Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1658

1658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان أنا الشافعي رحمه الله قال : العلم علمان : علم عامة لا يسع العاجز مغلوب على عقله جهله مثل أن الصلوات خمس و أن الله فرض على الناس صوم شهر رمضان و حج البيت إن استطاعوا و زكاة في أموالهم و أنه حرم عليهم الزنا و القتل و السرقة و الخمر و ما كان في معنى هذا مما كلف العباد أن يفعلوه و يعلموه و يعظموه من أنفسهم و أموالهم و أن يكفوا عنه مما حرم عليهم منه و هذا صنف من علم موجود نصا في كتاب الله عز و جل أو موجودا عاما عند أهل الإسلام ينقله عوامهم عمن مضى من عوامهم يحكونه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا ينازعون في حكايته و لا وجوبه عليهم هذا العلم العام الذي لا يمكن فيه الغلط من الخبر و لا التأويل و لا يجوز فيه التنازع و الوجه الثاني : ما ينوب العباد من فروع الفرائض و ما يخص من الأحكام و غيرهما مما ليس فيه كتاب و لا في أكثره نص سنة و إن كانت في شيء منه سنة فإنما هي من أخبار الخاصة لا أخبار العامة و ما كان منه محتمل التأويل و يستدرك قياسا و هذه درجة من العلم ليس يبلغها العامة و لم يكلفها كل الخاصة و لا يحتمل بلوغها من الخاصة و لا يسعهم كلهم كافة أن يعطلوها و إذا قام بها من خاصيتهم من فيه الكفاءة لم يخرج غيره ممن تركها إن شاء الله تعالى و الفضل فيها لمن قام بها على من عطلها و احتج بقول الله عز و جل : { و ما كان المؤمنون لينفروا كافة } و جعل الشافعي رضي الله عنه مثال ذلك الجهاد في سبيل الله عز و جل و الصلاة على الجنازة و دفن الموتى و رد السلام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ فرماتے ہیں کہ علم دو طرح کا ہے ۔ اول۔۔۔۔ عام لوگوں کا علم جس میں وسعت نہ ہو وہ عاجز ہوتا ہے اس کے عقل پر نادانی کا غلبہ ہوتا ہے (علم محدود ہوتا ہے ) مثلاً کہ نمازیں پانچ ہیں۔ اللہ نے لوگوں پر ماہ رمضان کے روزے فرض کر دئیے ہیں۔ اور بیت اللہ کا حج بھی بشرط استطاعت فرض ہے ۔ لوگوں کے مالوں میں زکوٰۃفرض ہے ۔ اللہ نے ان پر زنا کو حرام کر دیا ہے اور قتل چوری شراب یہ سب حرام ہے اور اس طرح کی دیگر باتوں کا عالم جو اسی مفہوم میں ہیں جن کا اللہ نے بندوں کو مکلف کای ہے لوگ ان کو کریں اور ان کو جانیں اور دل و جان سے اس کی تعظیم کریں اپنے نفسوں سے اور مالوں سے۔ اور یہ کہ رک جائیں ان امور سے جن کو اللہ نے ان پرحرام کیا ہے یہ علم کی وہ قسم ہے جو بطور نس و صراحت کے ساتھ کتاب اللہ میں موجود ہے یا عام موجد و اہل اسلام کے پاس جسے عام مسلمان گذشتہ لوگوں سے عوام سے بھی نقل کر تے آ رہے ہیں جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے حکایت اور بیان کرتے ہیں اور اس کے بیان کرنے میں کوئی نزاع اور کوئی اختلاف بھی نہیں ہے اور اس چیز کا وہم ضروری اور لازم ہونے کے بارے میں اس عام علم کے بارے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے ویسے بھی اس میں غلط ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے قبر میں ہو یا تاویل میں اس میں جھگڑا جائز نہیں ہے ۔ وجہ ثانی۔۔۔ وہ علم جس کو بندے بعض سے بعض حاصل کرتے ہیں جس کا تعلق فرائض کے فروغ سے ہے اور وہ جو مخصوص احکام وغیرہ سے متعلق ہو جس کے بارے میں نہ تو کتاب اللہ کی صراحت ہے اور نہ ہی ان میں سے زیادہ تر کے بارے میں سنت میں کوئی نص ہے اگرچہ فی نفسہ اس میں سے کسی قدر سنت سے ثابت ہو۔ ایسا علم اخبار خاصہ ہیں اخبار عامہ نہیں ہیں اور جو اس میں تاویل کا احتمال رکھے اور جو قیاس سے معلوم ہو سکے ایسا علم علم کا وہ درجہ ہے جس علم تک عام لوگوں کی پہنچ نہیں اور رسائی نہیں ہے اور اس علم کامکلف پر خاص بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہر خاص کی وہاں تک رسائی کا احتمال ہے اور نہ ہی تمام خاص لوگ مجموعی طور پر اس کی اجازت رکھتے ہیں کہ اسے معطل اور بے کار چھوڑدیں ۔ جب ایسے علم کو حاصل کرنے کے لئے کچھ خاص لوگ کمر بستہ ہو کر حاصل کریں تو باقی لوگ اس کے تارک نہیں کہلائیں گے انشاء اللہ تام فضیلت و برتری صرف انہیں حاصل ہو گی جو اسے حاصل کریں گے انہیں فضیلت حاصل نہیں ہو گی جو اس سے محروم رہیں گے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ حجت پکڑی گئی ہے ۔ "وماکان المؤمنون لینفروا کافۃ فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذرواقو مھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون"۔ سارے مومن تو دین کی فہم حاصل کرنے کے لئے نہیں جا سکتے ۔ کیون نہیں کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک مختصر جماعت دین کی فہم حاصل کرنے کے لئے نکل جائیں اور وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر کے آئیں اور اپنی قوم کو ڈرائیں واپس آ کر تاکہ وہ لوگ (جو دین سیکھنے میں رہ گئے تھے ) وہ بھی ڈریں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مثال جہاد فی سبیل اور صلوٰۃ جنازہ ۔ اورمیت کو دفن کرنے اور سلام کا جواب دینے سے دی ہے ۔ ظاہر ہے فضیلت و ثواب جہاد میں شریک ہونے والے مجاہد کو نماز جنازہ میں شریک ہونے والے کو میت دفن کرنے والے پورے گروہ میں سے سلام کا جواب دینے والے کو ملے گا۔باقی سب لوگ گنہگار ہونے سے بچ جائیں گے اور اگر کوئی بھی یہ اعمال انجام نہیں دے گا تو پورا معاشرہ گنہگار ہوگا۔ واللہ اعلم۔

الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1658

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1659

1659 - و روينا في كتاب المدخل عن ابن عباس : أنه قال في هذه الآية : يعني السرايا تنفر عصبة و تقعد عصبة ليتفقهوا في الدين يقول : تعلموا ما أنزل الله على نبيهم صلى الله عليه و سلم و يعلمون السرايا إذا رجعت إليهم لعلهم يحذرون

ہم نے کتاب المدخل میں روایت کیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اس سے مراد سرایا ہیں۔یعنی ایک جماعت دین سیکھنے کے لئے چلی جائے اور ایک جماعت بیٹھ جائے تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرے۔ فرماتے ہیں کہ اس کتاب کا علم سیکھو اللہ تعالیٰ نے جسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل فرمایا ہے ، اور جب واپس آئیں ان کو آکر دین سکھائیں جو سیکھنے کے لئے گئے نہیں تھے تاکہ وہ بھی ڈریں اور اللہ کی نافرمانی سے بچیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← و روينا في كتاب المدخل

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1659

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1660

1660 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد أحمد بن زياد البصري بمكة ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن بشر عن هشام بن عروة عن أيبه عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف إملاء أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري قالا ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه قال سمعت عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من الناس و لكن يقبض العلماء فإذا لم يبق عالم و في رواية الصفار ( حتى إذا لم يترك عالما اتخذ الناس رؤساء جهالا فسئلوا فاقتلوا بغير علم فضلوا و أضلوا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید احمد بن زیاد بصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محمد بن بشر نے ہشام بن عروہ سے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل قطان نے اور ابو عبداللہ حسین بن حسن غضائری نے دونوں فرماتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی حسن بن عفان عامری نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کریں گے کہ یکایک وہ اس کو لوگوں سے کھینچ لیں لیکن علماء کو قبض کریں گے جب کوئی عالم نہیں رہے گا ۔ اور صفار کی روایت میں ہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ کسی ایک عالم کو بھی باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہل ترین سرداروں کو پکڑ لیں گے ان سے دین پوچھیں گے ( بھلا وہ دین کہاں سے سمجھانے لگے وہ تو خود بڑے جاہل ہوں گے) بس پھر وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے وہ خود گمراہ ہوں گے لہذا وہ لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد بن يوسف إملاء، ← و، ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أيبهِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أبو سعيد أحمد بن زياد البصري بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1660

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1661

1661 - و حدثنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم هذا الحديث رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي أسامة و أخرجاه من وجه آخر عن هشام و في تحذير رفع العلم دليل على وجوب طلبه و تحريض عليه

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد اصفہانی نے ان کو ابو سعید نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوکریب سے انہوں نے ابواسامہ سے اور دونوں نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ہشام سے اور تحذیر میں یعنی علم کے اٹھ جانے کا جوڈر ہوا سنایا گیا ہے ا س میں دلیل ہے اس کے طلب کے وجوب پر اور علم سیکھنے پر ابھارنا اور برانگیختہ کرنا ہے ۔ (یعنی رفع علم سے ڈرانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ لوگ اس کو سکھیں اس لئے کہ سیکھنا ضروری ہے ۔)

أبي أسامة و أخرجاه من وجه آخر ← أَبِي كُرَيْبٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم هذا الحديث رواه مسلم في الصحيح ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو سَعِيدٍ ← أبو محمد الأصبهاني، ← و،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1661

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1662

1662 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر بن المؤمل يقول ثنا الفضل بن محمد الشعراني ثنا النفيلي ثنا عبد بن العوام عن هلال بن خباب قال : سألت سعيد بن جبير ما علامة هلاك الناس ؟ قال : إذا هلك علماؤهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے انہوں نے سنا ابوبکر بن مؤمل سے کہتے تھے کہ ان کو بیان کیا فضل بن محمد شعرانی نے ان کو نفیلی نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو ہلال بن خباب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا کہ لوگوں کی ہلاکت کی کیا علامت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جب ان کے علماء ہلاک ہو جائیں گے یہی وقت لوگوں کی ہلاکت کا بھی ہے ۔

إذا هلك علماؤهم ← سألت سعيد بن جبير ما علامة هلاك الناس ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عبد بن العوام ← النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبا بكر بن المؤمل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1662

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1663

1663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا محمد بن علي بن عفان ( ح ) و أخبرنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد بن زياد ثنا جعفر بن عامر العسكري قالا ثنا الحسن بن عطية عن أبي عاتكة وفي رواية أبي عبد الله ثنا أبو عاتكة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطلبوا العلم و لو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم هذا الحديث شبه مشهور و إسناده ضعيف و قد روي من أوجه كلها ضعيفة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے ، ان کو محمد بن علی بن عفان نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے محمد اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن زیاد نے ان کو جعفر بن عامر عسکری نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن عطیہ بن ابو عاتکہ نے اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے ان کو بیان کیا ابو عاتکہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ علم کو تلاش کرو اگرچہ چین میں جانا پڑے۔ بے شک علم کا طلب کرنا فرض ہے ہر مسلمان پر ۔ یہ حدیث بطور محاورہ مشہور ہے اور اس کی اسناد ضعیف ہے اور تحقیق کئی وجوہ سے مروی ہے مگر تمام وجوہ ضعیف ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو عَاتِكَةَ، ← أبي عاتكة وفي رواية أبي عبد الله ← الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ ← جعفر بن عامر العسكري ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ زِيَادٍ ← أبو محمد الأصبهاني، ← و، ← محمد بن علي بن عفان ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1663

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1664

1664 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن محمد ثنا أبو النضر هاشم بن القاسم ثنا المستلم بن سعيد عن زياد بن عامر عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : طلب العلم فريضة على كل مسلم و الله يحب إغاثة اللهفان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو ابوالعباس رحم نے ان کو عباس بن محمد نے ان کوابوالنظر ہاشم بن قسم نے ان کو مسلم بن سعید نے زیاد بن عامر سے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اللہ تعالیٰ مجبور کی فریاد رسی کرنے کو پسند کرتا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← زياد بن عامر ← الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1664

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1665

1665 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن أبي بكر ثنا حسان بن سياه ثنا ثابت عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : طلب العلم فريضة على كل مسلم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری سے ان کوحسن بن محمد اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو حسان بن سیاہ ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم ق نے فرمایا کہ علم کو طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔

طلب العلم فريضة على كل مسلم ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حسان بن سياه ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1665

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1666

1666 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا العباس بن عبد الله الترقفي ثنا رواد بن الجراح عن عبد القدوس عن حماد بن أبي سليمان عن إبراهيم قال : لم أسمع من أنس بن مالك إلا حديثا واحدا سمعته يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طلب العلم فريضة على كل مسلم

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کو رداد بن جراح نے ان کو عبدالقدوس نے ان کو حماد بن ابو سلیمان نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث کے سوا کچھ نہیں سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ علم کی طلب کرنافرض ہے ہر مسلمان پر ۔

لم أسمع من أنس بن مالك إلا حديثا واحدا ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← عَبْدِ الْقُدُّوسِ، ← رَوَّاد بْنِ الَجَرَّاح ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1666

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1667

1667 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي الأسفرايني ثنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا الحسن بن مكرم ثنا يحيى بن هاشم ثنا شهر عن عطية عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم طلب العلم فريضة على كل مسلم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد بن علی اسفرائنی نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یحییٰ بن ہاشم نے ان کو (شہر) نے ان کو عطیہ نے ان کو ابو سعید نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا علم کا طلب کرنا فرض ہے ہر مسلمان پر ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← شَهْرٍ ← يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي الأسفرايني

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1667

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1668

1668 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا المثنى بن بكر العطار ثنا عوف ثنا سليمان عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعلموا القرآن و علموه الناس و تعلموا العلم و علموه الناس و تعلموا الفرائض و علموها الناس فإني امرء مقبوض و إن العلم سيقبض حتى يختلف الرجلان في الفريضة لا يجدان من يخبرهما بها سليمان هذا هو ابن جابر و قد قيل : عن عوف عن ابن مسعود و قيل : عن عوف عمن حدثه عن سليمان

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو مثنی بن بکر عطار نے ان کو عوف نے ان کو سلیمان نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ کہ قرآن سیکھو اور وہ لوگوں کو سکھلاؤ اور علم سیکھو اور وہ لوگوں کو سکھلاؤ اور فرائض (علم میراث) سیکھو اور وہ لوگوں کو سکھلاؤ میں ایک ایسا آدمی ہو جو قبض (فوت ہونے) والا ہوں ، اور بے شک علم عنقریب قبض کر لیا جائے گا یہاں تک کہ لوگ فرائض (کا علم نہیں رکھیں گے ) اس میں بھی باہم اختلاف کریں گے کوئی ایسا انسان نہیں پائیں گے جو ان کو فرائض کے بارے میں بتلا سکے۔ سلیمان یہ وہی ابن جابر ہیں اور تحقیق کہا گیا ہے کہ حضرت عوف سے انہوں نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور کہا گیا ہے حضرت عوف سے اور اس سے حسن نے ان کو حدیث بیان کی سلیمان سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← سُلَیْمَانَ ← عَوْفٌ، ← المثنى بن بكر العطار ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1668

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ و هو باب في طلب العلم ـ · حديث 1669

1669 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا بكار بن محمد ثنا عبد الله بن عون عن ابن سيرين عن الأحنف بن قيس قال : قال عمر : تفقهوا قبل أن تسودوا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو خیل بن اسحاق نے ان کو بکار بن محمد نے ان کو عبداللہ بن عون نے ان کو ابن سیرین نے ان کو احنف بن قیس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا دین کی سمجھ حاصل کرو اس سے قبل کہ تم سردار بنو۔

عُمَرُ تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › And it is a section on seeking knowledge · Hadith 1669

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood