Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1694

1694 - حدثنا الغلابي ثنا أبو سهل المدايني قال : قال سفيان و سأله رجل فقال يا أبا محمد العلم أفضل أو العمل قال : العلم أما تسمع قول الله عز و جل : { فاعلم أنه لا إله إلا الله و استغفر لذنبك } فبدأ بالعلم قبل العمل

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے غلابی نے ان کو ابوسہل مدائنی نے کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا جب کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا تھا اے ابو محمد علم افضل ہے یا عمل؟ انہوں نے فرمایا کہ علم الفضل ہے کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا۔ "فاعلم انہ لا الٰہ الااللہ واستغفرلذنبک"۔ اے پیغمبر آپ جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور اپنی لغزش کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عمل سے قبل علم کے ساتھ ابتداء کی ہے ۔ (اس سے معلوم ہوا کہ علم عمل سےافضل ہے ۔)

يا أبا محمد العلم أفضل أو العمل ← سفيان و سأله رجل ← أبو سهل المدايني ← الغلابي،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1694

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1695

1695 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة و من يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا و الآخرة و من ستر مسلما ستره الله في الدنيا و الآخرة و الله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه و من سلك طريقا يلتمس فيه العلم سهل الله له إلى الجنة طريقا و ما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله يتعاطون كتاب الله و يتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة و حفتهم الملائكة و غشيتهم الرحمة و ذكرهم الله فيمن عنده و من أبطأ به عمله لم يسرع به نسبه رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و غيره عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نا کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور پریشانی دور کرے دنیا کی پریشانیوں میں سے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دیں گے ۔ اور جو شخص کسی تنگ دست کے لئے آسانی کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے دنیا اور آخرت میں آسانی کریں گے ۔ اور جو شخص کسی مسلمان پر پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر دنیا میں اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی معاونت میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی معاونت میں لگا رہتا ہے اور جو شخص کسی ایسے راستے پر چلتا ہے جس پر وہ علم کی تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی طرف راستہ آسان کر دیتا ہے ۔ اور اللہ گھروں میں سے کسی گھر میں جب کچھ لوگ جمع ہو جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے قرآن سیکھتے ہیں اور باہم سکھاتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے اور فرشتے ان کو گھرے رہتے ہیں اور رحمت ان کو چھپا لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ ان مقرب فرشتوں کے آگے کرتے ہیں جو اللہ کے پاس ہیں ۔ وہ شخص جس کو اس کا عمل پیچھے کر دے اس کا نسب اس کو آگے نہیں کر سکے گا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ وغیرہ سے اس نے ابو معاویہ سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1695

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1696

1696 - اخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني املاء نا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا أبو يعلى السياجي ثنا عبد الله بن داود الخريبي ثنا عاصم بن رجاء بن حيوة يحدث عن داود بن جميل عن كثير بن قيس قال : أتيت أبا الدرداء و هو جالس في مسجد دمشق فقلت يا أبا الدرداء إني جئت من مدينة الرسول صلى الله عليه و سلم في طلب حديث بلغني عنك أنك تحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما جاء بك حاجة و لا جاءت بك تجارة و لا جاء بك إلا هذا الحديث قلت نعم قال : فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من سك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة و إن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يصنع و إن فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب و إن العالم ليستغفر له من في السموات و من في الأرض حتى الحيتان في جوف الماء إن العلماء ورثة الأنبياء و إن الأنبياء لم يورثوا دينارا و لا درهما و ورثوا العلم فمن أخذه فقد أخذ بخط وافر

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی ہمیں ملاء کروایا ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابویعلیٰ نے سیاجی نے ان کو عبداللہ بن داؤد خریبی نے ان کو عاصم بن رجاء بن حیوۃ نے ان کو داؤد بن جمیل نے ان کو کثیر بن قیس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ دمشق کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا اے ابودرداء آپ کے پاس مدینہ الرسول سے آیا ہوں ایک حدیث کی طلب میں جس کے بارے میں مجھے خبر ملی ہے کہ آپ وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان کرتے ہیں حضرت ابو درداء نے فرمایا کہ تجھے کوئی اور غرض یہاں نہیں لائی؟ اور نہ ہی کوئی تجارت آپ کو یہاں لائی ہے ؟ کوئی چیز تمہیں یہاں نہیں لائی مگر یہ حدیث؟ میں نے کہا کہ جی ہاں کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرما رہے تھے جو شخص کسی ایسے راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم کو تلاش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے راستوں سے ایک راستہ طے کر ا دیتے ہیں اور بے شک فرشتے اپنے پروں کو بچھا دیتے ہیں طالب علم کی خوشی کے لئے جو عمل وہ کرتا ہے بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر اور بے شک عالم کے لئے استغفار کرتی ہیں۔ وہ تمام مخلوقات جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں حتیٰ کہ مچھلیاں پانی کے پیٹ میں ۔ اور بے شک علماء انبیاء کے مداح ہیں اور بے شک انبیاء نہیں وارث بناتے دینار اور درہم کا وہ وارث بناتے ہیں علم کا جس نے اس وراثت کا حصہ پالیا اس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔

كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ← دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ، ← أبو يعلى السياجي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1696

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1697

1697 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي قالا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا إبراهيم بن عرعرة ثنا عبد الملك بن عبد الرحمن الزماري عن سفيان عن الأوزاعي عن كثير بن قيس عن يزيد بن سمرة عن أبي الدرداء قال : قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة و إن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب رضا بما يصنع و إنه ليستغفر له دواب البر حتى الحيتان في البحر و إن فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على الكواكب و إن العلماء ورثة الأنبياء و إن الأنبياء لم يدعوا دينارا و لا درهما و لكن ورثوا العلم فمن أخذ به فقد أخذ بحظ وافر كذلك قاله عبد الرزاق عن ابن المبارك عن الأوزاعي و قال : بشر بن بكر عن الأوزاعي عن عبد السلام بن سليم عن يزيد بن سمرة عن كثير بن قيس عن أبي الدرداء و هذا أصح قاله البخاري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد سوسی نے ابو العباس بن یعقوب نے کہا ان کو ابو بکر محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابراہیم بن عرعرہ نے ان کو عبدالملک بن عبدالرحمٰن زماری نے ان کو سفیان نے اوزاعی سے ان کو کثیر بن قیس نے یزید بن سمرہ سے ان کو ابو درداء نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ فرما رہے تھے ۔ جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں علم کی تلاش کرے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا راستہ طے کرا دیتے ہیں ۔ اور بے شک فرشتے اپنے بازو جھکا دیتے ہیں طالبت کی رضا کے لئے اس کے سبب سے جو وہ عمل کرتا ہے اور بے شک اس شخص کے لئے خشکی کے تمام جانور دعا مغفرت کرتے ہیں حتیٰ کہ مچھلیاں سمندر میں ۔ اور بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسےہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے اور بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور بے شک انبیاء نہیں چھوڑتے دینار اور درہم کو لیکن وہ وارث بناتے ہیں علم کا جس نے علم کو حاصل کیا اس نے بڑا وافر حصہ حاصل کیا ۔ اسی طرح کہا ہے اس کو عبدالرزاق نے ابن مبارک سے انہوں نے اوزاعی سے اور کہا ہے بشر بن بکر نے اوزاعی سے عبدالسلام بن سلیم سے انہوں نے یزید بن سمرہ سے انہوں نے کثیر بن قیس سے انہوں نے ابو درداء سے اور یہ زیادہ صحیح ہے بخاری نے اسی کو کہا ہے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← يَزِيدَ بْنِ سَمُرَةَ، ← كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُفْيَانَ، ← عبد الملك بن عبد الرحمن الزماري ← إبراهيم بن عرعرة ← أبو بكر محمد بن إسحاق الصنعاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله إسحاق بن محمد السوسي

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1697

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1698

1698 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو عمرو عبد الملك بن الحسن بن يوسف السقطي المعدل ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا حاتم بن إسماعيل عن حميد بن صخر عن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من جاء مسجدي هذا لم يأت إلا لخير يتعلمه أو يعلمه فهو بمنزلة المجاهد في سبيل الله و فيما لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر إلى متاع غيره و روي أيضا عن عثمان بن أبي سودة عن أبي الدرداء

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسماعیل مزکی نے ان کو ابو عمر عبدالملک بن حسن یوسف سقطی معدل نے ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ان کو ابراہیم بن حمزاہ نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے ان کو حمید بن صخر نے ان کو ابو سعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ جو شخص میری اس مسجد میں آئے وہ محض کسی چیز کو سیکھنے یا سکھلانے کے لئے آئے وہ شخص بمنزلہ مجاہد فی سبیل اللہ کے ہے اور جو شخص اس کے ما سوا کے لئے آئے وہ بمنزلہ اس شخص کے ہے جو دوسرے کے متاع اور سامان پر نظر رکھتا ہے ۔ اور یہ روایت کی گئی ہے عثمان بن ابو سودہ سے اس نے حضرت ابو درداء سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أبو عمرو عبد الملك بن الحسن بن يوسف السقطي المعدل، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1698

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1699

1699 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا صفوان بن صالح ثنا الوليد بن مسلم ثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك عن عثمان بن أيمن عن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من غدا يريد العلم يتعلمه لله فتح الله له باب إلى الجنة و فرشت له الملائكة أكنافها و صلت عليه ملائكة السموات و حيتان البحر و للعالم من الفضل على العابد كالقمر ليلة البدر على أصغر كوكب في السماء و العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا و لا درهما و لكنهم أورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظه و موت مصيبة لا تجبر و ثلمة لا تسد و هو نجم طمس موت قبيلة أيسر من موت عالم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو صفورک بن صالح نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو خالد بن یزید بن ابی مالک نے ان کو عثمان بن ایمن نے ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اس طرح صبح کرتا ہے کہ علم کا ارادہ کرتا ہے کہ وہ اسے اللہ کی رضا کے لئے سیکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیتے ہیں ۔ اور فر شتے اس کے لئے اس کے اطراف کو سمیٹ دیتے ہیں اور اس پر آسمانوں کے فر شتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور مچھلیاں سمندر میں اوعالم کے لئے عابد پر فضیلت ہے جیسے چودھویں کے چاند کو آسمان کے سب سے چھوٹے ستارے پر اور علماء انیباء کے وارث ہیں انبیاء نہیں وارث بناتے دینار یا درہم کا لیکن وہ تو وارث بناتے ہیں علم کا جس نے علم حاصل کیا اس نے انبیاء کا ورثہ حاصل کیا اور موت پہنچنے والی ہے جس کا چیز نقصان نہیں ہے اور ایسا رخنہ ہے جو بند نہیں ہوتا اور ستارہ ہے مٹا ہوا ، پورے قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے آسان ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عثمان بن أيمن ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1699

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1700

1700 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين العلوي أنا أبو الأحرز محمد بن عمر بن جميل الأزدي ثنا محمد بن أحمد بن نصر الترمذي ببغداد ثنا الحسين بن أبي السري أخو محمد بن أبي السري ثنا عبد القدوس بن الحجاج أبو المغيرة الخولاني ثنا محمد بن الوليد الزبيدي عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنه قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الملائكة تبسط أجنحتها لطالب العلم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو الاحرز محمد بن عمر بن جمیل ازدی نے ان کو محمد بن احمد بن نصر ترمذی نے بغداد میں ان کو حسین بن ابو سری محمد بن ابو سری کے بھائی نے ان کو عبدالقدوس بن حجاج ابو المغیرہ خولانی نے ان کو محمد بن ولید زبیری نے زہری نے عروۃ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک فرشتے اپنے پروں کو پھیلا دیتے ہیں طالب علم کے لئے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← عبد القدوس بن الحجاج أبو المغيرة الخولاني ← الحسين بن أبي السري أخو محمد بن أبي السري ← محمد بن أحمد بن نصر الترمذي ببغداد ← أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ ← أبو الحسين محمد بن الحسين العلوي

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1700

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1701

1701 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو حامد بن بلال ثنا أحمد بن منصور المروزي ثنا النضر بن شميل ثنا عون عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الناس معادن خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا خالفه ابن عون فوقفه

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو عون نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگ کانیں ہیں ان میں سے جو جاہلیت میں اعلیٰ و ارفع تھے وہ اسلام میں بھی اعلیٰ اور ارفع ہیں بشرط یہ کہ جب وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کر لیں ۔ ابن عون نے ان کی مخالفت کی ہے اور اس روایت کو موقوف بیان کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْنٌ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1701

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1702

1702 - و روينا في الحديث الثابت عن معاوية بن أبي سفيان : أن سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين

اور ہم نے روایت کی ہے اس ثابت کی حدیث میں معاویہ بن ابو سفیان سے کہ انہوں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطا کرتے ہیں۔

مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← معاوية بن أبي سفيان أن ← و روينا في الحديث الثابت

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1702

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1703

1703 - و تقدم عن ابن مسعود و حذيفة : عن النبي صلى الله عليه و سلم فضل العلم أحب إلي أو قال خير من فضل العبادة و من خير دينكم الورع

اور حضرت ابن مسعود اور حذیفہ سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت گزر چکی ہے ۔ کہ علم کا فضل مجھے زیادہ محبوب ہے یا یوں فرمایا تھا کہ علم کا زیادہ ہونا میرے نزدیک عبادت کے زیادہ ہونے سے زیادہ بہتر ہے اور تمہارا بہتر دین پرہیز گاری ہے ۔

خير من فضل العبادة و من خير دينكم الورع ← النبي صلى الله عليه و سلم فضل العلم أحب إلي أو ← ابن مسعود و حذيفة ← و تقدم

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1703

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1704

1704 - و رويناه صحيحا من قول من مطرف بن عبد الله بن الشخير : ـ

اور ہم نے روایت کیا ہے اس کو ابا عتبار صحیح کے مطرف بن عبداللہ بن شخیر کے قول سے۔

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1704

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1705

1705 - و روينا عن عبد الله بن عمرو : سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : قليل الفقه خير من كثير العبادة و كفى المرء فقها أن عبد الله

اور ہم اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن عمرو سے انہوں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے تھے قلیل فقہ بہتر ہے کثیر عبادت سے اور کافی ہے مر ک کےلیے فقہ باعتبار عبادت کے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← و روينا

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1705

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood