Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1200

1199 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا إبراهيم بن معاوية القيسراني ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا ابن ثوبان ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن المكرم ثنا أبو النضر ثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان ثنا حسان بن عطية عن أبي منيب الجرشي عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعثت بين يدي الساعة بالسيف حتى يعبد الله وحده لا شريك له و جعل رزقي تحت ظل رمحي و جعل الذلة و الصغار على من خالف أمري و من تشبه بقوم فهو منهم لفظ حديث أبي عبد الله و لم يذكر ابن يوسف و من تشبه بقوم فهو منهم قال الحليمي رحمه الله تعالى : فلو كان انتظار الرزق بالصبر و الصمت أفضل من طلبه بما أذن الله تعالى فيه لما حرم الله تعالى رسوله صلى الله عليه و سلم أفضل الوجهين و عرضه لأرذلهما و احتج بقصة أبي الهيثم بن التيهان و ما فيها من خروج النبي صلى الله عليه و سلم و صاحبيه حين أصابهم الجوع و انطلاقهم إلى منزل أبي الهيثم حتى أطعمهم قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و قد ذكرنا ذلك في الجزء الرابع في كتاب دلائل النبوة و فيه ما دل على أن من احتاج إلى طعام فلم يجده و لم يعلم أحد حاله كان عليه أن يحدث بحاله من يظن أن عنده وفاء بتغييرها إلا أن يسكت و يتصبر

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابراہیم بن معاویہ نے قیسرانی نے ان کو محمد بن یوسف فریابی نے ان کو ابن ثوبان نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النصر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان نے ان کو حسان بن عطیہ نے ان کو ابو منیب جرشی نے ان کو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ " بعثت بین یدی الساعۃ بالسیف حتی یعبد اللہ وحدہ لا شریک لہ وجعل رزقی تجحت ظل رمحٰی وجعل الدلۃ والصغار علی من خالف امری ومن تشبۃ بقوم فھومنھم"۔ میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اس وقت تک کے لیے ( تلوار استعمال کروں) جب تک کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کی عبادت کی جانے لگے اس کے ساتھ کوئی شریک نہ کیا جائے۔ اور میرا رزق میرے نیزے کے نیچے بنا دیا گیا ہے اور ذلت و رسوائی ان کے لئے مقرر کر دی گئی ہے جو میرے دین کی مخالفت کرے اور جو بھی جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں سے ہوگا۔ یہ ابو عبداللہ کی روایت کے الفاظ میں اور ابن یوسف کی روایت میں "ومن تشبہ یقوم فھومنھم"۔ کے الفاظ ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الحسن بن المكرم ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْقَيْسَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1200

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1201

1200 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن يعقوب العدل و أحمد بن محمد بن عبد الله القطان قالا : ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا علي بن عاصم عن داود بن أبي هند عن أبي حرب بن أبي الأسود حدثني طلحة البصري قال : كان الرجل منا إذا قدم المدينة فكان له بها عريف نزل على عريفه فإن لم يكن له بها عريف نزل الصفة فقدمت المدينة و لم يكن لي بها عريف فنزلت الصفة و كان يجري علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم كل يوم مدا من تمر و يكسونا الخنف فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم بعض صلوات النهار فلما انصرف ناداه أهل الصفة يمينا و شمالا : يا رسول الله أحرق بطوننا التمر و تخرقت علينا الخنف فمال رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى منبره فصعده فحمد الله و أثنى عليه فذكر شدة ما لقي من قومه حتى قال : فلقد أتى علي و على و صاحبي يضع عشرة يوما و ما لي و له طعام إلا البربر ـ قال : قلت لأبي حرب : و ما البرير ؟ قال : طعام رسول الله صلى الله عليه و سلم تمر الأراك ـ فقدمنا على إخواننا هؤلاء من الأنصار و عظم طعامهم التمر فواسونا فيه فو الله لو أجد لكم الخبز و اللحم لا شبعتكم منه و لكن عسى أن تدركوا زمانا حتى يغدي على أحدكم بجفنة و يراح عليه بأخرى قال : فقالوا يا رسول الله أنحن اليوم خير أو ذلك اليوم ؟ قال : لا بل أنتم اليوم خير منك يومئذ أنتم متحابون و أنتم يومئذ يضرب بعضكم رقاب بعض أراه قال ـ متباغضون قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و في هذا الحديث أن أصحاب الصفة لم يصبروا على المجاعة حتى أعلموا من أملوا أن يغير أحوالهم فلم ينكر ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم عليهم و لكنه أجابهم بما سكن عنهم فدل ذلك على أن طلب ما تقع إليه الحاجة ليس بمضاد للتوكل إذا كان الطالب لا يطلب إلا متوكلا على الله تعالى في إظفاره بمطلوبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن یعقوب عدل نے اور احمد بن محمد بن عبداللہ قطان نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو ابو حرب بن ابو الا سود نے ان کو طلحہ بصری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں میں سے کوئی شخص جب مدینے میں آتا تو اگر اس کی وہاں کسی کے ساتھ جان پہچان ہوتی تو اس کے پاس پہنچ جاتا اور اگر کسی کے ساتھ جان پہچان نہ ہوتی تو مسجد کے صفہ پر (اصحاب صفہ کے ساتھ) ہی رہنے لگتا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم روزانہ ہمیں کوئی پاؤ کھجوریں تقسیم فرماتے تھے اور پہننے کے لئے ریشم کا یا موٹا کپڑا دیتے ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں دن کی کوئی نماز پڑھائی ۔ جب آپ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو دائیں بائیں سے صفہ والوں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آواز دی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا پکارا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھجور نے ہمارے پیٹوں کو جلا ڈالا ہے (یعنی شدید گرمی کا دن ہے ) اور ہمارا لباس جو موٹا ریشم یا اون کا تھا وہ پھٹ گیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے منبر کی طرف جھکے اور اس پر چڑھ کر اللہ کی حمد و ثنا کی اور آپ نے تکلیف کی شدت کو ذکر کیا جو آپ کی قوم کو پہنچی تھی یہاں تک کہ فرمایا : تحقیق مجھ پر اور میرے ساتھی (صدیق) پر ایسا وقت بھی آیا تھا کہ دس دن سے زیادہ گذر گئے تھے مگر نہ میرے لیے ہی اس کے کھانے کی کوئی چیز سوائے بریر کے کھانے کے نہ تھی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو حرب سے کہا کہ بیریر کیا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کھانا پیلو کی کھجور تھیں۔ (یعنی پیلو کے درخت کا پھل ہی کھانے کو میسر تھا اور کچھ نہیں تھا۔ تو ہم لوگ اپنے ان بھائیوں انصاریوں کے پاس آئے اور ان کا زیادہ تر کھانا کھجوریں ہوتی تھیں، انہوں نے ہمیں اسی میں شریک کر لیا ازراہ ہمدردی ، پس اللہ کی قسم اگر میرے پاس تمہارے لیے گوشت اور روٹی میسر ہو تو میں اس کے ساتھ تمہارا پیٹ بھروں لیکن وہ وقت قریب ہے کہ تم پاؤ گے کہ تمہارے ایک ایک بندے کے پاس کھانے کا تھال بھرا ہوا صبح کو الگ آئے گا اور شام کو دوسرا آئے گا۔ راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لوگوں نے پوچھا کیا ہم لوگ آج بہتر ہیں یا اس وقت بہتر ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم لوگ آج بہتر ہو اس دن سے ۔ آج تم لوگ ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہو اور اس وقت تمہارا بعض بعض کی گردنیں مارے گا (یعنی تم لوگ مسلمان ایک دوسرے کو قتل کروگے ) میرا اندازہ ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اس وقت ایک دوسرے سے شدید بغض رکھو گے۔

طلحة البصري ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الحسن بن يعقوب العدل و أحمد بن محمد بن عبد الله القطان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1201

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1202

1201 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا الأخضر بن عجلان حدثني أبو بكر الحنفي عن أنس بن مالك قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فشكا إليه الفاقة ثم رجع فقال : يا رسول الله ! لقد جئتك من عند أهل بيت ما أراني أرجع إليهم حتى يموت بعضهم قال : فقال له : انطلق هل تجد من شيء قال : فانطلق فجاء بحلس و قدح فقال : يا رسول الله ! هذا الحلس كانوا يفترشون بعضه و يكتسون بعضه و هذا القدح كانوا يشربون فيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأخذهما مني بدرهم ؟ فقال رجل : أنا يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يزيد على درهم ؟ فقال رجل : أنا آخذهما باثنين فقال : هما لك فدعا الرجل فقال له : اشتر بدرهم فاسا و بدرهم طعاما لأهلك قال : ففعل ثم رجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : انطلق إلى هذا الوادي فلا تدع حاجا و لا شوكا و لا حطبا و لا تأتني خمسة عشر يوما : فانطلق فأصاب عشرة قال : فانطلق فاشتر بخمسة طعاما لأهلك و بخمسة كسوة لأهلك فقال يا رسول الله لقد بارك الله لي فيما أمرتني فقال : هذا خير من أن تجيء يوم القيامة و في وجهك نكتة المسألة إن المسألة لا تصلح إلا لثلاثة لذي دم موجع لو غرم مفظع أو فقر مدقع قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و في هذا الحديث أمر بالكسب و نهي عن المسئلة عند القدرة على الكسب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطار نے ان کو احضر بن عجلان نے ان کو ابو بکر حنفی نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں ۔ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بھوک کی شکایت کی پھر وہ واپس لوٹ گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے پاس ایک گھر انے والوں کی طرف سے آیا تھا میں سمجھتا ہوں کہ میں ان کی طرف لوٹ کر جاؤں گا تو ان میں سے ایک نہ ایک بھوک سے مرچکا ہوگا۔ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ۔ آپ جائیں کہ آپ کے پاس کوئی شئی موجود ہے تو لے کر آئیں ۔ فرمایا کہ وہ چلا گیا اور جا کر ایک ٹاٹ اٹھا کر لے آیا اور ایک پیالہ اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ٹاٹ ہے کچھ تو اس میں سے نیچے بچھاتے ہیں اور کچھ اوپر اوڑھتے ہیں ۔ اور اس پیالے میں سے پانی پیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان دونوں چیزوں کو مجھ سے ایک درہم کے بدلے میں کون خرید کرتا ہے ۔ ایک آدمی نے کہا میں خرید تا ہوں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کو ن دیتا ہے ؟ ایک دوسرے آدمی نے کہا میں خریدتا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو درہم کے بدلے میں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں تیری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بلا کر فرمایا جاؤ ایک درہم کے بدلے کلہاڑی خرید کرو اور ایک درہم کا اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خرید کرو اس نے ایسا کیا اور حاضر ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اس وادی میں نکل جاؤ کوئی جھاڑی کوئی کانٹا اور کوئی لکڑی نہ چھوڑو (سب کاٹ کر بیچو) اور پندرہ دن کے بعد میرے پاس آنا کہتے ہیں کہ وہ چلا گیا۔ چنانچہ اس کو دس درہم مل گئے واپس لے کر آ گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جا پانچ درہم کا اپنے گھر والوں کے لیے کھانا خرید لے اور پانچ درہم کے کپڑے خرید لے اور اپنے گھرو الوں کے لیے ۔ عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے مجھے جو حکم فرمایا تھا اللہ نے میرے لئے اس میں برکت دی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ تیرے لئے اس سے بہتر ہے کہ تو قیامت کے دن آتا اور تیرے چہرے پر مانگنے کا داغ ہوتا مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لئے مناسب ہے ، درد ینے والے خون کے لئے یا پریشان کرنے والے قرض کے لئے یا کوٹ دینے والے فقر کے لئے (مراد ہے بہت زیادہ محتاجی۔)امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث میں کمانے کا حکم ہے اور سوال کرنے مانگنے سے نہی ہے خصوصاً جب کہ کمانے پر قادر ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1202

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1203

1202 - و في هذا ما المعنى ما روينا في كتاب السنن : عن النبي صلى الله عليه و سلم : لا تحل الصدقة لغني و لا لذي مرة سوى و في حديث آخر : لا حق فيها لغني و لا لذي مرة مكتسب و لو لم يلزمه الكسب ليرد على نفسه حاجتها لما حرمت عليه الصدقة عند القدرة على الكسب

ہم نے کتاب السنن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو روایت کی ہے وہ حدیث بھی اس مفہوم کو بیان کرتی ہے حدیث یہ ہے : " لا تحل الصدقہ لغنی ولا لذی مرۃ سوی"۔ کہ مالدار کے لئے صدقہ لینا حلال نہیں ہے اور صحت مند تندرست آدمی کے لیے بھی حلال نہیں ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے ۔ صدقہ میں غنی اور مالدار کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اگر انسا پر کمانا لازم نہ ہوتا ۔ تو اپنی حالت کو اپنے نفس پر ہی مارتا اس لئے کہ صدقہ لینا تو اس پر کمائی پر قدرت کے باوجود حرام ہے ۔

و في هذا ما المعنى ما روينا في كتاب السنن

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1203

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1204

1203 - ـ : و قد روينا عن سيد المتوكلين و رسول رب العالمين أنه كان يحبس مما أفاء الله عليه قوت سنة ثم يجعل ما بقي منه مجعل مال الله تعالى

Not Found

و قد روينا

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1204

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1205

1204 - ـ : و روينا عنه صلى الله عليه و سلم أنه ظاهر يوم أحد بين درعين و دخل مكة عام الفتح و على رأسه المغفر

اور ہم نے تمام توکل کرنے والوں کے سردار اور رب العلمین کے تمام رسولوں کے سردار سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال فئی میں سے ( جو اللہ تعالیٰ ان پر فئی فرماتے تھے) سال بھر کا خرچہ اپنے گھر والوں کا رکھ لیتے تھے اس کے بعد باقی جو کچھ بچتا اس کو بیت المالکے دیگر مصارف میں لگاتے تھے۔

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1205

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1206

1205 - مكرر : و روينا أنه احتجم من وثىء كان به

ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ اور میں مقابلے کے لیے جب دشمن کے سامنے آئے تو آپ کے جسم پر دو دور زر ہیں تھیں۔فتح مکہ کے دن آپ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو اس کے سر پر لوہے کا خود تھا۔

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1206

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1207

1206 - ـ : و روينا عنه أدوية أمر بها و أنه قال : تداووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له شفاء إلا الهرم و أمر بالاسترقاء و أذن فيها و قال : من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفه

مکرر ہے ۔ اور ہم نے یہ بھی روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ میں موج آجانے کی وجہ سے سینگی لگوا کر خون نکا لا تھا۔

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1207

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1208

1208 - و في حديث أبي خزامة عن أبيه أنه قال : يا رسول الله أرأيت دواء نتداوى بها ورقي نسترقي بها و تقى نتقيها هل يرد ذلك من قدر الله من شيء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه من قدر الله أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن ابن شهاب أن أبا خزامة حدثه أن أباه حدثه أنه قال : يا رسول الله فذكره قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و هذا هو الأصل في هذا الباب و هو أن يستعمل هذه الأسباب التي بينها الله تعالى لعباده و أذن فيها و هو يعتقد أن المسبب هو الله سبحانه و تعالى و ما يصل إليه من المنفعة عند استعمالها بتقدير الله عز و جل و أنه إن شاء حرمه تلك المنفعة مع استعماله السبب فتكون ثقته بالله عز و جل و اعتماده عليه في إيصال تلك المنفعة إليه مع وجود السبب

ابو خزامہ کی ایک روایت میں ہے ا س نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کیا فرماتے جب ہم کسی دوائی سے علاج کرتے ہیں ۔ یا کسی منتر یا کلام سے جھاڑ پھونک یا دم کرتے ہیں یا کوئی پرہیز کی چیز جس سے ہم پرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیز اللہ کی تقدیر میں سے کسی شئی کو دور کر سکتی ہیں۔" انہ من قدر اللہ" بے شک وہ سب چیزیں استعمال کرنا خود اللہ کی تقدیر میں سے ہیں۔ ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن نصر نے ان کو وہب نے ان کو وہب بن حارث نے ان کو ابن شہاب نے کہ ابن خزامہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ اس کو اس کے والد نے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پھر آگے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← و في حديث أبي خزامة

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1208

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1209

1209 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار أنا أبو إسماعيل الترمذي ـ ح ـ و أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل الترمذي ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا حاتم بن إسماعيل عن يعقوب بن عمرو بن عبد الله بن أمية الضمري عن جعفر بن عمرو قال : قال عمرو بن أمية الضمري : يا رسول الله أرسل راحلتي و أتوكل ؟ قال : بل قيدها و توكل و لفظها سواء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے۔ ح۔ اور ہم کو خبر دی ابو سہل محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کوابو بکر محمد بن احمد بن منتب نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل ترمذی نے ان کو ابراہیم بن حمزہ نے ان کو خاتم بن اسماعیل نے ان کویعقوب بن عمرو بن عبداللہ بن امیہ ضمیری نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ عمرو بن امیہ ضمیری نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی سواری کو چھوڑ دوں اور اللہ پر توکل کروں ؟ آپ نے فرمایا بلکہ اس کو باندھ دے اور اللہ پر بھروسہ کر۔ دونوں روایتوں کے الفاظ برابر ہیں۔

عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ ← جعفر بن عمرو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن خَنْبٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ← و، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1209

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1210

1210 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا العباس بن الفضل النضروي ثنا الحسين بن إدريس ثنا هشام بن عمار ثنا حاتم بن إسماعيل عن يعقوب بن عبد الله بن أمية عن جعفر بن عمرو بن أمية عن جعفر بن عمرو بن أمية عن عمرو بن أمية قال : قلت يا رسول الله : أرسل ناقتي و أتوكل ؟ فقال : اعقلها و توكل

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عباس بن فضل نضر وی نے ان کو حسین بن ادریس نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کوحاتم بن اسماعیل نے ان کو یعقوب بن عبداللہ بن امیہ نے ان کو جعفر بن عمرو بن امیہ نے ان کو عمرو بن امیہ نے کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ دوں اور توکل کر لوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کی پیروں میں رسی باندھ دے اور توکل کر لے۔

قُلْتُ ← عمرو بن أُمية ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← يعقوب بن عبد الله بن أمية ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1210

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1211

1211 - أخبرنا أبو جعفر المستملي أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصبغي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي حدثنا عبد الله بن موسى ثنا يعقوب بن عبد الله بن عمرو بن أمية عن جعفر بن عمرو بن أمية عن أبيه عمرو بن أمية قال : قلت يا رسول الله أرسل و أتوكل قال : بل قيد و توكل

ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر مستملی نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق صبغی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ا ن کو ابراہیم بن منذر حزمی نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو یعقوب بن عبداللہ ابن عمرو بن امیہ نے ان کو جعفر بن عمر بن امیہ نے ان کو ان کے والد نے یعنی عمرو بن امیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سواری کو کھلا چھوڑ دوں اور توکل کر لوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ باندھ دو پھر توکل کرو۔

قُلْتُ ← أبيه عمرو بن أمية ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← يعقوب بن عبد الله بن عمرو بن أمية ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّبُغِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1211

chevron_left Previous
12345…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood