Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1635

1635 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا عبد الرزاق أنا معمر : فذكره بمعناه يزيد وينقص قال : عبد الرزاق و الأخدود بنجران

ہمیں خبر دی ہے حافط نے ان کو صغانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے پھر اس نے اس روایت کو ذکر کیا ہے مذکورہ روایت کے مفہوم میں کچھ کم کچھ زیادہ اور کہا ہے کہ کہا عبدالرزاق نے وہ کھائیاں نجران میں ہیں۔

عبد الرزاق و الأخدود بنجران ← معمر فذكره بمعناه يزيد وينقص ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1635

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1636

1636 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانىء ثنا الحسين بن الفضل البجلي ثنا عفان بن مسلم ثنا حماد بن سلمة أنا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أسري بي مرت بي رائحة طيبة فقلت : ما هذه الرائحة ؟ قالوا : هذه رائحة ما شطة ابنة فرعون وأولادها كانت تمشطها فوقع المشط من يدها فقالت : بسم الله فقالت ابنته : أبي ؟ فقالت : لا بل ربي وربك ورب أبيك فقالت : أخبر بذلك أبي ؟ قالت : نعم وأخبرته فدعا بها وبولدها فقال الك رب غيري ؟ قالت : نعم ربي وربك الله وأظنه قال : فأمر بنقرة من نحاس فاحميت ثم أمر بها فتلقى فيها فقالت : لي إليك حاجة قال : وما هي ؟ قالت : أن تجمع عظامي وعظام ولدي فتدفنه جميعا فقال : ذلك لك لما لك علينا من الحق فأتى بأولادها فألقى واحدا واحدا حتى إذا كان آخر ولدها وكان صيبا مرضعا فقال : اصبري يا أماه فإنك على الحق ثم ألقيت مع ولدها قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وتكلم أربعة وهم صغار هذا وشاهد يوسف وصاحب جريج و عيسى ابن مريم عليه السلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو محمد بن اصلح بن ہانی نے ان کو حسین بن فضل بجلی نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء السائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب مجھے سیر کرائی گئی میری ساتھ ایک پاکیزہ خوشبو گذری میں نے پوچھا یہ کیسی خوشبو ہے ؟ فر شتوں نے کہا یہ خوشبو ہے فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی کی ہے اور اس کی اولاد کی ہے وہ اسی کے ساتھ کنگھی کر رہی تھی ایک بات کنگھی اس کے ہاتھ سے گر گئی تو اس نے کہا تھا بسم اللہ۔ چنانچہ فرعون کی بیٹی نے سنا تو پوچھا اللہ سے تیری مراد کون ہے ؟ کیا میرا باپ مراد ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ وہ جو میرا رب ہے اور تیرا بھی رب ہے اور تیرے والد کا بھی رب ہے ۔ فرعون کی بیٹی نے پوچھا کہ کیا میں اس بات کی خبر اپنے والد کو دوں ؟ اس نوکرانی نے جواب دیا کہ بالکل اپنے والد کو بتادیں چنانچہ اس نے یہ بات فرعون کو بتادی ۔ لہذا فرعون نے اس خاتون کو اس کے بچوں سمیت بلایا اور کہا کہ کیا میرے سوا تیرا اور بھی کوئی رب ہے ؟ نوکرانی نے جواب دیا جی ہاں میرا اور تیرا بھی رب اللہ ہے میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا اس کے بعد فرعون نے حکم دیا تانبے کا ایک کڑھا گرم کیا گیا پھر اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس کو گرم کڑھے میں ڈال دو ۔ اس خاتون نے کہا میری ایک ضرورت ہے آپ کی طرف فرعون نے پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں اکٹھے دفن کرا دینا۔ فرعون نے حامی بھر لی کہ ٹھیک ہے ہم یہ کریں گے اس لئے کہ تیرا ہمارے اوپر حق ہے ۔ چنانچہ اس کی اولاد لائی گئی ایک ایک کرکے ماں کے سامنے سب کو کڑھے میں گرادیا گیا۔ جب آخری بچہ رہ گیا تو وہ چونکہ شیر خوار تھا وہ بولا اے میر ی امی تم صبر کرو بے شک تم حق پر ہو اس کے بعد وہ اپنے بچے سمیت ڈال دی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا چار لوگوں نے صغر سنی میں کلام کیا تھا یہ بچہ اور یوسف علیہ السلام کے حق میں گواہی دینے والا بچہ اور صاحب جریج اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1636

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1637

1637 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني ثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا يزيد بن هارون ( ح ) و أخبرنا أبو بكر الحيري أنا حاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد ثنا يزيد بن هارون أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال : كانت امرأة فرعون تعذب بالشمس فإذا انصرفوا عنها أظلتها الملائكة بأجنحتها و كانت ترى بيتها في الجنة لفظهما سواء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن یعقوب شیبانی نے اور ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوبکر حیری نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نے ان کو سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ فرعون کی عورت ( چونکہ مسلمان تھی) انہیں دھوپ میں سزا دی جاتی تھی جب فرعونی ان سے ہٹ جاتے فرشتے اس پرسایہ کرتے تھے اپنے پروں سے اور انہیں جنت میں ان کا گھر دکھایا جاتا تھا۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أبو بكر الحيري، ← و، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1637

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1638

1638 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو عبد الله الصغاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن ثابت عن أبي رافع قال : وتد فرعون لامرأته أربعة أوتاد ثم حمل على بطنها رحى عظيمة حتى ماتت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدللہ نے ان کو ابو عبداللہ صغانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ثابت نے ان کو ابو رافع نے انہوں نے کہا کہ فرعون نے اپنی بیوی کو چار میخیں ٹھونکوا دیں تھیں دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں میں اس کے بعد اس کے پیٹ پر بہت بھاری پتھر رکھ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئی۔

أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Hadith 1638

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1639

1639 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زيد القطان ثنا سعيد بن عثمان الأحواذي ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي و أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنا أبو محمد يحيى بن منصور القاضي ثنا أبو الفضل أحمد بن سلمة ثنا عبد الله بن معاوية الجمحي ثنا عبد العزيز بن محمد القسملي ثنا ضرار بن عمرو عن أبي رافع قال : وجه عمر بن الخطاب رضي الله عنه جيشا إلى الروم و فيهم رجلا يقال له عبد الله بن حذافة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم فأسروه الروم فذهبوا به إلى ملكهم فقالوا : إن هذا من أصحاب محمد فقال له الطاغية هل لك أن تنتصر و اشركك في ملكي و سلطاني ؟ فقال له عبد الله لو أعطيتني جميع ما تملك و جميع ما ملكته العرب و في رواية القطان و جميع مملكة العرب على أن أرجع عن دين محمد صلى الله عليه و سلم طرفة عين ما فعلت قال : إذا أقتلك قال : أنت و ذاك قال : فأمر به فصلب و قال : للرماة ارموه قريبا من يديه قريبا من رجليه و هو يعرض عليه و هو يأبى ثم أمر به فأنزل ثم دعا بقدر و صب فيها ماء حتى احترقت ثم دعا بأسيرين من المسلمين فأمر بأحدهما فألقي فيها و هو يعرض عليه النصرانية و هو يأبى ثم أمر به أن يلقى فيها فلما ذهب به بكى فقيل له : إنه بكى فظن أنه رجع فقال : ردوه فعرض عليه النصرانية فأبى قال : فما أبكاك إذا ؟ قال : أبكاني أني قلت في نفسي تلقى الساعة في هذا القدر فتذهب فكنت أشتهي أن يكون بعدد كل شعرة في جسدي نفس تلقى في الله عز و جل قال له الطاغية : هل لك أن تقبل رأسي و أخلي عنك ؟ قال عبد الله و عن جميع أساري المسلمين قال : و عن جميع أسارى المسلمين قال عبد الله : فقلت في نفسي عدو من أعداء الله أقبل رأسه يخلي عني و عن أسارى المسلمين لا أبالي فدنا منه و قبل رأسه فدفع إليه الأساري فقدم بهم على عمر فأخبر عمر خبره فقال عمر : حق على كل مسلم أن يقبل رأس عبد الله بن حذافة و أنا أبدأ فقام عمر فقبل رأسه قال أحمد بن سلمة سألني عن هذا الحديث محمد بن سلم و محمد بن أدريس و قالا لي ما سمعنا بهذا الحديث قط

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین محمد بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطعان نے ان کو سعید بن عثمان احوازی نے ان کو عبداللہ بن معاویہ نے جمحی نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو منصور عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو محمد بن یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو ابو الفضل احمد بن سلمہ نے ان کو عبداللہ بن معاویہ جمحی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد قسملی نے ان کو ضرار بن عمرو نے ان کو ابو رافع نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ان میں ایک آدمی تھے جنہیں عبداللہ بن حذافہ کہا جاتا تھا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے تھے رومیوں نے انہیں قید کر لیا اور اسے اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے اور جا کر کہا کہ یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب میں سے ہے اس سرکش نے اسے کہا کیا آپ کو دلچسپی ہے کہ آپ عیسائی بن جائے۔ چنانچہ میں آپ کو اپنی حکومت میں اور اپنے ملک اور سلطنت میں شریک کروں گا؟ حضرت عبداللہ بن حذافہ نے اس سے کہا اگر آپ مجھے وہ سب کچھ دے دیں جس کے آپ مالک ہیں اور وہ سب کچھ بھی عرب جس کے مالک ہیں۔ اور قطان کی ایک روایت میں ہے کہ ساری مملکت عرب اس شرط پر کہ میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دین چھوڑ دوں وہ بھی صرف اور صرف آنکھ جھپکنے کی دیر میں تو یہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ اور بادشاہ نے کہا کہ پھر میں تجھے قتل کروا دیتا ہوں انہوں نے جواب دیا کہ تم جانو اور تمہارا کام تمہیں اس کا اختیار ہے ۔ فرماتے ہیں چنانچہ اس نے حکم دیا انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا اور تیراندازوں سے کہا گیا کہ تیروں سے اس کے ہاتھوں اور پیروں کو نشانہ بنایا جائے، اور برابر اس پر اس کے عیسائی بننے کی دعوت پیش کرتا رہا اور حضرت عبداللہ بن حذافہ انکار کرتا رہا اس کے بعد اس نے کہا کہ اس کو صلیب سے اتار لو اس کے بعد ایک ہنڈیا دیگ میں پانی کھولا گیا اس کے بعد دو مسلمان قیدی بلائے ان میں سے ایک اس کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دیا گیا اور بادشاہ برابر اس کے عیسائیت کی دعوت پیش کرتا رہا اور وہ انکار کرتے رہے اس کے بعد حکم دیا کہ اس کو بھی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دو جب انہیں لے جایا جانے لگا تو وہ رونے لگے ، چنانچہ بادشاہ کو اطلاع کی گئی کہ وہ رو رہا ہے اس نے سوچا کہ شاید اب یہ شخص اسلام سے رجوع کرنا چاہتا ہے بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کو واپس لاؤ پھر اس نے ان کو عیسائیت پیش کی اس نے انکار کر دیا اس نے کہا پھر تم کیوں روئے تھے ؟ اس نے کہ مجھے اس خیال نے رولایا کہ میں نے دل میں یہ سوچا تھا کہ آپ اسی وقت مجھے گرم پانی میں ڈال دیں گے میں ختم ہو جاؤں گا مگر میری یہ خواہش تھی کہ میرے ہر ہر بال کی جگہ میری روح ہوتی لہذا میرا ہر ہر روح کے ساتھ جس کے ساتھ میں بار بار اللہ کی راہ میں قربان ہو کر اللہ سے جا کر ملتا اس سرکش نے ان سے کہا اگر تم مجھے میرے سر پر بوسہ دو تو میں تجھے چھوڑ دوں گا؟ حضرت عبداللہ بن حذیفہ نے کہا ایک شرط کے ساتھ دوں گا وہ یہ ہے کہ تم تمام مسلمان قیدیوں کو چھوڑ دو اس نے کہا ٹھیک ہے میں تمام مسلمان قیدی چھوڑ دوں گا حضرت عبداللہ قریب ہوئے اور س کے سر کو بوسہ دیا اور اس نے تمام قیدی حضرت عبداللہ کے حوالے کر دئیے وہ تمام قیدیوں کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ساری خبر سنا ئی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ ہر مسلمان پر حق بنتا ہے کہ ہر شخص حضرت عبداللہ کے سر کو بوسہ دے اور میں خود سب سے پہل کرتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عبداللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دیا۔ احمد بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھ سے اس حدیث کے بارے میں محمد بن مسلم اور محمد ادریس نے پوچھا اور دونوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث کبھی نہیں سنی۔

أَبِي رَافِعٍ ← ضرار بن عمرو ← عبد العزيز بن محمد القسملي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← أبو الفضل أحمد بن سلمة ← أبو محمد يحيى بن منصور القاضي ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ← عبد الله بن معاوية الجمحي و ← سعيد بن عثمان الأحواذي ← أبو سهل بن زيد القطان ← أبو الحسين محمد بن الفضل القطان

Hadith 1639

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1640

1640 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الفضل عبدوس بن الحسن بن منصور النيسابوري ثنا أبو حاتم الرازي الأنصاري حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال : كان الرجل يجيء فيسأله يعني النبي صلى الله عليه و سلم عن الشيء من أمر الدنيا فما يمسي حتى يكون الإسلام أحب إليه أو أعز عليه من الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوالفضل عبدوس بن حسین بن منصور نیساپوری نے ان کو ابو حاتم انصاری نے ان کو حمید طویل نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا ایک آدمی آتا تھا آ کر ان سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں پوچھتا تھا کسی شئی کے بارے میں دنیا کے امر سے ابھی شام نہیں ہوئی کہ اسلام اس کو دنیا سے محبوب ترین عزیز ترین ہو گیا۔

كان الرجل يجيء فيسأله يعني النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← أبو حاتم الرازي الأنصاري ← أبو الفضل عبدوس بن الحسن بن منصور النيسابوري ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1640

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1641

1641 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا أنا أبو محمد يحيى بن منصور القاضي ثنا علي بن جعفر بن نصر ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فأعطاه غنما بين جبلين فأتى قومه فقال أي قوم أسلموا فو الله إن محمدا يعطي عطاء رجل لا يخاف الفاقة و إن الرجل ليجيء إلى النبي صلى الله عليه و سلم ما يريد إلا الدنيا فما يمشي حتى يكون دينه أحب إليه أو أعز عليه من الدنيا بما فيها أخرجه مسلم من حديث يزيد بن هارون عن حماد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ دونوں نے کہا ان کو خبر دی ہے ابو محمد یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو علی بن نضر نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوال کیا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو بکریاں عطا فرمائیں جو دو پہاڑوں کے درمیان تھیں لہذا وہ انہیں لے کر اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا اے قوم اسلام لے آؤ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اتنا بڑا انعام دیتے ہیں کہ انسان کو فاقہ کا خوف نہیں رہتا اور بے شک ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آتا ہے صرف دنیا کا ارادہ کرتا ہے بس وہ واپس اس حالت میں لوٹتا ہے کہ اس کو اس کا دین زیادہ محبوب ہو جاتا ہے دنیا و مافیہا سے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے یزید بن ہارون کی حدیث سے حضرت حماد سے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← علي بن جعفر بن نصر ← أبو محمد يحيى بن منصور القاضي ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Hadith 1641

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1642

1642 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب هو ابن عطاء أنا أبو سعيد هو ابن أبي عروبة و هشام بن سنبر هو الدستوائي عن قتادة عن يونس بن جبير قال : شيعنا جنديا فقلنا أوصنا فقال : أوصيكم بالقرآن فإنه نور الليل المظلم و هدي النهار فاعملوا به على ما كان من جهد و فاقة فإن عرض بلاء فاجعل ذلك دون نفسك فأن جاوزك البلاء فاجعل نفسك دون دينك فإن المحرور من حرر دينه و إن المسلوب من سلب دينه لأنه لا فقر بعد الجنة و لا غنى بعد النار إن النار لا يفك أسيرها و لا يستغني فقيرها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب یعنی ابن عصاء نے ان کو ابو سعید نے وہ ابن عروبہ ہیں اور ہشام بن سبز نے وہ دستوائی ہیں ان کو قتادہ نے ان کو یونس بن جبیر نے ہم ایک مجاہد سے ملے ہم نے کہا ہمیں وصیت کیجئے اس نے وصیت کرتے ہوئے کہا، میں تمہیں قرآن کے بارے میں وصیت کرتا ہوں ۔ قرآن اندھیری رات کا نور اور روشنی ہے ۔ دن کی ہدایت اورنمونہ ہے ۔ قرآن کے ساتھ عمل کرو مشقت کے ساتھ ہو یا فاقہ کے ساتھ اگر کوئی آزمائش آن پڑے تو اسی کو اپنے آگے کردو اور اگر آزمائش تجھ سے گذر جائے ٹل جائے تو اپنے نفس کو اپنے دین کے آگے کر دو بے شک آزاد وہ ہے جس کا دین آزاد ہو اورلٹا ہوا وہ ہے جس کا دین چھن جائے، اس لئے کہ جنت مل جانے کے بعد کوئی فقر باقی نہیں ہوگا اور جہنم میں چلے جانے کے بعد غنی ہونا کام نہیں دے گا اس لئے کہ جہنم کا قیدی چھوٹتا نہیں ہے نہ ہی اس کا فقیر کبھی غنی ہو سکے گا۔

شيعنا جنديا فقلنا أوصنا ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← أبو سعيد هو ابن أبي عروبة و هشام بن سنبر هو الدستوائي ← عبد الوهاب هو ابن عطاء ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1642

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1643

1643 - أخبرنا أبو الحسين الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني عقبة بن مكرم عن سعيد بن عامر عن أبي بن كعب قال : أردت أن أخرج إلى الفتنة قال : قلت للحسن أوصني قال : أعز أمر الله أينما كنت يعزك الله رواه جعفر بن سليمان عن أبي

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین فضل بن قطان نے ان کو عبد بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عقبہ بن مکرم نے ان کوسعید بن عامر نے ان کو ربی بن کعب نے کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ میں فتنہ اور آزمائش کی طرف نکلوں انہوں نے فرمایا میں نے حسن سے کہا تھا کہ اپ مجھے کوئی وصیت فرمائیے فرمایا کہ آپ اللہ کے حکم کی عزت کیجئے آپ جہاں کہیں بھی ہوں اللہ تجھے عزت دے گا۔ اس کو جعفر بن سلیمان ابن سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي ← أعز أمر الله أينما كنت يعزك الله رواه جعفر بن سليمان ← قلت للحسن أوصني ← أردت أن أخرج إلى الفتنة ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو الحسين الفضل القطان

Hadith 1643

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1644

1644 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن علي الوراق ثنا أبو النعمان ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن الحسن قال : إن الله عز و جل لو شاء لوكل هذا الأمر إلى العباد أو الناس فقال : من اجتهد لي جزيته و لكن أمر بأمر و نهى عن أمر ثم قال : اجتهدوا فيما أمرتكم

ہمیں خبر دی ہے ابوعلی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو ابو نعمان نے ان کو حماد بن زید نے ایوب سے انہوں نے حسن سے انہوں نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو اس امر کو بندوں کے سپرد کرتے یا کہا تھا لوگوں کے سپرد کرتے پس انہوں نے فرمایا کوشش کرو ان امور میں جن میں میں نےتمہیں حکم دیا۔

الْحَسَنِ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1644

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1645

1645 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الخياط يقول سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعمال المراقبة ايثار ما أنزل الله و تعظيم ما عظم الله و تصغير ما صغر الله قال : و ثلاثة من أعلام الاعتزاز بالله التكاثر بالحكمة و ليس بالعشيرة و الاستعانة بالله و ليس بالمخلوقين و التذلل لأهل الدين في الله و ليس لأبناء الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد اسحاق نے انہوں نے سنا ابو عثمان خیاط سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ فرماتے تھے ۔ تین اعمال اعمال مراقبہ میں سے ہیں اللہ نے جو کچھ اتارا ہے اس کا ایثار ۔ اللہ نے جس کو عظمت دی ہے اس کی تعظیم ، اللہ نے جس کو ذلت دی کہ اس کو ذلیل رکھنا ۔ اور فرمایا کہ تین چیزیں اللہ سے عزت حاصل کرنے کی نشانیاں ہیں ۔ حکمت و دانائی کو کثرت سے ڈھونڈھنا۔ کنبہ قبیلے کی نہیں۔ اللہ سے مدد مانگنا مخلوق سے نہیں ۔ اہل دین کے آگے اظہار عجز و ذلت اختیار کرنا اہل دنیا کے لئے نہیں۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1645

شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1646

1646 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو نصر محمد بن علي و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الله بن هلال بن الفرات ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا أبو جعفر البجلي ثنا قبيصة عن سفيان قال : لما جاء البشير إلى يعقوب عليه السلام قال : على أي دين تركت يوسف قال : على الإسلام قال : الآن تمت النعمة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے اور ابون صر محمد بن علی اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن ہلال بن فرات نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو ابو جعفر بجلی نے ان کو قبیصہ نے سفیان سے کہتے ہیں کہ جب یوسف کی بشارت دینے والا یعقوب علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ یوسف کو کس دین پر چھوڑ کر آئے ہو اس نے کہا کہ اسلام پر یعقوب علیہ السلام نے کہا اب نعمت پوری ہو گئی ہے ۔

الْآنَ تَمَّتِ النِّعْمَةُ ← عَلَى الْإِسْلَامِ ← عَلَى أَيِّ دِينٍ تَرَكْتَ يُوسُفَ؟ ← لَمَّا جَاءَ الْبَشِيرُ إِلَى يَعْقُوبَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَجَلِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ هِلَالِ بْنِ الْفُرَاتِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 1646

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood