شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1574
1574 - أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني ثنا عبد الله بن محمد بن موسى بن كعب ثنا محمد بن سليمان ثنا عمر بن حفص بن غياث حدثني أبي عن محمد بن عمرو : فذكره
ہمیں خبر دی ہے ابو سہل احمد بن محمد بن ابراہیم مہرانی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسیٰ بن کعب نے ان کو محمد بن سلیمان نے ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عمرو نے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، فَذَكَرَهُ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عبد الله بن محمد بن موسى بن كعب ← أبو سهل أحمد بن محمد بن إبراهيم المهراني
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1574
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1575
1575 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف المصري بمكة أنا أبو الفضل العباس بن محمد بن نصر الرافقي أملاء ثنا الحسن بن علي بن زرعة ( الحيرلائي ) ثنا عامر بن سيال ثنا عبد الكريم عن أبي إسحاق الهمداني عن الحارث و عاصم بن ضمرة عن علي بن أبي طالب قال : كل دعاء محجوب عن السماء حتى يصلى على محمد و على آل محمد صلى الله عليه و سلم كذا وجدته موقوفا و قد
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن محمد فضؒ بن نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو الفضل عباس بن محمد بن نصر رافقی نے بطور املاء کے ان کو حسین بن علی بن رزعہ حیر لائی نے ان کو عامر بن سیال نے ان کو عبدالکریم نے ابو اسحاق ھمدانی سے انہوں نے حارث سے اور عاصم بن ضمرہ سے انہوں نے علی بن ابی طالب سے وہ کہتے ہیں کہ ہر دعا اوپر جانے سے روک دی جاتی ہے یہاں تک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر رحمت بھیجی جائے ۔ میں نے اس روایت کو اسی طرح موقوف پایا ہے ۔
كل دعاء محجوب ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الحارث و عاصم بن ضمرة ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عامر بن سيال ← الحسن بن علي بن زرعة الحيرلائي ← أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّافِقيُّ -إِمْلَاءً-، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ،
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1575
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1576
1576 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن كوفي العدل ثنا محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبهاني ثنا سهل بن عثمان العسكري ثنا نوفل بن سليمان عن عبد الكريم الجزري عن ابن إسحاق عن الحارث عن علي قال : قال رسول الله 0 :
الدعاء محجوب عن الله حتى يصلى على محمد و على آل محمد
ہمیں خبر دی ہے ا بو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن کوفی عدل نے ان کو محمد بن عبداللہ بن حسن اصفہانی نے ان کو سہل بن عثمان عسکری نے ان کو نوفل بن سلیمان نے عبدالکریم جزری سے انہوں نے ابن اسحٰق سے انہوں نے حارث سے انہوں نے علی المرتضیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ دعا اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچنے سے (یعنی قبولیت سے) روک لی جاتی ہے یہاں تک کہ محمد اور ال محمد پر درود بھیجی جائے۔
عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← نوفل بن سليمان، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبهاني ← أحمد بن كوفي العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1576
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1577
1577 - ورويناه من وجه آخر عن مالك بن دينار عن أنس بن مالك مرفوعا : ـ
اور ہم نے ایک دوسرے طریق سے اس کو روایت کیا ہے حضرت مالک بن دینار سے انہوں نے حضرت انس بن مالک سے طبور مرفوع روایت کیا ہے۔
أنس بن مالك مرفوعا ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← وَرُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1577
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1578
1578 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا زيد بن الحباب ثنا موسى بن عبيدة الربذي حدثني إبراهيم بن محمد بن إبراهيم التيمي و كان جده من المهاجرين الأولين عن أبيه عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تجعلوني كقدح الراكب إن الراكب يملا قدحه ما ثم يضعه ثم يأخذ في معاليقه حتى إذا فرغ جاء إلى القدح فإن كان له حاجة في الشراب شرب و إن لم يكن له حاجة في الشراب توضأ فإن لم يكن له حاجة في الوضوء اهراقه و لكن اجعلوني في أول الدعاء و في آخر الدعاء
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی عفان نے ان کو زید بن حباب نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ ربذی نے ان کو ابراہیم بن محمد بن ابراہیم تمیمی نے اور ان کا دادا مہاجرین اولین میں سے تھا ۔ وہ اپنے والد سے وہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے سوار کے پیالے کی مانند نہ بناؤ کہ سوار اپنے پیالے کو بھر لیتا ہے ۔ پھر اس کو اس کی قناتوں میں ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوتا ہے اپنے پیالے کے پاس آتا ہے اگر اسے پینے کی حاجت ہوتی ہے تو پیتا ہے اگر اسے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی تو وضو کرتا ہے اگر اسے وضو کی ضرورت نہیں ہوتی تو اس پانی کو ضائع کر دیتا ہے اول تم لوگ مجھے اپنی دعا کے لیکن میں اور آخر میں شامل کیا کرو۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن إبراهيم التيمي و كان جده من المهاجرين الأولين ← موسى بن عبيدة الربذي ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1578
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1579
1579 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان الثوري عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي كعب عن أبيه قال للنبي صلى الله عليه و سلم : كم اجعل لك من صلاتي قال : ما شئت قال : الثلث قال : ما شئت و إن زدت فهو أفضل
قال : النصف قال : ما شئت و إن زدت فهو أفضل قال : اجعل لك صلاتي كلها قال : إذا يكفيك الله همك و يغفر لك ذنبك
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ قاضی نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے طفیل بن ابی کعب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا میں آپ کے لئے کتنی درود پڑھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم جس قدر بھی چاہو ، عرض کیا کہ ایک تہائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس قدر تم چاہو ہاں سنو اگر تم نے زیادہ کیا تو یہ افضل ہوگا اس نے عرض کیا کہ آدھا وقت آپ نے فرمایا جس قدر تم چاہو ہاں سنو اگر تم نے زیادہ کیا تو یہ افضل ہوگا۔ لہذا انہوں نے عرض کیا کہ ایسے میں اللہ تعالیٰ تیرے ہر غم میں تجھے کفایت کرے گا۔ اور تیرے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے۔
إذا يكفيك الله همك و يغفر لك ذنبك ← اجعل لك صلاتي كلها ← ما شئت و إن زدت فهو أفضل ← النصف ← ما شئت و إن زدت فهو أفضل ← الثُّلُثُ ← مَا شِئْت. ← للنبي صلى الله عليه و سلم كم اجعل لك من صلاتي ← أَبِيهِ ← الطفيل بن أبي كعب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1579
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1580
1580 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح و ابن بكير عن الليث عن عقيل عن ابن شهاب أخبرني محمد بن يحيى بن حبان أن رجلا : قال : يا رسول الله إني أريد أن اجعل صلاتي كلها لك قال : إذا يكفيك الله أمر دنياك و آخرتك
هذا مرسل جيد و هو شاهد لما تقدم
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو عقیل نے ان کو ابن شہاب نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حبان نے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنی کل صلوٰۃ ( یعنی رحمت بھیجتا رہوں ہر وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کردو (یعنی ہر وقت صلوٰۃ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تیری دنیا اور تیری آخرت کے ہر معاملے میں تجھے کفایت کریں گے۔ یہ حدیث مرسل ہے اور جید ہے اور یہ حدیث ماقبل والی حدیث کے لئے شاہد ہے۔
محمد بن يحيى بن حبان أن رجلا ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أبو صالح و ابن بكير ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1580
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1581
1581 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترقفي ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا حيوة بن شريح عن أبي صخر عن يزيد بن عبد الله ابن قسيط عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من أحد يسلم علي إلا رد الله إلي روحي حتى أرد عليه السلام
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو حیوۃ بن سریح نے ان کو ابو صغرہ نے ان کو یزید بن عبداللہ قسیط نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کوئی بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ میری روح میری طرف لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يزيد بن عبد الله ابن قسيط ← أَبِي صَخْرٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1581
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1582
1582 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو نعيم ثنا شقيق عن عبد الله بن السائب عن زذان عن ابن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن لله ملائكة سياحين في الأرض يبلغوني عن أمتي السلام
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو شقیق نے ان کو عبداللہ بن سائب نے ان کو زاذان نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ کی زمین پر گھومنے والے کچھ فرشتے ہیں جو مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔
أمتي السلام ← إن لله ملائكة سياحين في الأرض يبلغوني ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زذان ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← شَقِيقٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1582
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1583
1583 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري ثنا عيسى بن عبد الله الطاليسي ثنا العلاء بن عمرو الحنفي ثنا أبو عبد الرحمن عن الأعمش ( ح )
و أخبرنا : أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين أحمد بن عثمان الأدمي ثنا محمد بن يونس بن موسى ثنا الأصمعي ثنا محمد بن مروان السدي عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من صل علي عند قبري و كل بهما ملك يلغني و كفى بهما أمر دنياه و آخرته و كنت له شهيدا أو شفيعا هذا اللفظ حديث الأصمعي و في رواية الحنفي قال : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صلى علي عند قبري سمعته و من صلى علي نائيا أبلغته
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو بن بختری نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ طالیسی نے ان کو علاء بن عمرو حنفی نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو اعمش نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابوالحسین احمد بن عثمان آدمی نے ان کو محمد بن یونس بن موسیٰ اصمعی نے ان کو محمد بن مروان سدی نے ان کو اعمش نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ " من صل علی عند قبری وکل بھما ملک یبلغی" ، جو شخص مجھ پر رحمت کی دعا کرے میری قبر کے پاس اس کے لئے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو کہ مجھے وہ درود رحمت پہنچا دیتا ہے اور دنیا و آخرت کے اس معاملے کی کفایت کرتا ہے اور میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ ہوں گا یا فرمایا کہ سفارشی ہوں گا۔ یہ الفاظ اصمعی کی حدیث کے ہیں، اور حنفی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روایت ہے جو شخص مجھ پر رحمت بھیجے میرے قبر کے پا میں اس کو سنتا ہوں اور جو شخص مجھ پر رحمت اور صلوات بھیجے وہ مجھ تک پہنچا دی جاتی ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُوسَى ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← عيسى بن عبد الله الطاليسي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ← أبو حسين بن بشران
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1583
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1584
1584 - أخبرنا أبو حسين بن بشران و أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي قالا ثنا حمزة بن محمد بن العباس ثنا أحمد بن الوليد ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا إسرائيل عن أبي يحيى عن مجاهد عن ابن عباس قال : ليس أحد من أمة محمد صلى الله عليه و سلم صلى عليه صلاة إلا و هي تبلغه يقول الملك فلان يصلي عليك كذا و كذا و صلاة
ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران اور ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حرفی نے دونوں نے کہا ہمیں حمزہ بن محمد بن عباس نے ان کو احمد بن ولید نے ان کو احمد زبیری نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے کہا کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے مگر یہ درود اور صلوات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتے ہیں اور فرشتہ یوں کہتا ہے فلاں شخص آپ کے اوپر ایسے ایسے صلوٰۃ بھیجتا ہے۔
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1584
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1585
1585 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا محمد بن جحش ثنا سفيان عن أبي سهل عثمان بن حكيم عن عكرمة عن ابن عباس قال : لا ينبغي لأحد الصلاة على أحد إلا على النبي صلى الله عليه و سلم
قال سفيان : يكره الصلاة على غير النبي صلى الله عليه و سلم
قال البيهقي رحمه الله : ـ كذا روي عن ابن عباس و كذا قاله سفيان الثوري و إنما أراد و الله أعلم إن كان ذلك على وجه التعظيم و التكريم عند ذكره ( ) و إنما ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم خاصة فإذا كان ذلك على وجه الدعاء و التبريك فإن ذلك جائز لغيره
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن حاتم زاہد نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو محمد بن حجش نے ان کو سفیان نے ان کو ابو سہل عثمان بن حکیم نے ان کو عکرمہ نے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے یہ شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی پر رحمت اور درود بھیجے سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ( یعنی صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جائے)سفیان نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی دوسرے کے لئے صلوٰۃ ( درود ) بھیجنا مکروہ اور نا پسندیدہ بات ہے۔
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1585