Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1538

1538 - قال البيهقي رحمه الله : و حديث النعل قد أسنده عمرو بن خليفة عن أبي زيد عن ثابت عن أنس أخرجناه في باب توقير الكبير قال الحليمي رحمه الله : فهذا كان من الذين رزقوا مشاهدته فأما اليوم فإن تعظيمه زيارته و من تعظيمه تعظيم حرمه و هو المدينة و إكرام أهلها و منها : قطع الكلام إذا جرى ذكره أو يروي بعض ما جاء عنه و ضرب السمع و القلب إليه ثم الإذعان و النزول عليه و التوقي من معارضته و ضرب الأمثال له قال الإمام أحمد البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا في هذا المعنى حديث ابن عمرو بن مغفل و غيرهما في كتاب المدخل

امام بیہقی فرماتے ہیں ۔ کہ جوتے پہنانے والی حدیث کو عمرو بن خلیفہ نے ابو زید سے انہوں نے ثابت سے انہوں نے انس سے ان کو مسند کیا ہے ہم نے اس کو توقیر کبیر کے باب میں ذکر کیا ہے ۔

أنس أخرجناه في باب توقير الكبير ← ثَابِتٍ، ← أَبِي زَيْدٍ ← البيهقي و حديث النعل قد أسنده عمرو بن خليفة

Hadith 1538

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1539

1539 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن سعيد بن جبير قال : كنت عند عبد الله بن مغفل حذف عنده رجل من قومه فقال : لا تحذفن فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عنه و قال إنه لا يصطاد بها صيدا و لا يقتل بها عدوا و لكنها تكسر السن و تفقأ العين قال : فلم ينتهي الرجل فقال : أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عنها و لم تنته لا أكلمك كلمة أبدا

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ایوب نے انہوں نے سعید بن جبیر سے کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مغفل کے پاس بیٹھا تھا ۔ ان کے پاس ان کی قوم کے ایک آدمی نے (پتھر وغیرہ) پھینک کر مارا۔ انہوں نے فرمایا مت پھینک ۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ اس سے شکار نہیں ہوتا اور اس سے دشمن قتل نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ دانت توڑ دیتا ہے یا ان کو نکال دیتا ہے ۔ فرمایا کہ وہ آدمی باز نہ آیا انہوں نے فرمایا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کرتا ہوں کہ انہوں نے اس سے منع فرمایا تھا ۔ اور آپ باز نہیں آ رہے میں کبھی بھی آپ سے بات نہیں کروں گا۔

كنت عند عبد الله بن مغفل حذف عنده رجل من قومه ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 1539

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1540

1540 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن عمر الحذاف ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عيسى بن يونس ثنا الأعمش عن مجاهد عن ابن عمر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ائذنوا للنساء إلى المساجد بالليل فقال بعض بنيه : و الله لا نأذن لهم يتخذونه دغلا فقال ابن عمر : فعل الله بك و فعل أقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و تقول لا تأذن لهن رواه مسلم في الصحيح عن علي بن خشرم عن عيسى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عمر حذاف نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ابن عمر سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ عورتوں کو مسجد کی طرف جانے کی رات کو اجازت دو لہذا ان کے بعض بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم ہم ان کو اجازت نہیں دیں گے وہ مساجد کو خیانت گاہ بنا دیں گی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا اللہ تیرے ساتھ وہ سلوک کرے ( جس کے تم مستحق ہو) میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو ہم ان کو اجازت نہیں دیں گے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے علی بن خشرم سے انہوں نے عیسیٰ سے۔

ابن عمر فعل الله بك و فعل أقول ← بعض بنيه و الله لا نأذن لهم يتخذونه دغلا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ائذنوا للنساء إلى المساجد بالليل ← ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← محمد بن عمر الحذاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1540

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1541

1541 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق ثنا محمد بن عبد العزيز بن أبي رجاء قال : ثنا عفان بن مسلم ح قال : و أنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا أبو النعمان محمد بن الفضل قالا : أنا حماد بن سلمة عن ثابت عن كنانة بن نعيم العدوي عن أبي برزة الأسلمي : أن جليبيبا كان امرأ من الأنصار و كان يدخل على النساء و يتحدث إليهن قال أبو برزة : فقلت لامرأتي : اتقوا لا تدخلن عليكم جلبيبا قال : و كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا كان لأحدهم أيم لم يزوجها حتى يعلم هل لرسول الله صلى الله عليه و سلم فيها حاجة أم لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم لرجل من الأنصار : يا فلان زوجني ابنتك قال : نعم و نعمة عين قال : إني لست لنفسي أريدها قال : فمن ؟ قال : لجلبييب قال : يا رسول الله حتى استأمر أمها فأتاها فقال إن رسول الله حتى استأمر أمها فأتاها فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب ابنتك قالت : نعم و نعمة عين فزوج رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنه ليس لنفسه يريدها قالت : فلمن ؟ قال : لجليبيب قالت : حلقى الجليبيب إنيه لا لعمر الله زوج جليبيا فلما قام أبوها ليأتي النبي صلى الله عليه و سلم قالت الفتاة من خدرها : من خطبني إليكما ؟ قالا : رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : أتردون على رسول الله صلى الله عليه و سلم أمره ادفعوني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فإنه لن يضيعني فذهب أبوها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : شأنك فيها فزوجها جليبيا قال إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة لثابت : هل تدري ما دعا لها رسول الله صلى الله عليه و سلم به ؟ قال : و ما دعا لها به ؟ قال : اللهم صب عليها الخير صبا صبا و لا تجعل عيشها كدا كدا قال ثابت : فزوجها إياه قال : فبينما رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة له فأفاء الله عليه فقال : هل تفقدون من أحد ؟ قالوا : تفقد فلانا و فلانا و نفقد فلانا ثم قال : هل تفقدون من أحد ؟ قالوا : لا قال : لكني أفقد جليبيا فاطلبوه في القتلى فنظروا في القتلى فوجدوه إلى جنب سبعة قد قتلهم ثم قتلوه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قتل سبعة ثم قتلوه هذا مني و أنا منه يقولها مرارا فوضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم على ساعده ماله سرير إلا ساعدي رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى وضعه في قبره قال ثابت : فما كان من الأنصار أيم أنفق منها أخرج مسلم آخر هذا الحديث عن إسحاق بن عمر بن سليط عن معاذ و الجميع صحيح على شرطه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو محمد بن عبدالعزیز بن ابو رجاء نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عفان بن مسلم نے ۔ ح۔ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو ابو نعمان محمد بن فضل نے دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے حماد بن سلمہ نے ثابت سے انہوں نے کنانہ بن نعیم عدوی سے ان کو ابو برزہ اسلمی نے یہ کہ جلیبیب نامی انصاری جوان تھا وہ عورتوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے باتیں کیا کرتا تھا ابو برزہ نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا تم لوگ اللہ سے ڈرا کرو تم لوگوں کے پاس جلیبیب نہ آیا کرے ( یا تم لوگ اس کو اپنے پاس نہ آنے دیا کرو۔) اور لوگوں کی عادت یہ تھی کہ جس کے ہاں بیوہ ( یا بے شوہر ) عورت ہوتی وہ اس کا رشتہ نہیں کرتے تھے (شاید کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی حاجت ہو اپنے لئے یا دیگر کسی بھی مسلمان کے لئے ) یہاں تک وہ جان لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصار کے آدمی سے کہا اے فلانے آپ اپنی بیٹی کا رشتہ مجھ سے کر دیجئے۔ اس شخص نے فوراً کہا بالکل آپ کا حکم میری آنکھوں پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اسے اپنی ذات کے لئے نہیں مانگ رہا ہوں اس نے پوچھا کہ پھر کس کے لئے ؟ وہ کون ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جلیبیب کے لئے۔ اس شخص نے کہا پھر میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کر لوں ۔ چنانچہ اس نے گھر میں آکر اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی بیٹی کا رشتہ مانگا ہے ( اس نے بھی سمجھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لئے رشتہ مانگ رہے ہیں ) اس نے جواب دیا بالکل حاضر ہے اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ اس نے کہا کہ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا رشتہ دے دیا ہے شوہر نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لئے اس کا رشتہ نہیں مانگ رہے ہیں ماں نے پوچھا کہ پھر کس کے لئے مانگ رہے ہیں اس نے بتایا کہ جلیبیب کے لئے مانگ رہے ہیں ۔ اس نے کہا کہ قسم بخدا نہیں دیں گے۔ سخت انکار کیا جب لڑکی کا والد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منع کرنے کے لئے جانے لگا تو لڑکی نے ( جو کہ سن چکی تھی) اپنے پردے سے یا محلہ عروسی سے آواز دے کر کہا کہ کون ہے جس نے تم لوگوں سے میرا رشتہ مانگا ہے والدین نے لڑکی سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانگا ہے ۔ لڑکی بولی کیا تم لوگ میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو رد کرو گے بس مجھے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کردو۔ وہ مجھے ضائع نہیں کریں گے چنانچہ اس کا والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا اور جا کر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ جو چاہیں ہماری بیٹی کے بارے میں فیصلہ کریں وہ آپ کے حوالے ہے لہذا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو جلیبیب کے ساتھ بیاہ دیا۔اسحاق بن عبداللہ ابی طلحہ نے ثابت سے کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کے لئے اس لڑکے کے ساتھ بیاہنے پر کیا دعا کی تھی؟ اس نے پوچھا کہ کیا دعا کی تھی؟ اسحاق نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی تھی۔ اے اللہ اس لڑکی پر خیر کو انڈیل دے باربار انڈیل دے اور اس کی زندگی کو مشقت کی زندگی نہ بنا۔ ثابت کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو اس کے ساتھ بیاہ دیا کہتے ہیں کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوے میں گئے اللہ نے آپ کو بہت سارا مال فئے دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا کسی کو گم پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں گم ہے فلاں گم ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ اور کوئی غائب ہے ؟لوگوں نے کہا کہ اب کوئی نہیں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری نظر میں اب بھی ایک غائب ہے اور وہ جلیبیب ہے ، اسے مقتولین میں تلاش کرو انہوں نے اس کو مقتولین میں تلاش کیا اور اسے سات مقتولین کے پہلو میں پڑا ہوا پایا پہلے اس نے ساتھ کو قتل کیا پھر ان کے کسی آدمی نے ا سکو بھی قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نے سات کافروں کو قتل کیا پھر یہ خود بھی قتل ہو گیا ہے یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار فرماتےرہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے بانہوں پر اٹھایا کیونکہ اس کے لئے کوئی تختہ یا چار پائی نہیں تھی سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بانہوں کے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خود قبر میں رکھ دیا۔ ثابت کہتے ہیں کہ انصار میں سے کوئی بیوہ زیادہ نفقہ خرچہ والی اس سے نہیں تھی۔ مسلم نے اس حدیث کا آکر نقل کیا ہے اسحاق بن عمر بن سلیط سے اس نے معاذ سے اور سب صحیح ہیں ان کی شرط پر۔

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← و، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1541

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1542

1542 - و روينا : في الحديث الثابت الصحيح عن فاطمة بنت قيس حين خطبها رسول الله صلى الله عليه و سلم لأسامة بن زيد فكرهته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طاعة الله و طاعة رسوله خيرا لك قالت : أنكحته فجعل الله فيه خيرا و اغتبطت به و في رواية أخرى قالت : فشرفني الله بابن زيد و أكرمني و في رواية أخرى فبورك لي فيه و في رواية فبارك الله لي في أسامة

ہم نے روایت کیا ہے یہ حدیث ثابت صحیح میں فاطمہ بنت قیس سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغام نکاح بھیجا تھا اسامہ بن زید کے لئے اس نےاسے نا پسند کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری تیرے لئے بہتر تھی وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس سے نکاح کر لیا تو اللہ نے اس میں خیر پیدا فرمادی تھی اور میں اسامہ پر رشک کیا کرتی تھی۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ فاطمہ بولیں کہ اللہ نے مجھے ابن زید کے ساتھ شرف اور عزت عطا کی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ میرے لئے اس نکاح میں برکت دی گئی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ نے میرے لئے اسامہ کے نکاح میں برکت دی ہے ۔

Hadith 1542

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1543

1543 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا ابن ناجية ثنا عبد الأعلى بن حماد ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد : أن مصعب بن الزبير هم بعريف الأنصار أن يقتله فدخل عليه أنس بن مالك فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : استوصوا بالأنصار خيرا أو معروفا فاقبلوا من محسنهم و تجاوزوا عن مسيئهم قال : فنزل مصعب عن سريره على بساطه فالزق جلده أو قال جلدا أو قال قعد و قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم على الرأس و العينين أمر النبي صلى الله عليه و سلم على الرأس و العينين و خلى سبيله

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ان ابن ناجیہ نے ان کو عبداللہ علی بن حماد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے یہ کہ مصعب بن زبیر نے انصار کے نمائندے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ ان پر انس بن مالک داخل ہوئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے وصیت قبول کرو انصار کے بارے میں خیر کی یا کہا تھا معروف کی ان کے نیکو کار سے عذر قبول کرو اور ان کے غلطی کرنے والے سے درگذر کرو چنانچہ یہ سن کر مصعب اپنی چارپائی سے نیچے اترے اپنے بچھاؤنے پر پھر اس چمڑے کو بھی ملا لیا اور بیٹھ گئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان سر آنکھوں پر اور س کو چھوڑدیا۔

عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1543

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1544

1544 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان ثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا إسحاق بن محمد القروي قال : سمعت مالكا بن أنس يقول : كنا ندخل على أيوب بن أبي تميمة السختياني فإذا ذكر له حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم بكى حتى نرحمه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید بن ابراہیم الحافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین بن دزیل نے ان کو اسحاق بن محمد قروی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک بن انس سے کہتے تھے ہم لوگ ایوب بن ابو تمیمہ سختیانی کے پا جاتے تھے ان کی یہ حالت تھی کہ جب ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان ہوتی تو اتنا روتے کہ ہمیں ان پر ترس آتا۔

له حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم بكى حتى نرحمه ← كنا ندخل على أيوب بن أبي تميمة السختياني فإذا ← مالكا بن أنس ← إسحاق بن محمد القروي ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1544

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1545

1545 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا زكريا العنبري يقول : سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق يقول : سمعت محمد بن يحيى يقول : سمعت أبا الوليد يقول : و الله إنه لعظيم عند الله عز و جل أن يكون في الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم حديث ثم يكون بعده عن بعض التابعين خلافه قال : و سمعت الوليد و حدث بحديث مرفوع عن النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ما رأيك ؟ قال : ليس لي مع النبي صلى الله عليه و سلم رأي قال : و منه ألا ترفع الأصوات عند قبره و لا يحاضر عنده في لهو و لا لغو و لا باطل و لا شيء من أمر الدنيا مما لا يليق بجلال قدره و مكانته من الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زکریا عنبری سے کہتے تھے میں نے سنا ابو بکر محمد بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن یحییٰ سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو الولید سے وہ کہتے تھے ۔ اللہ کی قسم بے شک وہ اللہ کے نزدیک البتہ بہت عظیم ہے ۔ یہ کہ اس بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث پھر ہوا اس کے بعد بعض تابعین سے اس کے خلاف۔کہتے ہیں کہ میں نے سنا ولید سے انہوں نے مرفوع حدیث بیان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ میں نے کہا کہ تیری رائے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ میری کوئی رائے نہیں ۃے ۔ اس نے کہا کہ اسی سے ہے یہ کہ کیا تم ان کی قبر کے پاس آوازیں اونچی نہیں کرتے ہو آپ کے پاس حاضر ہوا جا رہا کسی لہو یا لغو میں اور نہ کسی باطل میں اور نہ کسی شے میں امر دنیان میں سے جو چیز آپ کی جلالت شان و جلالت قدر اور مرتبے و مقام ہے اللہ عزوجل سے ۔

و الله ← أَبَا الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبا زكريا العنبري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1545

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1546

1546 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل ثنا جدي ثنا سليمان بن حرب قال : كان حماد بن زيد : يحدث ذات يوم فتكلم رجل بشيء فغضب حماد و قال : يقول الله عز و جل : { لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي } و أنا أقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أنت تتكلم و منه : الصلاة و التسليم عليه كما جرى ذكره قال الله عز و جل : { إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما } أمر الله تعالى عباده أن يصلوا عليه و يسلموا بعد إخبارهم بأن ملائكته يصلون عليه لينبهم بذلك على ما فيها من الفضل إذا كانت الملائكة مع انفكاكهم من شريعته تتقرب إلى الله تعالى بالصلاة و التسليم عليه أولى و أحق

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے اسماعیل بن محمد بن فضل نے ان کو ان کے دادا نے ان کو سلیمان بن حرب نے کہتے ہیں کہ حماد بن زید حدیث بیان کرتے تھے ایک دن اور ایک آدمی نے کسی شے کی بات کی جس سے حماد ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ۔"لا ترفعواصواتکم فوق صوت النبی" (الحجرات2) اور میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اور تم کلام کرتے ہیں۔

أَقُولُ ← الله عز و جل لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي و ← ذات يوم فتكلم رجل بشيء فغضب حماد و ← كان حماد بن زيد ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1546

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1547

1547 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا يحيى بن منصور القاضي ثنا محمد بن عبد السلام الوراق ثنا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن نعيم بن عبد الله المجمر أن محمد بن عبد الله بن زيد الأنصاري و هو عبد الله بن زيد هذا الذي كان أرى النداء بالصلاة أخبره عن أبي مسعود الأنصاري قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن في مجلس سعد بن عبادة فقال له بشير بني سعد : أمرنا الله أن نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك ؟ فقال : فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تمنينا أنه لم يسأله ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قولوا اللهم صل على محمد و على آل محمد كما صليت على آل إبراهيم و بارك على محمد و على آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد و السلام كما قد علمتم لفظ حديث يحيى بن يحيى رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عباس محمد بن یعقوب نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو محمد بن عبدالسلام وراق نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے کہ میں نے پڑھا مالک پر انہوں نے نعیم بن عبداللہ امجم سے یہ کہ محمد بن عبداللہ بن زید انصاری وہ ہی عبداللہ بن زید ہے یہ وہ ہے جو نماز کی ندا لگاتا تھا۔ اس نے خبر دی ابو مسعود انصاری سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے اور ہم لوگ سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے تھے چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کیسے آپ کے اوپر صلوٰۃ بھیجیں جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ؟ حضور خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے سوچا کہ کاش یہ سوال نہ کرتا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو:"اللھم صلی علی محمد کما صلیت علی ابراھیم و علیٰ ال ابراھیم وبارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ال ابراھیم فی العالمین انک حمید مجید۔ (والسلام کما قد علمتم) اور سلام ویسے ہے جیسے کہ تم جانتے ہو۔ یہ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے۔

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1547

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1548

1548 - و رواه كعب بن عجزة : عن النبي صلى الله عليه و سلم و هو مخرج في الصحيحين

اس کو روایت کیا ہے کعب بو شینبعی عجرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور وہ صحین میں منقول ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم و هو مخرج في الصحيحين ← و رواه كعب بن عجزة

Hadith 1548

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1549

1549 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك ( ح ) و أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن عمرو بن سليم الزرقي أنه قال : أخبرنا أبو حميد الساعدي أنهم قالوا : يا رسول الله كيف نصلي عليك ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قولوا اللهم صل على محمد و أزواجه و ذريته كما صليت على آل إبراهيم و بارك على محمد و أزواجه و ذريته كما باركت على على آل إبراهيم إنك حميد مجيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو عبداللہ بن مسلمہ نے مالک سے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو احمد بن محمد بن حسن مہرجانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفرمزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بو شنبعی نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک بن عبداللہ بن ابی بکر محمد بن عمرو بن حزم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو بن سلیم زرقی نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو حمید ساعدی نے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کے اوپر کیسے صلوٰۃ بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہو:۔ "اللھم صلی علیٰ محمد وازواجہ و ذریتہ کما صلیت علیٰ ال ابراھیم و بارک علیٰ محمد و ازوجہ وزریتہ کما بارکت علیٰ ال ابراھیم انک حمید مجید"۔

أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← و، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1549

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood