Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1647

1647 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن أحمد الرازي ثنا علي بن الحسين بن شهريار الرازي ثنا سليمان بن منصور بن عمار حدثني محمد بن عبد الوهاب عن سفيان الثوري قال : لما التقى يعقوب و يوسف عانق كل واحد منهما الآخر و بكى فقال يوسف : يا أبه بكيت علي حتى ذهب بصرك ألم تعلم أن القيامة تجمعنا قال : بلى يا بني و لكني خشيت أن تسلب دينك فيحال بيني و بينك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو جعفر بن احمد رازی نے ان کو علی بن حسین بن شہر یارازی نے ان کو سلیمان بن منصور بن عمار نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو سفیان ثوری نے انہوں نے کہا کہ جب ( طویل جدائی کے بعد) حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام باہم ملے تو دونوں نے باہم معانقہ کیا اور یعقوب علیہ السلام روپڑے ۔ یوسف علیہ السلام نے پوچھا ابا جان آپ میرے اوپر روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی بینائی چلی گئی کیا آپ یہ نہیں جانتے تھے کہ قیامت میں ہم ضرور اکٹھے ہوں گے یعقوب نے فرمایا بالکل جانتا تھا مگر میں ڈرتا تھا کہ کہیں تجھ سے تیرا دین نہ چھین لیا جائے لہذا میرے اور تیرے درمیان دین کی جدائی مائل نہ ہوجائے۔

لما التقى يعقوب و يوسف عانق كل واحد منهما الآخر و بكى ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، ← علي بن الحسين بن شهريار الرازي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1647

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1648

1648 - و قال سليم : و بلغني أن أول من قال بيت شعر يعقوب النبي عليه السلام لما أخبروه ( فصبر جميل للذي جئتم به و حسبي إلهي من المهيات كافيا )

اور سلیم نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ پہلا شخص جس نے بیت کہا یعنی شعر وہ یعقوب علیہ السلام کا شعر تھا جب لوگوں نے ان کو خبر دی ۔ "فصبر جمیل للذی جئتم بہ،۔۔۔ وحسبی الھی من المھمات کافیا" میں صبر جمیل کروں گا اس کے لئے جسے تم لے کر گئےہو اور مجھے میرا معبود تمام مشکلات میں کافی ہے ۔

سليم و بلغني أن أول من ← و،

Hadith 1648

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1649

1649 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي ثنا علي بن المبارك الصغاني ثنا محمد بن إسماعيل الصغاني ثنا سفيان قال : قال أبو حازم لجلسائه و حلف لهم لقد رضيت منكم أن يبقى أحدكم على دينه كما يبقى علي نعله

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافط نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبداللہ بغدادی نے ان کو علی بن مبارک نے صغانی ان کو محمد بن اسماعیل صغانی نے ان کو سفیان نے کہتے ہیں کہ ابو حازم نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور ان کے لئے حلف بھی اٹھائی البتہ تحقیق میں تم سے راضی ہوں بائیں وجہ کہ دین پر باقی ہے جیسے اپنے جوتوں پر باقی ہے ( یعنی جس طرح دائیں بائیں جوتے سب کے وہی قائم، ہیں کسی کو چھوٹا بڑا نہیں کیا ایسے دین پر قائم ہیں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔)

سُفْيَانَ، ← محمد بن إسماعيل الصغاني ← علي بن المبارك الصغانى ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1649

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1650

1650 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد بن كثير قال : سمعت الجنيد يقول : احتم لدينك أشد ما تحتمي لعينك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے جعفر بن محمد بن کثیر نے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جنید بغدادی سے سنا وہ کہتے تھے ۔ لازم پکڑا اپنے دین کو یا اپنے دین کی حفاظت کر اس سے زیادہ سخت جتنی کہ تو اپنی آنکھ کی حفاظت کرتا ہے ۔

احتم لدينك أشد ما تحتمي لعينك ← الجنيد ← جعفر بن محمد بن كثير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1650

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1651

1651 - أخبرنا أبو عبد الرحمن قال : سمعت أحمد بن علي بن الحسن المقري يقول سمعت محمد بن غالب تمتام يقول : كتب إبراهيم بن أدهم إلى سفيان الثوري من عرف ما يطلب هان عليه ما يبذل و من أطلق بصره طال أسفه و من أطلق أمله ساء عمله و و من أطلق لسانه قتل نفسه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن علی بن حسین مقری سے کہتے تھے کہ میں نے سنا محمد بن غالب تمتام سے وہ کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم بن ادھم نے حضرت سفیان ثوری کی طرف لکھا۔ جو شخص پہچان لے جو کچھ طلب کرتا ہے اس پر آسان ہو جاتا ہے جو کچھ خرچ کرتا ہے ۔ جو شخص اپنی نظر کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اس کا افسوس طویل ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنی آرزو کو آزاد چھوڑتا ہے اس کا عمل بر اہو جاتا ہے اور جو شخص زبان کو آزاد چھوڑتا ہے اپنے نفس کو خود قتل کرتا ہے (یعنی ہلاک کرتا ہے )۔

مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ تَمْتَامٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Hadith 1651

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1652

1652 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي أخبرني أبو علي الحسن بن محمد الزاهد حدثني أحمد بن يونس البغدادي قال : سمعت السري بن المغلس يقول : سمعت كلمة انتفعت بها من خمسين سنة كنت أطوف بالبيت بمكة فإذا رجل جالس تحت الميزاب و حوله جماعة فسمعته يقول لهم : أيها الناس من علم ما طاب هان عليه ما بذل

ہمیں خبر دی ابو عبدللہ حافظ نے ان کو علی بن محمدمروزی نے ان کو ابوعلی حسن بن محمد زاہد نے ان کو احمد بن یونس بغدادی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سرری بن مغلس سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ایک ایسا کلمہ جس کے ساتھ میں پچاس سال سے نفع اندوز ہو رہا ہوں میں مکہ میں طواف کر رہا تھا اچانک دیکھا تو ایک آدمی میزاب رحمت تلے بیٹھا تھا اس کے ارد گرد ایک جماعت تھی میں نے سنا وہ یہ ان سے کہہ رہا تھا ۔ اے لوگو! جو شخص جان لیتا ہے کہ کیا چیز اس کو خوشی اور پسند ہے جو کچھ خرچہ کرتا ہے اس پر آسان ہوتا ہے ۔

السَّرِيَّ بْنَ الْمُغَلِّسِ، ← أحمد بن يونس البغدادي ← أبو علي الحسن بن محمد الزاهد ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1652

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1653

1653 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت يوسف بن عمر الزاهد يقول : سمعت محمد بن حسين الأجري يقول سمعت عبد الله بن محمد العطشي يقول : سمعت المعمرة يقول من ذاق حلاوة عمل صبره على تجرع مرارة طرقه و من طالت عبرته استلذ ذوقه و استوحش ممن يشغله

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا یوسف بن عمر زاہد سے کہتے تھے کہ میں نے سنا محمد بن حسین اجری سے کہتے تھے کہ میں نے سنا عبداللہ بن محمد عطشی سے انہوں نے سنا معمرہ سے وہ کہتے تھے جو شخص عمل کا مٹھاس چکھ لیتا ہے وہ اسے صبر دیتا ہے ، راستوں کی کڑواہٹ کو گھونٹ گھونٹ کر کے پی لینے پر جو شخص کہ اس کا عبرت حاصل کرنا طویل ہو جائے اس کا ذوق ہو جاتا ہے وہ نفرت کرتا ہے ان سے جو اسے مشغول کردیں۔

المعمرة ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَشِيُّ، ← محمد بن حسين الأجري ← يوسف بن عمر الزاهد ← أبا عبد الرحمن السلمي

Hadith 1653

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1654

1654 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عفان ثنا سلام بن مسكين ثنا عمران بن عبد الله قال : أرى نفس سعيد بن المسيب كانت أهون عليه في الله من نفس ذباب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو عفان نے ان کو سلام بن مسکین نے ان کو عمران بن عبداللہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب کے نفس کو دیکھا کہ ان پر اللہ کے لئے تکلیف سہنا مکھی بیٹھنے سے بھی زیادہ آسان تھا۔

عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1654

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1655

1655 - و أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني الزاهد ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد قال : كان سعيد بن المسيب يكثر أن يقول : اللهم سلم سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ اصفہانی نے زاہد نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو یحییٰ بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب کثرت کے ساتھ یہ دعا کرتے تھے ۔ "اللھم سلم اللھم سلم" اے اللہ بچا اللہ تو بچا۔

«اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ» ← كان سعيد بن المسيب يكثر أن ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Hadith 1655

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1656

1656 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري ( ) ثنا جعفر بن محمد بن نصير ثنا أحمد بن محمد بن مسروق ثنا عمر بن شبة ثنا سعيد بن عامر ثنا حزم بن أبي حزم القطعي قال : قال ميمون بن سياه : لا تمهر الدنيا دينك فإن من أمهر الدنيا دينه زفت إليه الندم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن حسن غضائری نے اور ان کو جعفر بن محمد بن نصری نے ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے ان کو عمر بن شیبہ نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو حزم بن ابو حزم نے قصعی نے کہتے ہیں کہ میمون بن سیاہ نے کہا اپنی دنیاکو اپنے دین پر ترجیح نہ دے جو شخص دنیا کو دین پر فوقیت دیتا ہے ندامت اس کی طرف لپکتی ہے ۔

حزم بن أبي حزم القطعي، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري

Hadith 1656

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1657

1657 - و أخبرنا أبو عبد الله الغضائري ثنا أحمد بن سلمان النجاد ثنا محمد بن الهيثم قال : سمعت القعنبي يقول قال : ـ مالك بن أنس لرجل يا هذا أما تلاعبت قال تلاعبن بدينك

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ غضائری نے ان کو احمد بن سلمان انجاد نے ان کو محمد بن ہیثم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا قعنبی سے وہ کہتے تھے کہ حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ایک آدمی سے اسے فلانے کیا تو دل لگی نہیں کرتا فرمایا کہ ( ہماری دل لگی اور دلچسپی تو دین ہے )۔ آپ بھی اپنے دین کے ساتھ اپنا دل بہلائیے اور دل خوش کیجئے۔

تلاعبن بدينك ← مالك بن أنس لرجل يا هذا أما تلاعبت ← الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو عبد الله الغضائري ← و،

Hadith 1657

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood