شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1514
1514 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا الفضل بن محمد الشعراني ثنا عبد الله بن محمد النفيلي ثنا محمد بن سلمة ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نادى أبي بن كعب و هو قائم يصلي فلم يجبه فقال : ما منعك أن تجيبني يا أبي ؟ فقال : كنت أصلي
فقال : ألم يقل الله تبارك و تعالى : { استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لما يحييكم }
لا تخرج من المسجد حتى أعلمك سورة ما أنزل الله في التوراة و الإنجيل و الزبور مثلها قال : أبي ثم اتكأ على يدي حتى إذا كان بأقصى المسجد قلت : يا نبي الله قلت كذا و كذا قال : نعم هي أم القرآن و الذي نفس بيده ما أنزل الله في التوراة و الإنجيل و الزبور مثلها و إنها السبع الطوال التي أوتيت و إنها القرآن العظيم
و قد روى هذا في حديث أبي سعيد بن المعلى
قال الحليمي رحمه الله :
و قيل معنى الآية لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا و ذلك أنه لما كان ينادونه على اسم أعرابيهم فيقولون له يا محمد يا أبا القاسم فنهوا عن ذلك و أمروا أن يعظوه فيقولوا يا رسول الله و يا نبي الله و كل واحد من الأمرين إجلال تعظيم ا هـ
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ سے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو عبداللہ بن محمد نفیلی نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابی بکر نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی حالانکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز کا جواب نہ دیا۔ ( نماز کے بعد جب آئے تو) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا کیا چیز رکاوٹ تھی آپ نے مجھے جواب کیوں کہ دیا؟ اس نے جواب دیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا؟ "استجیبو اللہ وللرسول اذادعا کم لمایحییکم "( الانفال24) اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں بلائیں اس لئے کہ انہوں نے زندہ کیا تم کو۔ پھر فرمایا کہ اچھا تم مسجد سے نہ نکلنا میں تمہیں ایک سورۃ سکھلاؤں گا اس جیسی کوئی سورۃ اللہ نے نازل نہیں فرمائی نہ توراۃ میں نہ انجیل میں نہ زبور میں ابی کہتے ہیں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے ہاتھ کا سہارا لیا جب مسجد کے آخر میں پہنچے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی آپ نے ایسے ایسے فرمایا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ ام القرآن ہے ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے ا س کی مثل توراۃ ، انجیل ، زبور میں نہیں اتاری وہ سات لمبی لمبی سورتیں ہیں جو دیا گیا وہ اور بے شک وہ قرآن عظیم ہے اور تحقیق حدیث روایت کی گئی ہے ابو سعید بن معلنی کی حدیث میں ۔ ( یا مراد ہے کہ ساتھ آیات میں جو سورۃ فاتحہ مراد ہوگی۔ )
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1514
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1515
1515 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الحسن بن رشيق أجازة قال : ذكر زكريا الساجي قال : قال الحسين بن علي سمعت الشافعي يقول : يكره للرجل أن يقول الرسول و لكن يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تعظيما له
ثم ذكر الحليمي رحمه الله :
الآيات التي وردت في لزوم طاعته ثم الآيات التي وردت في تحريم نكاح أزواجه من بعده ثم ذكر قول الله عز و جل :
{ يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله و رسوله و اتقوا الله إن الله سميع عليم } و ما بعده من الآيات وقد
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو حسن بن رشیق نے بطور اجازت کے ۔ کہتے ہیں کہ زکریا ساجی نے ذکر کیا کہا کہ حسین بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا شافعی سے وہ کہتے تھے مکروہ ہے کسی آدمی کے لئے کہ وہ یوں کہے رسول کہتا ہے بلکہ آپ کی تعظیم کرتے ہوئے یوں کہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے وہ آیات ذکر کی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اطاعت کے لازم ہونے کے بارے میں آئی ہیں ۔ اس کے بعد وہ آیات ذکر کی ہے ۔ جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیبیوں سے نکاح کرنے کی حرمت کے بارے میں آئی ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ذکر کیا ہے۔ " یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقو اللہ ان اللہ سمیع علیم (الحجرات1) اور اس کے بعد والی آیات تھی ۔ اے اہل ایمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آگے نہ بڑھو اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے جاننے والا ہے ۔
الرسول و لكن ← يكره للرجل أن ← الشَّافِعِیُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ إِجَازَةً ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1515
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1516
1516 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله : ـ { لا تقدموا بين يدي الله و رسوله } قال : لا تفتاتوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء حتى يقضيه الله على لسانه
و في قوله : { و لا تجهروا له بالقول } يقولا : لا تنادوه باسمه نداء و لكن قولوا قولا لينا يا رسول الله
و في قوله : { أولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقوى } أخلص الله قلوبهم
و قوله : { إن الذين ينادونك من وراء الحجرات } يعني إعراب بني تيم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ابوایاس نے ان کو ورقاء نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ " لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ (الحجرات1) اللہ رسول اسے پیش قدمی نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے کسی بات کا فتویٰ نہ دو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان پر کوئی فیصلہ فرمائے۔ اور اس قول کے بارے میں " ولا تجھرو الہ بالقول " کہا یعنی آپ کے سامنے زور سے بات نہ کرو ۔ کہتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کے ساتھ آواز نہ دو بلکہ نرم بات کہو۔ یوں کہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اس قول کے بارے میں کہا ۔ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی" یہ وہ لوگ ہیں اللہ نے تقویٰ کے لئے جن کے دلوں کو آزما لیا ہے ۔ مراد ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو خالص کر دیا ہے یا اخلاص عطا کر دیا ہے اور اس قول کے بارے میں کہا: " ان الذین ینادوک من وراء الحجرات" جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حجروں کے باہر سے آوازیں دیتے ہیں ۔ یعنی بنو تمیم کے دیہاتی مراد ہیں ۔
مجاهد في قوله لا تقدموا بين يدي الله و رسوله ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1516
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1517
1517 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الكعبي ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يزيد بن صالح ثنا بكر بن معروف عن مقاتل بن حيان قال : بلغنا و الله أعلم في قوله : { يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله و رسوله }
يعني بذلك في شأن القتال و ما يكون من شرائع دينهم يقول لا تقضوا في ذلك بشيء إلا بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم و ذلك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث سرية و استعمل عليهم منذر بن عمرو الأنصاري فذكر قصة قال بني عامر لتلك السرية و هم أصحاب بئر معونة و رجوع ثلاثة إلى المدينة و أنهم لقوا رجلين من بني سليم جائين من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : من أنتما ؟ فاعتربا إلى بني عامر فقال ( ) إخواننا فقتلوهما فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه الخير فكره النبي صلى الله عليه و سلم قتلها فنزلت هذه الآية يقول لا تقطعوا دونه أمرا و لا تعجلوا و قوله :
{ يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي }
نزلت في ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري كان إذا جالس النبي صلى الله عليه و سلم يرفع صوته إذا تكلم فلما نزلت هذه الآية انطلق مهموما حزينا فمكث في بيته أياما يخاف أن يكون قد حبط عمله و كان سعد بن عبادة جاره فانطلق حتى أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بذلك فقال له النبي صلى الله عليه و سلم اذهب فأخبر ثابت بن قيس أنك لم تعن بهذه الآية و لست من أهل النار بل أنت من أهل الجنة فاخرج إليه فاخرج إلينا فتعاهدنا ففرح ثابت بذلك ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فلما أبصره النبي صلى الله عليه و سلم قال : مرحبا برجل زعم أنه من أهل النار بل غيرك من أهل النار و أنت من أهل الجنة فكان بعد ذلك إذا جلس إلى النبي صلى الله عليه و سلم يخفض صوته حتى ما يكاد يسمع الذي يليه فنزلت فيه :
{ إن الذين يغضون أصواتهم عند رسول الله أولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقوى لهم مغفرة وأجر عظيم }
و كان فيهم عيينة بن حصن الفزاري
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد کعبی نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو بکر بن معروف نے ان کو مقاتل بن حیان نے کہتے ہیں ہمیں خبر پہنچی ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ " یا ایھاالذین امنو ا لا تقدمواٰ بین یدی اللہ ورسولہ (الحجرات1) اے ایمان والوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پیش قدمی نہ کرو۔ اس سے قتال کی حالت مراد لی ہے جو ان کے دین کے احکامات ، فرماتے ہیں کہ اس مذکورہ میں کسی بھی شے میں کسی چیز کا فیصلہ نہ کرو مگر رسول اللہ کے حکم کے ساتھ اور اس کا پس منظر یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجاہدین کا ایک لشکر روانہ کیا اور ان پر منذر بن عمرو انصاری کو امیرمقرر کیا اور آپ نے مجاہدین کے اس لشکر کے لئے بنی عامر کے قتل کا قصہ ذکر فرمایا۔ اور وہ اصحاب بیر معونہ تھے ۔ اور تین کا مدینے میں واپس رجوع کا ۔ اور یہ کہ وہ بنی سلیم کے دو آدمیوں سے ملے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آ رہے تھے انہوں نے پوچھا کہ تم دونوں کون ہو؟ ان دونوں نے بنی عامر کے بارے میں اظہار کیا اور کہا ۔ وہ ہمارے بھائی ہیں ان لوگوں نے ان دونوں کو قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کے قتل کو برا سمجھا لہذا یہ آیت نازل ہوئی فرماتے ہیں کہ نہ طے کرو اور کوئی امر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کے سوا اور نہ ہی حضور کے فرمان سے قبل عجلت کرو۔ اور یہ فرمان الٰہی : یا یھاالذین امنو لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی(الحجرات) کہ ایمان والوں اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اونچا نہ کرو۔ نہ نازل ہوئی تھی ثابت بن قیس بن شماس انصاری کے بارے میں کہ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتا تو اس کی آواز اونچی ہو جاتی جب وہ کلام کرتا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ غمگین ہو کر چلا گیا اور جا کر اپنے گھر میں شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا کئی دن گذر گئے وہ یہ خوف کر رہا تھا کہ اس کے اعمال برباد ہو گئے ہیں ۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اس کے پڑوسی تھے وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آئے اورآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ جا کر ثابت کو خبر دو کہ اس آیت سے تو مراد نہیں ہے اور تو اہل جہنم سے نہیں ہے بلکہ تو اہل جنت سے ہے ۔ تم جاؤ اسے ہمارے پاس لے کر آؤ ہم اس سے کچھ بات طے کرتے ہیں چنانچہ حضرت ثابت بن قیس یہ بات سن کو بہت خوش ہو گئے اس کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے جب دیکھا تو فرمایا۔ مرحبا اس جوان کو جو یہ سوچ بیٹھا تھا کہ وہ اہل جہنم سے ہے تم نہیں اہل جہنم تمہارے ماسوا ہے آپ تو اہل جنت میں سے ہیں۔ چنانچہ حضرت ثابت بن قیس جب بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھتا تو اس کی آواز پست ہو جاتی یہاں تک کہ برابر بیٹھا ہوا آدمی بھی نہ سن سکتا چنانچہ اس بات پر یہ آیت نازل ہوئی : " ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ اولئک الذی امتحن اللہ قلوبھم للتقویٰ لھم مغفرۃ و اجر عظیم " (الحجرات3) بے شک وہ لوگ جو رسول اللہ کے پاس رہ کر اپنی آوزوں کو پست کرتے ہیں وہی لوگ ہیں اللہ نے جن کے دلوں کو تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے انہں کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے ۔ ان میں عیینہ بن حص فزاری بھی تھے۔
مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← بكر بن معروف ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أبو محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1517
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1518
1518 - و قد روينا هذا التفسير عن مقاتل بن سليمان : أبسط من هذا
ہم نے اس تفسیر کو مقاتل بن سلیمان سے اس سے زیادہ مفصل نقل کیا ہے۔
مقاتل بن سليمان أبسط من هذا ← و قد روينا هذا التفسير
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1518
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1519
1519 - و بمعناه ذكره الكلبي فيما رواه عن أبي صالح عن ابن عباس : و أتم من ذلك
اس مفہوم مین اس کو کلبی نے بھی ذکر کیا ہے اس روایت میں جو انہوں نے ابو صالح سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جو کہ اس سے زیادہ تمام راوی ہے ۔
ابن عباس و أتم من ذلك ← اَبِیْ صَالِحٍ ← و بمعناه ذكره الكلبي فيما رواه
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1519
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1520
1520 - و روينا عن أبي هريرة أن أبا بكر رضي الله عنه لما نزلت هذه الآية قال : و الذي أنزل عليك يا رسول الله لا أكلمك إلا كأخي السرار حتى ألقى الله عز و جل
اور ہم نے روایت کی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس وقت جب یہ آیت نازل ہوئی یہ ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر قرآن نازل فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں نہیں کلام کروں گا آپ کے سامنے مگر جیسے ایک بھائی سر گوشی کرتا ہے یہاں تک کہ میں اللہ سے جاملوں۔
و الذي أنزل عليك ← أبي هريرة أن أبا بكر لما نزلت هذه الآية ← و روينا
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1520
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1521
1521 - أخبرنا هلال بن محمد بن جعفر ثنا الحسين بن يحيى بن عياش ثنا إبراهيم بن محشر ثنا عباد بن العوام ثنا محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف عن أبي هريرة قال لما نزلت : ـ { لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي }
قال أبو بكر رضي الله عنه لا أكلمك إلا كأخي السرار حتى ألقى الله عز و جل
ہمیں خبر دی بلال بن محمد بن جعفر نے ان کو حسین بن یحییٰ بن عیاش نے ان کو ابراہیم بن محشر نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو محمد بن عمرو بن علقمہ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ نہ اونچا کرو اپنی آوازوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آواز سے۔ (الحجرات 2) تو ابوبکر صدیق نے کہا میں آپ کے ساتھ سرگوشی کرنے والے بھائی کی طرح بات کروں گا۔ یہاں تک کہ میں اللہ سے جاملوں۔
لما نزلت لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← إبراهيم بن محشر ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ← هلال بن محمد بن جعفر
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1521
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1522
1522 - و روينا عن الزبير قال : كان عمر بعد ذلك إذا حدث عند النبي صلى الله عليه و سلم حدثه كأخي السرار لا يسمعه حتى يستفهمه
ہم نے روایت کیا زبیر سے کہتے ہیں ۔ کہ حضرت عمر اس آیت کے اترنے کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بات کرتے تو اسے ایک راز کی بات کہنے والے بھائی کی طرح سنائی نہیں دیتا تھا یہاں تک کہ دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔
الزُّبَيْرِ ← و روينا
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1522
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1523
1523 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسن الصوفي في جامع المنصوري أنا أبو بكر محمد بن جعفر الأنباري ثنا محمد بن أحمد الرياحي ثنا عبد الله بن بكر ثنا حاتم بن أبي صغيرة
و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال حدثنا أبو الأزهر ثنا يحيى بن أبي الحجاج عن حاتم بن أبي صغيرة عن عمرو بن دينار عن أبي كريب عن ابن عباس قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي من الليل قال : فقمت و توضأت أصلي خلفه فأخذ بيد فجعلني حذاءه فخنست فقمت خلفه فانصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال :
ما لي كلما جعلتك حادئي خنست قال : فقلت له لا ينبغي لأحد أن يصلي حذاك و أنت رسول الله قال : فدعا الله يزيدني فهما و علما
هذا لفظ حديث الفقية و رواه الصوفي بمعناه غير أنه قال في آخره : لا ينبغي لأحد أن يصلي حذاك و أنت رسول الله الذي أعطاك الله فأعجبته فدعا الله أن يزيدني فهما و علما
و ذكر الحليمي رحمه : قول الله عز و جل :
{ إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله وإذا كانوا معه على أمر جامع لم يذهبوا حتى يستأذنوه } إلى آخر الآية
و بسط الكلام في الاحتجاج بالآية في توقير النبي صلى الله عليه و سلم و تعظيمه
و ذكر قول الله عز و جل : { و إذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها و تركوك قائما } و ما فيه من التوبيخ على ما كان منهم من انفضاضهم قال :
ثم إن المخاطبين بهذه الآية من الصحابة انتهوا إلى العمل بهذا و بلغوا في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلم ما عرفوا به بعض حقه
و ذكر حديث عبد الله بن مسعود و هو فيما
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن شجاع بن حسن صوفی نے جامع منصوری میں ان کو ابوبکر محمد بن جعفر انباری نے ان کو محمد بن احمد ریاحی نے ان کو عبداللہ بن بکر نے ان کو حتم بن ابی صغیرہ نے ان کو عمرو بن دینا نے ان کو ابو کریب نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے رات میں ابن عباس کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے میں نماز پڑھنے لگا کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کر لیا چنانچہ میں پیچھے سرک گیا ور پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پلٹ کر فرمایا کیا ہوگیا جب بھی میں اپنے برابر کھڑا کر تا ہوں تو تم پیچھے سرک جاتے ہو۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کسی کوبھی مناسب نہیں ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے بارے میں اللہ سے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ میرے فہم اور میرے علم کو زیادہ کرے۔ یہ الفاظ فقیہ کے ہیں ۔ اور اس کو صوفی نے اسی کے مفہوم میں روایت کیا ہے فرق یہ ہے کہ انہوں نے اس کے آخر میں یہ کہا ہے ۔ کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آپ کے برابر میں نماز پڑھے حالانکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں جس کو اللہ نے عطا فرمایا ہے ، میری یہ بات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پسند فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے میرے لئے زیادتی فہم و علم کی دعا فرمائی۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي كُرَيْبٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← حاتم بن أبي صغيرة و ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← محمد بن أحمد الرياحي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْبَارِيُّ ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع بن الحسن الصوفي في جامع المنصوري
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1523
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1524
1524 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا حازم ثنا أبو بكر و عثمان قالا : ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة بن عبد الله قال : لما كان يوم بدر فذكر الحديث في الأسارى و ذكر قول عمر في قتلهم فقال ابن مسعود :
قلت : يا رسول الله إلا سهيل بن بيضاء فإني سمعته يذكر الإسلام فسكت رسول الله صلى الله عليه و سلم فما رأيتني في يوم بدر أخوف أن يقع علي حجارة من السماء مني في ذلك اليوم حتى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إلا سهيل بن بيضاء
و ذكر حديث عروة بن مسعود الثقفي و هو فيما
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذیر قاضی نے کوفے میں ان کو جعفر بن دحیم نے ان کو حازم نے ا ن کو ابوبکر اور عثمان نے دونوں نے کہا ا ن کو خبر دی ہے ابو معاویہ نے اعمش سے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابو عبیدہ بن عبداللہ نےو ہ کہتے ہیں ۔ کہ جب بدری معرکہ ہوا۔ پھر بدر کے قیدیوں کے بارے میں انہوں نے حدیث ذکر کی ہے اور قیدیوں کے قتل کے بارے میں حضرت عمر کا قول ذکر کیا ہے تو حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ مگر سہیل بن بیضاء کو ( یعنی ان کے اس حکم سے مستثنیٰ رکھا جائے ) اس لئے کہ میں نے اس سے سنا تھا کہ وہ اسلام کا ذکر اچھائی کے ساتھ کرتا تھا ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے ۔ یوم بدر کے معاملے میں مجھے خوف آیا کہ کہیں آسمان سے مجھ پر پتھر نہ برس پڑھیں یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود فرما دیا ۔ الا سہیل بن بیضاء۔ مگر سہیل بن بیضاء اس حکم سے مستثنی ٰ ہے ۔
قول عمر في قتلهم فقال ابن مسعود قلت ← لما كان يوم بدر فذكر الحديث في الأسارى و ← اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بكر و عثمان ← حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرٍ الْقَاضِي -بِالْكُوفَةِ-،
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1524
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعظيم النبي صلى الله عليه و سلمو إجلاله و توقيره صلى الله عليه و سلم · حديث 1525
1525 - أخبرنا أبو عمرو الأديب ثنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن يحيى ثنا عبد الرزاق قال : قال معمر قال الزهري : أخبرني عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم : فذكروا قصة الحديبية
و ما كان من عروة بن مسعود الثقفي قالا : ثم جعل عروة يرمق بالحجارة صحابة النبي صلى الله عليه و سلم فو الله ما تنخم رسول الله صلى الله عليه و سلم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه و جلده و إذا تكلم خفضوا أصواتهم و إذا أمرهم ابتدروا أمره و إذا توضأ كادوا يقتتلون على وضوئه و إذا تكلموا خفضوا أصواتهم عنده و ما يحدون إليه النظر تعظيما له قال : فرجع عروة لأصحابه فقال : أي قوم و الله لقد وفدت على الملوك وفدت على قيصر و كسرى و النجاشي و الله إن رأيت ملكا قط يعظمه أصحابه تعظيم أصحاب محمد و الله إن تنخم نخامة إلا وقعت في كف رجل منهم فدلك بها وجهه و جلده فإذا أمرهم ابتدروا أمره و إذا توضأ كادوا يقتتلون على وضوئه و إذا تكلموا خفضوا أصواتهم و ما يحدون إليه النظر تعظيما له
ہمیں خبر دی ہے ابو عمر وادیت نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عبدالرزاق نے وہ کہتے ہیں کہ عمر نے کہا کہ زہری کہتے ہیں ۔ مجھے خبر دی ہے عروہ بن زبیر نے مسور بن مخرمہ سے اور مروان بن حکم سے ۔ پھر انہوں نے حدیبیہ کا قصہ ذکر کیا ۔ اور اس کا ذکر کیا جو کچھ عروہ بن مسعود سے ہوا ۔ دونوں فرماتے ہیں کہ : پھر حضرت عروہ صحابہ کرام کی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے چاہت و محبت کی انتہاء بیان کرنے لگے فرمایا اللہ کی قسم حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب بھی کھنکار کر پھینکتے تو ان میں سے کسی آدمی کی ہتھیلی پر گرتا وہ اسے اپنے چہرے پر اور اپنی جلد پر مل لیتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب کلام کرتے تو صحابہ اپنی آوازیں پست کر لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب انہیں کسی چیز کا حکم دیتے تو صحابہ آپ کے حکم کی تعمیل کرنے میں جلدی کرتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب وضو کرتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وضو کے پانی کو حاصل کرنے کے لئے ایسے لپکتے کہ ایسے لگتا کہ اس پانی کو لینے کے لئے لوگ لڑ پڑیں گے۔ صحابہ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے آپس میں بات چیت کرتے تو اپنی آوازوں کو پست کر لیتے تھے اور ازراہ تعظیم ان کی طرف تغیر نظروں سے نہیں دیکھتے اور گھورتے نہیں تھے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عروہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بولے اے قوم اللہ کی قسم میں بڑے بڑے بادشاہوں کے پاس گیا ہوں، میں قیصر و کسریٰ کے پاس گیا ہوں ، نجاشی کے دربار میں گیا ہوں ۔ اللہ کی قسم میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ اس کے حواری اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسے اصحاب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر کھنکار ا بھی کرتے تو لوگ اسے ہاتھوں پر لے لیتے اور اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ، جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم صحابہ کو کوئی حکم دیتے تو صحابہ کرام حکم کی بجا آوری کے لئے ایک دوسرے سے جلدی کرتے تھے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم وضو کرتے تو قریب ہوتا کہ آپ کے وضو کا پانی لینے کے لئے آپس میں لڑ پڑیں گے جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے گفتگو کرتے تو آوازیں پست کر لیتے اور گھور کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف نہیں دیکھتے تھے۔
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › And it is a chapter in venerating the Prophet, may God bless him and grant him peace, reverence and reverence him, may God bless him and grant him peace · Hadith 1525