شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1682
1682 - و عن أبي عبيدة حدثني يحيى بن سعيد عن سفيان عن إبراهيم بن المهاجر عن مجاهد عن ابن عباس قال : كنت لا أدري ما فاطر السموات حتى آتاني أعرابيان يختصمان في بئر فقال أحدهما : أنا فطرتها أنا ابتدأتها
ابو عبیدہ سے مروی ہے ان کو یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ان کو سفیان نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو مجاہد نے انکو حضرت انس عباس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ فاطر السموات کا مفہوم کس طرح ہے حتیٰ کہ میرے پاس دو دیہاتی عربی آئے جو کہ میرے پاس ایک کنویں کا جھگڑا لے کر آئے تھے دونوں میں سے ایک بولا "انا فطر تھا انا ابتدأ تھا" میں نے اس کو از سر ے بنایا ہے ۔ یعنی اسے میں نے کھودا ہے ۔(یعنی مجھے اب عرب کی دیہاتی استعمال سے واضح ہوا کہ اس کا مطلب ہے ابتداء اور پہلی بار بنانے والا۔ )
ابتدأتها ← فطرتها ← أَحَدُهُمَا ← كنت لا أدري ما فاطر السموات حتى آتاني أعرابيان يختصمان في بئر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← و،
Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1682
