Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1526

1526 - و روينا في حديث بريدة قال : كنا إذا قعدنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم لم نرفع رؤوسنا إليه تعظيما له

ہم نے حدیث بریدہ میں روایت کیا ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے تو ہم تعظیم کی وجہ سے اپنے سر اوپر کو نہیں اٹھاتے تھے۔

و روينا في حديث بريدة

Hadith 1526

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1527

1527 - و روينا في حديث البراء بن عازب : في قصة الجنازة قال : فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم و جلسنا حوله كأن على رؤوسنا طير و قد ذكرنا إسنادهما في آخر كتاب المدخل

ہم نے روایت کی ہے حضرت براء بن عازب کی روایت میں جنازے کے قصے میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے جیسے کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ ہم نے ان دونوں حدیثوں کی اسناد کو کتاب المدخل کے آخر میں ذکر کیا ہے ۔

و روينا في حديث البراء بن عازب في قصة الجنازة

Hadith 1527

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1528

1528 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي ثنا سعيد بن عامر قال ثنا شعبة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و عنده أصحابه كأنما على رؤوسهم الطير فسلمت و قعدت قال : فجاءت الأعراب و قالوا : يا رسول الله علينا حرج في كذا أشياء لا بأس بها قال : عباد الله وضع الله الحرج إلا امرأ أقرض امرأ مسلما ظلما فذلك الذي حرج و هلك قالوا : يا رسول الله ما خير ما أعطي الناس قال : خلق حسن قالوا : يا رسول الله : نتداوى قال : تداووا فإن الله لم يضع داء في الأرض إلا وضع له دواء إلا الهرم قال : فكان هذا الشيخ يقول : هل تعلمون لي من دواء قال : ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و قام الناس فجعلوا يقبلون يده فأخذتها فوضعتها على وجهي فإذا هي أطيب من المسك و أبرد من البرد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو عثمان احمد بن عبداللہ بن سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور حارثی نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو زیاد بن عاقد نے ان کو اسامہ بن شریک نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام بیٹھے تھے ایسے ( لاب کی وجہ سے) پر سکون جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں چنانچہ میں نے سلام کیا اوربیٹھ گیا کچھ دیہاتی آ گئے اور بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اوپر حرج ہے فلاں فلاں چیزوں میں جن میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو اللہ تعالیٰ نے حرج ختم کر دیا ہے مگر وہ آدمی دوسرے مسلمان کو ناحق قرضدار بنائے یا تکلیف پہنچائے یہی ہے وہ جو دراصل حرج میں واقع ہوا اور ہلاک ہوا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ خیر کیا ہے جو انسان عطا کیا گیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچے اخلاق ، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا ہم دو ا سے علاج کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علاج کرو اللہ تعالیٰ نے زمین پر کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کی دوا بھی رکھی ہے سوائے بڑھاپے کے ۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ شیخ فرمایا کرتے تھے کیا تم میرے لئے کوئی دواء جانتے ہو؟ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگ بھی کھڑے ہو گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں پر بوسے دینے لگے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اپنے چہرے پر رکھ لیا میں نے محسوس کیا کہ یہ کستوری سے زیادہ خوشبو دار تھے اور ٹھنڈے تھے۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1528

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1529

1529 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله الحرفي ببغداد ثنا أحمد ببن سليمان الفقيه ثنا إسماعيل بن إسحاق قال : ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن زياد بن علاقة عن أسامة بن شريك قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم و أصحابه عنده و كأن على رؤوسهم الطير فقال : يا أيها الناس تداووا فإن الله عز و جل لم ينزل داء إلا و أنزل له دواء زاد غيره إلا الهرم قيل : يا رسول الله ما خير ما أعطي الناس قال : خلق حسن

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ بن عبداللہ حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے کہتے ہیں کہ ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ زیاد بن علاقہ سے ان کو اسامہ بن شریک نے کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے ( گویا کہ ) ان کے سروں پر پرندے بیٹھے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ لوگو دوا سے علاج کیا کرو بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری ہے اس کی دوا بھی اتاری ہے ۔ اس دوا کے علاوہ دوسروں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ سوائے بڑھاپے کے ۔ کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی دی ہوئی چیزوں میں بہترکون سی چیز ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھے اخلاق ۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أحمد ببن سليمان الفقيه ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله الحرفي

Hadith 1529

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1530

1530 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا مالك بن إسماعيل ثنا المطلب بن زياد قال : حدثني أبو بكر بن عبد الله الأصبهاني عن محمد بن مالك بن المنتصر عن أنس : أن أبواب النبي صلى الله عليه و سلم كانت تقرع بالأظافير

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محؐد دوری نے ان کو مالک بن اسماعیل نے ان کو مطلب بن زیاد نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے ابوبکر بن عبداللہ اصفہانی نے محمد بن مالک بن منتضر سے اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے ناخنوں کے ساتھ کھٹکھٹائے جاتے تھے۔

أنس أن أبواب النبي صلى الله عليه و سلم كانت تقرع بالأظافير ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَصْبَهَانِيُّ، ← الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Hadith 1530

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1531

1531 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا دعلج بن أحمد السجزي ثنا موسى بن هارون ثنا شيبان بن فروخ ثنا جرير بن حازم ثنا عبد المالك بن عمير عن أياد بن لقيط عن أبي رمثة قال : قدمت المدينة و لم أكن رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج و عليه ثوبان أخضران فقلت لأبي : هذا و الله رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل أبي يرتعد هيبة رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو دعلج بن احمد مسجزی نے ان کو موسیٰ بن ہاروں نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو عبدالمالک بن عمیر نے ایاد بن لقیط سے ابو رمثہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں آیا جب کہ میں نے اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف باہر تشریف لائے اور آپ کے اوپر دوہرے کپڑے تھے ۔ چنانچہ میں نے اپنے والد سے کہا اللہ کی قسم یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ لہذا میرے والد صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت اور رعب سے کانپنے لگے۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عبد المالك بن عمير ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← دِعْلِجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1531

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1532

1532 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ غير مرة أنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ ثنا سعيد بن سليمان ثنا عبد بن العوام عن ابن عون عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم لما حلق شعره يوم النحر تفرق الناس فأخذوا شعره فأخذ أبو طلحة منه طائفة قال ابن سيرين : لأن يكون عندي منه شعرة أحب إلي من الدنيا و ما فيها رواه البخاري في الصحيح عن أبي يحيى عن سعيد بن سليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کئی بار کہ ہمیں خبر دی ابونضر محمد بن محمد یوسف فقیہ نے ان کو ابو علی صالح بن محؐد بن حبیب حافظ نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو ابن عون نے ان کو محمد سیرین نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب قربانی کے دن سر کے بال منڈوائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال انہوں نے لے لئے ابو طلحہ نے ان میں سے بالوں کا ایک حصہ یا ایک گچھا لے لیا ۔ حضرت ابن سیرین نے فرمایا کہ میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہو تو مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہے بخاری نے صحیح میں ابو یحییٰ سے انہوں نے سعید بن سلیمان سے اس کو روایت کیا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عبد بن العوام ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أبو عبد الله الحافظ غير مرة

Hadith 1532

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1533

1533 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن علي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الحسن بن أبي جعفر ثنا أبو جعفر الأنصاري عن الحارث بن الفضل أو ابن الفضل عن عبد الرحمن بن أبي قراد : أن النبي صلى الله عليه و سلم توضأ يوما فجعل أصحابه يتمسحون بوضوئه فقال لهم النبي صلى الله عليه و سلم : و ما حملكم على هذا ؟ قالوا : حب الله و رسوله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من سره أن يحب الله و رسوله أو يحبه الله و رسوله فليصدق حديثه إذا حدث و ليؤد أمانته إذا ائتمن و ليحسن جوار من جاوره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حسن بن ابو جعفر نے ان کو ابو جعفر انصاری نے ان کو حارث بن فضل نے یا ابن الفضیل نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو قراد نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا ایک دن تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کے پانی کو لے کر جسم پر ملنے لگے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا ہے انہوں نے کہا اللہ کی محبت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا جس کو یہ بات خوش لگتی ہے کہ وہ اللہ کو اور اس کے رسول کو محبوب رکھے یا اللہ اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو محبوب رکھے اسے چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو سچا مانے جب وہ بات کریں اور جب امانت رکھوایا جائے تو اپنی امانت ادا کر دے اور اسے چاہیے کہ جو شخص اس کا پڑوسی بنے اس کے ساتھ پڑوس اچھا نبھائے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ← الحارث بن الفضل أو ابن الفضل ← أبو جعفر الأنصاري ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← محمد بن علي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Hadith 1533

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1534

1534 - و روينا عن الزهري حدثني من لا أتهم من الأنصار : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا توضأ أو تنخم ابتدروا نخامته فمسحوا بها وجوههم و جلودهم فقال : لم تفعلون هذا ؟ قالوا : تلتمس به البركة ثم ذكر معنى ما في هذا الحديث

ہم نے روایت کی ہے زہری سے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے انصار میں سے ایسے شخص نے حدیث بیان کی ہے جس پر کوئی تہمت نہیں لگائی جا سکتی ۔ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب وضو کرتے تھے یا کھنکارتے تھے تو لوگ اسے ( نیچے نہیں گرنے دیتے تھے بلکہ) وہ اسے اپنے چہروں پر اور جسموں پر مل لیتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا کہ تم ایسا کیوں کرتے تھے تو وہ بولے کہ ہم یہ برکت حاصل کرنے کے لئے کرتے تھے۔ اس کے بعد اس نے وہ مفہوم ذکر کیا جو اس حدیث میں ہے ۔

من لا أتهم من الأنصار ← الزُّهْرِيِّ، ← و روينا

Hadith 1534

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1535

1535 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن سلمة ثنا عثمان بن سعيد ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبان بن يزيد ثنا يحيى بن أبي كثير أن أبا سلمة حدثه أن محمد بن عبد الله بن زيد حدثه : أن أباه شهد النبي صلى الله عليه و سلم عند المنحر هو و رجل من الأنصار قال : فحلق رسول الله صلى الله عليه و سلم رأسه في ثوبه فأعطاه فقسم منه على رجال و قلم أظفاره فأعطاه صاحبه فإنه عندنا لمخضوب بالحناء و الكتم و هكذا رواه حبان بن هلال عن أبان مرسلا و رواه البخاري في كتاب التاريخ عن موسى بن إسماعيل و قال في آخر الخضاب منهم خضبناه لكل لا يتغير و لم يذكر قلم الظفر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن سلمہ نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے یہ کہ ابو سلمہ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عبداللہ بن زید نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس کا والد نبی کریم کی خدمت میں اسوقت حاضر ہوا جب وہ قربانی کر رہے تھے اور وہ انصاری آدمی تھے ۔ راوی کہتے ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوایا اپنے کپڑے میں پھر اس کو دیا اس نے اس میں سے لوگوں میں بال تقسیم کئے ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن تراشے اور وہ بھی اپنے اسی صحابی کو دئیے بے شک وہ ہمارے پا مہندی اور کتم کے ساتھ ( بال ) خضاب اور رنگ کئے ہوئے تھے۔ اس کوحبان بن ہلال نے ابان سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ اور بخاری نے اس کو کتاب التاریخ میں موسیٰ بن اسماعیل سے روایت کیا ہے اور آخر میں یہ کہا ہے خضاب کے بعد ہم نے اس کو خضاب اور رنگ کیا تاکہ سب متغیر نہ ہوں ۔ اور ناخن کاٹنے کا ذکر نہیں کیا۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1535

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1536

1536 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقرئ قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر يعني ابن سليمان ثنا ثابت البناني قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يوما توضأ و بإزاء النبي صلى الله عليه و سلم غلام فمج النبي صلى الله عليه و سلم فتلقى الغلام مجة النبي صلى الله عليه و سلم فشربها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم إن عبدك يترضاك فارض عنه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو مقری نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالعباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے یعنی ابن سلیمان نے ان کو ثابت بنانی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک لڑکا بیٹھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منہ میں پانی لے کر کلی کی تو لڑکے نے جلدی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلی کو فوراً منہ میں لے لیا اور پی گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اگر یہ تیرا بندہ تیری رضا تلاش کر رہا تھا تو اس سے راضی ہوجا۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Hadith 1536

شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1537

1537 - و بهذا الإسناد ثنا ثابت البناني قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس تحدث فخلع نعليه فخلعها يوما و جلس يتحدث فلما قضى حديثه قال لغلام من الأنصار : يا بني ناولني نعلي فقال غلام من الأنصار : دعني فلا نعلك قال : شأنك فافعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم إن عبدك يتحبب إليك فأحبه

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے ثابت بنانی نے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھتے تھے باتیں کرتے تو موزے یا جوتے اتار دیتے ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسب عادت جوتے اتارے اور بیٹھے باتیں کرنے لگے جب اپنی بات پوری کر کے فارغ ہوئے تو انصاری کے ایک لڑکے سے کہا اے بیٹے میرے جوتے مجھے پکڑا دے ۔ انصاری لڑکے نے کہا ۔ آپ چھوڑئیے میں آپ کو جوتے پہنا دیتا ہوں آپ نے فرمایا ٹھیک ہے جیسے تیرا دل کرے کر لیجئے اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ بے شک تیرا یہ بندہ تیری بارگاہ میںمحبوب بننا چاہتا ہے تو اس کو محبوب بنالے ۔

Hadith 1537

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood