Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5410

5411 - و أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا سفيان بن سعيد عن سليمان التميمي : فذكره بإسناده غير أنه قال : ما خلفت بعدي

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو سلیمان تیمی نے اس نے اسی روایت کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مگر انہوں نے۔ میرے بعد۔ کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔

ما خلفت بعدي ← سليمان التميمي فذكره بإسناده غير أنه ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Hadith 5410

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5411

5412 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ثنا عبد الله بن روح المدائني ثنا عثمان بن عمر ثنا شعبة عن أبي سلمة عن أبي نضرة عن أبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الدنيا حلوة خضرة و إن الله مستخلفكم فيها فينظر كيف تعملون فاتقوا فتنة الدنيا و فتنة النساء فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت فتنة النساء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ بن عقاب عبدی نے ان کو عبداللہ بن روح مدائنی نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک دنیا میٹھی ہے ہے ترو تازہ اور سرسبز ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلافت و نیابت عطا کرے گا (یکے بعد دیگرے اس کا مالک بنائے گا) اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو بچنا تم دنیا کے فتنے سے اور عورتوں کے فتنے سے بے شک بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں ہی تھیں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عبد الله بن روح المدائني ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5411

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5412

5413 - حدثنا أبو عبد الله محمد بن منصور بن محمد بن حميد السني البيهقي ثنا الإمام أبو سهل محمد بن سليمان أنا محمد بن إسحاق أبو بكر ثنا بندار محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم ثنا محمد بن المثني ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن أبي سلمة قال : سمعت أبا نضرة يحدث عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الدنيا حلوة خضرة و إن الله تبارك و تعالى مستخلفكم فيها فينظر كيف تعملون فاتقوا فتنة الدنيا و اتقوا النساء فإن أول فتنة بني إسرائيل كانت النساء لفظ حديث بندار

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن منصور بن محمد بن حمید سنی بیہقی نے ان کو امام ابو سہیل محمد بن سلیمان نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو بکر نے ان بندار محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابونضرہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ دنیا میٹھی ہے ترو تازہ ہے بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں یکے بعد دیگرے اس میں رکھے گا اور یہ جانچے گا کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔لہذا تم لوگ دنیا کے فتنہ سے بچنا اور عورتوں کے فتنہ سے بچنا بے شک بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتیں ہی تھیں۔آگے بندار کی روایت کے الفاظ ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا نَضْرَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمّؐدُ بن جَعفَرٍ و ← بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ ← الإمام أبو سهل محمد بن سليمان ← أبو عبد الله محمد بن منصور بن محمد بن حميد السني البيهقي

Hadith 5412

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5413

5414 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا هشام بن القاسم ثنا شعبة عن الأشعث بن سليم قال : سمعت رجاء بن حيوة الكندي قال : قال معاذ : إنكم ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم و ستبتلون بفتنة السراء و إن أخوف ما أخاف عليكم فتنة النساء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو ہشام بن قاسم نے ان کو شعبہ نے اشعث بن سلیم انہوں نے سنا رجآء بن حيوة مندی سے انہوں نے کہا کہ معاذ نے کہا تھا۔ بے شک تم لوگ بہت نقصان دہ فتنے کے ساتھ آزمائے جاؤ گے فتنے کے ساتھ پس تم صبر کرنا اور عنقریب تم خوشی کے فتنہ کے ساتھ بھی آزمائے جاؤ گے اور بے شک سب سے بڑا خوفناک فتنہ جس کے بارے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں وہ عورتوں کا فتنہ ہے۔

رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ الْكِنْدِيِّ، ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← هشام بن القاسم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5413

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5414

5415 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد ابن محمد بن الأشعث بمصر ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي ثنا يزيد بن هارون ثنا جرير بن عثمان ثنا سليم بن عامر عن أبي أمامة : أن فتى شابا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أتأذن لي في الزنا : فصاح القوم به و قالوا : مه مه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقروه وادنه فدنا حتى كان قريبا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبه لأمك فقال : لا يا رسول الله جعلني فداك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبه لأمك فقال : لا يا رسول الله جعلني فداك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و لا الناس يحبونه لأمهاتهم قال : أفتحبه لا بنتك قال : لا و الله يا رسول الله جعلني الله فداك قال : و لا الناس يحبونه لبناتهم قال : فتحبه لأختك قال : لا و الله يا رسول الله جعلني الله فداك قال : و لا الناس يحبونه لأخواتهم ثم ذكر الحديث في العمة و الخالة كذلك قال : يا رسول الله ادع الله لي قال : فوضع رسول الله صلى الله عليه و سلم يده عليه ثم قال : اللهم اغفر ذنبه و طهر قلبه و حصن فرجه قال : فكان لا يلتفت إلى شيء بعد

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن اشعث نے مصر میں ان کو محمد بن عبدالملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریر بن عثمان نے ان کو سلیم بن عامر نے ان کو ابو امامہ نے کہ ایک نوجوان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں گے؟ لوگوں نے یہ بات سن کر اس کے بارے میں شور مچایا اور بولے ٹھہر ٹھہر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ رہنے دو اس کو اور قریب کرو اس کو وہ قریب ہو گیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کو اپنی ماں کے لئے پسند کرو گے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں یا رسول اللہ۔ اللہ مجھے آپ کے اوپر قربان کرے۔ اب رسول اللہ نے فرمایا کہ لوگ بھی اس کو اپنی ماؤں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ تم اس فعل کو اپنی بیٹی کے لئے پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ہے یا رسول اللہ۔ اللہ تعالیٰ مجھے آپ کے اوپر قربان کرے۔ حضور نے فرمایا تو لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے حق میں اس بات کو پسند نہیں کرتے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ کوئی تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کرے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں یا رسول اللہ اللہ مجھے آپ کے اوپر قربان کر دے۔ حضور نے فرمایا تو لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔ پھر راوی نے حدیث کو ذکر کیا ہے پھوپھی کے بارے میں اور خالہ کے بارے میں کہ آپ نے ان کے بارے میں بھی ایسا ہی پوچھا اور فرمایا۔ اب اس جوان نے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس کے سر پر رکھا اور یوں دعا فرمائى اللهم اغفر ذنبه و طهر قلبه و حصن فرجه۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اس کے گناہ معاف فرما اور اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ نوجوان ایسی کسی بات کی طرف خیال ہی نہیں کرتا تھا۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← جَرِيرُ بْنُ عُثْمَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← محمد ابن محمد بن الأشعث بمصر ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 5414

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5415

5416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن إسحاق الفقيه ثنا يعقوب بن يوسف القزويني ثنا محمد بن سعيد بن سابق ثنا عمرو بن أبي قيس عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يشتري الثمر حتى يطعم و قال : إذا ظهر الزنا و الربا في قرية حلوا بأنفسهم كتاب الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحاق فقیہہ نے ان کو محمد بن یعقوب بن یوسف قزوینی نے ان کو محمد بن سعید بن سابق نے ان کو عمرو بن ابو قیس نے ان کو سماک نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ پھل پکنے سے پہلے خرید کئے جائیں جب تک کہ کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔اور فرمایا تھا کہ جب لوگوں میں زنا اور سود کسی بستی میں عام ہو جائے تحقیق وہ نفسوں کو حلال کر لیتے ہیں بسبب کتاب اللہ کے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5415

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5416

5417 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن صالح بن هانىء ثنا أحمد بن سهل بن مالك حدثني محمد بن إسماعيل البخاري ثنا الحسن بن علي الصفار ثنا أبو خالد الحمر ثنا محمد بن عجلان عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الزنا يورث الفقر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو احمد بن سہل بن مالک نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو حسن بن علی صفار نے ان کو ابو خالد احمر نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ زنا فقر و محتاجی پیدا کرتا ہے۔ (یعنی اپنے اثر کے اعتبار سے محتاجی کے اثرات چھوڑتا ہے۔)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← أبو خالد الحمر ← الحسن بن علي الصفار ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أحمد بن سهل بن مالك ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5416

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5417

5418 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا الحسن بن سفيان ثنا حرملة ثنا ابن وهب ثنا الماضي بن محمد أبو مسعود عن ليث عن مجاهد عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الزنا يورث الفقر

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حرملہ نے ان کو ابن وہب نے ان کو قاضی بن محمد نے ان کو ابو مسعود نے ان کو لیث نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عمر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدکاری کرنا فقر و محتاجی پیدا کرتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← الماضي بن محمد أبو مسعود ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 5417

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5418

5419 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا يحيى بن سعد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب الفرازي : في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم قال : قالا لي : انطلق فانطلقنا فأتينا على مثل بناء التنور قال عوف : أحسب أنه قال : فإذا لغط و أصوات فاطلعنا فإذا فيه رجال و نساء و إذا هم يأتيهم اللهب من أسفل منهم فإذا أتاهم ذلك ضوضوا قال : قلت : من هؤلاء قال لي انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير : أما الرجال و النساء العراة الذين في مثل بناء التنور فإنهم الزناة و الزواني أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی ہے حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابو بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابو رجاء نے ان کو سمرہ بن جندب فزاری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ چلئے لہذا ہم لوگ چلتے گئے۔ حتیٰ کہ ہم لوگ ایک تنور جیسی عمارت پر پہنچے۔ عوف کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اچانک شور اور چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں ہم لوگوں نے اس طرف جھانک کر جو دیکھا تو اس میں بہت سے مرد اور عورتیں تھے۔اچانک آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے اوپر کی طرف لے کر آتا تو ان کا یہ شور برپا ہوتا۔ حضور فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ پھر میرے ساتھی نے کہا کہ آگے چلئے۔ پھر راوی نے آگے حدیث ذکر کی۔ پھر تفسیر تشریح میں فرمایا۔ کہ بہر حال مرد اور عورتیں جو کہ ننگے تھے جو کہ تندور جیسی عمارت میں بند تھے بے شک وہ بدکار مرد اور بدکار عورتیں تھیں۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث عوف سے۔

عوف أحسب ← لي انطلق فانطلقنا فأتينا على مثل بناء التنور ← سمرة بن جندب الفرازي في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Hadith 5418

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5419

5420 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه ثنا محمد بن أيوب ثنا مسدد ثنا يزيد بن زريع ثنا يونس بن عبيد عن عمرو بن سعيد عن أبي زرعة عن عمرو بن حريز عن جرير قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نظرة الفجاة فامرني أن أصرف بصري رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن يزيد بن زريع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابونصر فقیہہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسدد نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو عمرو بن سعید نے ان کو ابو زرعہ نے ان کو عمرو بن جریر نے ان کو جریر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اچانک کی نظر سے (یعنی جو اچانک غیر محرم پر پڑ جائے) لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر پھیر لوں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے اس نے یزید بن زریع سے۔

يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← قُتَيْبَةُ، ← نظرة الفجاة فامرني أن أصرف بصري رواه مسلم في الصحيح ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَرِيرٌ ← عمرو بن حريز ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5419

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5420

5421 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا إبراهيم بن محمد الصيدلاني ثنا إسماعيل بن موسى ابن ابنه السدي أنا شريك عن أبي ربيعة اليادي عن أبي بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى و ليست لك الأخرة رواه أبو داود عن إسماعيل بن موسى الفزاري

ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابراہیم بن محمد صیدلانی نے ان کو اسماعیل بن موسیٰ نے اس نے سدی کی بیٹی سے ان کو خبر دی شریک بن ابو ربیعہ زیادی نے اس نے ابو بردہ سے اس نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا اے علی ایک دفعہ نظر پڑ جائے تو اس کے پیچھے دوسری نظر نہ ڈالنا بیشک پہلی نظر تو تیرے لئے معاف ہے (چونکہ وہ بدون قصداً وارد ہوا ہے۔) اور دوسری نظر تیرے اوپر وبال ہے (کیونکہ وہ قصداً اور ارادۃً ہوگی) یعنی دوسری کی اجازت نہیں ہے۔ اس کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے اسماعیل بن موسیٰ فزاری سے۔

أَبِيهِ ← أَبي بُرَيْدَةَ ← أبي ربيعة اليادي ← شَرِيکٍ ← إسماعيل بن موسى ابن ابنه السدي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Hadith 5420

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5421

5422 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانىء ثنا محمد بن نصر ثنا أبو نعيم و أبو غسان ثنا شريك : فذكره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو محمد بن نصر نے ان کو ابو نعیم نے ان کو ابو غسان نے ان کو شریک نے اس نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔

شَرِيكً، فَذَكَرَهُ ← أبو نعيم و أبو غسان ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Hadith 5421

chevron_left Previous
1…456…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood