Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5264

5264 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا علي بن الحسن الهلالي ثنا أبو نعيم الملائي ثنا سفيان عن زياد بن علاقة قال : سمعت جرير بن عبد الله يقول : بايعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاشترط علي النصح لكل مسلم رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم و أخرجه مسلم من حديث ابن عيينة عن زياد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو علی بن حسن ہلالی نے ان کو ابونعیم ملائی نے ان کو سفیان نے ان کو زیاد بن علاقہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جریر بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی آپ نے مجھ پر شرط رکھی کہ ہر مسلم کے ساتھ خیر خواہی کرنا۔ بخاری نے صحیح میں اس کو روایت کیا ہے ابونعیم سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابن عینیہ کی زیاد سے حدیث سے۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلاَئِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5264

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5265

5265 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال : ذكر سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عطاء بن يزيد الليثي عن تميم الداري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما الدين النصيحة إنما الدين النصيحة إنما الدين النصيحة فقيل لمن يا رسول الله ؟ قال : لله و لكتابه و لرسوله و لأئمة المسلمين و عامتهم أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان الثوري

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو محمد بن یوسف فریابی نے وہ کہتے ہیں کہ ذکر کیا تھا سفیان نے سہیل بن ابوصالح سے اس نے عطاء بن یزید لیثی سے اس نے تمیم داری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سوائے اس کے نہیں کہ دین خیر خواہی ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ دین خیر خواہی ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ دین خیر خواہی ہے۔ پوچھا گیا کہ کس کے لئے خیر خواہی ہے یا رسول اللہ؟ حضور نے فرمایا۔ اللہ کے لئے اور قرآن کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔ اور مسلمان حکمرانوں کے لئے اور مسلم عوام کے لئے۔ (اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے اس کے رسول کے لئے مسلم آئمہ کے لئے اور عوام کے لئے)۔ مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے عبدالرحمٰن مہدی کی حدیث سے اس نے سفیان ثوری سے۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 5265

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5266

5266 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا معمر عن سليمان الرقي عن عبد الله بن بشر عن الأعمش عن عبد الله بن السائب عن زاذان عن عبد الله بن مسعود قال : القتل في سبيل الله يكفر الذنوب كلها إلا الأمانة قال : يؤتى بالعبد يوم القيامة و إن قتل في سبيل الله فيقال أد أمانتك فيقول : أي رب كيف و قد ذهبت الدنيا قال : فيقال : انطلقوا به إلى الهاوية فينطلق به إلى الهاوية و يمثل له أمانته كهيئتها يوم دفعت إليه فيراها فيعرفها فيهوي في أثرها حتى يدركها فيحملها على منكبيه حتى إذا ظن أنه خارج زلت عن منكبيه فهو يهوي في أثرها أبد الآبدين ثم قال : الصلاة أمانة و الوضوء أمانة و الوزن أمانة و الكيل أمانة و أشياء عددها و أعظم ذلك الودائع فأتيت البراء بن عاذب فقلت : ألا ترى إلى ما قال ابن مسعود قال : كذا قال كذا قال : صدق أما سمعت يقول الله : { إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها }

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے۔ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو معمر نے ان کو سلیمان رقی نے ان کو عبداللہ بن بشر نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن سائب نے ان کو زازان نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے انہوں نے فرمایا اللہ کی راہ میں قتل ہونا تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ سوائے امانت کے۔ فرمایا کہ قیامت کے روز ایک بندے کو لایا جائے گا۔ اگرچہ وہ اللہ کی راہ میں قتل بھی ہوا ہو۔ اور اس سے کہا جائے گا کہ تم امانت ادا کر دو۔ وہ کہے گا اے میرے رب میں کیسے؟ اور کہاں سے ادا کروں؟ دنیا تو ختم ہو چکی فرمایا کہ اس کے لئے کہا جائے گا کہ لے جاؤ اس کو جہنم کی وادی ھاویہ میں اس کو ھاویہ کی طرف لے جایا جانے لگے گا۔ اتنے میں وہ امانت اسی کے مماثل اور ہم شکل بنا دی جائے گی جو دنیا میں اس کی صورت تھی۔ چنانچہ وہ اس کو دیکھے گا اور اس کو پہچانے گا وہ اس صورت پر ہو گی جو اس کو دنیا میں دیتے وقت تھی۔ وہ اس کی طرف جھکے گا اور اس کو اٹھا کر اپنے کندھے پر لادے گا۔ پھر وہ جب گمان کیا جائے گا کہ وہاں سے باہر نکلنے والا ہے وہ ان کے کندھوں سے گر جائے گی پھر وہ اس کو اٹھائے گا اور کندھوں پر لادے گا ابدالاباد تک اس کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ اس کے بعد ابن مسعود نے فرمایا کہ نماز امانت ہے۔ وضو امانت ہے تولنا امانت ہے۔ پھرنا امانت ہے اور بہت سی چیزوں کو انہوں نے شمار کیا اور ان سب سے بڑی وہ امانت ہے جو امانت رکھوائی گئی تھی۔ پھر میں حضرت براء بن عازب کے پاس آیا میں نے کہا کہ کیا آپ دیکھتے نہیں جو کچھ کہا ہے ابن مسعود نے انہوں نے فرمایا ایسے کہا ہے ایسے کہا ہے۔ انہوں نے سچ کہا ہے کیا آپ نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ان اللّٰه يأمركم ان تؤ دو الا مانات الى اهلها۔ بے شک اللہ حکم دیتا ہے تم کو یہ کہ امانتیں تم ادا کر دو اہل امانت کی طرف۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَاذَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ ← سليمان الرقي ← مَعْمَرٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5266

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5267

5267 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا أحمد بن زكريا الجوهري ثنا شريح بن النعمان ثنا سعيد بن زربي عن ثابت البناني عن عبد الله بن أبي أوفى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يطبع على كل خلق إلا الكذب و الخيانة سعيد بن زربي من الضعفاء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو احمد بن زکریا جوہری نے ان کو شریح بن نعمان نے ان کو سعید بن زربی نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو عبداللہ بن ابواوفی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ مؤمن ہر خصلت پر پیدا کیا گیا ہے سوائے جھوٹ اور خیانت کے۔ سعید بن زربی ضعفاء میں سے ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، ← شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ← أحمد بن زكريا الجوهري ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5267

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5268

5268 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن بشير أخو خطاب ثنا الهيثم بن خارجة ثنا الجراح بن مليح البهراني ثنا أبو رافع عن قيس بن سعد قال : لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المكر و الخديعة في النار لكنت أمكر هذه الأمة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن بشر نے جو کہ خطاب کے بھائی ہیں۔ان کو ھثیم بن خارجہ نے ان کو جراح بن ملیح بہرانی نے ان کو ابورافع نے انکو قیس بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ۔ کہ مکر اور دھوکہ جہنم میں ہوگا۔ تو میں اس امت کا سب سے بڑا مکار ہوتا۔

المكر و الخديعة في النار لكنت أمكر هذه الأمة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لَوْلَا أَنِّي ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو رَافِعٍ ← الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْرَانِيُّ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← محمد بن بشير أخو خطاب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 5268

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5269

5269 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا ابن المثنى ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا شيبان عن عبد الملك بن عمير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المستشار المؤمن

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابن المثنی نے ان کو یحییٰ بن ابوبکیر نے ان کو شیبان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← ابْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 5269

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5270

5270 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الملك بن أحمد الرقاشي ثنا أبو الوليد ثنا شعبة عن ثابت البناني عن أنس بن مالك و عن سليمان الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لكل غادر لواء قال أحدهما : يقال هذه غدرتك و قال الآخر يعرف به رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد هكذا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد رقاشی نے ان کو ابوولید نے ان کو شعبہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے ان کو سلیمان اعمش نے ان کو ابووائل نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دھوکہ کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا نصب ہوگا۔ دونوں میں سے ایک نے کہا کہ کہا جائے گا کہ تیرا دھوکہ ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ اس سے پہچانا جائے گا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابوالولید سے اسی طرح۔

أبي الوليد هكذا ← الآخر يعرف به رواه البخاري في الصحيح ← أحدهما يقال هذه غدرتك و ← لكل غادر لواء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ. و ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عبد الملك بن أحمد الرقاشي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5270

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5271

5271 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا علي بن محمد المصري ثنا روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير حدثني الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن أبي الجهم عن سليمان الكاهلي عن الجهني عن حذيفة بن اليمان أنه قال : حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثين أما أحدهما فقد رأيناه و أما الآخر فنحن ننتظره حدثنا : أن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال فعلموا من القرآن و من السنة ثم حدثنا عن رفعها إن العبد ينام النومة فترفع الأمانة من قلبه و لا يبقى منها إلا مثل الوكت ثم ينام النومة فترفع الأمانة من قلبه و لا يبقى منها فيه إلا كالمحمل ـ أو كالمحل شك ابن بكير كجمر دحرجته على رجلك فتراه منتبرا و ليس فيه شيء فلبث الناس بعدي في الأسواق و ليس فيهم رجل أمين حتى يقال : لقد كان في بني فلان رجل أمين و يقال للرجل ما أعقله و ما أنصحه و ما أجلده و ليس في قلبه مثقال خردل من الإيمان

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو علی بن محمد مصری نے ان کو روح بن فرج نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو حدیث بیان کی لیث نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابوہلال نے ان کو ابوجھم نے ان کو سلیمان کاہلی نے ان کو جھنی نے ان کو حذیفہ بن یمان نے کہ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان فرمائیں۔ بہر حال ان میں سے ایک کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور دوسری کے ہم انتظار میں ہیں۔ کہ امانت اتر چکی ہے مردوں کے دلوں کی گہرائی میں اور جڑ میں پس سکھاؤ قرآن کو اور سنت کو۔ پھر ہمیں انہوں نے اس کے اٹھ جانے کی حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ بے شک بندہ سوئے گا جب نیند سے اٹھے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ چکی ہوگی اور نہ باقی رہے گا اس سے مگر مثل نکتے کے۔ اس کے بعد سوئے گا نیند کر کے اٹھے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ چکی ہوگی نہ باقی رہے گی اس میں سے مگر جیسے درخت کا چھلکا۔ شک کیا ہے ابن بکیر نے کہ کہا تھا مثل آگ کی چنگاری کے جس کو اپنے پیر پر گرا دیں یا پھر گرنے سے جگہ پھول جائے نشان تو ہو مگر اس کے اندر کوئی شئی نہ ہو۔ آپ اس کو ابھرا ہوا محسوس کریں گے۔ لوگ میرے بعد ٹھہرے رہیں گے بازاروں میں ان میں کوئی بھی امانت دار آدمی نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ البتہ فلاں فلاں قبیلے میں ایک امین آدمی ہوتا تھا۔ اور کسی آدمی کے بارے میں لوگ کہیں گے کہ فلاں کتنا بڑا عقل مند ہے؟ کتنا بڑا خیر خواہ ہے؟ یا کتنا بڑا نصیحت کرنے والا ہے؟ کتنا بڑا مضبوط آدمی ہے؟ (حالانکہ جن لوگوں کو ایسا ایسا سمجھا جا رہا ہوگا ان کی اندرونی کیفیت اور حالت یہ ہوگی کہ) ان کے دل میں رائی کے دانے کی مقدار میں بھی ایمان نہیں ہوگا۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← الجهني، ← سُلَيْمَانَ الْكَاهِلِيِّ، ← أَبِي الْجَهْمِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ← علي بن محمد المصري، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 5271

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5272

5272 - قال الشيخ رضي الله عنه : حديث حذيفة مخرج في الصحيح من حديث سليمان الأعمش عن زيد بن وهب الجهني : عنه و هو من هذا الوجه عنه غريب

شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حدیث حذایفہ بخاری میں نقل ہے سلیمان اعمش کی حدیث سے اس نے زید بن وہب جھنی سے اور یہ حدیث اس طریق سے اس سے غریب ہے۔

زيد بن وهب الجهني عنه و هو من هذا الوجه عنه غريب ← الشيخ حديث حذيفة مخرج في الصحيح من حديث سليمان الأعمش

Hadith 5272

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5273

5273 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سليمان الموصلي ثنا قاسم بن يزيد ثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن مغفل عن ابن مسعود قال : أول ما تفقدون من دينكم الأمانة و آخر ما تفقدون الصلاة و سيصل قوم لا دين لهم هذا موقوف فروي أيضا عن حذيفة فروي من وجه آخر مرفوعا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلیمان موصلی نے ان کو قاسم بن یزید نے ان کو سفیان نے عبدالعزیز بن رفیع سے اس نے شداد بن مغفل سے اس نے ابن مسعود سے انہوں نے فرمایا کہ اپنے دین میں سے پہلی چیز جس کو تم کم پاؤ گے وہ امانت ہے۔اور آخری چیز جو گم پاؤ گے وہ نماز ہوگی۔ عنقریب لوگ نماز پڑھیں گے جب کہ ان کا کوئی دین نہیں ہوگا۔ یہ روایت موقوف ہے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔ اور ایک اور طریقہ سے مرفوعاًً بھی مروی ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شداد بن مغفل ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 5273

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5274

5274 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو محمد دعلج بن أحمد السجزي أنا محمد بن أحمد بن البراء ثنا معافى بن سليمان ثنا حكيم بن نافع ثنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول ما يرفع من الناس الأمانة و آخر ما يبقى الصلاة و رب مصل لا خير فيه تفرد حكيم بن نافع بإسناده هذا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابومحمد دعلج بن احمد سجزی نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو معافی بن سلیمان نے ان کو حکیم بن نافع نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو عمر بن خطاب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک پہلی چیز جو لوگوں میں سے اٹھائی جائے گی وہ امانت ہو گی۔ اور جو چیز آخر میں رہ جائے گی وہ نماز ہوگی۔اور بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہوں گے جن میں کوئی چیز نہیں ہوگی۔ حکیم بن نافع اس روایت میں متفرد ہیں۔اپنی اسی اسناد کے ساتھ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حكيم بن نافع ← مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Hadith 5274

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5275

5275 - و قد روي من وجه آخر عن ثابت عن أنس مرفوعا : ـ

اور تحقیق روایت کی گئی ہے ایک اور طریق سے حضرت ثابت سے اس نے حضرت انس سے مرفوعاً۔

أنس مرفوعا ← ثَابِتٍ، ← و قد روي من وجه آخر

Hadith 5275

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood