شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5422
5423 - ثنا أبو الجماهر ثنا عبد العزيز عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إياكم و الجلوس بالطرقات قالوا : يا رسول الله ما لنا بد من مجالسنا نتحدث فيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أبيتم فأعطوا الطريق حقه قالوا : يا رسول الله و ما حقه قال : حق الطريق غض البصر و كف الأذى و رد السلام و الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى عن عبد العزيز بن محمد و أخرجه البخاري من وجه آخر عن زيد بن أسلم قال الشيخ : فروينا في حديث عبادة بن الصامت عن النبي صلى الله عليه و سلم : احفظوا فروجكم و غضوا أبصاركم فيما ضمن لهم به الجنة و له شاهد مرسل
ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جماہر نے ان کو عبدالعزیز نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابو سعید خدری نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بچاؤ تم اپنے آپ کو راستوں پر بیٹھنے سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے لئے اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں ہے ہم آپس میں وہاں باتیں کر تے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نہیں مان رہے تو پھر تم لوگ راستے کو اس کا حق ضرور دو۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ راستے کا حق نگاہیں نیچی رکھنا ہے۔ اور تکلیف پہنچانے سے رک جانا اور سلام کا جواب دینا۔ اور امر باالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے عبدالعزیز بن محمد سے اور اس کو بخاری نے دوسرے طریق سے روایت کیا ہے زید بن اسلم سے۔ شخ نے فرمایا کہ ہم نے عبادہ بن صامت کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ کہ تم لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو اور تم لوگ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھو۔ یہ ان امور میں ذکر کیا تھا جن امور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جنت کی ضمانت دی ہے۔اور اس حدیث شاید کے موجود میں جو کہ مرسل روایت ہے۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ،
Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5422
