شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1514
1514 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا الفضل بن محمد الشعراني ثنا عبد الله بن محمد النفيلي ثنا محمد بن سلمة ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نادى أبي بن كعب و هو قائم يصلي فلم يجبه فقال : ما منعك أن تجيبني يا أبي ؟ فقال : كنت أصلي فقال : ألم يقل الله تبارك و تعالى : { استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لما يحييكم } لا تخرج من المسجد حتى أعلمك سورة ما أنزل الله في التوراة و الإنجيل و الزبور مثلها قال : أبي ثم اتكأ على يدي حتى إذا كان بأقصى المسجد قلت : يا نبي الله قلت كذا و كذا قال : نعم هي أم القرآن و الذي نفس بيده ما أنزل الله في التوراة و الإنجيل و الزبور مثلها و إنها السبع الطوال التي أوتيت و إنها القرآن العظيم و قد روى هذا في حديث أبي سعيد بن المعلى قال الحليمي رحمه الله : و قيل معنى الآية لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا و ذلك أنه لما كان ينادونه على اسم أعرابيهم فيقولون له يا محمد يا أبا القاسم فنهوا عن ذلك و أمروا أن يعظوه فيقولوا يا رسول الله و يا نبي الله و كل واحد من الأمرين إجلال تعظيم ا هـ
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ سے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو عبداللہ بن محمد نفیلی نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابی بکر نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی حالانکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز کا جواب نہ دیا۔ ( نماز کے بعد جب آئے تو) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا کیا چیز رکاوٹ تھی آپ نے مجھے جواب کیوں کہ دیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا؟ "استجیبو اللہ وللرسول اذادعا کم لمایحییکم "( الانفال24) اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں بلائیں اس لئے کہ انہوں نے زندہ کیا تم کو۔ پھر فرمایا کہ اچھا تم مسجد سے نہ نکلنا میں تمہیں ایک سورۃ سکھلاؤں گا اس جیسی کوئی سورۃ اللہ نے نازل نہیں فرمائی نہ توراۃ میں نہ انجیل میں نہ زبور میں ابی کہتے ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے ہاتھ کا سہارا لیا جب مسجد کے آخر میں پہنچے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ نے ایسے ایسے فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ ام القرآن ہے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے ا س کی مثل توراۃ ، انجیل ، زبور میں نہیں اتاری وہ سات لمبی لمبی سورتیں ہیں جو دیا گیا وہ اور بے شک وہ قرآن عظیم ہے اور تحقیق حدیث روایت کی گئی ہے ابو سعید بن معلنی کی حدیث میں ۔ ( یا مراد ہے کہ ساتھ آیات میں جو سورۃ فاتحہ مراد ہوگی۔ )
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 1514
