Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 1

1 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحافظ ـ رحمه الله تعالى ـ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي و أبو سعيد محمد بن شاذان الأصم قالا ثنا أبو قدامة عبيد الله بن سعيد ثنا أبو عامر العقدي ثنا سليمان بن بلال عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان بضع و ستون شعبة و الحياء شعبة من الإيمان رواه أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري في الصحيح عن عبد الله بن محمد المسندي عن أبي عامر و رواه أبو الحسين مسلم بن الحجاج عن عبيد الله بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ محمد بن حمدویہ حافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے ( انہوں نے فرمایا ) ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ( وہ فرماتے ہیں ) ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عمرو احمد بن مبارک مستملی نے اور ابو سعید بن شاذان صم نے ( وہ دونوں) فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو قدامہ عبید اللہ بن سعید نے ( وہ فرماتے ہیں ) ہمیں حدیث بیان کی ابو عامر عقدی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( الایمان بضع و ستون شعبۃ و الحیاء شعبۃ من الایمان ) ایمان کے ساٹھ سے کچھ زائد شعبے ہیں اور حیا کرنا بھی ایمان کا شعبہ ہے ۔ ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری نے صحیح بخاری میں اس کو عبداللہ بن محمد مسندی سے انہوں نے ابو عامر سے روایت کیا ہے اور ابو الحسن مسلم بن حجاج قثیری نے اس کو عبید اللہ بن سعید سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي و أبو سعيد محمد بن شاذان الأصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحافظ تعالى

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 1

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 2

2 - أخبرنا أبو صالح العنبر بن الطيب بن محمد العنبري ابن ابنة يحيى بن منصور القاضي أنبأ جدي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و عمرو بن زرارة الكلابي قالا أنبأ جرير عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان بضع و ستون أو سبعون شعبة فأرفعها قول لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و هذا الشك وقع من سهيل بن أبي صالح في ( بضع و ستين ) أو في ( بضع و سبعين ) و سليمان بن بلال قال : بضع و ستون لم يشك فيه و روايته أصح عند أهل العلم بالحديث غير أن بعض الرواة عن سهيل رواه من غير شك قال : بضع و سبعون أفضلها قول لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى و العظم عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان

ہمیں خبر دی ابو صالح عنبری بن طیب بن محمد عنبری یحییٰ بن منصور قاضی کے نواسے نے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی تھی میرے دادا نے اور انہوں نے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی احمد بن سلمہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے اور عمرو بن زرارہ کلابی نے وہ دنوں فرماتے ہیں خبر دی جریر نے سہیل بن ابو صالح سے ۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( الایمان بضع و ستون اوسبعون شعبۃ فار فعھا قول لا الہ الا اللہ و ادناھا اماطۃ الا ذی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من الایمان ) ایمان کی ساتھ یا ستر شاخیں ہیں ۔ سب سے برتر شاخ ان میں سے لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹی اور کم رتبہ شاخ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور شرم و حیا بھی ایمان کی شاخ ہے ۔ امام مسلم نے اس کو صحیح مسلم میں زھیر بن حرب سے بواسطہ جریر نقل کیا ہے ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ساٹھ یا ستر کی تعداد والا شک سہیل بن ابی صالح سے واقع ہو رہے ہیں ۔ جبکہ سلیمان بن بلال نے بضع و ستون فرمایا ہے ( یعنی ساٹھ سے کچھ زائد ) اس نے شک ظاہر نہیں کیا اور حدیث کے اہل علم کے نزدیک اس کی روایات زیادہ صحیح ہے ۔ علاوہ ازیں بعض راویوں نے اس کو سہیل سے بھی بغیر شک کے نقل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( بضع و سبعون افضلھا قول لا الہ الا اللہ و ادناھا اماطۃ الا ذی و العظم عن الطریق و الحیاء شعبۃ عن الایمان ) یعنی ستر سے زائد شاخیں ہیں ۔ سب سے افضل اعلیٰ و ارفع اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کا اقرار ہے اور سب سے کم مرتبہ شخ راستہ سے ہڈی وغیرہ تکلیف دہ چیز راستہ سے ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے ۔

إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و عمرو بن زرارة الكلابي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 2

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 3

3 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد بن محمد بن علي الروذباري أنبأ أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود السجستاني ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة ثنا سهيل بن أبي صالح : ـ فذكره من غير شك ـ و هذا زائد فأخذ به صاحب كتاب المنهاج في تقسيمه ذلك على سبعة و سبعين بابا بعد بيان صفة الإيمان و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی رودباری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو داؤد بحستانی نے کہ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بیان کیا کہ ہمیں عمار بن سلمہ نے حدیث بیان کی کہ سہیل بن ابو صالح نے خبر دی ہے ۔ پھر اس حدیث کو شک کے بغیر انہوں نے روایت کیا ۔ یہ اضافی ہے ۔ صاحب المنھاج نے اپنی کتاب میں صفت الایمان کے بیان کے بعد اس کی ستترکی تقسیم میں اسی روایت کو لیا ہے اور یہ توفیق کا عنایت ہونا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 3

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 4

4 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة ثنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أبو عمرو أحمد بن حازم الغفاري أنبأ يعلى بن عبيد عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن أبي صالح عن أبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها منعوا دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذیر جناح قاضی کوفہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر محمد بن علی بن رحیم کے کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عمرو احمد بن حازم غفار نے کہ ہمیں خبر دی ہے یعلیٰ بن عبید نے اعمش سے انہوں نے ابو سفیان سے انہوں نے جابر سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( امرت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا الہ الا اللہ فاذا قالوا ھا منعوا دماء ھم و اموالھم الا بحقھا و حسابھم علی اللہ عزوجل ) میں دیا گیا ہوں کہ کافر و مشرک لوگوں سے قتال کرتا رہو یہاں تک کہ سب لوگ اقرار کریں اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں جب لوگ یہ اقرار کریں وہ اپنے مال اور اپنے خون محفوظ کر لیں گے باقی ان کے اعمال کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ امام مسلم نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں دوسرے طریقہ سے اعمش سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أبو عمرو أحمد بن حازم الغفاري أنبأ يعلى بن عبيد ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 4

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 5

5 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى يعقوب منصور القاضي ثنا أحمد يعقوب سلمة ثنا أحمد بن عبدة أنبأ عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله و يؤمنوا بي فإن شهدوا أن لا إله إلا الله و آمنوا بي و بما جئت به فقد عصموا مني دماءهم إلا بحقها و حسابهم على الله رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن عبدة و أخرج حديث عكرمة بن عمار عن أبي كثير عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم : اذهب فما لقيت يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے کہ میرے دادا یحیٰ بن منصور قاضی رحمتہ اللہ علیہ خبر دی ہے وہ کہتے ہیں احمد بن سلمہ نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہمیں احمد بن عبدہ نے بیان کیا ہے کہ عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمن سے ۔ اس نے اپنے والد سے اس نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( امرت ان اقتل الناس حتیٰ یشھدوا ان لا الہ اللہ و یؤمنو ابی فان شھدوا ان لا الہ الا اللہ و امنوا بی و بما جئت بہ فقل عصموا منی دماء ھ مالا بحقھا و حسابھم علی اللہ ) میں حکم دیا گیا ہوں کہ کافر و مشرک لوگوں سے جہاد کرتا رہوں حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میرے ساتھ بھی ایمان لے آئیں اگر لوگ اللہ کی الوہیت اور وحدانیت کی گواہی دیں اور میرے ساتھ ایمان لائیں اور جو میں قرآن لایا ہوں اس پر ایمان لائیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون محفوظ کر لئےمگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے ۔ امام مسلم نے اس حدیث کو احمد بن عبدہ سے روایت کیا ہے ۔ اور مسلم نے عکرمہ بن عمار کی روایت ابو کثیر سے ابو ہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے نقل کی ہے ۔ ( اذھب فمن لقیت یشھدان لا الہ الا اللہ مستیقنا بھا قلبہ فبشرہ با لجنۃ ) ابو ہریرہ تو جا جو شخص تجھے ایسا ہے جو لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہو اور اس شہادت کے ساتھ اس کا دل مطمئن ہو اسے جنت کی بشارت دے دے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← أحمد بن عبدة أنبأ عبد العزيز بن محمد ← أحمد يعقوب سلمة ← أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنبأ جدي يحيى يعقوب منصور القاضي

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 5

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 6

6 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القنطري ثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا أبو حذيفة ثنا عكرمة بن عمار : بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے کہ خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن احمد بن تمیم قنطری نے کہ ہمیں بیان کی احمد بن محمد عیسیٰ قاضی نے کہ ہم سے بیان کیا حذیفہ نے کہ ہم سے بیان کیا عکرمہ بن عمار نے اپنی سند کے ساتھ اسی مذکورہ حدیث کا معنی و مطلب ۔

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 6

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 7

7 - أخبرنا أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الفقيه أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى ثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الدارابجردي ثنا محمد بن عرعرة بن البرند ثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالك عن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من مات و هو يشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله صادقا من قلبه دخل الجنة و روينا في هذا المعنى عن عتبان بن مالك و رفاعة بن عرابة و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم

خبر دی ہے ہمیں ابو طاہر محؐد بن محمد بن محمش فقیہ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ نے کہ ہمیں بیان کیا ہے علی بن حسن بن ابی عیسیٰ دار بجردی نے کہ ہم سے بیان کی محمد بن عرعرہ بن یزید نے کہ بیان کیا ہم سے شعبہ نے قتادہ سے انہوںنے حضرت انس بن مالک سے انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من مات و ھو یشھدان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ صادق من قبلہ دخل الجنۃ ) جو شخص اس حالت میں مر گیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی رسالت کی شہادت دیتا ہے اور سچے دل سے دیتا ہے جنت میں داخل ہو گیا۔ ہم نے اس معنی روایت کی ہے عتبان بن مالک سے اور رفاعہ بن عرابہ سے اور ان دونوں کے علاوہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ بْنِ الْبِرِنْدِ ← علي بن الحسن بن أبي عيسى الدارابجردي

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 7

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 8

8 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا أحمد بن يونس ثنا فضيل بن عياض عن هشام عن الحسن عن بعض أصحابه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يستقيم إيمان عبد حتى يستقيم قلبه و لا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه

خبر دی ہے ہمیں ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ ہمیں خبر دی ہے عباس بن فضل سے اسفاطی نے وہ کہتے ہیں بیان کیا احمد بن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا فضیل بن عیاض نے ہشام سے انہوں نے حسن سے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( لا یستقیم ایمان عید حتیٰ یستقیم قلبہ و لا یستقم قبلۃ حتی ، یستقیم لسانہ ) کسی بندے کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل درست نہ ہو جائے اور اس کا دل اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو جائے ۔

بَعْضِ أَصْحَابِهِ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 8

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 9

9 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أن أبو عمرو بن مطر ثنا خشنام بن بشر بن العنبر ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا أبو ضمرة أنس بن عياض حدثني عبد الله بن يرفأ عن عبد الرحمن بن فروخ عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله فذل بها لسانه و اطمأن بها قلبه لم تطعمه النار

خبر دی ہے ہمیں ابو نصر بن قتادہ نے کہ ابو عمرو بن مطر نے ہمیں بیان کیا کہ خشنام بن بشر بن عنبر نے کہا ہم سے بیان کیا ابراہیم بن منذر الحزامی نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ہم سے ابو ضحرہ انس بن عیاض نے وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا ہے عبداللہ بن یرفاء نے عبدالرحمن بن فروخ سے انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے : ( من شھدان لا الہ الا اللہ و ان محمدا رسول اللہ فذل بھا لسنہ و اطمان بھا قلبہ لم تطعمہ النار ) جو شخص اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی رسالت کی شہادت دیتا ہے اور درآن حالیکہ اس کی زبانی ، اسی کی اقراری ہے اور دل اس کا اسی کے ساتھ مطمئن ہے اسے آگ نہیں کھائے گی۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ فَرُّوخٍ، ← عبد الله بن يرفأ ← أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← خشنام بن بشر بن العنبر ← أبو نصر بن قتادة أن أبو عمرو بن مطر

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 9

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن التصديق بالقلب و الإقرار باللسان أصل الإيمان و أن كليهما شرط في النقل عن الكفر عند عدم العجز · حديث 10

10 - أخبرنا حمزة بن عبد العزيز أنبأ أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه ثنا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن عمر بن سعيد عن سليمان عن مجاهد أنه قال : في قول الله عز و جل : { إلا من شهد بالحق و هم يعلمون } قال : شهد بالحق و هو يعلم أن الله ربه

ہمیں خبر دی ہے حمزہ بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ کے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا احمد بن خفص بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں مجھے ابراہیم بن طھمان عمرو بن سعید نے انہوں نے مجاہد سے وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی بابت فرماتے ہیں : ( الا من شھدبا لحق و ھم یلعمون ) ( زخرف آیت ۸۶) مگر جو شخص حق کی شہادت دے حالانکہ وہ جانتے ہیں ۔ فرمایا حق کی شہادت دی اس حال میں کہ وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ اس کا رب ہے ۔

شهد بالحق و هو يعلم أن الله ربه ← في قول الله عز و جل ← مُجَاهِدٍ أَنَّهُ ← سُلَیْمَانَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← حمزة بن عبد العزيز أنبأ أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه

Shuab ul Iman · Book › The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability · Hadith 10

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 11

11 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا النفيلي ثنا زهير ثنا أبو إسحاق : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث زهير بن معاوية و جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الطهور من الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو نصر الفقیہہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عثؐان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ نفیلی نے وہ کہتےہیں ہمیں حدیث بیان کی زہیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو اسحٰق نے پھر انہوں نے حدیث ذکر فرمائی ہے ۔ بخاری مسلم نے اس روایت کو زہیر بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ظہور کو ایمان قرار دیا ہے ۔

زُهَيْرٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 11

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 12

12 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني قالا : أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : الطهور شطر الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبان بن يزيد العطار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے اور ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے وہ دونوں فرماتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مسلم بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابو کثیر سے زید بن سلام سے انہوں نے ابو سلام سے انہوں نے حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے : ( الطھور شطر الایمان ) طہارت حاصل کرنا ایمان کا حصہ ہے یا صفائی نصف ایمان ہے ۔ امام مسلم نے اس حدیث کو صحیح مسلم میں ابان بن یزید عضاد کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood