Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5288

5288 - رواه أبو علي الرحبي عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر التجار إنكم قد وليتم أمرا هلكت فيه الأمم السالفة المكيال و الميزان أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم و أحمد بن سلمان ثنا الحصن بن مكرم ثنا علي بن عاصم ثنا أبو علي الرحبي فذكره

اس کو روایت کیا ہے ابوعلی رحبی نے عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اے تاجروں کی جماعت تم ایک ایسی امر کی ذمہ داری لئے ہوئے ہو جس میں ایک پوری سابقہ امت ہلاک ہوگئی تھی وہ ہے ناپ تول۔ (اس میں کمی کرنا ہلاکت کا باعث ہوا تھا۔) اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے اور احمد بن سلیمان نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو ابوعلی رحبی نے پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← رواه أبو علي الرحبي

Hadith 5288

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5289

5289 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا الحسين بن محمد بن حاتم ثنا ابن حميد الرازي ثنا ابن المبارك عن عبد الوهاب بن الورد عن محارب عن ابن عمر قال : من تضييع الأمانة النظر في الدور و الحجر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو حسین بن محمد بن حاتم نے ان کو ابن حمید رازی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو عبدالوہاب بن ورد نے ان کو محارب نے انکو ابن عمر نے وہ فرماتے ہیں۔ کہ گھروں میں جھانکنا اور دیکھنا اور ممنوعہ علاقہ یا ممنوع چیز کو دیکھنے کی کوشش کرنا امانت کو ضائع کرنے کے قبیل سے ہے۔

من تضييع الأمانة النظر في الدور و الحجر ← ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبٍ ← عبد الوهاب بن الورد ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← ابن حميد الرازي ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 5289

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5290

5290 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي املاء أنا عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قالا ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما ثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اشترى رجل من رجل عقارا فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال للبائع ـ و في رواية الفقيه ـ فقال له الذي اشترى العقار خذ ذهبك مني أنا اشتريت منك الأرض و لم أتبع منك الذهب و قال الذي شرى الأرض إنما بعتك الأرض و ما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه : ألكما ولد فقال أحدهما : لي غلام و قال الآخر : لي جارية قال : فأنكحوا الغلام الجارية و أنفقوا على أنفسكم منه و تصدقوا رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق و رواه مسلم عن محمد بن رافع كلاهما عن عبد الرزاق و القصد من الحديث بيان أمانتهما و ترك ادعاء ما ليس لهما ثم في شريعتنا يرجع إلى من ملكت الدار عنه أبدا حتى يظهر مالكها

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے بطور املاء کے ان کو عبیداللہ بن ابراہیم بن بابویہ مزکی نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیر نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے دونوں نے کہا کہ ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ ہے جو ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خرید کی جس نے خریدی تھی اس کو اس زمین کے اندر سے سونے کا ایک مٹکا ملا چنانچہ اس نے فروخت کرنے والے کے پاس جا کر بتایا کہ تیری زمین کے اندر سے سونا ملا ہے آپ یہ اپنا سونا لے لیجئے مجھ سے اس لئے کہ میں نے آپ سے زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا تھا۔ جس نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا اللہ کے بندے میں نے تو تجھے زمین بیچ دی اب اس کے اندر جو کچھ تھا وہ تیرا ہے مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے (لہذ اجب دونوں اس سونے کو ایک دوسرے کا حق سمجھ کر نہیں لے رہے تھے) دونوں اس بات کا فیصلہ ایک عقل مند آدمی کے پاس لے کر گئے۔ (اس نے دونوں کی بات سننے کے بعد) پوچھا کہ تم دونوں کی اولاد ہے؟ ایک نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے دوسرے نے کہا کہ میری ایک بیٹی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ دونوں باہم رشتہ کر لو اور تم لوگ مل کر یا اپنے اوپر خرچ کر لو اور صدقہ بھی کرو۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے اسحاق سے اور اس کو روایت کیا مسلم نے محمد بن رافع سے دونوں نے عبدالرزاق سے اور حدیث سے مذکور سے مقصود ان دونوں شخصوں کی امانت داری کا بیان ہے۔ اور دونوں نے زبردستی اپنی طرف سے ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا کہ جو ان کی نہیں تھی۔ اس کے بعد ہماری شریعت میں رجوع ہوتا ہے اس کی طرف جو ہمیشہ سے دار اور گھر کا مالک ہوتا ہے ہمیشہ سے یہاں تک کہ اس کا مالک ظاہر ہو جائے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← عبيد الله بن إبراهيم بن بالويه المزكي، ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي إملاء

Hadith 5290

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5291

5291 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو أحمد الحافظ أنا أبو العباس الثقفي ثنا قتيبة قال : ثنا الخنيسي يعني محمد بن يزيد بن خنيس عن عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع قال : خرج ابن عمر في بعض نواحي المدينة و معه أصحاب له و وضعوا سفرة له فمر بهم راعي غنم قال : فسلم فقال ابن عمر هلم يا راعي هلم فأصب من هذه السفرة فقال له : إني صائم فقال ابن عمر أتصوم في مثل هذا اليوم الحار شديد سمومه و أنت في هذه الجبال ترعى هذا الغنم فقال له : اي و الله أبادر أيامي الخالية فقال له ابن عمر ـ و هو يريد يختبر ورعه ـ فهل لك أن تبيعنا شاة من غنمك هذه فنعطيك ثمنها و نعطيك من لحمها فتفطر عليه فقال : إنها ليست لي بغنم إنها غنم سيدي فقال له ابن عمر : فما عسى سيدك فاعلا إذا فقدها فقلت أكلها الذئب فولى الراعي عنه و هو رافع اصبعه إلى السماء و هو يقول : أين الله قال : فجعل ابن عمر يردد قول الراعي و هو يقول : قال الراعي فأين الله قال : فلما قدم المدينة بعث إلى مولاه فاشترى منه الغنم و الراعي فأعتق الراعي و وهب منه الغنم

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابواحمد حافظ نے ان کو ابوالعباس ثقفی نے ان کو قتیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی خنیسی نے یعنی محمد بن یزدی بن خنیس نے ان کو عبدالعزیز بن ابودواد نے ان کو نافع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ کسی کام سے مدینے کی نواحی بستیوں اور پہاڑوں میں نکل گئے تھے کھانے کا وقت ہوا تو ان کے احباب نے ان کے لئے دستر خوان بچھایا اتنے میں ایک چرواہا جو بکری چرا رہا تھا وہاں آگیا اس نے سلام کیا حضرت ابن عمر نے فرمایا آئیے آئیے چرواہے بھائی دستر خوان سے آپ بھی اپنا نصیب لے لیجئے چرواہے نے کہا کہ میرا روزہ ہے حضرت ابن عمر نے حیران ہو کر پوچھا کہ تم اس شدید گرمی کے دن اور اس شدید گرم لو میں روزہ رکھے ہوئے ہو جب کہ تم ان تپتے ہوئے پہاڑوں میں بکریاں بھی چرا رہے ہو۔ چرواہے نے کہا کہ جی ہاں میں سب کچھ اس لئے کر رہا ہوں کہ زندگی گذرے ہوئے ایام کی تلافی کر لوں۔ حضرت ابن عمر نے سوچا کہ یہ تو البتہ نیک دل انسان لگتا ہے اس کے تقویٰ کو آزمانا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے چرواہے سے کہا ہم گوشت کھانا چاہتے ہیں آپ ہمیں ایک بکری تو دے دیجئے ہم اس کی قیمت بھی آپ کو دیں گے اور اس کا گوشت بھی آپ کو دیں گے آپ ان سے بھی افطار کیجیے گا۔ چرواہے نے کہا کہ بکریاں تو میری نہیں ہیں یہ میرے مالک کی ہیں۔ حضرت ابن عمر نے بطور امتحان اس سے کہا کہ تیرا مالک تجھے کیا کہے گا؟ وہ کچھ بھی نہیں کہے گا آپ اس سے کہنا کہ ایک بکری بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ہے۔ چنانچہ چرواہے نے واپس لوٹتے ہوئے کہا آسمان کی طرف انگلی بھی اٹھا لی اور کہنے لگا اللہ کہاں جائے گا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر کو اس کا یہ جواب اتنا پسند آیا کہ خود بھی بار بار وہ چرواہے کا قول دہرانے لگے کہ اللہ کہاں جائے گا؟ جب مدینے میں واپس لوٹ کر آئے تو حضرت ابن عمر نے اس کے مالک کی طرف بندہ بھیج کر اس سے بکریاں بھی خرید لیں اور اس غلام چرواہے کو بھی خریدنے کے بعد انہوں نے چرواہے کو آزاد کر دیا اور بکریاں بھی اس کو بطور عطیہ دے دیں۔

نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← الخنيسي يعني محمد بن يزيد بن خنيس ← قُتَيْبَةُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 5291

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5292

5292 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا عبد الله بن غنام بن حفص بن غياث قال : وجدت في كتاب جدي حفص بن غياث عن مسعر قال : حدثني عبد الملك بن ميسرة عن رجل أراه أبا شعبة عن ابن فارس قال : أتيت أبا ذر فقال : يا ابن أخي مثلك من قومي و لا أعرفه قال : شغلتني التجارة قال : فإنا كنا نتحدث أن من نفر لا ينظر إليهم يوم القيامة تاجر فاجر و كنا نعد الفاجر الذي يحلي السلعة بما ليس فيها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے ان کو عبداللہ بن غنام بن حفص بن غیاث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حفص بن غیاث کی کتاب میں یہ روایت پائی تھی مسعر سے اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالملک بن میسرہ نے ایک آدمی سے جسے میں ابوشعبہ ہی سمجھتا ہوں اس نے ابن فارس سے اس نے کہا کہ میں آیا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس انہوں نے کہا اے بھتیجے تیرے جیسا بندہ میری قوم میں سے ہے اور میں ان کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا کہ مجھے تجارت نے مصروف کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ باتیں کیا کرتے تھے کہ کچھ لوگ ایسے ایسے بھی ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر شفقت سے نہیں دیکھے گا وہ گنہگار تاجر ہوگا۔ اور ہم لوگ اس کو گنگار شمار کرتے تھے جو اپنے سامان تجارت کو ملمع کرتا ہے آراستہ کرتا ہے اس خوبی کے ساتھ جو اس میں نہیں ہے۔

شغلتني التجارة ← يا ابن أخي مثلك من قومي و لا أعرفه ← أتيت أبا ذر ← ابْنُ فَارِسٍ ← رجل أراه أبا شعبة ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← وجدت في كتاب جدي حفص بن غياث ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5292

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5293

5293 - أخبرنا أبو الحسين المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو موسى ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن منصور بن أبي الأسود عن الأعمش عن عبد الملك بن ميسرة عن أبي شعبة عن ابن فارس الأبلق قال : لقيت أبا ذر فقال : ممن أنت قلت من بني غفار قال : رجل من قومي مثلك لا أعرفه قلت : إنه شغلتني التجارة فقال : لك عنه غنى ؟ قلت : نعم قال : دعها فإنا كنا نتحدث أن التاجر فاجر و ذلك أنه يزين سلعته بما ليس فيها ابن فارس هذا هو عبد الرحمن بن فارس أبو فارس الأبلق

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوموسیٰ نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو منصور بن ابوالاسود نے ان کو اعمش نے ان کو عبدالملک بن میسرہ نے ان کو ابوشعبہ نے ان کو ابن فارس ابلق نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کس قبیلے سے ہو میں نے کہا کہ بنو غفار سے انہوں نے کہا کہ دیکھئے تیرے جیسا جوان میرے قبیلہ کا ہے مگر میں اس کو نہیں پہچانتا۔ (یعنی حیرانی کی بات ہے کہ تم میرے قبیلے کے ہو اور میں تمہیں نہیں پہچانتا۔) میں نے کہا کہ میں دراصل تجارت میں مصروف رہتا ہوں۔ فرمایا کیا آپ اس کو ترک کر سکتے ہیں چھوڑ سکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں۔ فرمایا کہ چھوڑ دو تم تجارت کو بے شک ہم لوگ آپس میں (صحابہ کرام) باتیں کرتے تھے کہ تاجر فاجر ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ وہ اپنے سامان کو اس طرح مزین کر کے دکھاتا ہے جیسے مال ہوتا نہیں ہے۔ ابن فارس یہی وہ عبدالرحمٰن بن فارس ابوفارس ابلق ہے۔

دَعْهَا. ← لك عنه غنى قلت نعم ← رجل من قومي مثلك لا أعرفه قلت إنه شغلتني التجارة ← ممن أنت قلت من بني غفار ← لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ← ابن فارس الأبلق ← أَبِي شُعْبَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين المقري

Hadith 5293

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5294

5294 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصفهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال : قال عمرو بن زرارة عن القاسم عن عبد الجبار يعني ابن المغيرة عن أم كثير قالت : سمعت عليا في النفح في الشاة أيزيد في الوزن أو ينقص قيل : لا قال رجل يزين سلعته قال البخاري : لا يتابع عليه قال الشيخ رضي الله عنه : حديث أبي ذر أصح من هذا هذا الإسناد فيه مجهولون

ہمیں خبر دی ابوبکر فارسی نے ان کو ابواسحاق اصفہانی نے ان کو ابواحمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے انہوں نے کہا کہ عمرو بن زرارہ نے کہا تھا کہ قاسم سے مروی ہے اس نے عبدالجبار سے یعنی ابن مغیرہ سے اس نے ام کثیر سے وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنا حضرت علی سے۔ بکری میں پھونک مارنے یا ہوا داخل کرنے کے بارے میں کہ کیا اس سے وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ یا نہیں بلکہ کمی ہوتی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں ہوتی؟ ایک آدمی نے کہا ہے کہ تاجر اپنے سامان کو مزین کرتا ہے۔ امام بخاری نے کہا ہے کہ اس حدیث کی متابع موجود نہیں ہے۔ شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت ابوذر کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ یہ ایسی اسناد ہے کہ جس میں کئی مجہول راوی ہیں۔

الشيخ حديث أبي ذر أصح من هذا هذا الإسناد فيه مجهولون ← البخاري لا يتابع عليه ← رجل يزين سلعته ← عليا في النفح في الشاة أيزيد في الوزن أو ينقص قيل لا ← أم كثير ← عبد الجبار يعني ابن المغيرة ← الْقَاسِمِ، ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أبو إسحاق الأصفهاني ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Hadith 5294

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5295

5295 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري ثنا محمد بن الفرج الأزرق ثنا أبو النضر هاشم بن القاسم ثنا أبو جعفر الرازي عن يزيد بن أبي مالك ثنا أبو سباع قال : اشتريت ناقة من دار واثلة بن الأسقع فلما خرجت بها أدركني واثلة و هو يجر إزاره فقال : يا أبا عبد الله اشتريت قلت : نعم قال : بين لك ما فيها قلت : و ما فيها إنها لسمينة ظاهرة الصحة قال : أردت بها سفرا أو أردت بها لحما قلت : أردت بها الحج قال : فإن بخفها معيا فقال صاحبها ما أردت إلى هذا أصلحك الله تفسد علي قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يحل لأحد يبيع شيئا إلا بين فيه و لا يحل لمن علم ذلك إلا بينه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر اسماعیل بن محمد بن اسماعیل فقیہہ نے مقام رائے میں ان کو محمد بن فرج رزاق نے ان کو ابونضر ہاشم بن قاسم نے ان کو ابوجعفر رازی نے ان کو یزید بن ابومالک نے ان کو ابوسباع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دار واثلہ بن اسقع سے ایک اونٹنی خریدی تھی۔ جب میں وہ اونٹنی لے کر نکلا تو مجھے حضرت واثلہ ملے وہ اپنی چادر وقبہ بند گھسیٹتے ہوئے آ رہے تھے۔ وہ بولے اے ابوعبداللہ۔ آپ نے اونٹنی خرید لی ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں خرید لی ہے فرمایا کہ اس میں جو عیب یا کمی ہے وہ آپ کو بتا دی گئی ہے؟ میں نے کہا کہ اس میں کیا ہے موٹی تازی ہے ظاہری طور پر تو صحت مند ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ تم اس پر سوار ہو کر سفر کرنا چاہتے ہو یا اس کا گوشت چاہتے ہو۔ میں نے کہا کہ میں تو اس پر سوار ہو کر سفر حج کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے پیر میں سم کے نیچے زخم ہے۔اس کے مالک نے کہا میں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی اللہ تعالیٰ آپ کو نیکی دے آپ میری بات خراب کر رہے ہیں۔ حضرت واثلہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرما رہے تھے۔ کسی کے لئے یہ حلال نہیں ہے جو کوئی شئی فروخت کرے مگر اس میں جو کمی ہے اس کو واضح کر دے اور اس شخص کے لئے بھی حلال نہیں ہے جو اس عیب یا کمی کو جانتا مگر اس کو چاہئے کہ وہ اس کو بیان کر دے۔

أبو سباع ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ ← أبو جعفر الرازي ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5295

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5296

5296 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى ثنا أبو عمرو أحمد بن نصر رئيس نيسابور ثنا نصر بن علي الجهضمي ثنا زياد بن الربيع اليحمدي عن أبيه قال : رأيت محمد بن واسع يبيع حمارا له بسوق مرة فقال له رجل : يا أبا عبد الله أترضاه لي قال : لو رضيته لم أبعه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی خلف بن محمد کراسی نے بخاری میں ان کو ابوعمر احمد بن نصر رئیس نیساپوری نے ان کو نصر بن علی جھضمی نے ان کو زیاد بن ربیع یحمدی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ محمد بن واسع اپنا گدھا بیچ رہے تھے بازار میں ایک مرتبہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا کہ اے ابوعبداللہ کیا آپ اس کو میرے لئے پسند کریں گے فرمانے لگے اگر میں اس کو پسند کرتا تو میں نہ بیچتا۔

«لَوْ رَضِيتُهُ لَمْ أَبِعْهُ» ← له رجل يا أبا عبد الله أترضاه لي ← رأيت محمد بن واسع يبيع حمارا له بسوق مرة ← أَبِيهِ ← زياد بن الربيع اليحمدي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أبو عمرو أحمد بن نصر رئيس نيسابور ← خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5296

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5297

5297 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا غسان بن المفضل أبو معاوية الغلابي ثنا بشر بن المفضل قال : جاءت امرأة بمطرف خز إلى يونس بن عبيد فعرضت عليه فنظر إليه فقال لها : بكم قالت : بستين درهما قال : فألقاه إلى جار له فقال : كيف ترامى بعشرين و مائة قال : هو ثمنه أو نحوه فقال لها : انطلقي فاستأمري أهلك في بيعة بخمسة و عشرين و مائة قالت : قد أمروني أن أبيعه بستين درهما قال : انطلقي فاستأمريهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو غسان بن فضل نے ان کو ابومعاویہ غلابی نے ان کو بشر بن مفضل نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نقش و نگار والی ایک ریشمی چادر لے کر فروخت کرنے کے لئے یونس بن عبید کے پاس آئی دیکھنے کے لئے ان کو دی انہوں نے دیکھنے کے بعد اس سے کہا کہ کتنے میں بچو گی؟ اس نے کہا کہ ایک سو ساٹھ درہم کے بدلے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے وہ چادر اپنے ایک پڑوسی کی طرف پھینک کر فرمایا کہ آپ اس کو میرے لئے کتنے میں مناسب سمجھتے ہیں کہا ایک سو بیس میں صحیح ہے۔ اس نے کہا کہ یہی اس کی قیمت ہوگی یا اس کی مثل۔ یونس بن عبید نے اس عورت سے کہا کہ آپ چلی جائیں اور جا کر اپنے گھر والوں سے مشورہ کریں کہ ایک سو پچیس میں فروخت کرنی ہے؟ اس عورت نے کہا مجھے گھر والوں نے اجازت دی ہے اور کہا ہے ایک سو ساٹھ درہم کے بدلے میں۔ انہوں نے فرمایا پھر بھی جا کر ان سے مشورہ کر لیں۔

انطلقي فاستأمريهم ← قد أمروني أن أبيعه بستين درهما ← لها انطلقي فاستأمري أهلك في بيعة بخمسة و عشرين و مائة ← هو ثمنه أو نحوه ← كيف ترامى بعشرين و مائة ← فألقاه إلى جار له ← بستين درهما ← لها بكم ← جاءت امرأة بمطرف خز إلى يونس بن عبيد فعرضت عليه فنظر إليه ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← غسان بن المفضل أبو معاوية الغلابي ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5297

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5298

5298 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان أظنه عن أبي بشر ثنا ربيع الخزاز قال : جاءت امرأة شوذب بثوب خز فألقته على يونس فقالت : اشتر هذا قال : بكم قالت : بمائة قال ثوبك خير من ذلك : قالت : بمائتين قال : ثوبك خير من ذلك قالت : بثلاثمائة قال : ثوبك خير من ذلك قالت : بأربع مائة قال أبو بشر : فأنا أشك حتى بلغ أربع مائة أو خمس مائة قال : هذا عندنا إن اشتراه رجل فوضعه عنده حتى جاء طالب ربح فيه فأخذه قالت : خذه قال فلما ذهبت أقبل عليه أصحابه قالوا : يا أبا عبد الله ما كان عليك لو أخذته بمائة قال : لا شيء إلا أني ظننت أنها مغرورة فأحببت أن أنصحها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے انکو یعقوب بن سفیان نے میرا گمان ہے کہ ابوبشر سے اس نے ربیع خزاز سے وہ کہتے ہیں کہ شوذب کی بیوی ایک ریشمی کپڑا لے کر آئی اور اس کو یونس کے آگے پھینک کر کہنے لگی آپ اس کو خرید لیجئے اس نے پوچھا کہ کتنے ہیں؟ وہ بولی ایک سو میں۔ وہ کہنے لگے کہ آپ کا کپڑا اس سے بہتر ہے وہ بولی کہ دو سو میں۔ پھر انہوں نے کہا کہ تیرا کپڑا اس سے بھی بہتر ہے۔ بولی کہ اچھا تین سو میں وہ بولے تیرا کپڑا اس سے بھی قیمتی ہے۔ وہ کہنے لگی کہ پھر چار سو میں۔ ابوبشر کہتے ہیں کہ مجھے شک ہے کہ انہوں نے بات چار سو تک یا پانچ سو تک پہنچائی۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ کپڑا ہمارے پاس رکھا ہے۔ اگر کوئی خریدے گا تو۔(بیچ دیں گے۔) یہاں تک کہ ان کے پاس منافع کا طلب آئے اور اس کو لے جائے۔اس عورت نے ان سے کہا کہ آپ اس کو لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ عورت چلی گئی تو ان کے دوستوں نے کہا اے ابوعبداللہ اگر آپ اس کو ایک سو کے بدلے میں لے لیتے تو آپ کے اوپر کوئی گناہ تو نہیں تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی بات نہ ہوتی مگر میں نے یہ خیال کہ وہ فریب خوردہ ہے دھوکہ کھا رہی ہے لہذا میں نے یہ پسند کیا کہ میں اس کے ساتھ خیر خواہی کروں۔

هذا عندنا ← أشك حتى بلغ أربع مائة أو خمس مائة ← أَبُو بِشْرِ: ← بأربع مائة ← ثوبك خير من ذلك ← بثلاثمائة ← ثوبك خير من ذلك ← بمائتين ← ثوبك خير من ذلك ← بمائة ← بكم ← اشتر هذا ← جاءت امرأة شوذب بثوب خز فألقته على يونس ← ربيع الخزاز ← أَبِي بِشْرٍ، ← يعقوب بن سفيان أظنه ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و،

Hadith 5298

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5299

5299 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا عمران بن موسى ثنا محمد بن أبي خلف ثنا إسحاق بن منصور ثنا محمد بن طلحة عن محمد بن جحادة قال : كان زاذان يبيع الكرابيس و كان إذا جاءه الرجل أراه شر الطرفين وسامه سومة واحدة

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو عمران بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ابوخلف نے ان کو اسحٰق بن منصور نے ان کو محمد بن طلحہ نے ان کو محمد بن جحادہ نے کہ زازان سوتی کپڑے فروخت کرتے تھے جب ان کے پاس کوئی آدمی آتا اس کو اگر وہ صحیح آدمی نہ سمجھتے تو اس کے ساتھ ایک ہی قیمت بتاتے یعنی بس واحد کلام کرتے تھے۔

مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 5299

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood