Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1470

1470 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو الحسن الطرايفي ح و أخبرنا جامع بن أحمد أبو الخير الوكيل أنا أبو طاهر المحمد أبادي قالا : ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا إبراهيم بن المنذر الحرامي ثنا بكر بن سليم الصواف عن أبي طوالة عن أنس بن مالك قال : أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أحبك قال : فاستعد للفاقة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوالحسن طرا ئفی نے ۔ اور ہمیں خبر دی جامع بن احمد ا بو الخیر وکیل نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ابراہیم بن منذر حرامی نے ان کو بکر بن سلیم صواف نے ان کو ابو طوالہ نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ( پھر تو تیار رہ فاقہ کرنے کےلئے۔)

فَاسْتَعِدَّ للفاقة. ← أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إني أحبك ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ ← بكر بن سليم الصواف ← إبراهيم بن المنذر الحرامي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← جامع بن أحمد أبو الخير الوكيل ← و، ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1470

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1471

1471 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي إملاء ثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ثنا سعيد بن سليمان ثنا شداد بن سعيد عن أبي الوازع عن عبد الله بن مغفل قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني لأحبك قال : انظر إن كنت صادقا فأعد للفقر تجفافا فالفقر أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منتهاه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے بطور املاء کے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو شداد بن سعید نے ابو الوزاع سے اس نے عبداللہ بن مغفل سے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ محبت کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دیکھئے اگر اپ سچ کہتے ہیں تو پھر فقر کے لئے تیار ہو جائیے فوراً بس فقر اس آدمی کی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے جتنی کہ سیلاب اپنے مقام انتہاء کو پہنچتا ہے ۔

إني لأحبك ← جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← أَبِي الْوَازِعِ ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أبو عبد الرحمن السلمي إملاء

Hadith 1471

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1472

1472 - قال البيهقي رحمه الله : و كذلك رواه جماعة عن شداد أبي طلحة الراسبي تفرد به : ـ

امام بیہقی فرماتے ہیں ۔ اسی کو روایت کیا ہے ایک جماعت نے شداد بن ابی طلحہ راسبی سے اور وہ اس کو روایت کرنے میں اکیلے ہیں۔

شداد أبي طلحة الراسبي تفرد به ← البيهقي و كذلك رواه جماعة

Hadith 1472

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1473

1473 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن أبي سعيد : أن أبا سعيد الخدري شكا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم حاجته فقال : اصبر أبا سعيد فإن الفقر إلى من يحبني أسرع من السيل في أعلى الوادي يهوي من أعلى الجبل إلى أسفله هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحرین نضر نے ان کو ابن وہب نے ان کو کبر دی عمرو بن حارث نے سعید بن ابو سعید سے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی کسی حاجت کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صبر کر اے ابو سعید ! بے شک فقر اس آدمی کی طرف جو مجھ سے محبت کرے بہت تیزی سے آتا ہے اس سیلاب سے بھی جو وادی کے اوپر سے نیچے کی طرف یا پہاڑ کے اوپر سے نیچے کی طرف آئے۔ یہ حدیث مرسل ہے ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي

Hadith 1473

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1474

1474 - و روي في هذا المعنى عن أبي ذر : أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني أحبكم أهل البيت

اور اسی معنی میں روایت کی گئی ہے حضرت ابو ذر سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور فرمایا کہ بے شک میں محبت کرتا ہوں تم سے اے اہل بیت۔

إِنِّي أُحِبُّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، ← أبي ذر أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← و روي في هذا المعنى

Hadith 1474

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1475

1475 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو محمد حاجب بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن حماد الأبيوردي ثنا محمد بن الفضل عن عبد الله بن سعيد المقبري عن جده عن أبي هريرة قال : جاء رجل من الأنصار فقال : يا رسول الله ما لي أرى ( ) فانطلق الأنصاري إلى رحله فلم يجد فيه شيئا فخرج يطلب فإذا هو بيهودي يسقي نخلا له فقال الأنصاري لليهودي : اسقي لك قال : نعم كل دلو ثمرة و شرط عليه الأنصاري أن لا يأخذ منه حرره و لا بادرة و لا حشفة و لا يأخذ إلا جيده فاستقى له نحو من صاعين تمرا فجاء به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من أين لك هذا فأخبره الأنصاري و كان يسأل عن الشيء إذا أتى به فأرسل إلى نسائه بصاع و أكل هو و أصحابه صاعا و قال الأنصاري : أتحبني قال : زعم و الذي بعثك بالحق لأحبك قال : إن كنت تحبني فأعد للبلاء تجفافا فو الذي نفس بيده للبلاء أسرع إلى من يحبني من الماء الجري من قلة الجبل إلى حضيض الأرض ثم قال : اللهم فمن أحبني فارزقه العفاف و الكفاف و من أبغضني فأكثر ماله و ولده عبد الله بن سعيد غير قوي في الحديث

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو محمد حاجب طوسی نے ان کو محمد بن حماد ابی وردی نے ان کو محمد بن فضل نے عبداللہ بن سعید مقبری سے ان کو ان کے دادا نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں۔ ایک آدمی انصار میں سے آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دیکھتا ہوں ( یہاں پر اصل میں غیر واضح عبارت ہے ۔ ) پھر انصاری ا پنے سامان کی طرف چلا گیا وہاں جا کر دیکھا تو کچھ بھی موجود نہیں تھا ، یکایک اس کی نگاہ ایک یہودی پر پڑی جو اپنی کھجوروں کو پانی لگا رہا تھا لہذا انصاری نے یہودی سے پوچھا کیا میں تیری کھجوروں کو پانی لگاؤں ؟ یہودی نے کہا ہاں لگاؤ ہر ڈول کا یعنی ہر دفہ پانی لگانے کا اتنا اتنا پھل تجھے ملے گا ۔ اور انصاری نے اس پر شرط رکھی کہ اس سے حررہ بادری اور شفہ کھجوریں نہیں لے گا اور ان میں سے اچھی والی لے لے گا۔چنانچہ انصاری نے یہودی کی کھجوروں کو پانی لگایا ۔ تقریباً دو صاع کھجوروں پر لہذا جب اسے مزدوری میں کھجوریں ملیں تو ہ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کہاں سے لائے ہو اس لئے کہ آپ کسی بھی شئی کے بارے میں پوچھتے تھے جو لائی جاتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ھدیہ کی ان کھجوروں میں سے ایک صاع اپنی بیویوں کے پاس گھر میں بھیج دیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا صاع کھجوروں کا خود بھی کھایا اور صحابہ کرام نے بھی مل کر کھایا ۔ انصاری سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا ہے حق کے ساتھ میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو پھر آزمائش کے لئے تیار ہو جاؤ فوری طور پر ۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے آزمائش اس آدمی کی طرف اس پانی سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہے جو بہتا ہوا پہاڑ کی بلندی سے دھرتی کے نشیب کی طرف آتا ہے ۔ اس بندے کی طرف جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کے بعد دعا فرمائی اے اللہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کو ایسا رزق دے جس سے وہ کسی سے سوال کا محتاج نہ رہے اور ایسا رزق دے جو اس کو کافی ہو جائے اور جو شخص مجھ سے بغض رکھے اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کردے ۔ عبداللہ بن سعید اس روایت میں قوی نہیں ہے ۔

جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبيوردي, ← أَبُو مُحَمَّدٍ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1475

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1476

1476 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا محمد بن بشر بن يوسف و عبد الصمد بن عبد الله الدمشقيان قال : ثنا هشام بن عمار ثنا عمرو بن واقد أبو حفص حدثني يونس بن ميسرة بن حلبس عن أبي إدريس الخولاني عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم من آمن بي و صدقني و شهد أن ما جئت به الحق من عندك فأقل ماله و ولده و عجل قبضه اللهم و من لم يؤمن بي و لم يصدقني و لم يشهد أني ما جئت به هو الحق من عندك فأكثر ماله و ولده و أطل عمره تفرد بإسناده هذا عمرو بن واقد

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن بشر بن یوسف نے اور عبداللہ دمشقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو عمرو بن واقد نے ان کو ابو حفض نے ان کو یونس بن میسرہ بن حلیس نے ان کو ابو ادرین خولانی نے ان کو معاذ بن جبل نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ جو شخص میرے ساتھ ایمان لایا اور مجھے سچا مانا اور اس بات کی گواہی دی کہ جو کچھ میں حق لے کر آیا ہوں وہ تیری طرف سے حق ہے ۔ بس تو کم دے اس کے مال کو اس کی اولاد کو اور جلدی کر اس کی موت کو اے اللہ جو شخص میرے ساتھ ایمان نہ لائے اور مجھے سچا نہ مانے اور وہ اس بات کی گواہی نہ دے کہ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں وہ حق ہے تیری طرف سے پس زیادہ کر تو اس کے مال کو اور اس کی اولاد کو اور لمبا کر اس کی عمر کو۔ عمرو بن واقد اس کی اسناد میں متفرد ہے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ← عمرو بن واقد أبو حفص ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← محمد بن بشر بن يوسف و عبد الصمد بن عبد الله الدمشقيان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 1476

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1477

1477 - و روي مثل هذا عن عمرو بن غيلان الثقفي : عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن صح شيء من هذه الأحاديث فإنما هو زهادته صلى الله عليه و سلم في الدنيا و اختياره الآخرة على الأولى لعلمه بمعائب الدنيا فلم يرضها لنفسه و لا لمن يحبه من أمته أعادنا الله من فتنة الدنيا و عذاب الآخرة برحمته

روایت کیا گیا ہے اس کی مثل عمرو بن غیلان ثقفی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ، ← و روي مثل هذا

Hadith 1477

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1478

1478 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا الإمام أبو سهل محمد بن سليمان إملاء حدثني أبو العباس محمد بن إسحاق السراج ثنا قتيبة بن سعيد أبو رجاء الثقفي ثنا جعفر بن سليمان الضبعي عن ثابت عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يدخر شيئا لغد قال أبو نصر : قال الإمام أبو سهل رحمه الله : فإن قال قائل كان النبي صلى الله عليه و سلم يرجع إلى ( ) و مفرش و كان بعد للجميع ما يعده و كان له الدرع و السيف و القوس و الفرس و البغل و الحمار و كان ينبذ له بالعشي فيشربه بالغداة و كان ينبذ له بالغداة فيشربه بالعشي و كان يحبس لنسائه قوت سنة مما أفاء الله عز و جل عليه و كل هذا ادخار فكيف نسلم على هذه الأخبار هذا الخبر المأثور قال الأستاذ أبو سهل رحمه الله : الرواية صحيحة و على حكم الدراية مستقيمة و التنافي على هذه الرواية منصرف و وجه ذلك أنه كان يتعامل فيما بينه و بين مولاه على حسن الظن و الانتظار دون الحبس و الادخار و كان لا يحجز لنفسه ليومه من أمسه ( ) فإنما يعدها لدينه لا على تفاعلها لعده و هكذا آلات الحرب كان يحبسها لنصر الأولياء و كتب الأعداء على حكم الاستعمال مما تصدق به في حياته و لهذا قال : إنا لا نورث ما تركناه صدقة و أما ما كان ينبذ له فإنما نساؤه كن ينبذن له ما صار في ملكهن و يدهن تمليكا و تمويلا منه لهن ( ) إنه لم يكن يدخر شيئا ( ) كان احتبس عنده شيء و لا على نية الغد و لكن ( ) و تصرفه في نائبة من نوائب الدين و قيل لا يدخر ملكا بل يدخر تملكا و قيل لم يكن يدخر على أمل البقاء إلى غد

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ رحمۃاللہ علیہ نے ان کو امام ابو سہل محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق سراج نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابو رجاء ثقفی نے ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شئے کو کل کے لئے جمع کرکے اور ذخیرہ کرکے نہیں رکھتے تھے ابو نصر نے کہا اما م ابو سہل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ نبی کریم ق رجوع فرماتے تھے ( یہاں سے اصل مسودہ کتاب میں عبارت غیر واضح ہے ) آپ جس چیز کو جمع کرتے سب کے لئے کرتے آپ کے پاس زرہ تھی تلوار تھی ۔ کمان تھی ۔ گھوڑا تھا ، خچر تھا ، گدھا تھا۔ شام کو آپ کے لئے انگور نچوڑے جاتے تو صبح پی لیتے اور صبح کو نچوڑتے تو شام کو پی لیتے اور آگے اپنی ازواج مطہرات کے لئے سال بھر کی روزی بھی رکھ لیتے تھے ۔ یہ اس مال میں سے ہوتا جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور فئے کے عطا کیا تھا۔ ( استاد ابو سہل فرماتے ہیں کہ یہ ) سب کا سب ذخیرہ کرنا ہی ہے اور جمع کرکے رکھنا ہی ہے ۔ لہذا ہم یہ بات کیسے تسلیم کر لیں مذکورہ اخبار کی وجہ سے ان حقائق کے ہوتے ہوئے اور استاد ابوسہل نے یہ بھی فرمایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← قتيبة بن سعيد أبو رجاء الثقفي ← أبو العباس محمد بن إسحاق السراج ← الإمام أبو سهل محمد بن سليمان إملاء ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 1478

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1479

1479 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا هشيم ثنا سيار ثنا يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي كان كل نبي يبعث إلى قومه خاصة و بعثت إلى كل أحمر و أسود و أحلت لي الغنائم و لم تحل لأحد قبلي و جعلت لي الأرض طيبا و طهورا أو مسجد فأيما رجل أدركته الصلاة صلى حيث كان و نصرت بالرعب بين يدي مسيرة شهر و أعطيت الشفاعة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ہشیم نے ان کو سیار نے ان کو یزید فقیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی رسول کو نہیں دیا گیا تھا۔ (1)۔۔ ہر نبی اپنی امت کی طرف خاص طور پر بھیجا جاتا تھا جب کہ میں ہر کالے اور گورے کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ (2) ۔۔۔ میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں جب کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کی گئی تھی۔ (3) اور میرے لئے ساری زمین پاک اور پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے یا فرمایا مسجد بنادی گئی ہے جب ادمی کو جہاں نماز کا وقت وہ جائے وہ وہیں نماز پڑھ سکتا ہے جہا ں ہو۔ (4)۔۔۔ اور میں رعب کے ساتھ مددد یا گیا ہوں مہینے بھر کی مسافت تک۔ (5)۔۔۔ اور میں شفاعت کبریٰ کا حق دیا گیا ہوں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1479

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1480

1480 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن يعقوب ثنا جعفر بن محمد بن الحسين ثنا يحيى بن يحيى أنا هشيم : فذكره بإسناده نحوه و رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان عن هشيم و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو جعفر بن محمد بن حسین نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ھیثم نے پھر اسی مذکورہ روایت کو اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے ذکر کیا ہے ۔ اور ان کو بخاری نے صحیح میں محمد بن سنان سے انہوں نے ھیثم سے اس کو روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے ۔ ہم نے اس کو روایت کیا ہے مجاہد سے انہوں نے فرمایا کہ اسود احمر سے مراد جن و انس ہیں۔

يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← هشيم و رواه مسلم ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← هشيم فذكره بإسناده نحوه و رواه البخاري في الصحيح ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1480

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1481

1481 - و روينا عن مجاهد أنه قال : أسود و الأحمر يعني الجن و الأنس

Not Found

أسود و الأحمر يعني الجن و الأنس ← مُجَاهِدٍ أَنَّهُ ← و روينا

Hadith 1481

chevron_left Previous
1…89101112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood