Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1296

1296 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا علي بن أبي مريم عن موسى بن عيسى قال : لما اجتمع حذيفة المرعشي و سليمان الخواص و يوسف بن أسباط فتذاكروا الفقر و الغنى و سليمان ساكت فقال بعضهم : الغني من كان له بيت يكنه و ثوب يستره و سداد من عيش يكفه عن فضول الدنيا و قال بعضهم : الغني من لم يحتج إلى الناس فقيل لسليمان ما تقول أنت يا أبو أيوب ؟ فبكى ثم قال : رأيت جوامع الغنى في التوكل و رأيت جوامع الشر في القنوط و الغنى حق الغني من أسكن قلبه إلى الله من غناه يقينا و من معرفته توكلا و من عطائه و قسمته رضا فكذلك الغنى حق الغني و إن أمسى طاويا و أصبح معوزا فبكى القوم جميعا من كلامه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو دنیا نے ان کو علی بن ابو مریم نے ان کو موسیٰ بن عیسٰی نے وہ کہتے ہیں جب حضرت حذیفہ ہر عشی اور سلیمان خواص اکٹھے ہوئے اور یوسف بن اسباط بھی لہذا انہوں نے فقر اور غنا کا تذکرہ کیا۔ سلیمان خاموش بیٹھے تھے ان میں سے بعض نے کہا کہ غنی وہ ہوتا ہے جس کے لئے سر چھپانے کا اپنا گھر ہو ۔ تن چھپانے کے لیے کپڑا ہو، اور زندگی گذارنے کے لیے کوئی درست رہنمائی اور ہدایت ہو جو اس کو دنیا کی فضول اور غیر ضروری چیزوں سے روک دے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ۔ غنی وہ ہے ۔ جو لوگوں کا محتاج نہ ہو۔ لہذا سلیمان سے کہا گیا کہ اے ابو ایوب آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو وہ رو پڑے اس کے بعد فرمایا ۔ میں جامع غنا توکل میں سمجھتا ہوں ، اور جامع شرنا امید اور مایوسی کو سمجھتا ہوں ۔ اور سچا غنی وہ ہے جو اپنے دل کو اللہ کی طرف سکون دیتا ہے یقینی طور پر اسی کے غنا ہے ۔ اور توکل کرتے ہوئے اسی کی معرفت سے اور اسی کی عطا سے ، اور اسی کی قسمت سے راضی ہو کر ۔ چنانچہ غنی ایسا ہوتا ہے سچا غنی ۔ کہ اگر وہ شام کرتا ہے دراں حال کہ بھوکا ہوتا ہے تو صبح کرتا اس حال میں کہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں والا محتاج ہوتا ہے ۔ ( سلیمان کی یہ بات سن کر) سب لوگ رو پڑے۔

مُوسَى بْنُ عِيسَى، ← عَلِيُّ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1296

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1297

1297 - أخبرنا أبو عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا محمد بن إسماعيل الأصبهاني قال : سمعت أبا تراب يقول : سمعت حاتم الأصم يقول : سمعت شقيق البلخي يقول : لكل واحد مقام فمتوكل على ماله و متوكل على نفسه و متوكل على لسانه و متوكل على سيفه و متوكل على سلطنته و متوكل على الله عز و جل فأنا المتوكل على الله عز و جل فقد وجد الاسترواح نوه الله به و رفع قدره و قال : { وتوكل على الحي الذي لا يموت } و أما من كان مستروحا إلى غيره يوشك أن ينقطع به فيشقى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسماعیل اصفہانی نے ان کو ابو تراب نے ان کو حاتم اصم نے ان کو شقیق بلخی نے فرماتے ہیں کہ ۔ ہر ایک کا اپنا ایک مقام ہے کوئی اپنے مال پر توکل کرتا ہے ۔ کوئی اپنے نفس پر توکل کرتا ہے ۔ کوئی اپنی زبان پر توکل کرتا ہے ، کوئی اپنی تلوار پر بھروسہ کرتا ہے ۔ کوئی اپنی حکومت پر بھروسہ کرتا ہے ۔ اور کوئی صرف اللہ پربھروسہ کرتا ہے ۔ بہر حال اللہ پر توکل کرنے والا سکون اور آرام پا لیتا ہے ، اللہ نے اس کو توکل کے ساتھ بلندی عطا کی ہے اور اس کا مقام بلند کر دیا ہے اور فرمایا کہ۔ "وتوکل علی الحی الذی لا یموت"۔ اس زندہ ذات پر توکل کیجئے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔ بہرحال جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے راحت و سکون و آرام طلب کرتا ہے قریب ہے کہ وہ اس سے کٹ جائے لہذا وہ محروم ہو جائے۔

شقيق البلخي ← حَاتِمٌ الْأَصَمُّ، ← أَبَا تُرَابٍ ← محمد بن إسماعيل الأصبهاني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1297

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1298

1298 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سئل الأستاذ أبو سهل محمد بن سليمان عن قول النبي صلى الله عليه و سلم لأبي بكر الصديق رضي الله عنه : ماذا أبقيت لنفسك ؟ قال : الله و رسوله قال : هو التجريد لله بالكلية و إدخال الرسول صلى الله عليه و سلم فيه لمكان الإيمان و حقيقة التعلق بالسبب في الوصول إلى المسبب الأعلى أن عليه انقطاعه فإذا كمل توكل المتوكل و تحقق فيه أخبر إن شاء عن السبب و إن شاء عن المسبب لأن الكل عنده واحد لتعلق الفروع في الكل بالأصل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے فرماتے ہیں کہ استاذ ابو سہل محمد بن سلیمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس قول کے بارے میں جو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: "ماذا بقیت لنفسک"۔ اپنے آپ کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ۔ "اللہ و رسولہ " اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۔

أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1298

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1299

1299 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا ابن أبي عمر قال : قال سفيان قال أبو حازم : وجدت الدنيا شيئين : شيء هو لي و شيء هو لغيري فأما الذي هو لي فلو طلبته قبل أجله بحيلة السموات و الأرض لم أقدر عليه و أما الذي هو لغيري فلم أصبه فيما مضى فلم أرجوه فيما بقي ؟ يمنع رزقي من غيري كما يمنع رزق غيري مني ففي أي هذين أفني عمري ؟

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن ابو عمر وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا ابو حازم کہتے ہیں ۔ میں نے ساری دنیا کو دو چیزیں پائی ہیں ، ایک چیز وہ جو میرے لئے ہے اور دوسری جو چیز میرے لیے نہیں بلکہ کسی دوسرے کے لئے ہے وہ چیز جو میرے لئے ہے اگر میں اس کو اس کے وقت سے پہلے طلب کروں اور زمین و آسمان کے سارے حیلے اور ساری تدبیر یں کر ڈالوں تو بھی میں اس چیز پر قادر نہیں ہو سکوں گا۔ اور جو چیز میرے لئے نہیں ہے بلکہ وہ کسی اور کے لئے ہے۔ میں اس کے لئے زمین و آسمان کے سارے حیلے اور ساری تدبیریں کرکے بھی نہیں پا سکوں گا ، لہذا میں اس کی امید کیوں کروں ؟ میرا رزق میرے غیر سے روک لیا گیا ہے، جیسے دوسروں کا رزق مجھ سے روک لیا گیا ہے لہذا ان دو میں سے میں کس چیز میں اپنی عمر اور اپنی زندگی برباد کروں۔

سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1299

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1300

1300 - قال سفيان و قيل لأبي حازم : ما مالك ؟ قال : خير مالي ثقتي بالله تعالى و إياسي مما في أيدي الناس

سفیان کہتے ہیں کہ ابو حازم سے کہا گیا تھا کہ آپ کا مال کیا ہے ؟ اس نے کہا میرا بہترین مال میرا اللہ پر یقین ہے اور اس چیز سے میری مایوسی جو کچھ لوگوں کے ہاتھ میں ہے ۔

خير مالي ثقتي بالله تعالى و إياسي مما في أيدي الناس ← سفيان و قيل لأبي حازم ما مالك

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1300

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1301

1301 - قال : و قال بعض الأمراء لأبي حازم : ارفع إلي حاجتك قال : هيهات هيهات رفعت إلى من لا تحجب الحوائج دونه فما أعطاني منها قنعت و ما زوى عني منها رضيت

فرماتے ہیں کہ ۔ بعض امراء نے ابو حازم سے کہا، آپ اپنی ضرورت حاجت ہمارے سامنے لائیں۔ اس نے کہا بہت دوری ہے بہت دوری ہے (یعنی میری عقل سے بعید بات ہے کہ) میں اپنی حاجت آپ کے سامنے پیش کروں ( بلکہ میں تو اپنی حاجتیں اس کے آگے پیش کرتا ہوں ) جس سے حاجتیں پوشیدہ نہیں ہیں ۔ وہ مجھے جو کچھ عطا کرتا ہے اسی پر قناعت کرتا ہوں ۔ اور جو کچھ وہ مجھ سے روک لیتا ہے اس سے راضی ہوں۔

بعض الأمراء لأبي حازم ارفع إلي حاجتك ← و،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1301

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1302

1302 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني عبد الله بن عيسى الطفاوي ثنا عبيد الله بن شميط بن عجلان قال : سمعت أبي يقول : إن المؤمن يقول لنفسه إنما هي ثلاثة أيام فقد مضى أمسى بما فيه و غدا آمل لعلك لا تدركه إنك إن كنت من أهل غدا فإن غدا يجيء برزق غدا إن دون غد يوما و ليلة تخترم فيها أنفس كثيرة و لعلك المخترم فيها كفى كل يوم همه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر ابو دنیا نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ طفاوی نے ان کو عبید اللہ بن شمیط بن عجلان نے وہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے تھے ۔ مؤمن اپنے نفس سے کہتا ہے (یہ دنیا کی زندگی ) تین دن کی ہے ، جس مین سے کل کا دن تو گذر چکا ہے ۔ اور اس میں جو کچھ ہونا تھا وہ بھی ہو چکا ہے ۔ اور وہی آنے والی کل ، یعنی صبح اس کی امید ہے ممکن ہے کہ شایدآپ اس کو نہ پاسکیں ۔ اگر آپ کل آنے والی صبح ان لوگوں میں سے ہو۔ جو کل موجود ہوں گے تو تیرا کل کا رزق کل ہی تیرے پاس آجائے گا۔ اور کل صبح سے پہلے ایک دن اور ایک رات باقی ہے ۔ اس میں بہت سے نفوس ہلاک ہوں گے۔ شائد تو بھی اسی میں ہلاک ہو نے والوں میں سے ہو لہذا ہر دن کی اپنی ہی فکر کافی ہے ۔

إن المؤمن: ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ شُمَيْطِ بْنِ عَجْلاَنَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الطُّفَاوِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1302

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1303

1303 - قال ثنا أبو بكر ثنا محمود بن خداش قال : سمعت الأشعث بن عبد الرحمن ثنا رجل يقال له عبد الملك عن الحسن قال : ابن آدم لا تحمل هم سنة على يوم كفى يومك بما فيه فإن تكن السنة من عمرك يأتك الله فيها برزقك و إن لا تكن من عمرك فإنك تطلب ما ليس لك

فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا ابو بکر نے ان کو محمود ابن خداش نے انہوں نے سنا اشعث بن عبدالرحمٰن سے ان کو ایک آدمی نے جسے عبدالملک کہا جاتا تھا اس نے حسن بصری سے انہوں نے فرمایا۔ اے ابن آدم تو روزانہ سال بھر کا غم نہ اٹھا اس لئے کہ ایک دن میں جو کچھ غم کافی ہے اگر تیری عمر نے سال بھر وفا کی تو اللہ تعالیٰ تیرا رزق بھی تیرے پاس پہنچائے گا۔ اگر تیری عمر نے سال بھر وفا نہ کی تو جو کچھ آپ طلب کر رہے ہیں وہ آپ کا نہیں ہے۔

الْحَسَنِ، ← رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِکِ ← الْأَشْعَث بن عبد الرَّحْمَن ← مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1303

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1304

1304 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا علي بن أبي مريم عن محمد بن الحسين حدثني أحمد بن سهل الأردني قال : سمعت أبا فروة الزاهد يقول : قال لي رجل في المنام : أما علمت أن المتوكلين هم المستريحون ؟ قلت : رحمك الله مما ذا ؟ قال : من هموم الدنيا و عسر الحساب غدا قال أبو فروة : فو الله ما اكترثت بعد ذلك بإبطاء رزق و لا سرعته و ذلك أن من أجمع التوكل عليه كفاه ما همه و ساق الرزق و الخير إليه و قد قال الله عز و جل : { ومن يتوكل على الله فهو حسبه إن الله بالغ أمره }

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو علی بن ابو مریم نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو احمد بن سہل اردنی نے انہوں نے سنا ابو فروہ زاہد سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے خواب میں کہا۔ کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ توکل کرنے والے ہی آرام پانے اور جان چھڑانے والے ہیں، میں نے پوچھا کہ اللہ آپ کے اوپر رحم کرے وہ کیسے ؟ وہ کس چیز سے جان چھڑا لیتے ہیں؟ فرمایا کہ دنیا کے غموں اور کل آنے والی حساب کی سختی سے ابو فروہ کہتے ہ کہ جب سے میں نے یہ خواب دیکھا ہے ، اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے رزق میں تاخیر کی فکر نہیں کی اور نہ ہی میں وقت سے پہلے اس کی جلدی کی اور یہ اس لئے کہ جو شخص توکل کرنا طے کر لیتا ہے اللہ اس کو اس کے فکر سے کفایت کر لیتا ہے اور رزق کو اور خیر کو اس کی طرف چلاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ ان اللہ بالغ امرہ" (الطلاق3) جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے بس وہی اس کو کافی ہے بے شک اللہ تعالیٰ اپنے حکم کو پورا کرنے والا ہے ۔

أبا فروة الزاهد ← أحمد بن سهل الأردني ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَلِيُّ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← عبد الله بن محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1304

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1305

1305 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ثنا أحمد بن سلمان ثنا معاذ بن المثنى ثنا عبد الله بن سوار ثنا حماد بن سلمة أنا ثابت البناني أن عامر بن عبد الله قال لابني عم له : فوضا أمركما إلى الله تستريحا

ہمیں خبر دی ابو القاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو معاذ بن مثنیٰ نے ان کو عبداللہ بن شوانے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے یہ کہ عامر بن عبداللہ نے دو چچا زادوں سے کہا ۔ تم دونوں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو دونوں آرام میں رہو گے۔

لِابْنَيْ عَمٍّ لَهُ: «فَوِّضَا أَمْرَكُمَا إِلَى اللهِ تَسْتَرِيحَا» ← ثابت البناني أن عامر بن عبد الله ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَّارٍ، ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1305

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1306

1306 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا الحسن بن عبد العزيز عن ضمرة بن ربيعة عن رجاء بن أبي سلمة عن عقبة بن أبي زينب قال : مكتوب في التوراة : تتوكل على ابن آدم فإن ابن آدم ليس له قوام و لكن توكل على الحي الذي لا يموت

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن قرشی نے ان کو حسن بن عبدالعزیز نے ان کو حمزہ بن ربیعہ نے رجاء بن ابو سلمہ سے ان کو عقبہ بن ابو زینب نے فرماتے ہیں ۔ توراۃ میں لکھا ہے تم ابن آدم پر بھروسہ کر رہے ہو حالانکہ ابن آدم کی تو کوئی بقاء ہی نہیں ہے اور نہ اس کو کوئی باقی رکھے گا لیکن تم توکل کرو اس زندہ ذات پر جو کبھی نہیں مرے گا۔

عُقْبَةَ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ؛ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عبد الله بن محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1306

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1307

1307 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا الحكم بن موسى ثنا الخليل بن أبي الخليل عن صالح بن شعيب قال : أوحى الله عز و جل إلى عيسى ابن مريم عليه السلام : أنزلني من نفسك كحياتك و اجعلني ذخزا لك في معادك و تقرب إلي بالنوافل أدنك و توكل علي أكفك و لا تول غيري فأخذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو خلیل بن ابوالخلیل نے ان کو صالح بن شعیب نے وہ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی ۔ کہ مجھے اپنے دل میں ایسی جگہ اور ایسا مقام دے جیسے تم نے اپنی زندگی کو دیا ہے ۔ اور مجھے اپنے لئے اپنی آخرت کا ذخیر بنا ۔ اور نفلی عبادت کے ساتھ میری طرف قرب حاصل کر آپ میرے قریب ہو جائیں گے ۔ اور میرے اوپر بھروسہ رکھو میں تیری ہر ضرورت پوری کروں گا ۔ اور میرے غیر کے ساتھ دوستنی نہ کر اور اس کو اپنا سر پر ست نہ بنا ورنہ تجھے رسوا کردوں گا۔

صَالِحُ بْنُ شُعَيْبٍ ← الخليل بن أبي الخليل ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← عبد الله بن محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1307

chevron_left Previous
1…111213…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood