Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إشادة الله عز و جل بذكر محمد صلى الله عليه و سلم قبل أن يخلقه · حديث 1410

1410 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أخبرنا أبو سهل بن زياد القطان حدثنا القاسم بن نصر البزاز حدثنا سريج بن النعمان حدثنا فليح عن هلال عن علي عن عطاء بن يسار قال : لقيت عبد الله بن عمرو بن العاص فقلت له : أخبرني عن صفة رسول الله صلى الله عليه و سلم في التوراة فقال : أجل و الله إنه لموصوف في التوارة ببعض صفته في القرآن يا أيها النبي إنا أرسلناك شاهدا و مبشرا و نذيرا و حرزا أنت عبدي و رسولي سميتك المتوكل ليس بفظ و لا غليظ و لا صخب بالأسواق و لا يدفع السيئة بالسيئة و لكن يعفو و يغفر و لن أقبضه حتى أقيم به الملة العوجاء أن يقولوا : لا إله إلا الله و أفتح به أعينا عميا و آذانا صما و قلوبا غلفا قال عطاء بن يسار : ثم لقيت كعبا فسألته فما اختلفا في حرف إلا أن كعبا يقول : أعينا عمومي و قلوبا غلفى و آذانا صمومي و رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان عن فليح بن سليمان و قد ذكرنا شواهده و ما ورد في معناه عن كعب الأحبار و وهب بن منبه و غرهما في الجزء الخامس من كتاب دلائل النبوة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے اور ان کو خبر دی ہے ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو قاسم بن نصر بزار نے ان کو سریج بن نعمان نے ۔ ان کو فلیح نے ان کو ہلال نے ان کو علی نے ، ان کو عطا بن یسار نے وہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے توراۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا : جی ہاں اللہ کی قسم بے شک آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف توراۃ میں موجود ہے ۔ بعض و صفات جو قرآن میں ہیں وہ اس طرح ہے ۔ اے نبی بے شک ہم نے آپ کو بھیجا ہے گواہی دینے والا، بشارت دینے والا ۔ ڈرانے والا اور حفاظت کرنے والا آپ میرے بندے ہیں آپ میرے رسول ہیں ۔ میں نے آپ کا نام متوکل (اللہ پر بھروسہ کرنے والا ) رکھا ہے آپ نہ ہی شور کرنے والے ہیں اور نہ ہی تند خو ہیں ، اور نہ ہی بازاروں میں چلانے والے ہیں۔ اور نہ ہی برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں بلکہ آپ درگذر کرتے اور معاف کرتے ہیں ۔ میں ان کو ہر گز وفات نہیں دوں گا جب تک کہ میں ان کے ساتھ کج شدہ ملت کو سیدھا اور درست نہ کردوں یعنی کہ سب لوگ یوں کہنے لگ جائیں لاالٰہ الا اللہ ۔ اور میں آپ کے ذریعہ آنکھوں بہرے کانوں اور ہدایت سے عاری بند دلوں کو کھول دوں گا۔ عطا بن یسار کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حضرت کعب سے ملا میں نے ان سے سوال کیا ۔ لہذا دونوں نے کہیں ایک حرف کا بھی اختلاف نہیں کیا تھا۔ ہاں صرف اتنی بات ہے کہ کعب فرماتے تھے ۔ دونوں آنکھیں دونوں بہرے کان۔ اور بند شدہ دل ( یہی فرق تھا) اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن سنان سے انہوں نے فلیج بن سلیمان سے ۔ اور ہم نے اس کے شواہد ذکر کئے ہیں ۔ اور وہ روایات بھی جو کعب الاحبار سے اور وہب بن منبہ وغیرہ سے نقل کی ہیں کتاب دلائل سے پانچویں جلد میں ۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَلِيٍّ، ← هِلَالٍ، ← فُلَيْحٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← الْقَاسِمُ بْنُ نَصْرٍ الْبَزَّازُ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1410

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إشادة الله عز و جل بذكر محمد صلى الله عليه و سلم قبل أن يخلقه · حديث 1411

1411 - أخبرنا أبو منصور طاهر بن العباس بن منصور المروزي المقيم بمكة أخبرنا ابن المظفر بن موسى البزاز أخبرنا أبو جعفر الطحاوي أخبرنا الحسين بن بكر حدثنا إسحاق بن سليمان حدثنا صالح بن سعيد عن مقاتل بن حيان : في قول الله عز و جل : { و ما كنت بجانب الطور إذ نادينا } إذ نادى أمتك و هم في أصلاب آباءهم أن يؤمنوا بك إذا بعثت

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور طاہر بن عباس بن منصور مروزی نے جو کہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے وہ کہتے تھے کہ ان کو خبر دی ابن مظفر بن موسیٰ بزار نے ان کو ابو جعفر طحاوی نے ان کو حسین بن بکیر نے ان کو اسحاق بن سلیمان نے ان کو صالح بن سعید نے ان کو مقاتل بن حیان نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں ۔ "وما کت بجانب الطور اذنادیناہ" (الفصص46) اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کوہ طور کے کنارے موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو پکارا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اس سے مراد ہے جس وقت ہم نے آپ کی امت کو پکارا حالانکہ وہ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے یہ کہ وہ تیرے ساتھ ایمان لے آئیں جس وقت آپ کی بعثت کی جائے گی۔

صالح بن سعيد ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الحسين بن بكر ← أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ ← ابن المظفر بن موسى البزاز ← أبو منصور طاهر بن العباس بن منصور المروزي المقيم بمكة

Hadith 1411

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1412

1412 - أخبرنا : أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرايفي ثنا عمر بن سعيد الداري ثنا القعنبي فيما قرئ على مالك عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن أنه سمع أنسا بن مالك يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بالطويل البائن و لا بالقصير و لا بالأبيض الأمهق و لا بالآدم و ليس بالجعد القطط و لا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة فأقام بمكة عشر سنين و بالمدينة عشر سنين و توفاه الله على رأس ستين سنة و ليس في رأسه و لحيته عشرون شعرة بيضاء صلى الله عليه و سلم أخرجاه في الصحيح من حديث مالك و قد روينا عن الزبير بن عدي عن أنس بن مالك قال : قبض النبي صلى الله عليه و سلم و هو ابن ثلاث و ستين سنة

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے مزکی سے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عمر بن سعید داری نے ان کو قعنبی نے ان احادیث میں جو پڑھی گئیں مالک کے سامنے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے کہ انہوں نے سنا حضرت انس بن مالک سے وہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ انتہائی لمبے تھے اور نہ ہی زیادہ چھوٹے قد کے تھے ۔ نہ ہی آپ بالکل سفید رنگ تھے ۔ اور نہ ہی گندم کے رنگ کے (بلکہ آپ سرخ سفید گندمی رنگ والے تھے ) آپ کے سر کے بال نہ تو زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے چھڑگ تھے ( بلکہ دونوں چیزوں کا حسین امتزاج لئے ہوئے تھے۔ ) اللہ تعالیٰ نے آپ کی عمر کے چالیسویں سال کے آخر میں منصب رسالت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا تھا۔ نبوت ملنے کے بعد آپ دس سال مکے میں رہے ، اور مدینے میں دس سال رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی اس وقت آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے زبیر بن عدی سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب روح قبض کی گئی تو وہ اس وقت تریسٹھ سال کے تھے۔

رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← عمر بن سعيد الداري ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Hadith 1412

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1413

1413 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا جدي أبو عمرو إسماعيل بن نجيد ثنا محمد بن عمار بن عطية ثنا محمد بن عمرو زنيج ثنا حكام بن سلم عن عثمان بن زائدة عن الزبير بن عدي عن أنس بن مالك قال : قبض النبي صلى الله عليه و سلم و هو ابن ثلاث و ستين و قبض أبو بكر و هو ابن ثلاث و ستين و قبض عمر و هو ابن ثلاث و ستين رواه مسلم في الصحيح عن زنيج و كذا قال الزهري عن عروة عن عائشة و عمرو بن دينار و أبو حمزة عن ابن عباس في روايتهما : أقام رسول الله صلى الله عليه و سلم بمكة ثلاث عشرة سنة و قال عمار بن أبي عمار من ابن عباس خمس عشرة سنة و رواية أبي حمزة و عمرو أولى أن تكون محفوظة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو میرے دادا ابو عمر اسماعیل بن نجید نے ان کو محمد بن عمار بن عطیہ نے ان کو محمد بن عمرو زنیج نے ان کو حکام بن سلم نے ان کو عثمان بن زائدہ نے زبیر بن عدی سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جب انتقال ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تریسٹھ سال کے تھے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے اور حضرت عمر جب فوت ہوئے وہ بھی تریسٹھ سال کے تھے۔ اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم میں روایت کیا ہے زنیج سے اور زہری نے بھی اسی طرح کہا ہے حضرت عروہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور عمرو بن دینار سے اور ابو حمزہ سے ان کو ابن عباس سے حضرت ابن عباس نے دونوں روایتوں میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے ۔ اور عمار بن ابن عمار نے کہا کہ حضرت ابن عباس سے ہے کہ پندرہ سال رہے ۔ مگر ابو حمزہ کی روایت اور عمرو کی روایت سے زیادہ بہتر ہے محفوظ ہونے کے اعتبار سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزبير بن عدي ← عُثْمَانَ بْنِ زَائِدَةَ، ← حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو زُنَيْجٌ، ← محمد بن عمار بن عطية، ← جَدِّي أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1413

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1414

1414 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا المسعودي عن عثمان بن عبد الله بن هرمز عن نافع بن جبير عن علي بن أبي طالب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بالقصير و لا بالطويل ضخم الرأس و اللحية خشن الكفين و القدمين ضخم الكراديس مشرب وجهه حمرة طويل المسربة إذا مشى يتكفا تكفئا كأنه ينحط من صبب لم أر قبله و لا بعده مثله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسعودی نے ان کو عثمان بن عبداللہ ہر مز نے ان کو نافع بن جبیر نے ان کو حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو زیادہ لمبے تھے نہ پستہ قد تھے ، آپ کا سر بڑا تھا داڑھی گھنی تھی ۔ ہتھیلیاں اور پاؤں فربہ تھے اور گوشت سے پر تھے رنگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سرخ و سفید تھا۔ ہڈیوں کے جوڑ موٹے تھے ۔ سینے سے ناف تک بالوں کی ایک لکیر تھی یا دھاری تھی آپ جب چلتے تو آگے کی جانب جھکے جھکے چلتے ۔ جیسے آپ اوپر سے نیچے کی طرف چل رہے ہیں ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ جیسا شخص کوئی نہیں دیکھا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Hadith 1414

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1415

1415 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عيسى بن يونس ثنا عمرو بن عبد الله مولى عفرة قال : حدثني إبراهيم بن محمد و هو من ولد علي رضي الله عنه قال : كان علي رضي الله عنه إذا نعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لم يكن بالطويل و لا القصير و كان ربعة من القوم و لم يكن بالجعد القطط و لا بالسبط كان جعدا رجلا لم يكن بالمطهم و المكلثم و كان في الوجه تدوير أبيض مشربا أدعج العينين أهدب الأشفار جليل المشاش أجرد شثن الكفين و القدمين إذا مشى تقلع كأنما يمشي على صبب و إذا التفت التفت معا بين كتفيه خاتم النبوة أجود الناس كفا و أرحب الناس صدرا و أصدق الناس لهجة و أوفى الناس ذمة و ألينهم عريكة و ألزمهم عشرة من رآه بديهة هابه و من خالطه فعرفه أحبه يقول ناعته : لم أر قبله و لا بعده مثله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نےان کو حسن بن محمد اسحٰق نے ان کو محمد یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو عمرو بن عبداللہ مولیٰ عفرہ نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن محمد نے اور وہ اولاد علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصف بیان کرتے تو یوں فرمایا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو زیادہ لمبنے تھے اور نہ چھوٹے تھے بلکہ لوگوں میں متوسط قامت کے تھے نہ بہت گھونگھریالے بالوں والے نہ بالکل سیدھے بالوں والے بلکہ کچھ بل کھائے ہوئے تھے ۔ آپ نہ تو بہت موٹے تھے اور نہ ہی بالک سوکھے دبلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس گول تھا۔ سفید سرخی لئے ہوئے ، آپ کی دونوں آنکھٰں سیاہ تھیں۔ آپ کی پلکیں لمبی تھی دونو ں ہتھیلیاں اور دونوں قدم گوشت کے بھرے ہوئے تھے ۔ جب آپ چلتے تو (یوں آگے کو جھکتے ہوئے چلتے ) جیسے بلندی سے نیچے اتر رہے ہوں اور جب آپ ادھر ادھر متوجہ ہوتے تو پورے جسم کے ساتھ گھوم جاتے ۔ آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپ سب لوگوں میں کشادہ کف یعنی سخی تھی۔ اور زبان کے نہایت سچے تھے ۔ اور سب لوگوں میں نرم لہجے والے تھے ۔ اور اپنی اعتبار سے سب سے باعزت تھے ۔ اور جو شخص آپ کو جان کر میل جول کرتا وہ آپ سے محبت کرتا ۔ آپ کی صفت بیان کرنے والا ہر شخص یہ کہتا کہ میں نے آپ جیسا نہ پہلے کبھی دیکھا نہ اس کے بعد دیکھوں گا۔

إبراهيم بن محمد و هو من ولد علي ← عمرو بن عبد الله مولى عفرة ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 1415

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1416

1416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن علي بن الحسن ثنا أبو عيسى الترمذي ثنا أبو جعفر محمد بن الحسين و علي بن محمد و أحمد بن عبدة قالوا ثنا عيسى بن يونس : فذكره بإسناد نحوه غير أنه لم يكن بالطويل الممغط و بالقصير المتردد و الكند أجرد ذو مسربة قال أبو جعفر : سمعت الأصمعي يقول في تفسير صفة النبي صلى الله عليه و سلم الممغط الذاهب طولا و المتردد الداخل بعضه في بعض قصرا فأما القطط الشديد الجعودة و الرجل الذي في شعره حجونة قليلا و أما المطهر فالبادن الكثير اللحم و المكلثم المدور الوجه يعني يقول فليس لذلك و المشذب الذي في ناصيته حمرة و الأدعح الشديد سواد العينين و الأهدب الطويل الأشفار و الكتد مجتمع الكتفين و هو الكاهل و المسربة هو الشعر الدقيق الذي كأنه قضيب من الصدر إلى السرة و الشثن الغليظ الأصابع من الكفين و القدمين و التقلع و التقلع أن يمشي بقوة و الصبب الحدور يقول انحدر إلى الصبوب و صبب و قوله جليل المشاش يريد رؤوس المناكب و العشيرة الصحبة و البديهة المفاجأة يقال بدهته بأمر : أي فاجأته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن علی بن حسن نے ان کو ابو عیسیٰ ترمذی نے ان کو ابو جعفر نے ابن حسن اور علی بن محمد اور احمد بن عبدہ نے تینوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عیسیٰ بن یونس نے پھر انہوں نے اس کو اسناد کے ساتھ ڈرایا ۔ مذکور کی مثل مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: " لم یکن با لطویل المفط و بالقصیر المتریۃ والکند اجرو ذومسربۃ"۔ ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے اصمعی سے سنا وہ صفت ہی کی تفسیر میں کہتے تھے ۔ "المغط الذاھب طولا ممغط " کا مطلب ہے لمبا ہونے میں زیادتی۔ اور قصیر المترو نکا مطلب ہے بعض کا بعض میں داخل ہونا چھوٹا ہونے کی وجہ سے مقصد ہے ٹھگنا ہونا بہت چھوٹا ہونا جو برا لگے۔ اور قطط وہ جس کے بال میں سخت گھونگھریالہ پن ہو۔ اور وہ آدمی جس کے بال میں تھوڑا سا بل ہو۔ اور مطھر اور باذن زیادہ گوشت والا۔ اور مکلثم ، گول چہرے والا اور مشذب جس کی پیشانی پر سرخی ہو۔ اور دعلج آنکھوں کی شدید سیاہی والا۔ اور الا ھدب لمبی بھنوؤں والا ۔ اور الکند ۔ مجتمع کندھوں والا۔ اور منصربۃ باریک بال یعنی بالوں کی باریک لکیر جیسے کوئی باریک اسٹک ہے چمک ہے ، سینے سے ناف تک ۔ اور ثثن ہاتھوں پیروں کی موٹی انگلیوں والا اور تقلع کا مطلب قوت کے ساتھ چلنے والا اور الصیب کا مطلب ہے جھکتے ہوئے چلنے والا۔ کہتے ہیں مائل ہوا ہے جھکنے یا لڑھکنے کی طر ف جلیل المشاش اس سے مراد ہے کندھوں یا جوڑوں کے سرے اور العشیرہ صحبۃ ۔ صحبت اور دوستانہ تعلق ، اور البدیھہ کا مطلب ہے اچانک اور کہتے ہیں ۔ بدھتہ بامر ۔ ای ماجأتہ ۔ بداھت کے ساتھ میں نے فلاں کام کیا ہے یعنی اس کو اچانک کیا ہے ۔

عيسى بن يونس فذكره بإسناد نحوه غير ← أبو جعفر محمد بن الحسين و علي بن محمد و أحمد بن عبدة ← أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: ← أحمد بن علي بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1416

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1417

1417 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا زهير عن أبي إسحاق قال : قيل للبراء أكان وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم كالسيف ؟ قال : لا بل كالشمس رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم عن زهير و أخرجه مسلم من حديث جابر بن سمرة غير أنه قال : لا بل مثل الشمس و القمر مستديرا قال الإمام أحمد رحمه الله : روينا في رواية أخرى عن جابر بن سمرة أنه قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في ليلة أضحيان و عليه حلة حمراء فجعلت أنظر إليه و إلى القمر فلهو كان أحسن في عيني من القمر

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو زھیرنے ان کو ابو اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت براء سے کہا گیا تھا کیا رسول اللہ کا چہرہ تلوار کی مثل تھا انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ سورج کی مثل تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اپنی صحیح میں ابو نعیم سے انہوں نے زہیر سے اور اس کو نقل کیا ہے مسلم نے حضرت جابر بن سمرہ کی حدیث سے علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے نہیں بلکہ مثل سورج کے اور چاند کے گول تھا۔

جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ أَنَّهُ ← الإمام أحمد روينا في رواية أخرى ← لا بل مثل الشمس و القمر مستديرا ← زهير و أخرجه مسلم من حديث جابر بن سمرة غير أنه ← أَبِي نُعَيْمٍ، ← لا بل كالشمس رواه البخاري في الصحيح ← قيل للبراء أكان وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم كالسيف ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Hadith 1417

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1418

1418 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أن أبو حامد بن بلال ثنا محمد بن إسماعيل الأحمسي ثنا المحاربي عن أشعث عن أبي إسحاق عن جابر بن سمرة قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر هذا الحديث الأخير

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن اسماعیل احمسی نے ان کو محاربی نے ان کو اشعث نے ان کو ابو اسحٰق نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا انہوں نے اس آخری حدیث کو ذکر فرمایا۔

رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر هذا الحديث الأخير ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَشْعَثَ، ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← أبو طاهر الفقيه أن أبو حامد بن بلال ← و،

Hadith 1418

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1419

1419 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب ثنا يحيى بن أبي مسرة ثنا خلاد بن يحيى ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد شمط مقدم رأسه و لحيته و كان إذا أدهن لم يتبين و إذا شعث رأسه تبين و كان كثير شعر اللحية فقال رجل : وجهه مثل السيف قال : لا بل كان مثل الشمس و القمر و كان مستديرا قال : و رأيت خاتمه عند كتفه مثل بيضة الحمامة يشبه جسده أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن إسرائيل

اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی اور روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو یحییٰ بن ابو مسرۃ نے ان کو خلا د بن بل یحییٰ نے ان کو اسرائیل نے سماک بن جرب انہوں نے جابر بن سمرو رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اور داڑھی کے سامنے کے بال سفید سیاہ ملے ہوئے تھے آپ جب تیل لگاتے تو ظاہر نہیں ہوتے تھے ۔ آپ کے بال جب خشک ہو کر بکھرتے تو ظاہر ہوتے تھے اورآپ کی داڑھی کے بال گھنے تھے۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ تلوار کی مانند تھا۔ جابر نے فرمایا کہ نہیں بلکہ چاند سورج کی مثل گول تھا۔ جابر فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے کندھا کے پاس آپ کی مہر نبوت کو دیکھا کبوتری کے انڈے کی مثل ۔ آپ کے جسم کی مثل تھی ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے دوسرے طریقے سے اسرائیل سے ۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← يحيى بن أبي مسرة ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Hadith 1419

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1420

1420 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سعيد الأحمسي ثنا الحسن بن حميد ثنا إبراهيم بن المنذر ثنا عبد الله بن موسى بن إبراهيم بن محمد بن طلحة بن عبيد الله التيمي عن أسامة بن زيد عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر قال : قلت للربيع : صفي لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا بني لو رأيته رأيت الشمس طالعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمسی نے ان کو حسن بن حمید نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ بن ابراہیم بن محمد بن طلحۃ بن عبید اللہ تیمی نے ان کو اسامہ بن زید نے ان کو ابو عبید ہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ میں نے ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا میرے لئے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت بیان فرمائیے انہوں نے فرمایا۔ اے بیٹے اگر آپ ان کو دیکھتے تو بس آپ سورج طلوع ہوتا دیکھتے ( جیسے سورج طلوع ہو رہا ہے۔)

أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عبد الله بن موسى بن إبراهيم بن محمد بن طلحة بن عبيد الله التيمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← الحسن بن حميد ← أبو سعيد الأحمسي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1420

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في خلق الرسول صلى الله عليه و سلم و خلقه · حديث 1421

1421 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا أبو مسلم أن الحجاج بن المنهال حدثني حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أزهر اللون كان عرقه اللؤلؤ إذا مشى تكفأ و لا مست ديباجة و لا حريرة ألين من كفه و لا شممت رائحة قط أطيب من رائحته مسكة و لا غيرها صلى الله عليه و سلم أخرجه مسلم من حديث حماد

ہمیں خبر دی ہے ، ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو ابو مسلم نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ گلاب کے رنگ والے تھے ۔ اپ کا پسینہ موتیوں کی مانند ہوتا تھا۔ آپ جب چلتے تو آگے کو جھک جھک کر چلتے اور میں نے کوئی موٹا یا باریک ریشم آپ کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم نہیں چھوا اور میں سے آپ کے جسم مطہر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی نہ کستوری نہ ہی کوئی اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے حماد کی حدیث سے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو مسلم أن الحجاج بن المنهال ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1421

chevron_left Previous
12345…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood