Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1176

1175 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل بن الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : قال ابن عباس : إن مضيت فمتوكل و إن نكصت فمتطير

ہمیں خبردی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ فرماتے ہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا: " ان مضیت فمتوکل وان نکصت متطیر"۔ اگر (برا شگون دیکھ کر) آپ اپنے ارادے اور کام پر جاری رہے تو آپ توکل علی اللہ کرنے والے ہوں گے اور اگر آپ (بدشگونی کی وجہ سے) واپس پلٹ آئے تو آپ بد فالی پکڑنے والے ہوں گے۔

ابن عباس إن مضيت فمتوكل و إن نكصت فمتطير ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إسماعيل بن الصفار ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1176

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1177

1176 - و بهذا الإسناد عن قتادة أن كعبا قال : قال الله عز و جل : ليس من عبادي من سحر أو سحر له أو كهن أو كهن له أو تطير أو تطير له لكن من عبادي من آمن و توكل علي

اسی مذکورہ سند کے ساتھ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ شخص میرے بندوں میں سے نہیں ہے جو جادو کرے یا کروائے ۔ یا غیب کی خبرین دے یا غیب کی خبرین پوچھے یا فال کھولے یا کھلوائے ( یعنی فال بتائے یا فال پوچھے) لیکن میرے بندوں میں سے وہ شخص ہے جو میرے ساتھ ایمان لائے اور مجھے پر بھروسہ کرے۔

قَتَادَةَ، أَنَّ كَعْبًا ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1177

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1178

1177 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو الأحرز محمد بن عمر بن جميل الأزدي أنا إبراهيم بن الهيثم البلدي ثنا إبراهيم بن مهدي ثنا أبو المحياة عن عبد الملك بن عمير عن رجاء بن حيوة عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من تكهن أو تقسم أو تطير طيرة فرده عن سفره لم ينظر إلى الدرجات من الجنة يوم القيامة و كذلك رواه رقبة بن مسقلة و عكرمة بن إبراهيم عن عبد الملك بن عمير

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو الا حرز نے ان کو محمد بن عمر بن جمیل ازدی نے ان کو ابراہیم بن ہشیم بدری نے ان کو ابراہیم بن مہدی نے ان کو ابو لمحیات نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو رجاء بن حیوۃ نے ان کو حضرت ابو درداء نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غیب کی خبرین دے یا قسمت کے تیر نکالے ( یعنی قسمت کا حال بتائے ) یا بد فالی پکڑے اور وہ فال اس کو اس کے سفر سے واپس لوٹا دے وہ شخص قیامت کے دن جنت کی سیڑھیاں بھی نہیں دیکھے گا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے مسقلہ نے عکرمہ بن ابراہیم نے عبدالملک بن عمیر سے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أبو المحياة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1178

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1179

1178 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدني أحمد بن سعيد المعداني المنصور الفقيه : ـ ( أقول لمنذري بالفراق و ما هو من شره كامن ) ( ذنوبي أخاف فأما الفرق فإني من شره آمن )

ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ہمیں شعر سنایا ان کو احمد بن سعید معدانی منصور فقیہ نے۔ " اقول لمنذری بالفراق وما ھو من شرہ کامن، ذنوبی اخاف فما الفراق فانی من شرہ امن"۔ میں نے کہا مجھ کو فراق سے ڈرانے والے سے جب کہ وہ خود اس کے شر بے پناہ گاہ میں محفوظ نہیں تھا میں تو اپنے گناہوں کے بارے میں خوف زدہ ہو ں رہا فراق سو میں اس کے شر سے امن میں ہوں ۔

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1179

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1180

1179 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا القاسم غانم بن حمويه يقول : سمعت محمد بن الرومي يقول : قيل لبعض الحكماء لم يهون عليكم معشر الحكماء قول أصحاب النجوم ؟ قال : لأنهم إن حدثوا بخير فلم يستطيعوا تعجيله و إن حدثوا بشر حدثونا و لم يستطيعوا دفعه

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو القاسم غانم بن حمویہ سے اس نے سنا محمد بن رومی سے کہتے ہیں کہ بعض فلسفیوں سے کہا گیا کہ اے فلسفیو! نجومیوں کا قول تم لوگوں کے لئے پریشانی اور مشکل کا باعث نہیں ہوتا تو انہوں نے کہا وہ اس لیے کہ اگر وہ ہمیں کسی چیز کی خبر دیں تو اس میں جلدی نہیں کر سکتے اور اگر ہمیں وہ کسی برائی کی خبر دیں تو وہ اس کو روکتے اور دفع کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

قيل لبعض الحكماء لم يهون عليكم معشر الحكماء قول أصحاب النجوم ← محمد بن الرومي ← أبا القاسم غانم بن حمويه ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1180

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1181

1180 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن دراجا حدثه أن أوس بن بشر المعافري حدثه أن : ـ عبد الله بن عمرو التقي هو و كعب ذو الكتابين فقال عبد الله لكعب : علم النجوم ؟ فقال كعب : لا خير فيه فقال عبد الله : لم ؟ قال : ترى فيه ما تكره و تزيد الطيرة فقال كعب : فإن مضى فقال اللهم لا طير إلا طيرك و لا خير إلا خيرك و لا رب غيرك ثم سكت فقال عبد الله : و لا حول و لا قوة إلا بك قال كعب : جاء بها عبد الله و الذي نفسي بيده إنها لرأس التوكل و كنز العبد في الجنة و لا يقولن عبد عند ذلك ثم يمضي إلا لم يضره شيء قال عبد الله : أفرأيت إن لم يمض و دفعه قال : طعم الإشراك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن اسحٰق نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے ان کو دراج نے ان کو اوس بن بشر معافری نے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمرو ثقی اور کعب دونوں صاحب کتاب ملے عبداللہ نے کعب سے کہا ، علم نجوم کیسا ہے ؟ کعب نے جواب دیا کہ اس میں کوئی خیرو بھلائی نہیں ہے ۔ عبداللہ نے پوچھا کہ وہ کیوں ؟ کعب نے جواب دیا کہ اس لئے کہ آپ اس میں وہ چیز دیکھتے ہیں جو آپ ناپسند کرتے ہیں ۔ اور بدشگونی کو بڑھاتے ہیں پھر کعب نے فرمایا کہ اگر کوئی انسان بد شگونی لینے کے بعد بھی اس کام کو جاری رکھے تو یں دعا کرے۔ "اللھم لاطیر الا طیرک ولا خیر الا خیر ک ولا رب غیرک"۔ اے اللہ ، تیرے شگون کے سوا کوئی شگون نہیں ہے اور تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں ہے اور تیرے سوا کوئی رب نہیں ہے ۔ کعب یہ کہہ کر خاموش ہو گئے ۔ تو عبداللہ نے کہا " ولا حولا ولا قوۃ الا بک"۔ گناہ سے پلٹنا اور نیکی کی طاقت رکھنا بھی تیرے فضل کے ساتھ ہے ۔ کعب نے کہا کہ یہ جملہ عبداللہ لائے تھے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک وہ قول توکل کی اصل ہے اور جنت میں بندے کے لئے خزانہ ہے ۔ یہ مذکورہ دعا پڑھ کر بد شگونی پیدا ہونے کے بعد یہ پڑھ کر پھر بھی جاری رہتا ہے تو اس کو کوئی چیز بھی نقصان نہیں پہنچاتی ۔ عبداللہ نے کہا آپ یہ بتائیے کہ اگر کوئی انسان اس ارادے پر جاری نہ رہے اور ارادے کو دفع کر دے؟ تو کعب نے کہا اس نے اپنے دل کو شرک کا کھانا کھلایا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1181

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1182

1181 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا قصيبة ثنا سفيان عن أياد بن لقيط عن أبي رمثة قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فإذا خلف كتفه مثل التفاحة فقلت يا رسول الله إني أداوي فدعني أطبها و أداويها قال : طبيبها الذي خلقها قال الإمام أحمد رحمه الله : و هذا إنما امتنع من مداواته لأنه كان خاتم النبوة و كانت إحدى آياته المذكورة من صفته و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کوایاد بن لقیط نے ان کو ابو رمثہ نے کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اچانک دیکھا تو آپ کے کندھے کے پیچھے سیپ کی مثل کچھ بڑھا ہوا تھا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ۔ میں علاج کیا کرتا ہوں آپ مجھے اجازت دیجیئے میں اس کا علاج کروں گا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم : " طبیبھا الذی خلقھا"۔ اس کا طیب اور معالج وہی ذات ہے جس نے اس کو بنایا تھا۔امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کے علاج سے اس لئے منع فرمایا تھا کہ وہ چیز مہر نبوت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو جو نشانیاں آپ کی صفت میں مذکور ہیں یہ ان میں سے تھی۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← سُفْيَانَ، ← قصيبة ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1182

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1183

1182 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو عبد الرحمن عن حيوة بن شريح حدثني بكر بن عمرو أنه سمع عبد الله بن هبيرة أنه سمع أبا تميم الجيشاني أنه سمع عمر بن الخطاب أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ـ ح و حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو بكر محمد بن علي النجاد الحافظ حدثنا محمد بن أحمد بن أنس المقرئ ثنا عبد الله بن يزيد المقرئ ثنا حيوة بن شريح عن بكر بن عمرو عن عبد الله بن هبيرة عن أبي تميم الجيشاني عن عمر بن الخطاب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو توكلت على الله حق توكله لرزقت كما يرزق الطير تغدوا خماصا و تروح بطانا قال و في رواية يعقوب : لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير تغدو خماصا و تروح بطانا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو بکر بن عمرو نے انہوں نے سنا عبداللہ بن ہبیرہ سے اس نے سنا ابو تیم جیشانی سے انہوں نے سنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ فرما رہے تھے ۔ اور ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن علی نجاد حافظ نے ان کو محمد بن احمد بن انس مقری نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو بکر بن عمرو نے ان کو عبداللہ بن ہیرہ نے ان کو ابو تیم جیشان نے ان کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرما تے تھے :۔ "لو توکلت علی اللہ حق توکلہ ،لرزقت یرزق الطیر تغدخما صا وتروح بطاناً"۔ کہ تو اگر اللہ پر ایسا توکل اور بھروسہ کرے جیسے بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تجھے ایسے رزق دیا جائے گا جیسے پرندے کو رزق دیا جاتا ہے صبح کرتا ہے خالی پوٹے والا بھوکا ہوتا ہے شام کرتا ہے پیٹ بھرا ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ یعقوب کی ایک روایت میں ہے ۔ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دیتا ہے جیسے وہ پرندے کو رزق دیتا ہے صبح کرتا تو بھوکا خالی پیٹ ہوتا ہے اور شام کرتا ہے تو پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← محمد بن أحمد بن أنس المقرئ ← أبو بكر محمد بن علي النجاد الحافظ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و، ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← أبا تميم الجيشاني؛ أنه ← عَبْدُ اللهِ بْنُ هُبَيْرَةَ أَنَّهُ ← بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1183

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1184

1183 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا علي بن حمشاد ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ : فذكره بمثل إسناد العلوي غير أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم لو توكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير تغدو خماصا و تروح بطانا قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و ليس في هذا الحديث دلالة على القعود عن الكسب بل فيه ما يدل على طلب الرزق لأن الطير إذا غدت فإنما تغدو لطلب الرزق و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ لو توكلوا على الله تعالى في ذهابهم و مجيئهم و تصرفهم و رأوا أن الخير بيده و من عنده لم ينصرفوا إلا سالمين غانمين كالطير تغدو خماصا و تروح بطانا لكنهم يعتمدون على قوتهم و جلدهم و يغشون و يكذبون و لا ينصحون و هذا خلاف التوكل

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ، انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا علوی والی اسناد کی مثل سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا بے شک تم لوگ اگر اللہ پر توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے وہ پرندے کو رزق دیتا ہے صبح کو بھوکا ہوتا ہے اور شام کو پیٹ بھرا ہوتا ہے ۔

أبو عبد الرحمن المقرئ فذكره بمثل إسناد العلوي غير أنه ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1184

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1185

1184 - حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج أنا أبو محمد بن عبد الله بن محمد العدل ثنا محمد بن إسحاق السراج ثنا أبو كريب ثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله : ـ { و لا تتبدلوا الخبيث بالطيب } قال : لا تعجل الرزق الحرام قبل أن يأتيك الحلال الذي قد قدر لك

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن محمد سراج نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد عدل نے ان کو محمد بن اسحٰق سراج نے ان کو ابو کریب نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں : ۔ " ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب(النساء2) پاک مال کے بدلے میں خبیث مال ناپاک مال نہ بدلئے ( یا اچھے مال کے بدلے میں ردی مال نہ لیجئے)۔ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ رزق حلال کے تیرے پاس آنے سے قبل جو تیرے لیے مقدر ہو چکا ہے رزق حرام میں جلدی نہ کیجئے اس آیت سے یہ مراد ہے ۔

لا تعجل الرزق الحرام قبل أن يأتيك الحلال الذي قد قدر لك ← مجاهد في قوله و لا تتبدلوا الخبيث بالطيب ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ← أبو محمد بن عبد الله بن محمد العدل ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1185

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1186

1185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا الربيع ثنا الشافعي ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب عن المطلب بن حنطب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما تركت شيئا مما أمركم به الله إلا و قد أمرتكم به و ما تركت شيئا مما نهاكم الله عنه إلا و قد نهيتكم عنه و إن الروح الأمين قد نفث في روعي أنه لن تموت نفس حتى تستوفي رزقها فأجملوا في اطلب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے ا ن کو خبر دی ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو ربیع نے ان کو شافعی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو عمرو بن ابو عمرو مولیٰ مکلب نے ان کو مطلب بن خطیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہو مگر میں نے تمہیں اس کے بارے میں حکم دے دیا ہے ۔ اور میں نے ایسی بھی کوئی چیز نہیں چھوڑی اللہ نے جس چیز سے تمہیں روکا ہو مگر میں نے بھی اس سے تمہیں منع کر دیا ہے ۔ بے شک جبرائیل امین نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی ہے کہ ہر گز کوئی نفس نہیں مرے گا اس وقت تک جب تک کہ اپنا رزق پورا نہ کر لے لہذا طلب اور تلاش رزق میں میانہ روی اختیار کرو۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطِبٍ ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1186

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1187

1186 - ثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشافعي ثنا إسحاق بن بنان الأنماطي ثنا عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي هلال عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تستبطؤوا الرزق فإنه لم يكن عبد يموت حتى يبلغه آخر رزق هو له فاتقوا الله و أجملوا في الطلب من الحلال و ترك الحرام و في هذا ما دل على أنه أمر بطلب الرزق إلا أنه أمر بإجماله و إجمال الطلب هو أن يطلبه من الحلال معتمدا على الله عز و جل و لا يلاحظ في طلبه قواه و مكايده و حيله و لا يطلبه من الحرام

ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو بکر بن علی بن اسماعیل شافعی نے ان کو اسحٰق بن بنان الماطی نے ان کو ابو ھمام ولید بن شجاع نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو سعید بن ابو ہلال نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ کہ رزق مؤخر یار کا ہو ا نہ سمجھو اس لئے کہ کوئی بندہ اسوقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنے رزق کے آخری لقمے تک نہ پہنچ جائے لہذا اللہ سے ڈرو ( تقویٰ اختیار کرو) اور رزق کی تلاش میں خوبصورت طریق اختیار کرو یعنی حلال کو طلب کرو اور حرام کو چھوڑ دو۔ اس حدیث میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے رزق کی تلاش کا حکم دیا ہے مگر آپ نے طلب میں اجمال کا حکم دیا ہے ( یعنی خوبصورت طریقہ ) اور خوبصورت طلب اور تلاش یہ ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے رزق حلال تلاش کرے ۔ حرام طریقہ سے رزق تلاش نہ کرے اور تلاش میں نہ تو اپنی قوت بازو پر اعتماد اور بھروسہ کرے اور نہ ہی اپنے حیلے اور اپنی تدبیروں پر بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ بَنَانٍ الْأَنْمَاطِيُّ، ← أبو بكر محمد بن علي بن إسماعيل الشافعي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1187

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood