضي الله عنه و لا أرى إيمان مكة يعدل إيمان عطاء

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنانی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن یونس نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے ابو شہاب نے لیث سے عبدالرحمن بن سابط سے انہوں نے کہا : ( واللہ مااری ایمان اھل الارض یعدل ایمان ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولا اری ایمان مکۃ ایمان عطاء ) اللہ کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ اہل زمین کا ایمان کا ایمان ابو بکر کے ایمان کے برابر ہو سکے اور میں نہیں سمجھتا کہ اہل مکہ کا ایمان عطاء کے ایمان کے برابر ہو سکے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← لَيْثٌ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 63

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 64

64 - أخبرنا أبو عبد الله البيهقي أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي حدثنا داود بن الحسين البيهقي حدثنا حميد بن زنجويه ثنا يعقوب بن إسحاق بن أبي عباد ثنا نافع بن عمر قال : قيل لابن أبي مليكة إنه يجالسك رجل يزعم أن إيمانه مثل إيمان جبريل عليه السلام قال : و الله لقد فضل جبريل في الثناء فقال : { إنه لقول رسول كريم * ذي قوة عند ذي العرش مكين * مطاع ثم أمين * وما صاحبكم بمجنون } و تزعمون أن إيمان مهران ـ رجل كان يضرب في الخمر كل ساعة ـ مثل إيمان جبريل عليه السلام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بیہقی نے فرماتے ہیں خبر دی ہے ابو حامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن اسٰحق نے بن ابو عباد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ ابن ابی ملیکہ سے کہا گیا آپ کے ساتھ ایک آدمی بیٹھتا ہے وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا ایمان جبرائیل علیہ السلام کے ایمان کی مثل ہے ۔ انہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم اللہ نے جبرائیل کو ثناء میں فضیلت دی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( جبرائیل کے بارے میں ) ( انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین و ما صاحبکم بمجنون ) ( تکویر ۱۹-۲۲) بے شک قرآن معزز فرشتے کا کہا ہوا ہے ۔ جو بڑا طاقتور ہے ۔ عرش کے مالک کے نزدیک بڑا رتبے والا ہے ۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ وہاں وہ امین ( قابل اعتماد ) ہے اور تمہارا رفیق ( محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ) نہیں ہے دیوانہ ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو اتنی بڑی عظمت عطا کی ہے ( مترجم ) اور سمجھتے ہو کہ مہران کا ایمان وہ آدمی جو ہر وقت شراب میں مست رہتا تھا جبرائیل کے برابر ایمان کے ہے ۔

نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي عَبَّادٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 64

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 65

65 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ثنا أبو عتبة ثنا بقية أنبأ عبد الملك بن أبي النعمان ـ شيخ من أهل الجزيرة ـ عن ميمون بن مهران قال : خاصمه رجل في الإرجاء قال : فبينما هما على ذلك إذ سمعا امرأة تغني فقال ميمون : أين إيمان هذه من إيمان مريم بنت عمران ؟ قال : فلما قالها له انصرف الرجل و لم يزد عليه شيئا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب اصم انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عتبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے عبدالملک بن ابی نعمان نے جو کہ شیخ تھے اہل جزیرہ کے وہ روایت کرتے ہیں میمون بن مہران سے وہ کہتے ہیں ۔ کہ ایک آدمی نے ان سے تقدیر کے بارے میں مناظرہ کیا۔ فرماتے ہیں وہ اسی بحث میں مصروف تھے کہ اچانک دونوں نے ایک عورت کے گانا گانے کی آواز سنی میمون نے فرمایا اس عورت کے ایمان کا حضرت عمران کی بیٹی مریم کے ایمان کے ساتھ کیا مقابلہ میمون کہتے ہیں جب انہوں نے اس سے یہ بھی بات کہی تو ( شرمندہ ہو کر ) چلا گیا اس پر مزید کچھ نہ کہہ سکا ۔

ميمون أين إيمان هذه من إيمان مريم بنت عمران ← فبينما هما على ذلك إذ سمعا امرأة تغني ← خاصمه رجل في الإرجاء ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← بقية أنبأ عبد الملك بن أبي النعمان شيخ من أهل الجزيرة ← أَبُو عُتْبَةَ ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 65

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 66

66 - أخبرنا أبو عبد الله البيهقي أنبأ أحمد بن محمد بن الحسين ثنا داود بن الحسين ثنا حميد بن زنجويه ثنا عبيد الله بن موسى أنبأ أبو البشر الحلبي عن الحسن قال : ليس الإيمان بالتحلي و لا بالتمني و لكن ما وقر في القلب و صدقته الأعمال و من قال حسنا و عمل غير صالح رده الله على قوله و من قال حسنا و عمل صالحا رفعه العمل ذلك بأن الله تعالى قال : { إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه } قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي رحمه الله : و قد روينا أيضا قولنا في الإيمان عن محمد بن الحنفية و عطاء بن أبي رباح و الحسن و ابن سيرين و عبيد بن عمير و وهب بن منبه و حبيب بن أبي ثابت و غيرهم من أئمة المسلمين : الأوزاعي و مالك و سفيان بن عيينة و الفضيل بن عياض و الشافعي و أحمد بن حنبل و إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و محمد بن إسماعيل البخاري و غيرهم رحمهم الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بیہقی نے کہ خبر دی ہے احمد بن محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن موسیٰ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو بشر حلبی نے حسن سے انہوں نے کہا : ( لیس الایمان بالتحلی و لا با التمیٰ و لکن ما وقر فی القلب و دقاتہ الاعمال من قال حسنا و عمل غیر صالح ردہ اللہ علی قولہ و من قال حسنا و عمل صالحا رفعہ العمل ) ایمان بناوٹ سجاوٹ کا نام ہیں اور نہ خوش امیدوں کا نام ہے ایمان وہ ہے جو دل میں جگہ کر لے اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔ جو شخص بات اچھی کرے اور عمل غیر صالح کرے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے قول پر مار دیتے ہیں اور جو شخص اچھی بات کرے عمل صالح کرے اس کے عمل بلند کر دے گا یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعہ ) ( فاطر ۱۰) اللہ تعالیٰ کی طرف پاک الفاظ چڑھتے اور بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح اس کو وہی اوپر اٹھاتا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : تحقیق ایمان کے بارے میں ہم اپنا قول محمد بن حنفیہ سے بھی روایت کر چکے ہیں اور عطاء بن ابی رباح سے اور حسن سے ۔ ابن سیرین سے ، عبید بن عمر سے وہب بن منیہ سے اور حبیب بن ابی ثابت سے اور دیگر مسلمان ائمہ سے متلا اور ازاعی ، مالک ، سفیان ، بن عیینہ ، فضیل بن عیاض ، امام شافعی ، احمد حنبل ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی محمد بن اسماعیل بخاری وغیرہ ھم رحمہم اللہ ۔

الْحَسَنِ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ أبو البشر الحلبي ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← داود بن الحسین، ← أبو عبد الله البيهقي أنبأ أحمد بن محمد بن الحسين

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 66

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 67

67 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع قال : قال الشافعي رحمه الله تعالى : في مسأله ذكرها في كتاب السير : الصلاة من الإيمان و قال : في التسمية على الذبيحة و الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم : و لا أكره مع تسميته على الذبيحة أن يقول : صلى الله على رسوله بل أحبه له لأن ذكر الله و الصلاة على رسول الله إيمان بالله و عبادة له يؤجر عليها إن شاء الله تعالى من قالها وروينا عن يوسف بن عبد الأحد عن الربيع بن سليمان قال سمعت الشافعي يقول : الإيمان قول و عمل يزيد و ينقص

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو العباس رحمتہ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ربیع نے وہ کہتے ہیں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ایک مسئلہ کے بارے میں جو انہوں نے کتاب السیر میں ذکر کیا ہے ۔ ( الصلوٰۃ من الایمان ) نماز ایمان میں سے ہے ۔ اور کہا ہے ذبیحہ پر تسمیہ کے بارے میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر درود کے بارے میں ناپسند نہیں کرتا کہ ذبیحہ پر بسم اللہ کے ساتھ یہ بھی کہہ صلی اللہ علی رسولہ ( اللہ اپنے رسول پر رحمت نازل کرے ) بلکہ میں اس کو پسند کرتا ہوں اس لئے کہ اللہ کا ذکر اور رسول پر صلوٰۃ ایمان باللہ ہے اور اس کی عبادت ہے جس پر انشاء اللہ اجر دیا جائے گا جو کہے گا۔ ہم نے یوسف بن عبدالاحد سے روایت کیا ہے انہوں نے ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں میں نے امام شافعی سے سنا فرماتے تھے ۔ (الایمان قول و عمل یزید و ینقیص ایمان ) ایمان قول ہے اور عمل ہے کم زیادہ ہوتا ہے ۔

الشافعي تعالى في مسأله ذكرها في كتاب السير الصلاة من الإيمان و ← أبو سعيد بن أبي عمرو أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 67

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 68

68 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني الزبير بن عبد الواحد حدثني يوسف : فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے یوسف نے پھر اسی حدیث کو روایت کیا ہے ۔

يوسف فذكره ← الزُّبَيْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 68

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 69

69 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو علي الحسين بن صفوان أنبأ عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا إبراهيم بن سعيد ثنا عبد الصمد بن النعمان ثنا هارون البربري عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال : الإيمان قائد و العمل سائق و النفس حرون فإذا ونى قائدها لم تستقم لسائقها و إذا ونى سائقها لم تستقم لقائدها و لا يصلح هذا إلا مع هذا حتى تقدم على الخير الإيمان بالله مع العمل لله و العمل لله مع الإيمان بالله تابعه قبيصة بن عقبة عن هارون

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو علی حسین بن صفوان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے ہم سے ابراہیم بن سعید نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے ہم سے عبدالصمد بن نعمان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہم سے بربری نے عبداللہ بن عبید بن عمر سے انہوں نے فرمایا : ( الایمان قائد و العمل سائق و النفس حرون فاذاونی قائدھا لم تستقم لسانقھا و اذاونی سائقھا لم تسقیم لقائد ھا ولا یصح ھذا الا مع ھذا حتی تقدم علی الخیر الایمان با اللہ مع العمل للہ و العمل للہ مع الایمان باللہ ) ایمان آگے سے کھینچنے والا ہے اور عمل پیچھے سے ہانکنے والا۔ اور نفس اڑیل گھوڑا ہے جب اسے اگے کھینچنے والا سست ہو جاتا ہے وہ پیچھے سے ہانکنے والسے سے سیدھا نہیں ہوتا اور جب پیچھے سے ہانکنے والا سست ہو جاتا ہے تو وہ آگے کھینچنے والے سے سیدھا نہیں ہوتا ( دونوں باہم لازم ملزوم ہیں ایمان اور عمل صالح ) ایمان عمل کے بغیر اور عمل ایمان کے بغیر درست نہیں ہوتا یہاں تک کہ نفس خیر کا اقدام کرے ایمان باللہ ، عمل للہ کے ساتھ اور عمل للہ ایمان با للہ کے ساتھ ۔ قبیصہ بن عقبہ ہارون سے اس اثر کا متابع لائے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← هارون البربري ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 69

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 70

70 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يعلى بن عبيد ثنا أبو سنان عن الضحاك : في قوله تعالى : { إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه } قال : العمل الصالح يرفع الكلام الطيب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحاق صغانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یعلی بن عبیدہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو سنان نے ضحاک سے اس ارشاد الہی کے بارے میں : ( الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفع ) ( فاطر ۱۰) ضحاک نے کہا : ( العمل الصالح یرفع الکلام الطیب ) عمل صالح طیب کلام کو اونچا کرتا ہے ۔

العمل الصالح يرفع الكلام الطيب ← الضحاك في قوله تعالى إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه ← أَبُو سِنَانٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 70

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 71

71 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبيد الله بن موسى أنبأ شعبة عن سلمة بن كهيل عن إبراهيم عن علقمة قال : قال رجل عن عبد الله بن مسعود : أنا مؤمن قال : قل إني في الجنة و لكنا نقول : آمنا بالله و ملائكته و كتبه و رسله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے سعید بن مسعود نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے شعبہ نے سلمہ بن کھیل سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے کہا ایک آدمی نے عبداللہ بن مسعود سے کہا ۔ انامومن ۔ میں مومن ہوں ابن مسعود نے فرمایا یوں کہوں کہ میں جنت میں ہوں ( یعنی میں جنت میں جاؤں گا ) مگر ہم تو کہتے ہیں ۔ ہم اللہ کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر۔

مُؤْمِنٌ. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← رَجُلٌ: ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ شعبة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 71

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 72

72 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن علي بن دحيم الشيباني ثنا إبراهيم بن إسحاق ثنا عبيد الله بن موسى ثنا إسرائيل عن منصور عن إبراهيم قال : قال رجل لعلقمة : أمؤمن أنت قال : أرجو إن شاء الله و قد روينا عن جماعة من الصحابة و التابعين و السلف الصالح رضي الله تعالى عنهم أجمعين و روينا عن معاذ بن جبل رضي الله عنه أنه خطبهم فقال : أنتم المؤمنون أنتم أهل الجنة و الله إني لأطمع أن يكون عامة من تصيبون من أهل فارس و الروم في الجنة لأن أحدهم يعمل لكم العمل فتقول أحسنت رحمك الله ! أحسنت بارك الله فيك ! و الله يقول : { و يستجيب الذين آمنوا و عملوا الصالحات و يزيدهم من فضله }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے محمد بن علی بن دحیم نے شیبانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن اسحٰق زہری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل نے منصور سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے کہا ایک آدمی نے علقمہ سے کہا ۔ کیا تو مومن ہے اس نے جواب دیا میں امید کرتا ہوں انشاء اللہ ۔ مصنف فرماتے ہیں ۔ ہم نے یہ بات صحابہ تابعین ، سلف صالحین رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے نقل ہے ۔ اور ہم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے لوگوں کو خبطہ دیا اور فرمایا تم لگ مومن ہو۔ تم لگ اہل جنت ہو۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ اہل فارس و روم کا زیادہ طبقہ جہاں تک تم دعوت لے کر بھیجے گئے ہو وہ جنت میں ہوں گے کیونکہ ان میں سے کوئی تمہارے لئے کوئی کام کر دیتا ہے تو تم اسے کہتے ہو۔ تم نے بہت اچھا کیا۔ اللہ تجھ پر رحم کرے ۔ تم نے بہت اچھا کیا اللہ تجھے برکت دے اور اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے ۔ ( ویستجیب الذین امنوا و عملوا الصالحات و یزیدھم من فضلہ ) ( سورہ شور کی آیت ۲۶) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ کر کے دیتا ہے ۔

أَرْجُو. ← رَجُلٌ لِعَلْقَمَةَ: أَمُؤْمِنٌ أَنْتَ؟ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood