Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1422

1422 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ ثنا محمد بن أيوب أنا أبو الربيع ثنا حماد بن زيد ثنا ثابت عن أنس قال : خدمت النبي صلى الله عليه و سلم عشر سنين فما قال لي أف قط و لا قال لي لشيء مما يصنعه الخادم لم فعلت كذا و كذا أو هلا فعلت كذا و كذا رواه مسلم في الصحيح عن أبي الربيع

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو ربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ہے مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اف تک نہیں کہا۔ اور مجھے کسی ایسے کام میں جو خادم کرتے ہیں اس پر یہ کبھی نہیں کہا کہ یہ کیوں کیا۔ یا ایسا کیوں نہیں کیا ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں ابو ربیع سے روایت کیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1422

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1423

1423 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سليمان بن حرب و سعيد قالا : ثنا حماد عن ثابت عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم من أجمل الناس و من أجود الناس و من أشجع الناس رواه البخاري عن سليمان و رواه مسلم عن سعيد بن منصور و رويناه عن أبي التياح عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم احسن الناس خلقا

ہمیں خبر دی اابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور سعید نے دونوں کہتے ہیں ان کو حدیث بیان کی ہے حماد نے ان کو ثابت نے ان کوحضرت انس رضی اللہ عنہ نےوہ فرماتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں میں سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے سب لوگوں سے زیادہ بہادر تھے۔ اس کو بخاری نے روایت کیاسلیمان سے اور مسلم نے سعید بن منصور سے اور ہم نے ان کو روایت کیا ہے ۔ ابو انس سے انس رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← سليمان بن حرب و سعيد ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 1423

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1424

1424 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و هناد بن السري قالا : أنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب خادما قط و لا ضرب بيده شيئا قط إلا أن يجاهد في سبيل الله و ما ينل منه شيء قط فينتقم من صاحبه إلا أن يكون لله فإذا كان لله انتقم منه و لا عرض له أمران إلا أخذ الذي هو أيسر حتى يكون إثما فإذا كان إثما كان أبعد الناس منه صلى الله عليه و سلم رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے اور ہناد بن سری نے دونوں کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے ابو معاویہ نے ان کو ھشام بن عروۃ نے اپنے والد سے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو مارا ہو یا کسی بھی شئی کو کبھی کچھ مارا ہو مگر یہ کہ جہاد فی سبیل میں مارا ہوگا اور کسی سے کچھ تکلیف آپ کو پہنچی ہو اور اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے انتقام لیا ہو مگر یہ کہ اللہ کے لئے ہو جب اللہ کو کوئی کچھ کہتا تو اس سے انتقام لیتے تھے اور اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کبھی کوئی امر درپیش آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ان میں سے آسان امر کو اختیار کرتے تھے مگر یہ کہ وہ گناہ کو نہیں لیتے تھے جب کوئی امر گناہ ہوتا تو اس سے سب سے زیادہ دور جاتے تھے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں ابو بکر سے اس نے ابو معاویہ سے روایت کیا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إسحاق بن إبراهيم و هناد بن السري ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1424

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1425

1425 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عمرو بن عاصم و أبو عمر قالا : ثنا همام عن زرارة بن أبي أوفى عن سعد بن هشام بن عامر الأنصاري أنه حدثه قال : قلت يا أم المؤمنين ـ يعني عائشة ـ حدثيني عن خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : ألست تقرأ القرآن ؟ قلت : بلى قالت : فإن خلق رسول الله - كان القرآن أخرجه مسلم في الصحيح قال البيهقي رحمه :

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عمرو بن عامر نے ان کو ابو عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا ہمام نے ان کو قتادہ نے ان کو زرادہ بن ابی اوفیٰ نے ان کو سعد بن ہشام بن عامر انصاری نے انہوں نے اس کو حدیث بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ۔ اے ام المؤمنین (یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا ) مجھے رسول اللہ کا خلق اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت بیان فرمائیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا آپ قرآن نہیں پڑھتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں پڑھتا ہوں ۔ فرمایا کہ آپ کا خلق قرآن تھا ۔ یعنی آپ کی سیرت قرآن تھی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ۔

البيهقي رحمه ← فإن خلق رسول الله كان القرآن أخرجه مسلم في الصحيح ← ألست تقرأ القرآن قلت بلى ← خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قلت يا أم المؤمنين يعني عائشة حدثيني ← سعد بن هشام بن عامر الأنصاري أنه ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ← هَمَّامٌ، ← عمرو بن عاصم و أبو عمر ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 1425

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1426

1426 - و روينا عن الحسن عن سعد بن هشام قال : قلت لعائشة رضي الله عنها : ما كان خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت : قال الله عز و جل : { و إنك لعلى خلق عظيم } فخلفه القرآن أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب ثنا عبد الله بن عثمان أنا عبد الله بن المبارك ثنا المبارك ثنا الحسن فذكره

ہم نے روایت کی ہے حسن سے انہوں نے سعد بن ہشام سے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق کیسا تھا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "وانک لعلی خلق عظیم (القلم 4) اور بے شک آپ اخلاق ( حسنہ ) اعلیٰ درجے پر ہیں۔ ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو المبارک نے ان کو حسن نے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر فرمایا۔

الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ ← المبارك ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ ← الله عز و جل و إنك لعلى خلق عظيم فخلفه القرآن ← قلت لعائشة ما كان خلق رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← الْحَسَنِ، ← و روينا

Hadith 1426

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1427

1427 - و روينا عن يزيد بن بابنوس أنه سأل عائشة رضي الله عنها عن ذلك فقالت : اقرأ سورة المؤمنين فقرأ حتى بلغ العشر فقالت : هكذا كان خلقه

ہم نے روایت کی ہے یزید بن بابنوس سے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تھا ان کے بارے میں سیدہ نے فرمایا۔ آپ سورۃ مؤمنون پڑھیے۔ انہوں نے پڑھنا شروع کیا یہاں تک دس آیات تک پہنچ گئے تو سیدہ نے فرمایا: "ھکذاکان خلقہ" آپ کا اخلاق ایسا تھا یا آپ کی عادات ایسی تھیں۔

هكذا كان خلقه ← اقرأ سورة المؤمنين فقرأ حتى بلغ العشر ← ذَلِكَ ← يزيد بن بابنوس أنه سأل عائشة ← و روينا

Hadith 1427

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1428

1428 - و روينا عن أبي الدرداء أنا سأل عائشة عن ذلك فقالت : كان خلقه القرآن يرضي لرضاه و يسخط لسخطه

ہمیں نے روایت کی ہے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں سوال کیا، سیدہ نے فرمایا: " کان خلقہ القران یرضی لرضاہ ویسحظ لسخطہ" آپ کو اخلاق قرآن کے مطابق تھا وہ اللہ کی رضا کے لیے خوش ہوتے تھے۔ اور اللہ کی ناراضگی کے لئے ناخوش ہوتے تھے۔

ذلك فقالت كان خلقه القرآن يرضي لرضاه و يسخط لسخطه ← سأل عائشة ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← و روينا

Hadith 1428

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1429

1429 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني حدثنا أبو النضر ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عندنا فعرق فجأت أمي بقارورة فجعلت أمي بقارورة فجعلت تسلت العرق فيها فاستيقظ النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا أم سليم ما هذا الذي تصنعين قالت : هذا عرقك نجعله في طيبنا و هو من أطيب الطيب قالت ثابت : قال أنس ما شممت عنبرا قط و لا مسكا من أطيب من ريح رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا مسست شيئا قط ديباجا و لا حريرا ألين مسا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و خدمته عشر سنين بالمدينة و أنا غلام و ليس كل امرئ ما يشتهي صاحبي أن أكون فما قال لي فيها أف و ما قال لي لم فعلت هذا و إلا فعلت قال : و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الغداة جاء خدم بآنيتهم فيها الماء فما أتوا بإناء إلا غمس يده فيها فربما جاءوه في الغداة الباردة فيغمس يده فيها هذه أحاديث صحيحة مخرجة في الصحيح على ما ذكرناه في غير هذا الموضع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو ابو النصر نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیلولہ کیا ( دوپہر کو سوئے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آگیا چنانچہ میر ی والدہ ایک شیشی لائیں اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ جمع کرنے لگیں ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرماتے لگے ۔ اے ام سلیم آپ یہ کیا کر رہی تھیں، بولی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو میں شامل کریں گے اور وہ سب سے بہتر خوشبو ہوگی۔ ثابت نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی نہ عنبر کی اور نہ کسی مشک کی ۔ اور میں نے کوئی باریک یا موٹا ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم سے زیادہ نرم کبھی نہیں چھوا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس سال تک مدینہ میں خدمت کی جب کہ میں لڑکا تھا۔ کسی بھی کام کے کرنے پر مجھے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اف نہیں کہا۔ اور یہ بھی نہیں کہا یہ کیوں کیا ؟ اور یہ بھیھ نہیں کہا کہ کیوں نہیں کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح نماز پڑھ لیتے تھے ۔ خدام برتن لے کر آجاتے ان میں پانی ہوتا تھا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب کے برتن میں ہاتھ مبارک ڈبو دیتے تھے ۔ بسا اوقات صبح سردی میں برتن لے کر آتے تھے تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ اس میں ڈبو دیتے تھے ۔ یہ احادیث صحیحہ میں صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہیں علاوہ ازیں ہم نے ان کو اس جگہ کے سوا بھی ذکر کیا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1429

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1430

1430 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي من أصل كتابه ثنا الحسين بن حميد بن الربيع اللخمي ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل النهدي ثنا جميع بن عمر بن عبد الرحمن العجلي حدثني رجل بمكة عن ابن أبي هالة التميمي عن الحسن بن علي قال : سألت خالي هند بن أبي هالة التميمي و كان وصافا عن حلية النبي صلى الله عليه و سلم و أنا أشتهي أن يصف لي شيئا منها أتعلق به قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم فخما مفخما يتلالأ وجهه تلألؤ القمر ليلة البدر أطول من المربوع و أقصر من المشذب عظيم الهامة رجل الشعر إن انفرقت عقيصته فرق و إلا فلا يجاوز شعره شحمة أذنيه إذا هو وفره أزهر اللون واسع الجبين أزج الحاجب سوابغ في غير قرن بينهما عرق يدره الغضب أقنى العرنين له نور يعلوه يحسبه من لم يتأمه أشم كث اللحية سهل الخدين ضليع الفم أشنب مفلج الأسنان دقيق المسربة كأن عنقه جيد دمية في صفاء الفضة معتدل الخلق بادن متماسك سواء البطن و الصدر عريض الصدر بعيد ما بين المنكبين ضخم الكراديس أنور المتجرد موصول ما بين اللبة و السرة بشعر يجري كالخط عاري الثديين و البطن مما سوى ذلك أشعر الذراعين و المنكبين و أعالي الصدر طويل الزندين رحب الراحة سبط القصب شثن الكفين و القدمين سائل الأطراف خمصان الأخمصين مسح القدمين ينبو عنهما الماء إذا زال زال قلعا يخطو تكفؤا و يمشي هونا ذريع المشية إذا مشى كأنما ينحط من صبب و إذا التفت التفت جميعا خافض الطرف نظره إلى الأرض أطول من نظره إلى السماء جل نظره الملاحظة يسوق أصحابه يبدأ من لقيه بالسلام قال : قلت صف لي منطقه ؟ قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم متواصل الأحزان دائم الفكر ليست له راحة و لا يتكلم في غير حاجة طويل السكوت يفتح الكلام و يختمه بأشداقه و يتكلم بجوامه الكلم فصل لا فضول و لا تقصير دمث ليس بالجافي و لا المهين يعظم النعمة و إن دقت و لا يذم منها شيئا و لا يذم ذواقا و لا يمدحه و في رواية غيره لم يكن ذواقا و لا مدحة و لا تغضبه الدنيا و ما كان لها فإذا تعوطى الحق لم يعرفه أحد و لم يقم لغضبه شيء حتى ينتصر له و لا يغضب لنفسه و لا ينتصر لها إذا أشار أشار بكفه كلها و إذا تعجب قلبها و إذا تحدث اتصل بها يضرب براحته اليمنى على باطن إبهامه اليسرى و إذا غضب أعرض و أشاح و إذا فرح غض طرفه جل ضحكه التبسم و يفتر عن مثل حب الغمام قال : فكتمها الحسين زمانا ثم حدثته فوجدته قد سبقني إليه فسأله عما سألته و وجدته قد سأل أباه عن مدخله و مجلسه و مخرجه و شكله فلم يدع منه شيئا قال : قال الحسين : سألت أبي عن دخول رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كان دخوله لنفسه مأذونا له في ذلك فكان إذا أوى إلى منزله جزأ دخوله ثلاثة أجزاء جزءا لله تعالى و جزءا لأهله و جزءا لنفسه ثم جزأ جزأه بينه و بين الناس فيرد ذلك على العامة و الخاصة و لا يدخره عنهم شيئا و كان من سيرته في جزء الأمة إيثار أهل الفضل بإذنه و قسمه على قدر فضلهم في الدين فمنهم ذو الحاجة و منهم ذو الحاجتين و منهم ذو الحوائج فيتشاغل بهم و يشغلهم فيما يصلحهم و الأمة من مسألته عنهم و إخبارهم بالذي ينبغي لهم و يقول لهم : ليبلغ الشاهد الغائب و ابلغوني حاجة من لا يستطيع إبلاغي حاجته فإنه من أبلغ سلطانا حاجة من لا يستطيع إبلاغها إياه ثبت الله قدميه يوم القيامة لا يذكر عنده إلا ذلك و لا يقبل من أحد غيره يدخلون عليه روادا و لا يتفرقون إلا عن ذواق و يخرجون أدلة قال : و سألته عن مخرجه كيف كان يصنع فيه فقال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخزن لسانه إلا مما يعنيه و يؤلفهم و لا يفرقهم أو قال : يتفرقهم شك أبو غسان و يكرم كريم كل قوم و يوليه عليهم و يحذر الناس و يحترس منهم من غير أن يطوي على أحد بشره و لا خلقه و يتفقد أصحابه و يسأل الناس عما في الناس و يحسن الحسن و يقويه و يقبح القبيح و يوهيه معتدل الأمر غير مختلف لا يغفل مخافة أن يغلفوا أو يملوا لكل حال عنده عتاد لا يقصر من الحق و لا يجوزه الذين يلونه من الناس خيارهم أفضلهم عنده أعمهم نصيحة و أعظمهم عنده منزلة أحسنهم مواساة و موازرة قال : فسألته عن مجلسه فقال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يجلس و لا يقوم إلا على ذكر و لا يوطن الأماكن و ينهى عن إيطانها و إذا انتهى إلى قوم جلس حيث ينتهي به المجلس و يأمر بذلك و يعطي كل جلسائه نصيبه لا يحسب جليسه أن أحدا أكرم عليه منه من جالسه أو قاومه في حاجة صابرة حتى يكون هو المنصرف من سأله حاجة لم يرده إلا بها أو بميسور من القول قد وسع الناس منه بسطه و خلقه فصار لهم أبا و صاروا في الحق سواء مجلسه مجلس حلم و حياء و صبر و أمانة لا ترفع فيه الأصوات و لا تؤبن فيه الحرم و لا تثنى فلتاته متعادلين متفاضلين فيه بالتقوى متواضعين يوقرون فيه الكبير و يرحمون فيه الصغير و يؤثرون ذا الحاجة و يحوطون أو قال : يحفظون فيه الغريب قال : قلت : كيف كانت سيرته في جلسائه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم دائم البشر سهل الخلق لين الجانب ليس بفظ و لا غليظ و لا سخاب و لا فحاش و لا عياب و لا مداح يتغافل عمل لا يشتهي و لا يويس منه و لا يحبب فيه قد ترك نفسه من ثلاث : كان لا يذمر أحدا و لا يعيره و لا يطلب عورته و لا يتكلم إلا بما رجا ثوابه إذا تكلم أطرق جلساؤه كأنما على رؤوسهم الطير و إذا سكت تكلموا و لا يتنازعوا عنده بشيء من تكلم أنصتوا له حتى يفرغ حديثهم حديث أولهم يضحك مما يضحكون منه و يتعجب مما يتعجبون منه و يصبر للغريب على الجفوة في منطقه و مسألته حتى إذا كان أصحابه ليستجلبونهم و يقول : إذا رأيتم طالب الحاجة يطلبها فارفدوه و لا يقبل الثناء من مكافئ و لا يقطع على أحد حديثه حتى يجوز فيقطعه بنهي أو قيام قال : قلت : كيف كان سكوته قال : كان سكوت رسول الله صلى الله عليه و سلم على أربع الحلم و الحذر و التقدير و التفكير فأما تقديره ففي تسويته النظر و الاستماع بين الناس و أما تذكره أو قال تفكيره ففيما يبقى و يفنى و جمع له الحلم و الصبر فكان لا يغضبه شيء و لا يستفزه و جمع له الحذر في أربع : أخذه بالحسنى ليقتدي به و تركه القبيح لينتهي عنه و اجتهاده في الرأي فيما هو أصلح لأمته و القيام لهم فيما جمع لهم الدنيا و الآخرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو سعید احمد بن محمد بن عمرو احمسی نے اپنی اصل کتاب سے ان کو حسین بن حمید بن ربیع خمی نے ان کو غسان نے مالک بن اسماعیل نہدی نے جن کو جمیع بن عمر بن عبدالرحمٰن عجلی نے ان کو ایک آدمی نے مکہ میں ابن ابو ھالہ تیمی سے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بہت کثرت کے ساتھ بیان کیا کرتا تھا ۔ میں چاہتا تھا کہ مجھے بھی اس میں سے کچھ بیان کرے میں اس کو محفوظ کروں چنانچہ اس نے فرمایا۔ کہ رسول اللہ ق بڑے بزرگ تھے صحت مند تھے آپ کا چہر ایسا چمکتا تھا جیسے چودھویں کا چاند چمکتا ہے درمیان قد سے بڑے اور بہت لمبے سے چھوٹے تھے ۔ سر مبارک بڑا تھا ، ہلکے گھونگھر یالے بالوں والے تھے، اگر بالوں کی کوئی لٹ بکھرتی تو الگ ہو جاتے ورنہ آپ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی دونوں لو سے تجاوز نہیں کرتے تھے اس وقت آپ کے بال وفرہ کہلاتے تھے ۔ آپ گلاب کے رنگ والے تھے، کشادہ ماتھے والے تھے، خوبصورت بھنوؤں والے تھے بھنویں مکمل تھیں بٹی ہوئی ای سرکی ہڈی تک پہنچی ہوئی نہیں تھیں ۔ دونوں کے درمیان پسینہ ہوتا جس سے غصہ پہچانا جاتا اونچی ناک والے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر رہتا تھا ۔ اونچی گردن والے گھنی داڑھی والے نرم رخسار والے ۔ مضبوط منہ والے خوبصورت چمکیلے ، کشادہ دانتوں والے ، آپ سینے کے بالوں کی باریک دھاری والے تھے ، آپ کی گردن خوبصورت لمبی پتلی خون کی سرخی اور چاندی کی صفائی لئے ہوئے تھی۔مناسب صحت مند جسم والے خوبیوں والے تھے، ہتھیلیاں اور تلوے بھرے ہوئے ، روشن اور منفرد تھے پسلیوں سے ناف تک ملے ہوئے بالوں کے خط والے تھے سینہ اور پیٹ صاف تھا۔ بس وہی بال تھے ۔ جو دھاری دار تھے ۔ کندھے اور کلائیاں بالوں سے آراستہ تھی اونچے سینے والے تھے ( کہنیوں کا اندرونی جوڑ لمبا تھا پہنچے کا جوڑ طویل تھا۔ ہتھیلیاں کشادہ تھیں کلائی اور پنڈلی کی ہڈیان سیدھی تھیں اور پورا جسم سیدھا تھا دونوں ہاتھ اور دونوں پیر گوشت سے پر تھے ۔ انگلیاں کشادہ تھیں تلووں کے خلا کا ( جو حصہ زمین ے نہیں لگتے) بھرے ہوئے تھے ۔ دونوں قدم پورے زمین پر لگتے تھے ۔ ان سے پانی کے چشمے پھوٹتے ( جب پانی میں رکھتے تو برکت ہو جاتی) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جگہ سے مڑتے تو پورے پورے ہٹتے تھے ۔ قوت اور اعتدال سے چلتے تھے ، نرمی اور وقار سے چلتے تھے جب چلتے تو تیز تیز چلتے ایسے لگتا جیسے اونچائی سے نیچے آ رہے ہوں ۔ جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو پورے جسم سمیت متوجہ ہوتے ۔ نگاہیں نیچی رکھتے تھے آسمان کی طرف دیکھنے سے زیادہ زمین کی طرف دیکھتے ۔ کسی کو دیکھتے تو بنظر توجہ دیکھتے ۔ جو سامنے ملتا اس کے ساتھ سلام کرنے میں آپ خود پہل فرماتے ۔

أَشْتَهِي ← حلية النبي صلى الله عليه و سلم و ← سألت خالي هند بن أبي هالة التميمي و كان وصافا ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← ابن أبى هالة التميمي ← رَجُلٌ: ← جميع بن عمر بن عبد الرحمن العجلي ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ اللَّخْمِيُّ، ← أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1430

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان النبي صلى الله عليه و سلم فصاحته ـ · حديث 1431

1431 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن أحمد الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ثنا يحيى بن معين ثنا عباد بن العوام ثنا موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث يعني التميمي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم دجن : كيف ترون بواسقها ؟ قالوا : ما أحسنها و أشد تراكمها قال : فكيف ترون قواعدها ؟ قالوا : ما أحسنها و أشد تمكنها قال : كيف ترون جونها ؟ قالوا : ما أحسنه و أشد سواده قال : فيكف ترون رحاها استدارت ؟ قالوا : نعم ما أحسنها و أشد استدارتها قال : كيف ترون برقها خفوا أو وميضا أم يشق شقا ؟ قالوا : بل يشق شقا قال : الحياء فقال له رجل يا رسول الله ما أفصحك ما رأينا الذي هو أعرب منك قال : حق لي و إنما أنزل القرآن بلسان عربي مبين قال أبو عبيد قوله قواعدها يعني قواعد السحاب و هي أصولها المعترضة و في آفاق السماء و إلى الأفق الآخر و الجون الأسود و قوله : رحاها فرحاها استدارة السحاب في السماء و الخفق هو الاعتراض من البرق في نواحي بجسم و الوميض أن يلمع قليلا ثمن يسكن و ليس له اعتراض و أما الذي يشق شقا فاستطارته في الجو إلى وسط السماء من غير أن يأخذ يمينا و شمالا و الحياء هو المطر الواسع الغزير

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر محمد بن ابراہیم بن احمد فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے صوفی نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عباد عوام نے ان کو موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث نے یعنی تمیمی نے ان کو ان کے والد نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن جس دن آسمان پر سیاہ دلدار بادل چھائے ہوئے تھے ان کے بارے میں اپنے اصحاب سے سوال فرمایا ۔ تم اس آسمان میں پھیلی ہوئی شاخوں کو کیسا دیکھتے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کتنی خوبصورت اور کتنی سخت دلدار ہیں اور تہہ بتہہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان کی بنیاد اور اصل کو کیسا دیکھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی ہی خوبصورت بادلوں کی اصل اور بنیاد سے اور کس قدر جماؤ اور مضبوطی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم ان کی سیاہی کو کیسا پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ کس قدر خوبصورت ہے ان کی سیاہی۔ اور کس قدر شدید ہے ان کی سیاہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیسا پاتے ہو تم ان کی چکی اور گردش کو ؟ لوگوں نے جواب دیا جی ہاں کس قدر خوبصورتی ہے ۔ اور کس قدر شدید ان کی گردش ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کی بجلی کو کیسا پاتے ہو، اور ان کی چمک کو ۔ یاہلکی چمک کو یا زور دار چمک کو ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیرتی ہے چیر تا یعنی سخت چمک ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر حیا یعنی بارش کا کیا خیال ہے ؟ چنانچہ اس کے بعد ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کس قدر فصیح ہیں ہم نے آپ سے بڑا فصیح اور کلام کو درست کرنے والا کبھی نہیں دیکھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ میرا حق ہے اور میرے لئے ضرورہی ایسا ہونا چاہیے مجھے ۔ اس لئے کہ قرآن اتارا گیا ہے فصیح ترین عربی میں (یعنی اس لئے مجھے بھی فصاحت کا علم رکھنا ضروری ہے ۔)

أَبِيهِ ← موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث يعني التميمي ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو بكر محمد بن إبراهيم بن أحمد الفارسي

Hadith 1431

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان النبي صلى الله عليه و سلم فصاحته ـ · حديث 1432

1432 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيدة : فذكره

ہمیں خبر دی ہے ۔ ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کوعلی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبیدہ نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

أبي عبيدة فذكره ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1432

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في بيان النبي صلى الله عليه و سلم فصاحته ـ · حديث 1433

1433 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن محمد بن عقبة الشيباني بالكوفة ثنا محمد بن الحسن الشيباني أبو جعفر ثنا العلاء بن عمرو الحنفي ثنا يحيى بن بريدة و محمد بن الفضل الخراساني عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا العرب لأني عربي و القرآن عربي و كلام أهل الجنة عربي قال الحليمي رحمه الله و إذا ما تتبع ما في كتبه و محاوراته من الألفاظ الجزلة وجدت كثيرة فمنها كتابه لوائل بن حجر الحضرمي من محمد رسول الله إلى الاقيال العباهلة من أهل حضرموت بإقام الصلاة و إيتاء الزكاة على التبعة شاة و النتمة لصاحبها و في السبوب الخمس لا خلاط و لا وراط و لا ساق و لا شغار و من أجبى فقد أربى و كل مسكر حرام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے کوفے میں ان کو محمد بن حسن شیبانی نے ان کو ابو جعفر نے ان کو علاء بن عمرو حنفی نے ان کو یحییٰ بن بریدہ نے اور محمد بن فضل خراسانی نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطا بن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا۔ عربی زبان سے محبت کرو اس لئے کہ میں عربی ہوں ، اور قرآن عربی ہے اور اہل جنت کا کلام عربی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يحيى بن بريدة و محمد بن الفضل الخراساني ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← محمد بن الحسن الشيباني أبو جعفر ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1433

chevron_left Previous
1…456…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood