Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1562

1562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي : فذكره بإسناده غير أنه قال : إنا لنعرف وجهك الآن البشر يا رسول الله قال أجل أتاني الآن آت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے پھر اس کو اس نے ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کہ فرمایا:۔ بے شک اس وقت ہم آپ کے چہرے پر خوشی محسوس کر رہے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

لنعرف وجهك الآن البشر ← إسماعيل بن إسحاق القاضي فذكره بإسناده غير أنه ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1562

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1563

1563 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الشافعي ثنا محمد بن مسلمة الواسطي ثنا يعقوب بن محمد ثنا أبو القاسم بن أبي الزناد عن موسى بن يعقوب عن عبد الله بن كيسان عن سعيد بن أبي سعيد عن عتبة عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة كذا قال و رواه عباس بن أبي شملة عن موسى عن عبد بن كيسان عن عتبة بن عبد الله عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن ابراہیم شافعی نے ان کو محمد بن مسلمہ واسطی نے ان کو یعقوب بن محمد نے ان کو ابو القاسم بن ابوالزناد نے ان کو موسیٰ بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن کیسان نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو عتبہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ زیادہ درود صلوٰۃ بھیجتا ہوگا۔ اسی طرح فرما اور روایت کیا ہے عباس بن ابو شملہ نے موسیٰ سے انہوں نے عبدین بن کیسان سے انہوں نے عتبہ بن عبداللہ سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عُتْبَةُ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ← أبو بكر محمد بن إبراهيم الشافعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1563

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1564

1564 - و رويناه عن خالد القطواني عن موسى بن يعقوب عن عبد الله بن كيسان عن عبد الله بن شداد عن أبيه عن ابن مسعود أخبرناه أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا ابن منيع ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا خالد بن مخلد القطواني ثنا موسى بن يعقوب الزمعي أخبرني عبد الله بن كيسان أخبرني عبد الله بن شداد بن الهاد : فذكره و رواه محمد بن عثمة عن عبد الله بن كيسان عن عبد الله بن شداد عن عبد الله بن مسعود و لم يقل عن أبيه

ہم نے اس کو روایت کیا ہے خالد قطوانی نے انہوں نے موسیٰ بن یعقوب سے انہوں نے عبداللہ بن کیسان سے انہوں نے عبداللہ بن شداد سے انہوں نے ان کے باپ سے انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو ابن منیع نے ان کو ابوبکر بن ابو شیبہ نے ان کو خالد بن مخلد قطوانی نے ان کو موسیٰ بن یعقوب زمعی نے ان کو خبر دی عبداللہ بن کیسان نے ان کو عبداللہ بن شداد بن ھاد نے۔ پھر اسی حدیث کو انہوں نے ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے محمد بن عثمہ نے ان کو عبداللہ بن کیسان نے ان کو عبداللہ بن شداد نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے یہ نہیں کہا عن ابیہ۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن مسعود و لم يقل ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عبد الله بن شداد بن الهاد فذكره و رواه محمد بن عثمة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← ابْنُ مَنِيعٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← خَالِدٌ الْقَطَوَانِيُّ، ← و رويناه

Hadith 1564

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1565

1565 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين الخسروجردي ثنا داود بن الحسين ثنا أحمد بن عمرو ثنا ابن وهب عن عمرو عن عمارة بن غزية عن عبد الله بن علي بن الحسين أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن البخيل كل البخيل من ذكرت عنده فلم يصل علي صلى الله عليه و سلم و رواه أحمد بن عيسى عن ابن وهب مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسین خسرو جردی نے ان کو داؤد بن حسین نے ان کو احمد بن عمرو نے ان کو ابن وھب نے ان کو عمرو نے ان کو عمار بن غزیہ نے ان کو عبداللہ بن علی بن حسین نے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک بخیل اور سب سےانتہائی بخیل ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے پھر بھی وہ مجھ پر صلوات اور رحمت نہ بھیجے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عبد الله بن علي بن الحسين أنه ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ← داود بن الحسین، ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1565

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1566

1566 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو بكر محمد بن عثمان بن ثابت الصيدلاني ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو الجماهر ثنا عبد العزيز بن محمد عن عمارة بن غزية عن عبد الله بن علي بن الحسين قال : قال علي بن أبي طالب : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البخيل الذي ذكرت عنده و لم يصل علي

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو بکر محمد بن عثمان بن ثابت صیدلانی نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابوالجماھر نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے عمارہ بن غزیہ سے اس نے عبداللہ بن علی بن حسین سے وہ کہتے ہیں علی بن ابو طالب نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بخیل وہ انسان ہے جس کے آگے میرا ذکر آئے اور وہ مجھ پر رحمت کی دعا نہ کرے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْجُمَاهِرِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1566

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1567

1567 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا قسطنطين بن عبد الله الرومي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا خالد بن مخلد ثنا سليمان بن بلال حدثني عمارة بن غزية الأنصاري قال : سمعت عبد الله بن علي بن الحسن عن أبيه عن جده : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن البخيل من ذكرت عنده فلم يصل علي

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو قسطنطین بن عبدالہ رومی نے ۔ ان کو عثمان بن ابو شیبہ نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو عمارہ بن غزیہ انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن علی بن حسین سے انہوں نے اپنے والد سے اس نے ان کے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک بخیل وہ ہے کہ میں جس کے آگے ذکر کیا جاؤں پھر وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن الحسن ← عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← قسطنطين بن عبد الله الرومي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 1567

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1568

1568 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدينا ثنا هارون بن سفيان ثنا خالد بن مخلد ثنا سليمان بن بلال قال : حدثني عمارة بن غزية الأنصاري قال : سمعت عبد الله بن علي بن الحسين يحدث عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن البخيل من ذكرت عنده فلم يصل علي قد أخرجته عاليا في كتاب الدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے ان کو ہارون بن سفیان نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو سلیمان بن بلال نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عمارہ بن غزیہ انصاری نے انہوں نے سنا عبداللہ بن علی بن حسین سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بخیل وہ ہے جس کے آگے میرا ذکر کیا جائے پھر وہ مجھ پر صلوٰۃ نہ بھیجے کہتے ہیں کہ میں نے اس کو نقل کیا ہے عالی سند کے ساتھ کتاب الدعوات میں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ← عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← هَارُونَ بْنَ سُفْيَانَ ← عبد الله بن محمد بن أبي الدينا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران

Hadith 1568

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1569

1569 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا عبيد الله بن عمر الجشمي ثنا بشر بن المفضل ثنا عمارة بن غزية حدثني صالح مولى التوأمة قال : سمعت أبا هريرة قال : قال أبو القاسم رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما قوم جلسوا فأطالوا الجلوس ثم تفرقوا قبل أن يذكروا الله و يصلوا على نبيهم إلا كانت عليهم من الله ترة إن شاء عذبهم و إن شاء غفر لهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد ابوالدنیا نے ان کو عبید اللہ بن عمر جشمی نے ان کو بشیر بن مفضل نے ان کو عمارہ بن غزیہ نے ان کو صالح مولیٰ توامہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو لوگ بیٹھیں اور لمبی لمبی مجلس کریں پھر وہ اٹھ جائیں اس سے قبل کہ وہ اللہ کا ذکر نہ کریں اور اس کے نبی پر حمت نہ بھیجیں مگر اللہ کی طرف سے ان پر ہلاکت و نحوست ہوتی ہے اگر چاہے تو ان کو عذاب دے اگر چاہے تو ان کو معاف کردے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عبيد الله بن عمر الجشمي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران

Hadith 1569

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1570

1570 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر أنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا يزيد بن إبراهيم الأسدي عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اجتمع قوم ثم تفرقوا من غير ذكر الله و صلاة على النبي صلى الله عليه و سلم إلا قاموا عن أنتن من جيفة

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو یزید بن ابراہیم اسدی نے ان کو اب زیبر نے ان کو جابر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ جمع ہوتے ہیں پھر وہ جدا ہو جاتے بغیر اللہ کے ذکر کے اور نبی علیہ السلام پر درود کے وہ ایسے ہوتے ہیں جیسے کہ وہ بدبودار مردار کے اوپر سے اٹھ کر چلا جائے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يزيد بن إبراهيم الأسدي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 1570

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1571

1571 - أخبرنا أحمد بن أبي العباس الزوزني ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا محمد بن مسلمة الواسطي ثنا يزيد بن هارون ثنا شعبة عن سليمان عن ذكوان عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجلس قوما مجلسا لا يصلون فيه على رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا كان عليه حسرة و إن دخلوا الجنة لما يرون من الثواب

ہمیں خبر دی احمد بن ابوالعباس زوزنی نے ان کو ابوبکر بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد بن مسلمہ واسطی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو شعبہ نے ان کو سلیمان نے ذکوان سے ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں مگر اس محفل میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجتے وہ محفل پر حسرت اور افسوس بن جاتی ہے ۔ اگرچہ وہ لوگ جنت میں بھی داخل ہو جائیں تب بھی انہیں افسوس رہے گا جب اس کا ثواب دیکھیں گے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أحمد بن أبي العباس الزوزني،

Hadith 1571

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1572

1572 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن هلال حدثني سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن أبيه عن كعب بن عجرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم احضروا المنبر فحضرنا فلما ارتقى درجة قال : آمين فلما ارتقى الدرجة الثانية قال : آمين فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال آمين فلما فرغ نزل عن المنبر قال : فقلنا يا رسول الله لقد سمعنا اليوم منك شيئا لم نكن نسمعه قال : إن جبريل عليه السلام عرض لي فقال : بعد من أدرك رمضان فلم يغفر له فقلت : آمين فلما رقيت الثانية قال بعد من ذكرت عنده فلم يصل عليك فقلت آمين فلما رقيت الثالثة قال : بعد من أدرك والديه الكبر عنده أو أحدهما ثم لم يدخلاه الجنة أظنه قال : فقلت : آمين

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن ابو مریم نے ان کو محمد بن ہلال نے ان کو سعد بن اسحٰق بن کعب بن عجرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو کعب بن عجرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منبر حاضر کرو ہم لوگوں نے منبر لا کے رکھا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ایک درجے پر چڑھے کہا آمین۔ جب آپ دوسرے درجے پر چڑھے تو کہا آمین، جب تیسرے درجے پر چڑھے تو کہا آمین جب آپ وعظ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسے الفاظ سنے ہیں جو پہلے نہیں سنے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے انہوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت سے دور ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پا لیا مگر اس کی مغفرت نہ ہوسکی لہذا اس پر میں نے کہا آمین پھر جب میں دوسرے درجنے پر چڑھا تو وہ کہہ رہے تھے اللہ کی رحمت سے دور ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے تیرا ذکر ہو اور تجھ پر درود نہ پڑھے لہذا اس پر میں نے کہا آمین اور جب میں نے تیسرے درجے پر قدم رکھا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے وہ شخص جو بوڑھے والدین کو پا لے یا دونوں میں سے ایک کو پا لے پھر وہ جنت میں داخل نہ کراسکیں ۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے کہا آمین۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1572

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1573

1573 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن إبراهيم الموسوي بمكة ثنا أبو حاتم الرازي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا وهيب بن خالد ثنا جعفر بن محمد عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ذكرت عنده فلم يصل علي خطى طريق الجنة هذا مرسل و قد رويناه من حديث محمد بن عمرو بن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من نسي الصلاة علي خطى به طريق الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو القاسم جعفر بن محمد بن ابراہیم موسوی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو وہیب بن خالد نے ان کو جعفر بن محمد نے اپنے والد سے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں جس کے سامنے ذکر کیا جاؤں پھر ہو مجھ پر درود نہ بھیجے اس نے جنت والے راستے سے خطا کی۔ یہ روایت مرسل ہے اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے محؐد بن عمرو بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول جائے اس سے جنت کا راستہ بھولا دیا جائے گا۔

أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو القاسم جعفر بن محمد بن إبراهيم الموسوي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Hadith 1573

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood