Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1586

1586 - و روينا عن ابن أبي أوفى أن أباه : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بصدقته فقال : اللهم صل على آل أبي أوفى

اور ہم نے اس ابواوفیٰ سے روایت کی ہے کہ ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنا صدقہ لائے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا:۔ "اللھم صلی علی ال ابی اوفی"۔ اے اللہ ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← و روينا

Hadith 1586

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم و المباركة و الرحمة ـ · حديث 1587

1587 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى الحيري قال : ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير بن منصور عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن عمر قال : نعم العدلان و نعم العلاوة ( الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون أولئك عليهم صلوات من ربهم و رحمة ) نعم العدلان و أولئك هم المهتدون نعم العلاوة قال الحليمي رحمه الله : قيل في تفسير قوله عز و جل : { أولئك عليهم صلوات من ربهم } أنه الثناء من الله تعالى عليهم و المدح و التزكية لهم و قوله : { و رحمة } أنها كشف الكربة و قضاء الحاجة و قوله : { أولئك هم المهتدون } يحتمل و ألئك المصيبون طريق الحق دون من خالفهم فجزع على المفقود و بالسخط المعهود و أشار الحليمي إلى الحديث الذي :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ حیری نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا ہے مسدد بن قطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو جریر بن منصور نے ان کو مجاہد نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو حضرت عمر نے کہ دو بہتریں حصے یا بدلے ہیں اور بہتر بلندی اور عظمت ہے ۔ (اس آیت) " الذین اذا صابتھم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون، اولئک علیھم صلوات من ربھم و رحمۃ " یہ بہترین حصے اور بدلے ہیں اور بہترین عظمت" اولئک ھم المھتدون " ہے ۔

عُمَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُجَاهِدٍ ← جرير بن منصور ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1587

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في معنى الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم و المباركة و الرحمة ـ · حديث 1588

1588 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ : و عدهن في يدي قال : عدهن في يدي أبي بكر بن أبي درام الحافظ بالكوفة و قال : عدهن في يدي علي بن أحمد العجلي قال : لي عدهن في يدي حرب بن الحسن الطحان و قال لي : عدهن في يدي يحيى بن المساور الحناط و قال لي : عدهن في يدي عمرو بن خالد و عد الإمام أحمد في أيدي من سمع منه ح قال : و ثنا أبو عبد الرحمن السلمي و عدهن في يدي أنا أبو الفضل محمد بن عبد الله الشيباني بالكوفة و عدهن في يدي أنا أبو القاسم علي بن محمد بن الحسن بن لاس بالرملة و عدهن في يدي ثنا جدي لأبي سليمان بن إبراهيم بن عبد الله المحاربي و عدهن في يدي ثنا نصر بن مزاحم المنقري و عدهن في يدي ثنا إبراهيم بن الزبرقان و عدهن في يدي ثنا أبو خالد عمرو بن خالد و عدهن في يدي قال لي : عدهن في يدي زيد بن علي و قال لي : عدهن في يدي أبي الحسين بن علي و قال لي عدن في يدي علي بن أبي طالب و قال لي : عدهن في يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عدهن في يدي جبريل عليه السلام و قال جبريل هكذا انزلت من عند رب العزة : اللهم صل على محمد و آل محمد كما صليت على إبراهيم و على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على إبراهيم و على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم و ترحم على محمد و على آل محمد كما ترحمت على إبراهيم و على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم و تحنن على محمد و على آل محمد كما تحننت على إبراهيم و على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم و سلم على محمد و على آل محمد كما سلمت على إبراهيم و على آل إبراهيم إنك حميد مجيد زاد أبو عبد الله في روايته و قبض حرب خمس أصابعه و قبص أحمد بن علي العجلي خمس أصابعه و قبض شيخنا أبو بكر خمس أصابعه قال البيهقي : و قبض شيخنا أبو عبد الرحمن خمس أصابعه و هكذا أبلغنا هذا الحديث و هو إسناد ضعيف و أما المباركة فإنها فضل الله تعالى جده و إنما يكون هذا التبريك و هو أن يقول اللهم بارك على محمد و أصل البركة الدوام و هو من برك البعير إذا ناخ في موضع يلزمه و قد يوضع موضع النماء و الزيادة و أصلها ما ذكرنا لأن تزايد الشيء موجب دوامه و قد يوضع أيضا موضع التيمن فيقال للميمون مبارك الشيء موجبة دوامه و قد يوضع أيضا موضوع اليمن بمعنى أنه محبوب و مرغوب فيه و ذلك لا يخالف ما قلنا لأن البركة إذا أريد بها الدوام فإنما يستعمل ذلك فيما يراد و يرغب في بقائه فإذا قلنا : اللهم بارك على محمد فالمعنى اللهم أدم ذكر محمد و دعوته و شريعته و كثر أتباعه و أشاعيه و عرف أمته من يمنه و سعادته أن تشفعه فيهم و تدخلهم جناتك و تحلهم دار رضونك فيجمع التبريك عليه الدوام و الزيادة و السعادة و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ۔ اور ان کو انہوں نے شمار کیا ہے میرے ہاتھ پر انہوں نے فرمایا کہ میرے ہاتھ پر ابوبکر بن ابی دارم حافظ نے کوفہ میں شمار کیا ہے ۔ اور انہوں نے کہا ہے کہ ان کو شمار کیا ہے علی بن احمد عجلی نے میرے ہاتھوں پر ۔ انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ حرب بن حسن طحان نے ہاتھوں پر اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کو میرے ہاتھ پر شمار کیا ہے ۔ یحییٰ بن مساور حناط نے اور انہوں نے کہا شمار کیا ہے عمرو بن خالد نے ہاتھوں میں اور ان کو امام احمد نے شمار کیا ہے ابولفضل کے ہاتھوں میں اور وہ محمد بن عبداللہ شیبانی ہیں کوفے میں۔ اور ان کو شمار کیا ہے ابو القاسم علی بن محمد بن حسن بن لاس کے ہاتھوں مقام رملہ میں اور انہوں نے اس کو شمار کیا ہے جدی ابو سلیمان بن ابراہیم بن عبداللہ محاربی نے انہوں نے نصر بن مزاحم منقری سے انہوں نے ابراہیم زبرقان سے انہوں نے ابو خالد سے انہوں نے عمرو بن خالد سے اور انہوں نے زید بن علی سے انہوں نے ابوعلی بن حسین سے انہوں نے ابوالحسین بن علی سے انہوں نے علی ابو طالب سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کہ ان کو جبرئیل نے شمار کیا میرے ہاتھوں میں اور جبرائیل نے کہا کہ رب العزت کی طر سے اسی طرح اتارا گیا ہے ۔ (1)۔۔۔ اللھم صلی علی محمد وعلیٰ ال محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ (2)۔۔۔ اللھم بارک علی محمد وعلیٰ ال محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ (3)۔۔۔ اللھم وترحم وعلیٰ ال محمد کماتر حمت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ (4)۔۔۔ اللھم تحنن علیٰ محمد وعلیٰ ال محمد کما تحنت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ (5)۔۔۔ اللھم وسلم علی محمد وعلیٰ ال محمد کما سلمت علی ابراھیم و علی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ اور عبدالہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حرب نے اپنی پانچویں انگلیوں کو بند کر لیا اور احمد بن علی عجل نے اپنی پانچویں انگلیوں کو بند کر لیا۔ اور ہمارے شیخ ابوبکر نے اپنی پانچوں انگلیوں کو بند کر لیا۔

أبو عبد الله الحافظ و عدهن في يدي

Hadith 1588

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1589

1589 - و قد سمعت أبا بكر محمد بن بكر الطوسي الفقيه يقول : سمعت أبا الحسن الماسرجسي يقول سمعت أبا إسحاق المروزي : أنا أعتقد أن الصلاة على آل النبي صلى الله عليه و سلم واجبة في التشهد الآخير من الصلاة قال البيهقي رحمه الله : و في الأحاديث التي رويت في كيفية الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم الدلالة على صحة ما قال و الله أعلم و اختلفوا في آل النبي صلى الله عليه و سلم

میں نے سنا ابوبکر محمد بن بکر طوسی فقیہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ہے ا بوالحسن ماسر جسی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو اسحاق مروزی سے کہ میں یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ آل نبی پر نماز کے آخری تشہد میں صلوٰۃ واجب ہے ۔

أبا إسحاق المروزي ← أبا الحسن الماسرجسي ← أبا بكر محمد بن بكر الطوسي الفقيه ← و قد

Hadith 1589

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1590

1590 - ـ : فذهب الشافعي رحمه في رواية حرملة إلى أنهم بنو هاشم و بنو عبد المطلب الذين حرمت عليهم الصدقة و جعل لهم سهم ذي القربى من خمس الفيء و الغنيمة استدلالا بما روينا في الحديث الثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن هذه الصدقة لا تحل لمحمد و لا لآل محمد

امام شافعی رحمۃاللہ علیہ حرملہ کی روایت میں اس طرح گئے ہیں کہ آل نبی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں جن پر صدقہ حرام کر دیا گیا ہے اور ان کے لئے ذوالقربیٰ کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے ۔ یعنی مال فئے کا پانچواں حصہ اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ۔ امام شافعی اس قول کے لئے اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں جسے ہم نے حضرت ثابت سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ صدقہ محمد اور آل محمد کے لئے حلال نہیں ہے ۔

Hadith 1590

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1591

1591 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا هشام بن علي ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن عبد الله بن محمد عن أبي سلمة عن عائشة رضي الله عنها أو عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ضحى آتي بكبشين أقرنين أملحين موجوأين فذبح أحدهما عن أمته من شهد له بالتوحيد و شهد بالبلاغ و يذبح الآخر عن محمد و عن آل محمد و في هذا دلالة على أن اسم الآل للقرابة الخاصة لا لعامة المؤمنين

ہمیں خبر دی ہے علی بن عبدان (1) نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ابو سلمہ سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قربانی کرتے تھے ؟ تو دو مینڈھے سینگوں والے سفید و سیاہ خصی ذبح کرتے تھے ایک کو محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کرتے تھے دوسرے کو اپنی امت کے ہر اس فرد کی طرف سے کرتے تھے جس نے توحید کی شہادت دی ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام دینے کی شہادت دی ہے۔ اس حدیث میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ آل کا اسم قرابت خاص کے لئے ہےعام مؤمنوں کے لئے نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَائِشَةَ أَوْ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1591

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1592

1592 - و الحديث الذي روي في الأول أنه كل تقي فإنه إنما رواه نافع أبو هرمز عن أنس بن مالك مرفوعا و أبو هرمز ضعفه أهل العلم بالحديث و تركوه و قد حمله الحليمي رحمه الله : على كل تقي من القرابة و أما أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فإن اسم أهل البيت لهن تحقيق و قد سمين آل النبي صلى الله عليه و سلم تشبيها بالنسب

وہ حدیث جو شروع میں روایت کی گئی ہے کہ آل ہر متقی پرہیز گار ہے اس کی حالت یہ ہے کہ اس کو نافع نے ابوہرمز سے روایت کیا ہے اس نے اس کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابو ہرمز کی حالت یہ ہے کہ اس کو اہل علم بالحدیث نے ضعیف قرار دیا ہے اور اس کو ترک کر دیا ہے ۔ البتہ شیخ حلیمی رحمۃاللہ علیہ نے اس حدیث میں تاویل کی ہے وہ یہ کہ انہوں نے اس سے مراد تقی من القرابت مراد لیا ہے ۔ یعنی جو مذکورہ قرابت رسول میں متقی ہو۔

Hadith 1592

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1593

1593 - و قد روينا في الحديث الثابت : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال إنما يأكل آل محمد من هذا المال

اور ہم سے حدیث ثابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا سوائے اس کے نہیں ہے کہ آل محمد اسی مال سے کھائیں۔

إنما يأكل آل محمد من هذا المال ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← و قد روينا في الحديث الثابت

Hadith 1593

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1594

1594 - و عن عائشة رضي الله عنه قالت : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم منذ قدم المدينة من طعام بر ثلاث ليال تباعا حتى قبض

اور سیدہ عائشہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ آل محمد نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں جب سے مدینے میں آئے ہیں گندم کی روٹی سے مسلسل تین راتیں یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم فوت ہو گئے۔

عَائِشَةَ ← و،

Hadith 1594

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1595

1595 - و قالت : إن كنا آل محمد لنمكث شهرا ما نستوقد بنار

اور فرماتی ہیں کہ ہم لوگ آل محمد مہینہ مہینہ رکے رہتے ہم لوگ آ گ نہیں جلاتے تھے (یعنی پکانے کے لئے۔ )

إن كنا آل محمد لنمكث شهرا ما نستوقد بنار ← و،

Hadith 1595

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1596

1596 - و عن أبي هريرة أنه قال : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم من طعام ثلاثة أيام حتى قبض و إنما أراد بذلك أزواجه فدل ذلك على دخولهن في اسم الآل

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ آل محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھانا تین دن بھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا ۔ یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہاں آل سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مراد لی ہیں ۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ازواج رسول آل کے نام میں داخل ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← و،

Hadith 1596

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1597

1597 - و روينا في حديث أبي حميد الساعدي : في كيفية الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم تعليم النبي صلى الله عليه و سلم أمته بتسمية أزواجه عند الصلاة عليه فدل ذلك على دخولهن في الصلاة عند الصلاة على الآل و الله أعلم و مما يدخل في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلم أن لا يقابل قول يحكى عنه أو فعل له بوصف أو حال له تذكر بما يكون أزراء به و لا يسمى بشيء من الأسماء التي هي في متعارف الناس من أسماء الصنعة فلا يقال كان النبي فقيرا أو يقال إذا ذكرت مجاعته أو شدة لقيها مسكين كما يقال ذلك في مثل هذه الحال لغير ترحما و تعطفا عليه و إن قيل كان النبي صلى الله عليه و سلم محب لذلك فقابله أحد بأن يقول أما أنا فلا أحبه

اور ہم نے ابوحمید ساعدی کی کی حدیث میں روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجنے کی کیفیت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو تعلیم دی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتے وقت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازاوج کو بھی شامل کیا جائے اور ان کا نام بھی لیا جائے لہذا یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ " آل پر صلوٰۃ " بھیجنے کے وقت صلوٰۃ کے حکم میں داخل ہیں اور جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم میں داخل ہے وہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کسی قول اور کسی بھی فعل کا کسی ایسے وصف سے یا کسی ایسے حال سے تقابل نہ کیا جائے جس سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تحقیر ہوتی ہو یا کسر شان ہوتی ہو، اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کسی ایسے نام سے موسوم نہ کیا جائے جو لوگوں میں بطور صنعت و حرفت مشہور ہوں یا متعارف ہوں۔ اور مطلقاً یوں بھی کہا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم وفقیر تھے ۔ یا آپ کی بھوک یا اس کی شدت کا ذکر کرکے یوں بھی نہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسکین تھے نادار تھے جیسا کہ ایسی حالت میں کسی دوسرے انسان کے لئے ازراہ ترس اور شفقت کے یا ازراہ مہربانی کے یہ کہہ دیا جاتا ہے ۔ اور اسی طرح یوں بھی نہ کہا جائے کہ کوئی کہنے والا یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ چیز پسند تھی اور دوسرا اس کے مقابلے میں یوں کہہ رہا ہو کہ بہرحال میں تو اس کو پسند نہیں کرتا۔

فلا أحبه ← إِمَّا

Hadith 1597

chevron_left Previous
1…678910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood