Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1718

1718 - و فيما أجازاني أبو عبد الله و أذن فيه عن أبي العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا شجاع بن الوليد أبو بدر ثنا أبو خيثمة عن أبي إسحاق عن هبيرة بن يريم و أبي الأحوص عن أبي مسعود قال : لا يأتي عام إلا و الذي بعده شر منه قالوا : إنا فيه يأتي علينا العام يخضب و العام لا يخضب فيه قال : إني و الله لا أعني خصبكم و لا جديكم و لكن ذهاب العلم و العلماء قد كان قبلكم عمر فأروني العام مثله

ان روایات میں سے ہے جن کے ساتھ مجھے اجازت دی تھی ابو عبداللہ نے اور اس میں اجازت دی تھی ابو العباس اصم سے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو شجاع بن ولید نے بدر نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو ابو اسحاق نے ہبیرہ بن مریم اور ابوالا حوص سے انہوں نے ابن مسعود سے کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا نہیں آتا کوئی سال مگر جو اس کے بعد آئے گا وہ پہلے سے برا ہوتا ہے ۔ لوگوں نے کہا بے شک ہم ایسے ہیں کہ ہمارے اوپر ایک سال خوشحالی کا آتا ہے اور کوئی سال قحط کا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم میں نے تمہارے قحط اور خوشحال سال کو مراد نہیں لیا مگر تو علم اور علماء کا فقدان ہے تحقیق تمہارے سے گذشتہ سالوں میں عمر رضی اللہ عنہ تھے اب تم مجھے اس جیسے دکھاؤ۔ یا یہ مراد ہے کہ جو تمہاری گذشتہ سالوں والی زندگی تھی اب وہ کہاں ہے مجھے وہ دکھلاؤ ذرا؟

فيه يأتي علينا العام يخضب و العام لا يخضب فيه ← لا يأتي عام إلا و الذي بعده شر منه ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← هبيرة بن يريم و أبي الأحوص ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِى الْعَبَّاسِ الأَصَمِّ ← و فيما أجازاني أبو عبد الله و أذن فيه

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1718

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1719

1719 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن سليمان بن منصور ثنا زكريا بن يحيى بن الحارث ثنا أيوب بن الحسن ثنا حجاج بن مسلم ثنا ابن المبارك أنا هشام بن حسان عن الحسن قال : قال ابن مسعود : موت العالم ثلمة لا يسدها شيء ما اختلف الليل و النهار حجاج بن مسلم هو أبو مسلم صاحب الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن سلیمان منصور نے ان کو زکریا بن یحییٰ بن حارث نے ان کو ایوب بن حسن نے ان کو حجاج بن مسلم نے ان کو ابن مبارک نے ان کو ہشام بن حسان نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا: کہ عالم کی موت ایک ایسا فتنہ ہے جسے کوئی شئی نہیں روک سکتی ۔ دوسری تعبیر یہ ہے کہ عالم کی موت ایک ایسا خلا ہوتا ہے جو پر نہیں کیا جا سکتا جب تک اختلاف شب و روز باقی ہے ( یعنی قیامت تک خلا پر نہیں ہو سکتا ) حجاج بن مسلم وہ ابو مسلم صاحب صحیح ہیں۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حجاج بن مسلم ← أيوب بن الحسن ← زكريا بن يحيى بن الحارث، ← أبو جعفر محمد بن سليمان بن منصور ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1719

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1720

1720 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو رجاء البغدادي بمكة ثنا يوسف بن بحر بحبلة ثنا محمد بن سعيد بن سابق عن مروان بن جناح أنه حدثه عن ميسرة بن حلبس أن أبا الدرداء قال : تعلموا العلم قبل أن يفتقر إليكم فإن أعبد الناس رجل عالم إن احتيج إليه نفع بعلمه و إن استغنى عنه نفع نفسه بالعلم الذي يعلمه الله عنده فما مال علمائكم يذهبون و جهالكم لا يتعلمون فلو أن العالم أراد أن يزداد علما لازداد و ما نقص العلم شيئا و لو أراد الجاهل أن يتعلم لوجد العلم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو رجاء بغدادی نے مکہ مکرمہ میں ان کو یوسف بن بحر نے مقام حبلہ میں ان کو محمد بن سعید بن سابق نے ان کو مروان بن جناح نے کہ انہوں نے اس کو حدیث بیان کی میسرہ بن حلبس سے یہ کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا کہ تم لوگ علم سیکھو اس وقت سے پہلے کہ تمہاری طرف لوگوں کو (علم کے لئے ) احتیاجی ہو بے شک سب لوگوں میں سے عابد ترین شخص وہ عالم ہے جس کی طرف لوگوں کو احتیاجی ہو اور وہ لوگوں کو اپنے علم کے ساتھ نفع دے اور اگر لوگوں کو اس کی ضرورت نہ پڑےتو علم کے ساتھ اپنے نفس کو نفع دے جو اللہ نے اس کو علم عطاء کیا ہے کیا حال ہوگا تمہارے علماء ختم ہو جا رہے ہیں۔ اور تمہارے عالم علم حاصل نہیں کر رہے ، اگر عالم اپنے علم کو بڑھانا چاہے تو علم کو بڑھا سکتا ہے۔ علم کسی شئی کو کم نہیں کرتا ۔ اگر بے علم انسان حاصل کرنا چاہے تو وہ علم حاصل کر سکتا ہے ۔

ميسرة بن حلبس أن أبا الدرداء ← مروان بن جناح أنه ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← يوسف بن بحر بحبلة ← أبو رجاء البغدادي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1720

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1721

1721 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى ثنا أبو العباس الأصم ثنا يوسف بن عبيد الخوارزمي ثنا محمد بن روح ثنا أيوب بن سليمان الثقفي ثنا الوليد بن شجاع عن ضرار بن عمرو عن قتادة عن أبي هريرة قال : لأن أخرج في شيء من طلب العلم أريد صلاحي و صلاح من أعود إليه أحب إلي من صيام حول و قيام حول لأن الشيطان قال لابن آدم ليتك تعمل فما علمت فثبطه عن العلم و لو كان أحد يكتفي بعلم لاكتفى كليم الله و عنده الألواح فيها تفصيل كل شيء قال : { هل أتبعك على أن تعلمن مما علمت رشدا }

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن محمد موسیٰ نے ان کو ابو العباس رحم نے ان کو یوسف بن عبید خوارزمی نے ان کو محمد بن روح نے ان کو ایوب بن سلیمان ثقفی نے ان کو ولید بن شجاع نے ان کو ضرار بن عمرو نے ان کو قتادہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں اگر میں علم کی طلب میں کس قدر نکل جاؤں جس سے میں اپنے اصلاح کا ارادہ کروں اور ان کی اصلاح کا جن کی طرف میں واپس لوٹ کر آؤں تو میرے نزدیک یہ چیز سال بھی روزے رکھنے سے زیادہ محبوب ہے اور سال بھر عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے اس لئے شیطان نے ابن آدم سے کہا کاش کہ تو عمل کرتا پس تم نے نہ جانا چنانچہ اس نے اسے حصول علم سے روک دیا۔ اگر کسی کا اس کا علم پورا ہوتا تو موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو پورا ہوتا ۔ حالانکہ ان کے پاس علم کی الواح اور تختیاں تھیں ان میں ہر چیز کی تفصیل تھی۔ مگر انہوں نے ( حضرت خضر سے حصول علم کے لئے کہا تھا۔)"ھل اتبعک علی ان تغلمنی مما علمت رشدا"۔ کیا میں آپ کے پیچھے پیچھے اس شرط کے ساتھ چلوں کہ آپ مجھے وہ علم سکھلائیں جو رشد و ہدایت آپ سکھلائے گئے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَتَادَةَ ← ضرار بن عمرو ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← أيوب بن سليمان الثقفي ← مُحَمَّدُ بْنُ رَوْحٍ، ← يوسف بن عبيد الخوارزمي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1721

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1722

1722 - أخبرنا أبو جعفر المستملي أنا محمد بن جعفر بن محمد بن مطر ثنا الفضل بن الحباب الجمحي املاء ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أوس بن خالد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الذي يسمع الحكمة و لا يحمل إلا شرها كمثل رجل أتى راعيا فقال يا راعيا اجزرني شاة من غنمك فقال اذهب فخذ بإذن شاة منها فانطلق فأخذ بإذن كلب الغنم

ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر مستملی نے ان کو محمد بن جعفر بن محمد بن مطر نے ان کو فضل بن حباب نے جمحی نے بطور املاء کے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید ان کو اوس بن خالد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی مثال جو حکمت کو سنتا ہے اور اس سے شر ہی حاصل کرتا ہے مثل اس شخص کے ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور کہے اے چرواہے میاں! مجھے ایک بکری بکریوں میں سے دے دو ۔ وہ یہ کہے کہ جاؤ کسی بکری کو کان سے پکڑ کر لے جاؤ وہ جائے اور جا کر بکریوں کے کتے کو کان سے پکڑلے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الفضل بن الحباب الجمحي املاء ← محمد بن جعفر بن محمد بن مطر ← أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1722

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1723

1723 - و أخبرنا أبو جعفر المستملي أنا محمد بن أحمد بن سنان النحوي أنا الحسن بن سفيان ثنا حميد بن زنجويه ثنا عثمان بن صالح ثنا ابن لهيعة عن عطاء قال : قال أبو هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : تعملوا من أسمائكم ما تصلون به أرحامكم ثم انتهوا أو تعلموا من العربية ما تعرفون به كتاب الله ثم انتهوا و تعلموا من النجوم ما تهتدون به في ظلماته البر و البحر ثم انتهوا

اور ہمیں خبر دی ہے جعفر مستملی نے ان کو محمد بن احمد بن سنان نحوی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو عثمان بن صالح نے ابن لھیعہ نے ان کو عطاء نے کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ناموں کو اس قدر جانو جن کے ساتھ تم اپنے رشتوں کو ملا سکو اس کے بعد رک جاؤ۔ یا تم لوگ اس قدر عربی زبان سیکھو جس کے ساتھ کتاب اللہ کو سمجھ سکو اس کے بعد رک جاؤ۔ اور ستاروں کے بارے میں اس قدر سکھو جس کے ساتھ تم بروبحر کی تاریکیوں میں راستہ ڈھونڈ سکو اس کے بعد رک جاؤ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن أحمد بن سنان النحوي ← أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي ← و،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1723

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1724

1724 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن خلف المروزي ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو بكر عياش قال : وجدت أكثر حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم عند ( ) من الأنصار إن كنت لآتي أحدهم فيقال لي إنه نائم فلو شئت أن يوقظ لي معي أوقظ فأجلس حتى يخرج لاستنبط بذلك حديثه

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن خلف مروزی نے ان کو احمد یونس نے ان کو ابو بکر عیاش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اکثر حدیث رسول نزدیک (فلاں شخص کے) انصار میں سے پائی میں ان میں سے ایک شخص کے پاس آتا تھا ۔ پس مجھ سے کہا گیا کہ وہ سو رہے ہیں اگر میں چاہوں تو میرے لئے انہیں بیدار کر لیا جائے۔ میرے پائی ان میں اسے ایک شخص کے پاس آتا تھا۔ پس مجھ سے کہا گیا کہ وہ سو رہے ہیں اگر میں چاہوں تو میرے لئے انہیں بیدار کر لیا جائے۔ میرے لئے بیدار کر لیا جاتا میں بیٹھتا حتیٰ کہ وہ شخص نکلتا البتہ استنباط کرتا اس کے ساتھ اپنی حدیث ۔

أَبُو بَكْر عَيَّاشٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1724

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1725

1725 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا أبو يعلى ثنا عمرو بن حصين ثنا ابن علانة ثنا خصيف بن مجاهد عن أبي هريرة قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حفظ على أمتي أربعين حديثا فيما ينفعهم من أمر دينهم بعثه الله يوم القيامة من العلماء و فضل العالم على العابد سبعين درجة الله أعلم بما بين كل درجتين

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابویعلی نے ان کو عمرو بن حصین نے ان کو ابن علاثہ نے ان کو خصیف بن مجاہد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری امت میں سے چالیس حدیثیں یاد کرے گا جو انہیں ان کے دین میں فائدہ دیں اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن علماء میں سے اٹھائیں گے اور عالم کی فضیلت عابد پر ستر درجہ ہے اور دو دجوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

و، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خصيف بن مجاهد ← ابن علانة ← عمرو بن حصين ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1725

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1726

1726 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن يعقوب الفقيه قال : حدثني أبو الحسن محمد بن علي بن حبيش حدثني عمي أحمد بن حبيش حدثني عبد الله بن النعمان البصري ثنا عمرو بن الحارث ثنا عبد الملك بن هارون بن عمرة ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الصفار ثنا إبراهيم بن إسماعيل السيوطي ثنا عمرو بن محمد صاحب يعلى بن الأشدق ثنا عبد الملك بن هارون بن عنترة عن أبيه عن جده عن أبي الدرداء قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حد العلم إذا حفظه الرجل كان فقيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حفظ على أمتي أربعين حديثا من أمر دينها بعث الله فقيها و كنت له يوم القيامة شافعا وشهيدا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن یعقوب فقیہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن علی بن حبیش نے ان کو میرے چچا احمد بن حبیش نے ان کو ہارون بن عمرہ نے(ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابراہیم بن اسماعیل سیوطی نے ان کو عمر بن محمد صاحب یعلی بن اشدق نے ان کو عبدالملک بن ہارون بن عنترہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ علم کی حد کیا ہے کہ جس وقت آدمی حفاظت کرے گو وہ فقیہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری امت میں سے چالیس حدیثیں یاد کرے اپنے دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ اسے فقیہ اٹھائیں گے اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کرنے والا اور گواہ ہوں گا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← عمرو بن محمد صاحب يعلى بن الأشدق ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السِّيُوطِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن عبد الصفار ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← عبد الملك بن هارون بن عمرة ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عبد الله بن النعمان البصري ← عَمِّي أَحْمَدُ بْنُ حُبَيْشٍ، ← أبو الحسن محمد بن علي بن حبيش ← أبو الحسين محمد بن يعقوب الفقيه

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1726

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1727

1727 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن بشر العطار ثنا هاشم بن الوليد أبو طالب الهروي ثنا عبد الملك بن هارون بن عنترة : فذكره نحوه غير أنه قال : سألت و قال : و كنت له شفيعا و شهيدا قال البيهقي رحمه الله : هذا بين مشهور فيما بين الناس و ليس له إسناد صحيح

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن بشر عطار نے ان کو ہاشم بن ولید ابو طالب ھروی نے ان کو عبدالملک بن ہارون بن عنتر نے پھر اس نے مذکورہ کو مثل حدیث ذکر کی علاوہ اس کے اس نے کہا کہ میں نے سوال کیا انہون نے فرمایا اور میں اس کے لئے سفارشی اور گواہ ہوں گا یہ لوگوں کے مابین مشہور ہے مگر اس کی اسناد نہیں ہے۔

البيهقي هذا بين مشهور فيما بين الناس و ليس له إسناد صحيح ← و كنت له شفيعا و شهيدا ← سألت و ← عبد الملك بن هارون بن عنترة فذكره نحوه غير أنه ← هَاشِمُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو طَالِبٍ الْهَرَوِيُّ ← محمد بن بشر العطار ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1727

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1728

1728 - أخبرنا عبد الله بن يوسف ثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه إملاء ببخارى ثنا جعفر بن شعيب الشاشي ثنا أبو طالب الهروي ثنا عمر بن هارون بن الضحاك عن عثمان الأسدي عن عون بن عبد الله عن عقبة قال : قال عبد الله بن مسعود إن هدى الناس في عالم جيرانه و أهل بيته و إنما مثل العالم بين جيرانه و أهل بيته كمثل بئر بين أظهرهم إذا احتاجوا إلى ما بها استقوا منها فبينما هم كذلك إذ أصبحوا و قد غار ماؤها

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو نصر احمد بن سہل فقیہ نے بطور املاء کے بخاری میں ان کو جعفر بن شعیب شاشی نے ان کو ابو طالب ہرویہ نے ان کو عمر بن ہارون بن ضحاک نے ان کو عثمان اسدی نے عوف بن عبداللہ سے ان کو عقبہ نے کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا بے شک لوگوں کی ہدایت اس کے عالم پڑوس میں ہے اور اس کے اپنے اہل بیت میں ہے اور سوائے اس کے نہیں عالم کی مثال اس کے پڑوس اور اس کے اہل بیت میں ان کے درمیان ایک کنویں جیسی ہے جب انہیں ضرورت پڑتی ہے اس سے پانی پی لیتے ہیں ۔ وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ اچانک جب وہ صبح کرتے ہیں اور اس کا پانی خشک ہو چکا ہو۔

عُقْبَةَ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عثمان الأسدي ← عمر بن هارون بن الضحاك ← أبو طالب الهروي، ← جعفر بن شعيب الشاشي ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه إملاء ببخارى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1728

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1729

1729 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو عبد الله الجرجاني ثنا أبو العباس الشيباني ثنا أبو نعيم عبيد بن هشام الحلبي ثنا إصبع بن محمد الرقي عن كلثوم بن جوشن القشيري عن عبيد الله بن أبي العيزار قال : كان عبد الله بن مسعود إذا رأى الشباب يطلبون العلم قال : مرحبا بكم ينابيع الحكمة و مصابيح الظلمة خلقان الثياب جدد القلوب

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو عبداللہ جرجانی ان کو ابوالعباس شیبانی نے ان کو ابو نعیم عبید بن ہشام حلیمی نے ان کو اصبع بن محمد اقی نے ان کو کلثوم بن جوشن قشیری نے ان کو عبداللہ بن ابی عیزار نے کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی جوان کو دیکھتے جو علم طلب کر رہے ہوتے تو فرماتے تمہیں خوش آمدید ہو حکمت کے چشموں اور اندھیروں کے چراغوں اور پرانے لباسوں اور جدید قلوب والوں کو ۔

مرحبا بكم ينابيع الحكمة و مصابيح الظلمة خلقان الثياب جدد القلوب ← كان عبد الله بن مسعود إذا رأى الشباب يطلبون العلم ← عبيد الله بن أبي العيزار ← كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ، ← إصبع بن محمد الرقي ← أبو نعيم عبيد بن هشام الحلبي، ← أبو العباس الشيباني ← أبو عبد الله الجرجاني ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1729

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood