Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5316

5316 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا عثمان بن محمد بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي وائل عن عمرو بن شرحبيل قال : قال عبد الله بن مسعود : قال رجل : يا رسول الله أي الذنب أكبر عند الله قال : أن تدعو له ندا و هو خلقك ثم قال : أي قال : أن تقتل ولدك مخافة أن يطعم معك قال : أن تزاني بحليلة جارك فأنزل الله تصديقها : { والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثام } رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفہ میں ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو عرزہ نے ان کو عثمان بن محمد بن ابو شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے ان کو عمرو بن شرحبیل نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اس کے ساتھ شریک کو پکارو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ پھر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ تو اپنا بیٹا اس خوف سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔فرمایا کہ یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے اس کی تصدیق اللہ نے اپنی کتاب میں اتاری ہے۔ والذين لا يدعون مع اللّٰه الهاً اخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللّٰه الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذالك يلق اثاما۔ (رحمٰن کے بندے) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسرے اللہ کو نہیں پکارتے اور اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہیں بدکاری کرتے اور جو شخص یہ کام کرے وہ کئی گناہوں کو پائے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اور مسلم نے صحیح میں عثمان بن ابو شیبہ سے۔

رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ

Hadith 5316

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5317

5317 - و قد مضى حديث أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سئل عن الكبائر فقال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و قول الزور

تحقیق گذر چکی ہے حدیث انس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ان سے پوچھا گیا کبیرہ گناہوں کے متعلق آپ نے فرمایا۔ کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ کسی کوقتل کرنا ۔ اور جھوٹی بات کرنا۔

الْکَبَائِرُ ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه سئل ← و قد مضى حديث أنس

Hadith 5317

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5318

5318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن بكر المروزي ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله قالوها منعوا مني دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑتا رہوں حتیٰ کہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جب یہ کلمہ پڑھ لیں انہوں نے مجھ سے اپنے خون بچا لئے اپنے مال بچا لئے۔ باقی ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا صحیح میں اعمش کی حدیث سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5318

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5319

5319 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن بكر المروزي ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي ظبيان عن أسامة بن زيد قال : بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الحرقات فنذروا بها فهزموا فأدركنا رجلا منهم فقال : أشهد أن لا إله إلا الله فضربته بالسيف حتى قتلته فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من لك بلا إله إلا الله قال : قلت : يا رسول الله إنما قالها تعوذا من القتل قال : من لك بلا إله إلا الله يوم القيامة فما زال يقولها حتى وددت إني كنت أسلمت يومئذ أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش و قال في حديث خالد الأحمر عن الأعمش : أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم قالها أم لا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو ظبیان نے ان کو اسامہ بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا حرقات کی طرف۔ ہم لوگ وہاں اترے وہ شکست کھا گئے ہم نے ان میں سے ایک آدمی کو پکڑ لیا مگر اس نے جلدی سے کلمہ شہادت پڑھ لیا مگر میں نے اس کو تلوار مار کر قتل کر دیا جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ہم نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا تیری کون حفاظت کرے گا اور تجھے کون بچائے گا لا الٰہ الا اللّٰہ سے میں نے کہا یا رسول اللہ اس نے تو صرف قتل سے بچنے کے لئے ایسا کیا تھا۔ حضور نے پھر فرمایا۔ تجھے کون بچائے گا۔ لا الٰــــه الا اللّٰہ سے قیامت کے دن۔ آپ بڑی دیر تک یہی فرماتے رہے حتیٰ کہ مجھے خیال آیا کاش کہ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔ (اور میرے ذمہ کوئی گناہ نہ ہوتا۔) اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں اعمش کی حدیث سے اور کہا ہے خالد احمر کی حدیث میں اعمش سے۔ کیا تم نے چیر کر نہیں دیکھا۔ اس کے دل کو حتیٰ کہ تو جان لیتا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5319

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5320

5320 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو الفضل العباس بن محمد حاتم بن واقد الدوري ثنا يزيد بن هارون أنا عاصم بن محمد العمري ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي و أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العدل ثنا أبو بكر عمر بن حفص السدوسي ثنا عاصم بن علي ثنا عاصم بن محمد العمري عن واقد قال : سمعت أبي و هو يقول : قال : عبد الله هو ابن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع : إلا أي شهر تعلمونه أعظم حرمة قالوا ألا شهرنا هذا إلا أي بلد تعلمون أعظم حرمة قالوا ألا بلدنا هذا قال : ألا أي يوم تعلمونه أعظم حرمة قالوا إلا يومنا هذا قال : فإن الله عز و جل قد حرم عليكم أموالكم و أعراضكم غلا بحقها كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا ألا هل بلغت ثلاثا كل ذلك يجيبونه ألا نعم قال : ويحكم أو ويلكم لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض رواه في الصحيح عن محمد بن عبد الله عن عاصم بن علي على لفظ حديث عاصم و حديث يزيد مثله غير أنه لم يقل إلا في قولهم شهرنا و بلدنا و يومنا و قال : فأجابوه نعم و قال : قد حرم دماءكم و أموالكم إلا بحقها و عن محمد بن المثنى عن يزيد بن هارون و لم يقل إلا بحقها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو الفضل عباس بن محمد حاتم بن واقد دوری نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عاصم بن محمد عمری نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نے اور ابو سعید عمرو بن محمد بن منصور عدل نے ان کو ابو بکر عمر بن حفص سدوسی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو عاصم بن محمد عمری نے ان کو واقد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے اور وہ کہتے تھے کہ کہا عبداللہ بن عمر نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خبردار تم لوگ کون سے مہینے کو بڑی حرمت والا جانتے ہو۔ بالکل ہمارا یہی مہینہ ہے (یعنی ذوالحجہ) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ ہوشیار ہو جاؤ تم لوگ کون سے شہر کی حرمت زیادہ سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ یہی شہر مکہ ہے۔ پھر حضور نے فرمایا کہ خبردار کون سا دن ہے جسے تم جانتے ہو سب سے بڑی حرمت والا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ۔ خبردار ہمارا یہی حج کا دن تو ہے۔ پھر آپ نے فرمایا بے شک اللہ عز وجل نے تحقیق حرام کر دی ہیں تمہارے اوپر تمہارے مال تمہاری عزتیں مگر اس کے حق کے ساتھ جیسے تمہارا یہ دن محترم ہے جیسے یہ شہر محترم ہے جیسے یہ مہینہ محترم ہے خبردار کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ تین بار فرمایا۔ اور ہر بار سب لوگ یہی جواب دیتے رہے خبردار ہاں آپ نے پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا۔ ویح ہے تمہاری یا فرمایا ویل ہے تمہاری میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ بعض تمہارا بعض کی گردنیں مارتا پھرے۔ اس کو روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن عبداللہ نے عاصم بن علی سے حدیث عاصم کے الفاظ پر۔ اور حدیث یزید اس کی مثل ہے۔صرف یہی فرق ہے کہ اس میں نہیں کہا۔ مگر ان کے قول میں۔ ہمارا مہینہ۔ ہمارا شہر ہمارا دن اور راوی نے کہا ہے کہ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا۔ کہ جی ہاں (آپ نے پہنچا دیا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق حرام کر دیئے گئے ہیں تمہارے خون تمہارے مال مگر ان کے حق کے ساتھ۔ اور محمد بن مثنی سے مروی ہے اس نے یزید بن ہارون سے مگر اس نے الابحقہا مگر اس کے حق کے ساتھ۔ کے الفاظ نہیں کہے۔

Hadith 5320

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5321

5321 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن جعفر بن محمد بن علي العلوي و عبد الواحد بن محمد بن إسحاق المقري بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي ثنا قبيصة بن عقبة عن سفيان الثوري عن زبيد عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قتال المؤمن كفر و سبابه فسوق أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الثوري و أخرجاه من أوجه عن زبيد

ہمیں خبر دی ابوالقاسم زید بن جعفر بن محمد بن علوی نے اور عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق مقری نے کوفے میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم ان کو ابراہیم بن اسحٰق قاضی نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان ثوری ان کو زبید نے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا کہ مؤمن کے ساتھ لڑائی کرنا کفر ہے اور اس کو گالی دینا گناہ اور نافرمانی ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث ثوری سے اور بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے کئی طریقوں سے زبیر سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ

Hadith 5321

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5322

5322 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا همام ثنا محمد بن جحادة عن عبد الرحمن بن ثروان عن الهذيل عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اكسروا بها قسيكم ـ يعني في الفتنة ـ و اقطعوا أوتاركم و الزموا أجواف البيوت و كونوا فيها كالخير من بني آدم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو ھمام نے ان کو محمد بن عبادہ نے ان کو عبدالرحمٰن نے ان کوثر وان نے ان کو ھذیل نے ان کو ابو موسیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ تم اس میں اپنی کمانیں توڑ دینا یعنی فتنے میں۔اور اپنی کمانوں کی ڈریاں کاٹ ڈالنا۔ اور تم لوگ اپنے گھروں کے اندر بیٹھ جانے کو لازم کر لینا اور تم اس زمانے میں بنی آدم کے بہتر لوگوں کی طرح بن جانا۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← الْهُذَيْلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5322

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5323

5323 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا جعفر بن عفان ثنا همام ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن عمرو : أن ابن آدم الذي قتل أخاه تقاسم أهل النار نصف عذاب جهنم قسمه صحاحا موقوف

اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے کو جعفر بن عفان نے ان کو ہمام نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے یہ کہ ابن آدم جو اپنے بھائی کو قتل کرے وہ اہل جہنم کے عذاب کو تقسیم کر لیتا ہے آدھا عذاب جہنم کا پوری پوری تقسیم۔ یہ روایت موقوف ہے۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← هَمَّامٌ، ← جعفر بن عفان ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5323

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5324

5324 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم أنا عباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي يحدث قال : من قتل مظلوما كفر الله عنه كل ذنب و ذلك في القرآن { إني أريد أن تبوء بإثمي وإثمك }

ہمیں خبر دی ابو عبیداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ان کو خبر دی ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اوزاعی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ فرمایا جو شخص ظلم سے قتل ہو جائے اللہ تعالیٰ اس سے ہر گناہ مٹا دیں گے اور یہ بات قرآن میں موجود ہے۔ إنی ارید ان تبوء باثمی واثمک۔ میں ارادہ کرتا ہوں کہ تو رجوع کرے میرے گناہ اور اپنے گناہ کے ساتھ۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5324

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5325

5325 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عوف ثنا عبيد الله بن موسى ( ح ) و أخبر أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماني الكوفي ثنا أحمد بن حازم ثنا عبيد الله بن موسى و الأعمش عن شقيق بن سلمة عن عبد الله بن مسعود قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : أول ما يقضى بين الناس في الدماء يعني يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن عبيد الله بن موسى و أخرجه مسلم من حديث شعبة عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عوف نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ’’ح“ اور خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوالحسین بن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق بن سلمہ نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پہلی چیز جس کا لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوگا قیامت کے دن وہ خون کے بارے میں ہوگا۔ (یعنی قصاصوں کے بارے میں ہوگا ۔) اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن موسیٰ سے۔ اور اس کو نقل کیا ہے مسلم نے حدیث شعبہ سے اس نے اعمش سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عبيد الله بن موسى و الأعمش ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أبو الحسين بن ماني الكوفي ← و أخبر أبو الحسين بن الفضل القطان ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5325

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5326

5326 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا وكيع ثنا الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء قال أبو وائل : قال عمرو بن شرحبيل : أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء يجيء الرجل آخذا بيد الرجل فيقول يا رب هذا قتلني فيقول : فيم قتله قال : فذكر الحديث

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابو واثل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت میں لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ ہوگا وہ خون ہوں گے۔ ابو وائل نے کہا کہ عمرو بن شرحبیل نے کہا کہ پہلی چیز جس کا لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ ہوگا وہ خون ہوں گے۔ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑ کر لے آئے گا اور کہے گا اے میرے رب اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کسی چیز کے بارے میں اس کو تم نے قتل کیا تھا۔ اس نے کہا پھر ذکر کیا حدیث کو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 5326

شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5327

5327 - قال : الأعمش قال : إبراهيم قال عبد الله : لا يزال الرجل في فسحة من دينه ما نقيت كفه من الدم فإذا غمس يده في الدم الحرام نزع حياءه هكذا رواه وكيع و رواه عبد الواحد بن زياد عن الأعمش مدرجا في الإسناد الأول دون رواية إبراهيم لم يذكر فيه عمرو بن شرحبيل و رواه التيمي عن الأعمش موصولا مسندا كما

اعمش نے کہا۔ کہا ابراہیم نے کہا عبداللہ نے۔ کہ ہمیشہ رہتا ہے آدمی کشادگی میں اپنے دین میں سے جب تک اس کا ہاتھ صاف ہے خون سے جب وہ اپنے ہاتھ کو حرام اور ناحق خون میں ڈبو لیتا ہے اس کا حیا چھین لیا جاتا ہے۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو وکیع نے اور اس کو روایت کیا ہے عبدالصمد بن زید نے ان کو اعمش نے۔اسناد اول میں درج کرتے ہوئے۔سوائے روایت ابراہیم کے اور اس میں عمر بن شرحبیل کا ذکر نہیں ہے۔ اور تیمی نے اس کو روایت کیا اعمش سے بطور موصول روایت کے بطور مسند روایت کے۔

Hadith 5327

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood