Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1458

1458 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي ثنا الحسن بن موسى ثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة عن أنس قال : دعي النبي صلى الله عليه و سلم إلى خبز الشعير و إهالة سنخة و لقد سمعته ذات غداة يقول و الذي نفس محمد بيده ما أصبح عند آل محمد صاع حب و لا صاع تمر و إن له يومئذ تسع نسوة و لقد رهن درعا له عند يهودي بالمدينة أخذ منه صاعا ما وجد ما يفتكه

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حرفی نے بغداد میں ان کو ابو بکر بن عبداللہ شافعی نے ان کو اسحاق بن حسن بن میمون حربی نے ان کو حسن بن موسیٰ نے ان کو شیبان بن عبدالرحمٰن نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی گئی جو کی روٹی اور پگھلائی ہوئی چربی سے ۔ ایک صبح میں سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے آل محمد پر ایسی صبح نہیں آئی کہ گھر میں ایک صاع گندم یا ایک صاع کھجور رکھی ہوں مگر اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں نو بیویاں موجود تھیں ۔ آپ کی ایک ذرہ تھی جو آپ نے مدینے میں کسی یہودی کے پاس رہن رکھوائی اوراس سے ایک صاع گندم یا جو لئے مگر اس کو چھڑانے کے لئے رقم نہ تھی جس سے اس کو چھڑا لائیں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عيبد الله الحرفي

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1458

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1459

1459 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ثنا أحمد بن منصور المروزي ثنا النضر بن شميل أنا هشام بن عروة أخبرني أبي عن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم من أدم و حشوه من ليف أخرجاه من الصحيح

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال بزار نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اس کے اندر کھجور کے چھال بھرے ہوئے تھے۔ اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال البزار ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1459

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1460

1460 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الآدمي بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن حميد بن هلال عن أبي بردة قال : دخلت على عائشة رضي الله عنها فأخرجت إلينا إزارا غليظا و كساء ملبدا فقالت : في هذا قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن اعلیٰ آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو ابو بردہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آپ نے ہم لوگوں کے لئے ایک موٹی چادر اور ایک عدد اوپر اوڑھنے کی چادر خوشبو لگی ہوئی نکالی اور فرمایا: " فی ھذا قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم " اس چادر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک نکالی گئی تھی ۔ ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں فوت ہوئے تھے)۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں محمد بن رافع سے ان کو عبدالرزاق نے۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1460

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1461

1461 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة ثنا قتيبة و ثنا سعيد بن سنان عن أبي الزاهرية عن جبير بن نفير عن أبي البجير و كان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أصاب يوما النبي صلى الله عليه و سلم الجوع فوضع على بطنه حجرا ثم قال : ألا يا رب نفس طاعمة ناعمة في الدنيا جائعة عارية يوم القيامة ألا يا رب نفس جائعة عارية في الدنيا طاعمة ناعمة يوم القيامة ألا يا رب مكرم لنفسه و هو لها مهين ألا يا رب مهين لنفسه و هو لها مكرم ألا يا رب متخوض و متنعم فيما أفاء الله على رسوله ما له عند الله من خلاق ألا و إن عمل الجنة حزن بربوة ألا و إن عمل النار سهلة بسهوة ألا يا رب شهوة ساعة أورثت حزنا طويلا قال السهوة : اللينة التربة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ابو العباس بن یعقوب نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو قتیبہ نے ان کو سعید بن سنان نے ان کو ابو زاہریہ نے ان کو جبیر بن نفیر نے ان کو ابوالجبیر نے اور وہ اصحاب رسول میں تھےفرماتے ہیں ۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت بھوک لگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ لیا پھر دعا کی اے رب ایک نفس کھانے والا دنیا میں آرام اور نعمت سے رہنے والا ہے قیامت کے دن بھوکا ہوگا اے رب نفس بھوکا ننگا دنیامیں، کھانے پینے والا اور نعمتوں والا ہوگا قیامت میں ۔ اے رب انسان اپنے نفس کا اکرام کرتا ہے اور وہ اس کو ذلیل کرنے والا ہے ۔ اے رب بعض انسان نفس کو ذلیل کرتے ہیں اور وہ اس کو عزت دینے والا ہوتا ہے ۔ اے رب یہ نفس زبردستی دنیا میں گھستا ہے اور زبردستی آسائشیں چاہتا ہے ان چیزوں میں جو اللہ اور اس کے رسول نے بطور مال فئے دی ہیں۔ ( یعنی مفت دی ہیں) ایسے نفس کے لیے اللہ کے ہاں کوئی حصہ نہیں ہے خبردار جنت کا عمل سخت ہے سخت ہے اونچی جگہ کے ساتھ خبردار جہنم کا عمل آسان ہے نرمی کے ساتھ ۔ خبردار اے رب ایک لمحہ کی شہوۃ و خواہش طویل حزن و غم کا وارث بناتی ہے ۔ فرمایا کہ السہوۃ نرم زمین کو کہتے ہیں ۔ (مطلب یہ ہے کہ جہنم کا ہر کام آسان اور جنت کا ہر کام مشکل ہے )۔

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1461

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1462

1462 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان ثنا قتادة ثنا أنس : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم لم يجتمع له غداء و لا عشاء من خبز و لحم إلا على ضعف يعني جماعة قال البيهقي رحمه الله : هكذا وجدت التفسير في الحديث لا أدري من قاله و قد قال أبو عبيد يقول : لم يأكل وحده و لكن مع الناس قال أحمد بن يحيى : الضفف أن يكون الأكلة أكثر من مقدار الطعام و الحفف أن يكون بمقداره و قيل الضفف الضيق و الشدة تقول : لم يجتمع له و ذلك إلا بضيق و شدة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ابان نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے کہ اللہ کے نبی پر کوئی عشا اور صبح جمع نہیں ہوئی کہ آپ نے دونوں وقت کا کھانا گوشت روٹی کھایا ہو مگر جماعت کے ساتھ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1462

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1463

1463 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أبو داود ثنا عثمان قال : و أنا أبو سعيد ثنا ابن أبي مسرة ثنا الحميدي قالا : ثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار و معمر بن راشد عن الزهري عن مالك بن أوس بن الحدثان أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : كانت أموال بني النضير مما أفاء الله على رسوله صلى الله عليه و سلم مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل و لا ركاب و كانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم خالصة و كان ينفق منها على أهله نفقة سنة و ما بقي جعله في الكراع و السلاح عدة في سبيل الله تعالى أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عثمان نے ان کو ابو سعید نے ان کو ابن ابو مسرہ نے ان کو حمیدی نے دونوں کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عمرو بن دینار نے اور معمر اور معمر بن راشد نے ان کو زہری نے ان کو مالک بن اوس بن حدثان نے یہ کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ قبیلہ بنو نصیر کے اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے فئی کئے گئے تھے جن پر مسلمانوں نے پیدل اور گھڑ سوار دستوں کے ساتھ حملہ نہیں کیا تھا اور وہ مال خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے اپنے اہل خانہ پر کرچ کرتے تھے لہذا اس میں سے تقریباً سال بھر کا خرچہ رکھ لیتے تھے اور باقی جو کچھ بچ جاتا اس کو مسلمانوں کو جہادی تیاری اسلحہ وغیرہ سازو سامان میں خرچ کرتے تھے ۔ اس کو بخاری مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عمرو بن دينار و معمر بن راشد ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ ← و، ← عُثْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1463

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1464

1464 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصغار ثنا إسماعيل بن الفضل البلخي و جعفر بن محمد قالا : ثنا قتيبة بن سعيد ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يدخر شيئا لغد

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صغار نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخٰ اور جعفر بن محمد نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی قتیبہ بن سعید نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کل صبح کے لئے کچھ جمع نہیں کرتے تھے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يدخر شيئا لغد ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إسماعيل بن الفضل البلخي و جعفر بن محمد ← أحمد بن عبيد الصغار ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1464

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1465

1465 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن شبانة بهمدان ثنا أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي أنا أحمد بن الحسن الصوفي ثنا يحيى بن معين ثنا مروان بن معاوية ثنا هلال بن سويد قال : سمعت أنسا يذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم أهدي له ثلاثة طوائر فأطعم خادمه طائرا فلما كان من الغد أتاه به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألم أنهك أن تخبئ شيئا لغد إن الله يأتي برزق كل يوم

ہمیں خبر دی ابو سعید عبدالرحمٰن بن شبابہ نے ہمدان میں ان کو ابو العباس فضل بن فضل کندی نے ان کو احمد بن حسن صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو مروان بن معاویہ نے ان کو ہلال بن سوید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یہ ذکر کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ تین پرندے ہدیہ کئے گئے ایک آپ کے خادم نے آپ کو کھلا دیا۔ جب صبح ہوئی تو باقی دو بھی لا کر پیش کئے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا کہ کل صبح کے لئے کوئی شئے چھپا کر نہ رکھنا اللہ تعالیٰ ہر دن کا رزق خود لاتا ہے ۔

أنسا يذكر ← هلال بن سويد ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيِّ ← أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي ← أبو سعيد عبد الرحمن بن شبانة بهمدان

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1465

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1466

1466 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال البزار ثنا محمد بن إسماعيل الأحمسي ثنا مفضل بن صالح الأسدي عن الأعمش عن طلحة بن مصرف عن مسروق بن الأجدع عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطعمنا يا بلال قال : يا رسول الله ما عندي إلا صبر من تمر خبأته لك قال : أما تخشى أن يخسف الله به نار جهنم انفق يا بلال و لا تخشى من ذي العرش إقلالا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال بزار نے ان کو محمد بن اسماعیل احمسی نے ان کو فضل بن صالح اسری نے ان کو اعمش نے ان کو طلحہ بن مصرف نے مسروق بن اجدع سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلال ہمیں کھانا کھلائیے ۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس کھجور کی ایک تھیلی کے سوا کچھ نہیں ہے وہی میں نے اپنے لئے چھپا کر رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلال کیا آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ اللہ اس کو جہنم کی آگ میں دھنسا دے اے بلال خرچ کیجئے اور صاحب عرش سے رزق کی تنگی کا خوف نہ کیجئے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← الْاَعْمَشِ ← مفضل بن صالح الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّار، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1466

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1467

1467 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا سليمان بن محمد بن ناجية المديني ثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي أبو خالد الفراء ثنا عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عرض علي ربي أن يجعل بطحاء مكة ذهبا فقلت لا يا رب و لكن أشبع يوما و أجوع يوما فإذا جعت تضرعت و إذا شبعت حمدتك و ذكرتك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو سلیمان بن محمد بن ناجیہ مدینی نے ان کو ابو عمر و احمد بن مبارک مستملی نے ان کو ابو خالد فراء نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبید اللہ بن زحر نے ان کو علی بن یزید نے قاسم سے اس نے ابو امامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میرے رب نے پیش کیا ہے کہ وہ بطحاء مکہ کو سونا بنادے میں نے عرض کی نہیں اے میرے رب مگر میں تو پیٹ بھروں گا ایک دن اور بھوکا رہوں گا دوسرے دن جب میں بھوکا رہوں گا عاجزی کروں گا گڑگڑاؤں گا اور جب پیٹ بھروں گا میں تیری حمد کروں گا اور تیرا ذکر کروں گا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي أبو خالد الفراء ← سليمان بن محمد بن ناجية المديني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1467

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1468

1468 - أخبرنا أبو علي الروذباري في الفوائد أنا أبو علي إسماعيل بن الصفار قراءة عليه في شوال سنة تسع و ثلاثين و ثلاثماية نا الحسن بن عرفة بن يزيد ثنا عباد بن عباد المهلبي عن مجالد بن سعيد عن الشعبي عن مسروق عن عائشة قالت : دخلت علي امرأة من الأنصار فرأت فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة مثنية فانطلقت فبعثت إلي بفراش حشوه الصوف فدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما هذا يا عائشة قالت : قلت يا رسول الله فلانة الأنصارية دخلت علي فرأت فراشك فذهبت فبعثت إلي بهذا فقال : رديه يا عائشة فو الله لو شئت لأجرى الله معي جبال الذهب و الفضة

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے فوائد میں اور ان کو ابو علی اسماعیل بن سفار نے ا سطرح کہ انہوں نے ان کے سامنے حدیث کو پڑھا کر سنا شوال 339ء میں ان کوخبر دی حسن بن عروہ بن یزید نے ان کو عباد بن عباد مھلبی نے ان کو مجالد بن سعید نے ان کو شعبی نے ان کو مسروق نے ان کو سعیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ میرے پاس انصاریوں کی ایک عورت ملنے آئی اس نے گھر میں پڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر دیکھا جو کہ چمڑے کا ٹکڑا تھا دہرا کیا ہوا جب وہ واپس چلی گئی تو اس نے میرے پاس ایک بستر یعنی بچھونا بھیجا جس کے اندر اون بھری ہوئی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لا ئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا یہ کیسا بچھونا ہے اے عائشہ؟ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں انصاری عورت میرے پاس آئی تو اور اس نے آپ کا بچھونا دیکھ لیا لہذا اس نے جا کر یہ بچھونا بھیج دیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ یہ واپس کر دیجئے اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑ چلا دے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← الحسن بن عرفة بن يزيد ← أبو علي إسماعيل بن الصفار قراءة عليه ← أبو علي الروذباري في الفوائد

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1468

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في زهد النبي صلى الله عليه و سلم و صبره على شدائد الدينا · حديث 1469

1469 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو عمرو بن السماك قال : قال القاسم بن منبه سمعت بشرا يقول : قالت عائشة رضي الله عنها : لو شئنا أن نشبع شبعنا و لكن محمدا صلى الله عليه و سلم كان يؤثر على نفسه

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن بشران نے ان کو ابو عمر و سماک نے وہ کہتے ہیں کہ قاسم بن منبہ نے کہا تھا کہ بشر سے سنا کہتے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ اگر ہم لوگ چاہتے کہ ہم پیٹ بھریں تو ہم پیٹ بھر سکتے تھے مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نفس پر ایثار کرتے اور دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔

بِشْرًا ← الْقَاسِمُ بْنُ مُنَبِّهِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion · Hadith 1469

chevron_left Previous
1…789…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood