Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5300

5300 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو بكر الحميدي ثنا سفيان قال : قال مسعر : جاء مجمع بشاة إلى السوق يبيعها قال : يخيل لي أن في لبنها ملوحة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو بکر حمیدی نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ کیا مسعر نے کہ مجمع ایک بکری بازار میں فروخت کرنے کے لئے لے کر آیا اور بتا دیا کہ میرا خیال ہے کہ اس کے دودھ میں ملوحت ہے تھوڑی نمکینی یعنی کھارا پن ہے۔

يخيل لي أن في لبنها ملوحة ← مسعر جاء مجمع بشاة إلى السوق يبيعها ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 5300

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5301

5301 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الحناط يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الخير في التاجر ترك الذم إذا اشترى والمدح إذا باع خوفا من الكذب وبذل النصيحة للمسلمين حذرا من الخيانة والوفاء في الوزن إشفاقا من التطفيف وثلاثة من أعلام الخير في المكاسب حفظ اللسان وصدق الوعد وأحكام العمل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعثمان حناط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے کہ تاجر کے اندر خیر کی تین علامات ہیں۔ خرید کرتے وقت چیز کی برائی اور عیب نہ نکالے۔ اور بیچتے وقت چیز کی تعریف نہ کرے اس خوف سے کہیں جھوٹ نہ بن جائے اور مسلمانوں کی خیر خواہی کو پیش نظر رکھے اس خوف سے خیانت کا ارتکاب نہ ہو جائے اور وزن پورا تول کر دے اس خوف سے کہ کہیں ویل للمطففین کا مصدق نہ ہو جاؤں۔ اور کسب و کمائی میں خیر کی نشانیاں بھی تین ہیں زبان کی حفاظت کرنا۔ وعدے کو سچا کرنا۔ عمل کو محکم کرنا۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5301

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5302

5302 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد عن شعيب بن الحبحاب قال : أول ما جرى بيني و بين أبي العالية أنه جاء إلى السوق يطلب ثوبا فأتاني فأخرجت له ثوبا صالحا و أخذت الدراهم فذهب فأراه فقالوا : هذا خير من دراهمك قال : فجاء فقال : رد علينا دراهمنا بارك الله فيك فرددت عليه الدراهم و أخذت الثوب

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد نے ان کو شعیب بن حجاب نے پہلی بات چیت جو میرے اور ابوالعالیہ کے درمیان ہوئی وہ اسی طرح تھی کہ وہ بازار میں کپڑا خریدنے کے لئے آئے اور میرے پاس پہنچ گئے میں نے ان کے لئے اچھا کپڑا نکال کر پیش کیا اور میں نے اس کی قیمت لے لی اور وہ چلے گئے۔ میرا خیال ہے کہ کسی نے ان کو یہ کہہ دیا کہ یہ کپڑا آپ کے اتنے اتنے دراہم سے زیادہ قیمتی ہے۔ پس پھر وہ واپس آگئے کہنے لگے کہ ہمارے دراہم واپس کر دیجئے اللہ تعالیٰ تیرے کاروبار میں برکت دے چنانچہ میں نے دراہم واپس کر دیئے۔ اور اپنا کپڑا واپس لے لیا۔

أول ما جرى بيني و بين أبي العالية ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 5302

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5303

5303 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا محمد بن أبي أسامة الحلبي ثنا ضمرة عن بشير بن صالح قال : دخل ابن محيريز حانوتا بدانق و هو يريد أن يشتري ثوبا فقال رجل لصاحب الحانوت : هذا ابن محيريز فأحسن بيعه فغضب ابن محيريز و خرج و قال : إنا نشتري بأموالنا و لسنا نشتري بديننا

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن ابواسامہ حلبی نے ان کو ضمرہ نے ان کو بشیر بن صالح نے کہ حضرت ابن محیریز ایک پیسہ لے کسی دوکان میں داخل ہوئے وہ کپڑا خرید کرنا چاہتے تھے۔ کسی نے دوکاندار کو بتا دیا کہ یہ صاحب ابن محیریز ہیں اس نے بیع صحیح کی مگر ابن محیریز ناراض ہو کر دوکان سے نکل گئے اور کہنے لگے کہ ہم اپنے مالوں کے ساتھ خریداری کرتے ہیں۔ ہم اپنے دین کے بدلے میں خریداری نہیں کرتے۔

دخل ابن محيريز حانوتا بدانق و هو يريد أن يشتري ثوبا ← بشير بن صالح ← ضَمْرَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← و،

Hadith 5303

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5304

5304 - و بإسناده قال : ثنا محمد بن أبي أسامة ثنا مبشر عن سلم بن العلاء قال : رأيت ابن محيريز واقفا بدانق فسمع رجلا يساوم و هو يقول : لا و الله و بلى و الله فقال : يا هذا لا يكونن الله أهون بضاعتك عليك

اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابواسامہ نے ان کو مبشر نے ان کو سلم بن علاء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ابن محیریز ایک پیسہ لے کر کھڑے ہیں انہوں نے سنا کہ ایک آدمی کسی چیز کی قیمت بتا رہا ہے اور یوں کہہ رہا ہے، نہیں اللہ کی قسم۔ ہاں اللہ کی قسم۔ ابن محیریز نے کہا کہ اے کمبخت آدمی تیرے نزدیک اللہ تعالیٰ تیرے سامان سے بھی زیادہ ہلکا ہے۔

يا هذا لا يكونن الله أهون بضاعتك عليك ← لا و الله و بلى و الله ← رجلا يساوم و هو ← رأيت ابن محيريز واقفا بدانق ← سلم بن العلاء ← مبشر ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ← و بإسناده

Hadith 5304

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5305

5305 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزاز ثنا يحيى بن الربيع المكي ثنا سفيان عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر برجل يبيع طعاما فقال : كيف تبيع فأخبره فأوحي إليه أن أدخل يدك فيه فأدخل فإذا هو مبلول فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من غشنا

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہہ نے ان کو ابوحامد بن بلال بیزار نے ان کو یحییٰ بن ربیع حکمی نے ان کو سفیان نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو غلہ بیچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیسے بیچ رہے ہو اس نے آپ کو بتا دیا اتنے میں آپ کے پاس وحی آ گئی کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈالئے آپ نے داخل کیا دیکھا تو ہاتھ تر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ وہ شخص ہم میں نہیں ہے جو ہم سے دھوکہ اور کھوٹ کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 5305

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5306

5306 - أخبرنا أبو طاهر أنا أبو حامد ثنا يحيى ثنا سفيان عن أبي حيان عن أبي هريرة : مر النبي صلى الله عليه و سلم برجل يبيع طعاما فقال : أوحى إلى جبريل عليه السلام أن أدخل يدك فيه فقال : ما أراك إلا جمعت خيانة في دينك و غشا للمسلمين

ہمیں خبر دی ابوطاہر نے ان کو ابوحامد نے ان کو یحییٰ نے ان کو سفیان نے ان کو ابوحیان نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے قریب سے گذرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے پوچھا کہ تم کیسے بیچ رہے ہو۔ اتنے میں جبرائیل نے مجھے وحی کی کہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال کر دیکھئے آپ نے فرمایا کہ میں آپ کو نہیں دیکھ رہا مگر یہ کہ تیرے دین میں خیانت اور مسلمانوں کیلئے کھوٹ جمع ہو گئے ہیں۔

أوحى إلى جبريل أن أدخل يدك فيه ← أبي هريرة مر النبي صلى الله عليه و سلم برجل يبيع طعاما ← أَبِي حَيَّانَ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو حَامِدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 5306

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5307

5307 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن بكر ثنا عبد الأعلى بن حماد ثنا حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم و حميد عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم : أن رجلا كان يبيع الخمر في سفينة له و معه قرد في السفينة و كان يشرب الخمر بالماء فأخذ القرد الكيس فصعد الذروة و فتح الكيس فجعل يأخذ دينارا و يلقيه في السفينة و دينارا في البحر حتى جعله نصفين

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن بکیر نے ان کو عبدالاعلیٰ بن حماد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حمید نے حسن سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ایک آدمی اپنی کشتی میں شراب فروخت کرتا تھا اس کے پاس کشتی میں ایک بندر بھی تھا اور وہ شراب پانی کے ساتھ ملا کر پلاتا تھا۔ اس بندر نے ایک دن رقم کی تھیلی اٹھائی اور کشتی کے بادبان پر چڑھ بیٹھا اور تھیلی کھول لی اور ایک دینار کشتی میں اور ایک دینار دریا میں پھینکنے لگا یہاں تک کہ اس نے اس کو ادھا ادھا کر دیا۔

الْحَسَنِ، ← النبي صلى الله عليه و سلم و حميد ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← إسماعيل بن بكر ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 5307

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5308

5308 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي ثنا الحسين بن عبد الله القطان ثنا عامر بن سيار ثنا سليمان بن أرقم عن الحسن عن أبي هريرة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تشوبوا اللبن للبيع ثم ذكر حديث المحفلة ثم قال موصولا بالحديث : ألا و إن رجلا من قبلكم جلب خمرا إلى قرية فشابها بالماء فأضعف أضعافا فاشترى قردا فركب البحر حتى إذا لحج فيه ألهم الله القرد صرة الدنانير فأخذها فصعد الدقل ففتح الصرة و صاحبها ينظر إليه فأخذ دينارا فرمى به في البحر و دينارا في السفينة حتى قسمها نصفين قال الشيخ أحمد رحمه الله : سليمان بن أرقم ضعيف

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو حسن بن عبداللہ قطان نے ان کو عامر بن سیار نے ان کو سلیمان بن ارقم نے ان کو حسن نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بیچنے کے لئے دودھ میں پانی نہ ملایا کرو۔ اس کے بعد آپ نے حدیث محفلہ ذکر کی اس کے حدیث کے ساتھ متصل یہ فرمایا خبردار تم سے پہلے لوگوں میں ایک بستی میں شراب بیچنے کے لئے لے کر گیا اور اس نے اس میں پانی ملا دیا۔لہذا شراب کئی گنا زیادہ ہوگئی۔ اس نے ایک بندر خرید کیا وہ بھی دریا میں ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا جب وہ دریا کی موجود میں پہنچا تو اللہ نے اس بندر کے دل میں یہ بات ڈال دی اس نے دراہم و دینار کی بھری ہوئی تھیلی یا ہمسیانی اٹھا لی اور وہ کشتی کے بادبان پر چڑھ گیا اور اس نے ہمیانی کھول لی مالک اس کو دیکھتا رہ گیا وہ ایک دینار اٹھائے اور دریا میں پھینک دے دوسرا اٹھائے اور کشتی میں یہاں تک کہ اس نے برابر آدھا آدھا کر دیا۔ شیخ احمد نے کہا کہ سلیمان بن ارقم ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ← عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 5308

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5309

5309 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد الغضائري ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن ملاعب بن حبان ثنا صالح بن إسحاق ثنا يحيى بن كثير الكاهلي قال صالح و كان ثقة و كان لا بأس به ثنا هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجلا كان فيمن قبلكم حمل خمرا ثم جعل في كل زق نصفا ماء ثم باعه فلما جمع الثمن جاء ثعلب فأخذ الكيس و صعد الدقل فجعل يأخذ دينارا فيرمي به في السفينة و يأخذ دينارا فيرمي به في الماء حتى فرغ ما في الكيس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حسین بن حسن بن محمد غضائری نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ملاعب بن حبان نے ان کو صالح بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن کثیر کاہلی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا صالح نے اور وہ ثقہ آدمی تھا۔ اور اس کے بارے میں کوئی حرج نہیں تھا۔(یعنی اس کی روایت لینے کے لئے) ان کو حدیث بیان کی ہشام نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا وہ شراب بیچتا تھا مگر وہ ہر مشک میں اس کا آدھا پانی ملا دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ اس کو بیچتا تھا جب اس نے رقم جمع کر لی تو ایک لومڑی آئی اس نے رقم کی تھیلی اٹھائی اور بادبان پر چڑھ گئی اور ایک دینار کشتی میں ڈالنا شروع کیا اور دوسرا دریا میں حتیٰ اس نے تھیلی خالی کر دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← صالح و كان ثقة و كان لا بأس به ← یَحْیَی بْنُ کثیر الکاھلی ← صالح بن إسحاق ← أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَبَّانَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد الغضائري

Hadith 5309

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5310

5310 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا ابن وهب أخبرني الليث و غيره عن عبد الله بن أبي جعفر أن صفوان بن سليم أخبره : أن أبا هريرة مر بإنسان يحمل لبنا قد خلطه بالماء يبيعه فقال له أبو هريرة كيف لك إذا قيل لك يوم القيامة خلص الماء من اللبن

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی لیث وغیرہ نے عبداللہ بن ابو جعفر سے کہ ان کو خبر دی ہے صفوان بن سلیم نے اس نے خبر دی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ایک آدمی کے پاس گذرے جس نے فروخت کرنے کے لئے دودھ اٹھا رکھا تھا اس میں اس نے پانی ملا رکھا تھا حضرت ابو ہریرہ نے اس سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہوگا جب قیامت کے دن تجھے کہا جائے گا کہ پانی کو دودھ سے علیٰحدہ کر۔

أن أبا هريرة مر بإنسان يحمل لبنا قد خلطه بالماء يبيعه ← عبد الله بن أبي جعفر أن صفوان بن سليم ← الليث و غيره ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 5310

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5311

5311 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر أنا الحسين بن يحيى بن عياش القطان ثنا أبو الأشعث ثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن هشام بن حسان عن واصل عن عمرو بن هرم عن عبد الحميد بن محمود و قال : كنت عند ابن عباس فأتاه رجل فقال أقبلنا حجاجا حتى إذا كنا بالصفاح توفي صاحب لنا فحفرنا له فإذا أسود قد أخذ اللحد ثم حفرنا قبرا آخر فإذا أسود قد أخذ اللحد كله قال : فتركنا و أتيناك نسألك ما تأمرنا قال : ذاك عمله الذي كان يعمل اذهبوا فادفنوه في بعضها و الله لو حفرتكم له الأرض كلها لوجدتم ذلك قال : فألقيناه في قبر قال فلما قضينا سفرنا أتينا امرأته فسألناها عنه فقالت : كان رجلا يبيع الطعام فيأخذ قوت أهله كل يوم ثم ينظر مثله من قصب الشعير فيقطعه فيخلطه في طعامهم و كان يأكل ما كان يأخذ

ہمیں خبر دی ابو الفتح بلال بن محمد بن جعفر نے ان کو حسن بن یحییٰ بن عیاش قطان ان کو ابو الاشعث نے ان کو عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو واصل نے ان کو عمرو بن ہرم نے ان کو عبدالحمید بن محمود نے اور وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس کے پاس تھا اتنے میں ان کے پاس ایک آدمی آ گیا ہم لوگ حج کرنے آئے ہیں حتیٰ کہ جب ہم مقام صفاح پر پہنچے ہیں تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم نے اس کے لئے قبر کھودی ہے جیسے کھود کر مکمل کی تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا اژدھا کالا ناگ قبر میں بیٹھا ہے جس نے اس کی قبر کو بھر رکھا ہے۔ پھر ہم نے دوسری قبر کھودی ہے پھر کیا دیکھتے ہیں پھر کالے ناگ نے اس کی لحد کو بھر رکھا ہے جس سے پوری لحد بھر چکی ہے ہم نے اس کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کے پاس پوچھنے کے لئے آئے ہیں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ اس کا عمل ہے جو وہ عمل کیا کرتا تھا۔ جاؤ اس کو اسی قبر کے بعض حصے میں دفن کر دو۔ اللہ کی قسم اگر تم لوگ اس کے لئے پوری زمین بھی کھود ڈالو گے تو تم یہی کچھ پاؤ گے۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ پھر ہم نے اس کو اسی قبر میں ڈال دیا۔ وہ کہتے ہیں جب ہم نے یہ سفر پورا کر دیا تو ہم لوگ اس کی بیوی کے پاس گئے ہم نے اس سے اس کے عمل کے بارے میں پوچھا تو اس نے ہمیں بتایا کہ یہ کھانے کا سامان بیچا کرتا تھا غلہ وغیرہ لہذا روزانہ وہ اپنے گھر والوں کے لئے ضرورت کی روزی پہلے نکال لیتا تھا۔ اس کے اتنی مقدار میں جتنی نکالتا جو کی بھوسی وغیرہ کاٹ کر ملا دیتا تھا لوگوں کے کھانے کے سامان میں اور خود اس میں سے کھاتا تھا جو پہلے نکال لیتا تھا۔

عبد الحميد بن محمود و ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ← وَاصِلٍ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر

Hadith 5311

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood