Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 37

37 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا محمد بن أيوب أنبأ سهل بن بكار عن محمد بن طلحة عن زبيد عن ذر قال : كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه ربما أخذ بيد الرجل و الرجلين يقول : تعالوا نزداد إيمانا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے سہل بن بکار نے محمد بن طلحہ سے زبیر سے انہوں نے ذر سے وہ کہتے ہیں ۔ عمر بن عبدالعزیز بسا اوقات ایک یا دو آدمیوں ہاتھ پکڑتے اور فرماتے : ( تعالو انز داد ایمانا ) آ جاؤ ہم ایمان زیادہ کریں ۔

تعالوا نزداد إيمانا ← كان عمر بن الخطاب ربما أخذ بيد الرجل و الرجلين ← ذَرٍّ، ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 37

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 38

38 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ثنا عوف عن عبد الله بن عمرو بن هند قال قال علي رضي الله عنه : إن الإيمان يبدأ لمظة بيضاء في القلب فكلما ازداد الإيمان عظما ازداد ذلك البياض فإذا استكمل الإيمان ابيض القلب كله و إن النفاق يبدو لمظة سوداء في القلب فكلما ازداد النفاق عظما ازداد ذلك السواد فإذا استكمل النفاق اسود القلب كله و ايم الله ! لو شققتم عن قلب مؤمن لوجدتموه أبيض و لو شققتم عن قلب منافق لوجدتموه أسود قال : و اللمظة هي الذوقة و هو أن يلمظ الإنسان أو الدابة شيئا يسيرا أي يتذوقه فكذلك القلب يدخله من الإيمان شيء يسير ثم يتسع فيه فيكثر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ بشر بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ھوذہ بن خلیفہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عوف عبداللہ بن عمر بن ہند سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : دل کے اندر ایمان ایک سفید تقطہ کی صورت میں شروع ہوتا ہے ۔ پھر جس وقت ایمان بڑھتا اور عظیم ہوتا ہے وہ سفیدی بڑھتی ہے پھر جس وقت ایمان مکمل ہو جاتا ہےتو پورا دل ( روشن ) اور سفید ہو جاتا ہے ۔ اور نفاق شروع ہوتا ہے ایک سیاہ دھبے اور نقطے کی صورت دل میں پھر جیسے جیسے نفاق بڑھ کر زیادہ ہوتا ہے یہ سیاہی بھی بڑھتی ہے جب نفاق مکمل ہو جاتا تو پورا دل سیاہ ہو چکا ہوتا ہے ۔ قسم اللہ کی اگر تم لوگ کسی مومون کا دل چیر کر دیکھو تو اسے سفید پاؤ گے اور اگر کسی منافق کا دل چیر کر دیکھو تو اس کو سیاہ پاؤ گے ۔ پھر فرمایا وہ لمحہ و دھبہ ایک ذوقہ ہے جیسے کوئی انسان یا جانور کوئی معمولی چیز چھکتا ہے اسی طرح ایمان بھی تھوڑا سا دل میں داخل ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور کشادگی آتی ہے اور زیادہ ہوتا ہے ۔ ایمان چار ستون پر قائم ہے :

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ هِنْدٍ ← عَوْفٌ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 38

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 39

39 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا عبيد الله بن حفص بن غياث ثنا سفيان بن وكيع ثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن سوقة عن العلاء بن عبد الرحمن قال : قام رجل إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال : يا أمير المؤمنين ! ما الإيمان ؟ فقال : الإيمان على أربع دعائم : على الصبر و العدل و اليقين و الجهاد ثم ذكر تقسيم كل واحدة من هذه الدعائم و قد روينا من أوجه أخر عن علي

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن عنام بن حفص بن غیاث نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن وسیع نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے محمد بن سوقہ سے انہوں علاء بن عبدالرحمن سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی حضرت علی کے پاس گیا اور پوچھا ے امیر المومنین ایمان کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایمان چار ستون پر قائم ہے ۔ صبر ، عدل ، یقین اور جہاد پر بھی ان میں سے ہر ایک ستون کی تقسیم ذکر فرمائی ہم نے حضرت علی سے کئی دیگر وجوہ سے بھی روایت کی ہے ۔

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← عبيد الله بن حفص بن غياث ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 39

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 40

40 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبي إسحاق قال : قال علي رضي الله عنه : الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد فإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنائی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو خالد احمر نے عمر بن قیس سے انہوں نے ابو اسحٰق سے وہ کہتے ہیں حضرت علی نے فرمایا کہ صبر ایمان میں بمنزلہ سر کے ہے جسم میں جب صبر چلا جائے ایمان چلا جاتا ہے ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 40

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 41

41 - أخبرنا أبو بكر الأشناني ثنا أبو الحسن الطرائفي أنبأ عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن رجاء البصري ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ليلى قال : قال : حجر بن عدي : سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول : الوضوء نصف الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے وہ کہتے ہیں ہمیں ابو الحسن طرائفی نے وہ بیان کیا وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن رجاء بصری نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے اسرائیل نے ابو اسحٰق سے ابو لیلیٰ سے وہ کہتے ہیں حضر بن عدی نے کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے سنا فرماتے تھے ۔ الوضوء نصف الایمان ۔ کہ و ضو نصف ایمان ہے ۔

الوضوء نصف الإيمان ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حِجْرِ بْنِ عَدِيٍّ ← أَبِي لَيْلَى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْبَصْرِيُّ، ← أبو الحسن الطرائفي أنبأ عثمان بن سعيد ← أبو بكر الأشناني

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 41

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 42

42 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا ابن نمير ثنا محمد بن أبي إسماعيل عن معقل الخثعمي قال : أتى عليا رضي الله عنه رجل و هو في الرحبة فقال : يا أمير المؤمنين ! ما ترى في امرأة لا تصلي ؟ قال : من لم يصل فهو كافر

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کی ہے ابن نمیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے محمد بن ابی اسماعیل نے معقل ختعمی سے وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور وہ کھلے میدان یا کھیت میں تھے اے امیر المومنین آپ اس عورت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں : جو نماز نہیں پرھتی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( من لم یصل فھو کافرہ ) جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ کافر ہے ۔

مَنْ لَمْ يُصَلِّ فَهُوَ كَافِرٌ. ← يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ لاَ تُصَلِّي ← أتى عليا رجل و هو في الرحبة ← مَعْقِلٍ الْخَثْعَمِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إسْمَاعِيلَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 42

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 43

43 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا شريك عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود قال : من لم يصل فلا دين له و قد روينا عن بريدة بن حصيب عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : العهد الذي بيننا و بينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ كفرا يكون نقيض الإيمان لله تعالى بترك شعبة من شعبه و لم يرد به كفرا يكون نقيض الإيمان بالله إذا لم يجحد فرضها و يشبه أن يكون تخصيصه الصلاة بالذكر لوجوب القتل بتركها كوجوبه بترك الإيمان بالله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے ہم سے شریک نے عاصم سے اس نے ذر سے اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : ( من لم یصل فلا دین لہ ) جو شخص نماز نہ پڑھے اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔ اور ہم نے بریدہ بن حصیب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کی ہے : ( العھد الذی بیننا و بینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر ) ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے جو شخص اسے چھوڑ دے وہ کافر ہو گیا۔ یقینی بات ہے کہ ارادہ کیا ہے ایسا کفر جو ایمان اللہ کے منافی اور ایمان کی ضد ہے بوجہ ترک کرنے ایک شاخ کے کئی شاخوں میں سے وہ کفر مراد نہیں جو ایمان باللہ کے منافی ہو اس لئے کہ اس شخص نے فرضیت کا انکار نہیں کیا ممکن ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا نماز کو خاص طور پر ذکر کرنا اس کے ترک پر وجوب قتل کے لئے ہو جیسے قتل کا وجوب ترک ایمان پر ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← بريدة بن حصيب ← من لم يصل فلا دين له و قد روينا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 43

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 44

44 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال قال : قال معاذ بن جبل لأصحابه : اجلسوا بنا نؤمن ـ أظنه قال ـ ساعة أي نذكر الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے بشر بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے اعمش نے جامع بن شداد سے اسود بن ہلال سے وہ کہتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے کہا : ( اجلسوا بنا نوء من اظنہ قال ، ساعۃ ای نذکر اللہ ) ہمارے ساتھ بیٹھو ہم ایمان لائیں ، یا امن میں آئیں، میرا خیال ہے کہا تھا ایک لحظہ یقینی ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کریں ۔

سَاعَةً أَيْ نَذْكُرُ اللهَ ← مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ: اجْلِسُوا بِنَا نُؤْمِنُ أَظُنُّهُ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 44

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 45

45 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب أنبأ عبد الله بن الجراح و ثنا محمد بن فضيل عن أبيه عن شباك عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله أنه قال : اجلسوا بنا نزدد إيمانا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد بن ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عبداللہ بن جراح نے اور بیان کیا ہے ہمیں محمد بن فضیل نے اپنے والد سے وہ نقل کرتے ہیں شباک سے وہ ابراہیم سے وہ علقمہ سے وہ عبداللہ سے کہ انہوں نے فرمایا : ( اجلسوا بنا نز داد ایمانا ) ہمارے ساتھ بیٹھو ہم ایمان کو زیادہ کریں۔

اجْلِسُوا بِنَا نَزْدَدْ إِيمَانًا ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← شباك ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 45

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 46

46 - أخبرنا عبد الله أنبأ أبو بكر أنبأ محمد بن أيوب ثنا عبد الله بن الجراح ثنا ابن الحماني ثنا شريك عن هلال الوزان عن عبد الله بن عكيم عن عبد الله ـ يعني ابن مسعود ـ أنه كان يقول : اللهم زدني إيمانا و فقها

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد بن ایوب نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ہم سے عبداللہ بن جراح نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ابن حمانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شریک نے ہلال وزان سے انہوں نے عبداللہ بن حکیم سے انہوں نے عبداللہ سے یعنی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ وہ فرمایا کرتے تھے : ( اللھم زدنی ایمانا و فقھا ) اللہ میرا ایمان اور دین کی فہم زیادہ فرما۔

اللهم زدني إيمانا و فقها ← عبد الله يعني ابن مسعود أنه كان ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← هِلَالٍ الْوَزَّانِ ← شَرِيکٍ ← ابن الحماني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← عبد الله أنبأ أبو بكر أنبأ محمد بن أيوب

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 46

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 47

47 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور شريك : فذكره بإسناده نحوه و زاد يقينا و علما

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر قتادہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو منصور نضروی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے احمد بن نجدہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے سعید بن منصور شریک نے پھر اس روایت کو اپنی سند کے ساتھ سابقہ روایت کی مثل نقل کیا ہے اور ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے 0( یقیناً و علماً ) یعنی میرے یقین اور علم میں اضافہ فرما ۔

سعيد بن منصور شريك فذكره بإسناده نحوه و زاد يقينا و علما ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو منصور النضروي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 47

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 48

48 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي إملاء أنبأ عبد الله بن محمد بن الحسن النصرآباذي ثنا عبد الله بن هاشم ثنا وكيع ثنا الأعمش عن أبي ظبيان عن علقمة قال عبد الله بن مسعود : الصبر نصف الإيمان و اليقين الإيمان و قد روي هذا من وجه آخر غير قوي مرفوعا و روينا عن ابن مسعود من أقواله في هذا المعنى شواهد و هو في كتاب الإيمان مذكور من أراد الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد عولی نے اور املا کروایا کہتے ہیں خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن حسن نصیر آبادی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیا ن کیا ہے عبداللہ بن ہاشم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے وکیع نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے اعمش نے ابو ضبیان سے انہوں نے علقمہ سے کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : ( الصبر نصف الایمان و الیقین الا یمان ) صبر نصف ایمان ہے اور یقین عین ایمان ہے ۔ یہ روایت دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جو کمزور ہے مرفوعا روایت ہے ۔ ہم نے اسی مفہوم کے کئی شواہد حضرت عبداللہ بن مسعود کے اقوال روایت کیے ہیں وہ کتاب الایمان میں مذکور ہیں جو شخص ان سے واقف ہونے چاہے اسی کی طرف رجوع کرے ۔

عَلْقَمَةَ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 48

chevron_left Previous
12345…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood