شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1658
1658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي رحمه الله قال : العلم علمان : علم عامة لا يسع العاجز مغلوب على عقله جهله مثل أن الصلوات خمس و أن الله فرض على الناس صوم شهر رمضان و حج البيت إن استطاعوا و زكاة في أموالهم و أنه حرم عليهم الزنا و القتل و السرقة و الخمر و ما كان في معنى هذا مما كلف العباد أن يفعلوه و يعلموه و يعظموه من أنفسهم و أموالهم و أن يكفوا عنه مما حرم عليهم منه و هذا صنف من علم موجود نصا في كتاب الله عز و جل أو موجودا عاما عند أهل الإسلام ينقله عوامهم عمن مضى من عوامهم يحكونه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا ينازعون في حكايته و لا وجوبه عليهم هذا العلم العام الذي لا يمكن فيه الغلط من الخبر و لا التأويل و لا يجوز فيه التنازع و الوجه الثاني : ما ينوب العباد من فروع الفرائض و ما يخص من الأحكام و غيرهما مما ليس فيه كتاب و لا في أكثره نص سنة و إن كانت في شيء منه سنة فإنما هي من أخبار الخاصة لا أخبار العامة و ما كان منه محتمل التأويل و يستدرك قياسا و هذه درجة من العلم ليس يبلغها العامة و لم يكلفها كل الخاصة و لا يحتمل بلوغها من الخاصة و لا يسعهم كلهم كافة أن يعطلوها و إذا قام بها من خاصيتهم من فيه الكفاءة لم يخرج غيره ممن تركها إن شاء الله تعالى و الفضل فيها لمن قام بها على من عطلها و احتج بقول الله عز و جل : { و ما كان المؤمنون لينفروا كافة } و جعل الشافعي رضي الله عنه مثال ذلك الجهاد في سبيل الله عز و جل و الصلاة على الجنازة و دفن الموتى و رد السلام
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ فرماتے ہیں کہ علم دو طرح کا ہے ۔ اول۔۔۔۔ عام لوگوں کا علم جس میں وسعت نہ ہو وہ عاجز ہوتا ہے اس کے عقل پر نادانی کا غلبہ ہوتا ہے (علم محدود ہوتا ہے ) مثلاً کہ نمازیں پانچ ہیں۔ اللہ نے لوگوں پر ماہ رمضان کے روزے فرض کر دئیے ہیں۔ اور بیت اللہ کا حج بھی بشرط استطاعت فرض ہے ۔ لوگوں کے مالوں میں زکوٰۃفرض ہے ۔ اللہ نے ان پر زنا کو حرام کر دیا ہے اور قتل چوری شراب یہ سب حرام ہے اور اس طرح کی دیگر باتوں کا عالم جو اسی مفہوم میں ہیں جن کا اللہ نے بندوں کو مکلف کای ہے لوگ ان کو کریں اور ان کو جانیں اور دل و جان سے اس کی تعظیم کریں اپنے نفسوں سے اور مالوں سے۔ اور یہ کہ رک جائیں ان امور سے جن کو اللہ نے ان پرحرام کیا ہے یہ علم کی وہ قسم ہے جو بطور نس و صراحت کے ساتھ کتاب اللہ میں موجود ہے یا عام موجد و اہل اسلام کے پاس جسے عام مسلمان گذشتہ لوگوں سے عوام سے بھی نقل کر تے آ رہے ہیں جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حکایت اور بیان کرتے ہیں اور اس کے بیان کرنے میں کوئی نزاع اور کوئی اختلاف بھی نہیں ہے اور اس چیز کا وہم ضروری اور لازم ہونے کے بارے میں اس عام علم کے بارے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے ویسے بھی اس میں غلط ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے قبر میں ہو یا تاویل میں اس میں جھگڑا جائز نہیں ہے ۔ وجہ ثانی۔۔۔ وہ علم جس کو بندے بعض سے بعض حاصل کرتے ہیں جس کا تعلق فرائض کے فروغ سے ہے اور وہ جو مخصوص احکام وغیرہ سے متعلق ہو جس کے بارے میں نہ تو کتاب اللہ کی صراحت ہے اور نہ ہی ان میں سے زیادہ تر کے بارے میں سنت میں کوئی نص ہے اگرچہ فی نفسہ اس میں سے کسی قدر سنت سے ثابت ہو۔ ایسا علم اخبار خاصہ ہیں اخبار عامہ نہیں ہیں اور جو اس میں تاویل کا احتمال رکھے اور جو قیاس سے معلوم ہو سکے ایسا علم علم کا وہ درجہ ہے جس علم تک عام لوگوں کی پہنچ نہیں اور رسائی نہیں ہے اور اس علم کامکلف پر خاص بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہر خاص کی وہاں تک رسائی کا احتمال ہے اور نہ ہی تمام خاص لوگ مجموعی طور پر اس کی اجازت رکھتے ہیں کہ اسے معطل اور بے کار چھوڑدیں ۔ جب ایسے علم کو حاصل کرنے کے لئے کچھ خاص لوگ کمر بستہ ہو کر حاصل کریں تو باقی لوگ اس کے تارک نہیں کہلائیں گے انشاء اللہ تام فضیلت و برتری صرف انہیں حاصل ہو گی جو اسے حاصل کریں گے انہیں فضیلت حاصل نہیں ہو گی جو اس سے محروم رہیں گے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ حجت پکڑی گئی ہے ۔ "وماکان المؤمنون لینفروا کافۃ فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذرواقو مھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون"۔ سارے مومن تو دین کی فہم حاصل کرنے کے لئے نہیں جا سکتے ۔ کیون نہیں کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک مختصر جماعت دین کی فہم حاصل کرنے کے لئے نکل جائیں اور وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر کے آئیں اور اپنی قوم کو ڈرائیں واپس آ کر تاکہ وہ لوگ (جو دین سیکھنے میں رہ گئے تھے ) وہ بھی ڈریں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مثال جہاد فی سبیل اور صلوٰۃ جنازہ ۔ اورمیت کو دفن کرنے اور سلام کا جواب دینے سے دی ہے ۔ ظاہر ہے فضیلت و ثواب جہاد میں شریک ہونے والے مجاہد کو نماز جنازہ میں شریک ہونے والے کو میت دفن کرنے والے پورے گروہ میں سے سلام کا جواب دینے والے کو ملے گا۔باقی سب لوگ گنہگار ہونے سے بچ جائیں گے اور اگر کوئی بھی یہ اعمال انجام نہیں دے گا تو پورا معاشرہ گنہگار ہوگا۔ واللہ اعلم۔
الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1658
