Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1494

1494 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين الحسيني نا أبو محمد الحسن بن حمشاد العدل ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الحسن بن محمد بن سختويه قالا : ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل نا ابن أبي مريم أنا مسلمة بن علي الخشني حدثني زيد بن واقد عن القاسم بن مخيمرة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اتخذ الله إبراهيم خليلا و موسى نجيا و اتخذني حبيبا ثم قال و عزتي و جلالي لأؤثرن حبيب على خليلي و نجيبي و مسلمة بن علي هذا ضعيف عند أهل الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن حسین حسینی نے ان کو ابو محمد بن حمشا د عدل نے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد حسن بن محمد بن سختویہ نے دونوں کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل نے ان کو ابن ابومریم نے ان کو مسلمہ بن علی خشنی نے ان کو زید واقد نے قاسم بن مخیمرہ سے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجیب بنایا اور مجھے حبیب بنایا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میری عزت کی قسم ہے میرے جلال کی قسم ہے تم لوگ میرے حبیب کو میرے خلیل پر ترجیح نہ دینا اور میرے نجیب پر ترجیح نہ دینا اور مسلمہ بن علی یہ ضعیف ہیں اہل حدیث کے نزدیک۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← مسلمة بن عليٍّ الخشني، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أبو محمد الحسن بن محمد بن سختويه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أبو محمد الحسن بن حمشاد العدل ← أبو الحسن محمد بن الحسين الحسيني

Hadith 1494

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1495

1495 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا محمد بن إسماعيل الأحمسي ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقوم حتى تورم قدماه فقيل يا رسول الله أتصنع هذا و قد جاءك من الله أن قد غفر لك من ذنبك ما تقدم و ما تأخر قال : أفلا أكون عبدا شكورا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن اسماعیل احمسی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد مجاری نے ان کو محمد بن عمرو نے ابو سلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے ہو کر عبادت کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدم مبارک متورم ہو جاتے کہا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ اتنی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کے ہاں سے یہ فرمان آچکا ہے کہ اس نے آپ کی تمام اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنو۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم يقوم حتى تورم قدماه فقيل ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1495

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1496

1496 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوية الحلاب و أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل الهاشمي ببغداد قالا : ثنا محمد بشر بن مطر ثنا نصر بن حريش الصامت ثنا المشمعل بن ملحان الطائي عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه لما نزلت هذه الآية { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } قال حتى انتفخت قدماه و تعبد حتى صار كالشرك البالي فقالوا : يا رسول الله تفعل هذا و قد غفر لك ما تقدم من ذنبك و ما تأخر ؟ قال : أفلا أكون عبدا شكورا و في رواية عبد الله فهلا أكون عبدا شكورا 1496 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن مالويه الحلاب ح و أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل الهاشمي ببغداد قالا ثنا محمد بشر بن مطر ثنا نمر بن حريش الصامت ثنا المشمعل بن ملحان الطائي عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه لما نزلت هذه الآية : { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } قام حتى انتفخت قدماه و تعبد حتى صار كالشرك البالي فقالوا : يا رسول الله تفعل هذا و قد غفر لك ما تقدم من ذنبك و ما تأخر قال : أفلا أكون عبدا شكورا و في رواية عبد الله فهلا أكون عبدا شكورا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ الحلاب نے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو جعفر بن عبداللہ بن اسماعیل ہاشمی نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ان کو محمد بن بشر بن مطر نے ان کو نصر بن حریش صامت نے ان کو مشمعل بن ملحان طائی نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو نبی کریم ق نے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ " انا فحنالک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تأخر ( الفتح1) ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی ہے تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دے ۔ تو آپ نے کھڑے ہو کر عبادت کی یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ اور خوب عبادت کی یہاں تک کہ آپ سوکھی ٹہنی کی طرح ہو گئے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ ایسے کر رہے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنو۔ اور عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کیا پس میں نہ ہوں شکر گذار بندہ۔یہ روایت اصل میں دوبارہ درج ہے صرف فرق ایک نام کا ہے پہلی میں نصر بن حریش ہے اور دوسری میں نمر بن حریش ہے باقی مکمل سند اور متن ایک ہی جیسا اس کئے ہم نے دوبارہ اس کو نہیں لکھا۔

حتى انتفخت قدماه و تعبد حتى صار كالشرك البالي ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← المشمعل بن ملحان الطائي، ← نَصْرُ بْنُ حَرِيشٍ الصَّامِتُ، ← محمد بشر بن مطر ← أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل الهاشمي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوية الحلاب و ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1496

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1497

1497 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو يحيى عن أبي مسرة ثنا خلاد بن يحيى ثنا محمد بن زياد السكري ثنا ميمون بن مهران عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أول ما أنزل عليه الوحي كان يقوم على صدر قدميه فأنزل الله عز و جل : { طه * ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى }

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو یحییٰ نے ان کو ابو مسرہ نے ان کو خلاد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن زیادہ سکری نے ان کو میمون بن مہران نے ان کو ابن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلی وحی جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے قدموں کے اگلے حصے پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی:۔ " طہ ما انزلنا علیک القران لتشقی" (طٰہ 1-2) ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا تیرے اوپر کہ آپ پریشان ہوں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← محمد بن زياد السكري ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أبي مسرة ← أبو يحيى ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1497

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1498

1498 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : ثنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا جعفر بن سليمان عن هشام عن الحسن عن بعض أصحابه أنه قال : إن كانت العبادة لتأخذ من رسول الله صلى الله عليه و سلم الأحايين حتى ما يشبه به إلا الشن البالي قال الحليمي رحمه الله : و إذا ظهر أن حب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الإيمان و بيننا ما جمع الله له من المحامد و المحاسن التي هي الدواعي إلى محبته و محبة اعتقاد مدائحه و فضائله و الاعتراف له بها بالولوع بذكرها و إكثار الصلوات عليه و لزوم طاعته و الحض على إظهار دعوته و إقامة شريعته و التسبب إلى استحقاق شفاعته و بالفرح بالكون من أمته و مستحبي دعوته و إدمان التلاوة للقرآن الناطق بحجته فمن فعل ما ذكرناه و ما يتصل به من أمثاله فقد أحبه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابوبکر محمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ابو عمر و بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو جعفر بن سلیمان نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے حسن سے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے انہوں نے کہا کہ اگر عبادت آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اخذ کریں بالکل آپ کے مطابق حتیٰ کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عبادت میں مشابہت نہیں ہو گی مگر پرانےمشکیزے کی طرح ہو کر۔

بَعْضِ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Hadith 1498

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1499

1499 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أبو القاسم الطبراني أنا حفص بن عمر ثنا قبيصة ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى السبيعي بالكوفة ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا قبيصة بن عقبة ثنا سفيان عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي بن كعب عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا ذهب ربع الليل قام فقال : يا أيها الناس اذكروا الله جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموث بما فيه جاء الموت بما فيه فقال له أبي بن كعب : يا رسول الله إني أكثر الصلاة عليك فكم اجعل لك منها قال : ما شئت قال : رب قال : ما شئت و إن زدت فهو خير قال : النصف قال : ما شئت و إن زدت فهو خير قال : ثلثين قال : ما شئت و إن زدت فهو خير قال : يا رسول الله اجعلها كلها لك قال : إذا تكفي همك و يغفر لك ذنبك هذا اللفظ حديث أبي عبد الله و لم يذكر ابن عبدان في روايته الربع و الثلثين و قال في آخره قلت : اجعل دعائي كله صلاة عليك قال : إذا يكفيك الله ما همك و يغفر لك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو القاسم طبرانی نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو قبیصہ نے۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین علی بن عبدالرحمٰن بن عیسیٰ سبیعی نے کوفہ میں ان کو احمد بن حازم بن ابو عرزہ نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے ابو الطفیل بن ابی بن کعب سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب رات کی ایک چوتھائی گزر چکی آپ کھڑے ہو گئے اور ارشاد فرمایا ۔ لوگو اللہ کو یاد کرو آگئی ہے آنے والی اس کے پیچھے آئے پیچھے آنے والی موت اپنی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ قریب آ چکی ہے ۔ موت اپنی ہلاکت خیزیوں کے ساتھ قریب ا چکی ہے ۔ چنانچہ انس بن کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں کثرت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر رحمت کی دعا کرتا ہوں ( درود پڑھتا ہوں ) میں وہ کتنی آپ کے اوپر پڑھا کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس قدر آپ چاہیں اس کے کہا ایک چوتھائی اور فرما یا جو کچھ تو چاہیے اور تو اس سے بھی زیادہ کرے تو وہ تیرے لئے بہتر ہے اس نے پوچھا کہ آدھا وقت درود پڑھوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر تو چاہیے اگر زیادہ کر ے تو تیرے لئے بہتر ہے ۔ اس نے عرض کیا پھر دو تہائی وقت درود پڑھوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس قدر تو چاہے اگر تو زیادہ کرے تو تیرے لئے بہتر ہے ۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر پورا وقت تیرے لیے رحمت مانگنے ( درود پڑھنے) میں صرف کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس وقت تیری ہر فکر و ضرورت خود بخود پوری ہوگی اور تیرے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے ۔ یہ لفظ ابو عبداللہ کی حدیث کے ہیں اور ابن عبدان نے اپنی روایت میں چوتھائی اور دو تہائی کے الفاظ ذکر نہین کئے ۔ اور اس نے حدیث کے آخر میں یہ کہا ہے کہ میں نے کہا کہ میں اپنی ساری دعا آپ کے اوپر ( درود پڑھنے ) رحمت مانگنے کو بناؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ہی کفایت کرے جو کچھ بھی ارادہ ہو گا اور تجھے بخش دے گا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِيسَى السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← قَبِيصَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1499

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1500

1500 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن منصور بن صفية قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم برجل و هو يقول الحمد لله الذي هداني للإسلام و جعلني من أمة أحمد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شكرت عظيما و مر برجل و هو يقول : يا أرحم الراحمين فقال : قد أقبل عليك فسل قال البيهقي رحمه الله : و دخل في جملة محبته صلى الله عليه و سلم حب آله و هم أقرباؤه الذين حرمت عليهم الصدقة و أوجبت لهم الخمس لمكانهما منه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا منصور بن صفیہ سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی اور مجھے امت احمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں بنایا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا آپ نے عظیم شکر ادا کیا ہے ۔ الحمد للہ الذی ھدانی وجعلنی من امۃ احمد" اور دوسرے آدمی کے پاس سے گزرے وہ یہ کہہ رہا تھا ۔" یا ارحم الراحمین" آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اپنیطرف توجہ کیجئے اور اپنے لیے سوال کیجئے ( یعنی اللہ کی تعریف تو کر لی اور اب اپنے لئے دعا بھی مانگو)

قَدْ أَقْبَلَ عَلَيْكَ فَسَلْ ← يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ← الحمد لله الذي هداني للإسلام و جعلني من أمة أحمد ← مر النبي صلى الله عليه و سلم برجل و هو ← مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1500

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1501

1501 - فقد ذكرنا في كتاب الفضائل في قصة العباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا يدخل قلب رجل الإيمان حتى يحبكم لله و لقرابتي

ہم نے کتاب الفضائل میں حضرت عباس کے قصے میں ذکر کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ تم لوگوں سے محبت کرے اللہ کی رضا کے لئے اور میری قرابت کی وجہ سے۔

Hadith 1501

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1502

1502 - و قد مضى في حديث ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : و أحبوا أهل بيتي لحبي و يدخل في اسم هذا البيت أزواجه قال الله عز و جل : { يا نساء النبي لستن كأحد من النساء } لأنهن من نساء العالمين في الفضيلة ثم ساق الكلام إلى قوله { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت و يطهركم تطهيرا } و الظاهر أنه أرادهن بذلك و إنما قال عنكم خص الذكور لأنه أراد دخول غيرهن معهن في ذلك ثم أضاف البيوت إليهن فقال : { و اذكرن ما يتلى في بيوتكن من آيات الله و الحكمة } و جعلهن أمهات المؤمنين فقال : { النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم و أزواجه أمهاتهم } و جعل حرمة الزوجية بعد وفاة النبي صلى الله عليه و سلم باقية ما بقين فقال : { وما كان لكم أن تؤذوا رسول الله ولا أن تنكحوا أزواجه من بعده أبدا } فعلينا من حفظ حقوقهن بعد ذهابهن بالصلاة عليهن و الاستغفار لهن و ذكر مدائحهن و حسن الثناء عليهن ما على الأولاد في أمهاتهن اللائي و لدنهم و أكثر لمكانتهن من رسول الله صلى الله عليه و سلم و زهادة معظمهن على غيرهن من نساء هذه الأمة

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں گزر چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میرے اہل بیت سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے ۔ اور اس لفظ اہل بیت میں آپ کی ازواج مطہرات بھی داخل ہیں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ "یا نساء النبی لستن کا حد من النساء ( الا حزاب 32) اے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عورتوں تم کسی عام عورت جیسی نہیں ہو۔ اس لئے کہ وہ فضیلت میں تمام جہانوں کی عورتوں سے افضل ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا یہاں تک کہ ارشاد ہوا:۔ "انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیراً" یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا کہ تم سے اے اہل بیت رسول (کفر و شرک اور معاشرے کی ہر برائی کو) دور رکھے اور تمہیں پاک صاف رکھے۔ظاہر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ازواج مطہرات کا ہی ارادہ فرمایا ہے ۔ باقی عنکم کی ضمیر مذکر لا کر مردوں کو خاص کیا اس لئے کہ اللہ نے ازواج مطہرات کے ساتھ دیگر کو بھی داخل کرنے کا ارادہ فرمایا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیوت کی اضافت ازواج کی طرف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: "واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایات اللہ والحکمۃ " ( الاحزاب34) یاد کرو اس کو جو کچھ تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات پڑھی جاتی میں اور فراست کو۔ اور اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو امہات المومنین بنا دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری ہے ۔ " النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم وازوجہ امھا تھم " ( الا حزاب6) نبی مؤمنوں کے ساتھ ان کے نفسوں سے بھی زیادہ اہم ہیں اور ان کی بیویاں مؤمنوں کی مائیں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ماؤں والی حرمت زوجیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد بھی برقرار رکھا۔ جب تک وہ بقید حیات رہیں ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: " ماکان لکم ان تو ذوا رسول اللہ ولا ان تنکحو ا ازواجہ من بعدہ ابداً " (الا حزاب 53) تمہیں اس بات کی قطعاً اجازت نہیں ہے کہ تم رسول کی ایذا رسائی کرو اور نہ یہ کہ تم ان کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو کبھی بھی۔ لہذا ہمارے اوپر لا زم ہے ان کے حقوق کی حفاظت کرنا، ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ، ان پر درود اور رحمت بھیجنے کے ساتھ اور ان کے لئے استغفار کرنا اور ان کی مدحتوں اوران کی حسن ثنا کا ذکر کرنا اس بنا پر کہ اولاد پر اپنی ماؤں کی جنہوں نے ان کو جنم دیا ہوتا ہے حقوق ہوتے ہیں جب کہ ان ماؤں کے حقوق ان سے زیادہ ہیں اس مرتبہ کی وجہ سے اور اس مقام کی وجہ سے جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حاصل ہے ۔ اور اس زھد و تقویٰ و عظمت کی بنا پر جوا نہیں اس امت کی تمام عورتوں پر حاصل ہے ۔

و قد مضى في حديث ابن عباس

Hadith 1502

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1503

1503 - و قد روينا عن أبي حميد الساعدي أنهم قالوا : يا رسول الله كيف نصلي عليك قال : قولوا اللهم صل على محمد و أزواجه و ذريته كما صليت على إبراهيم و بارك على محمد و أزواجه و ذريته كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد

اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے ابو حمید ساعدی سے کہ انہوں نے کہا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم آپ کے اوپر کیسے صلوات پڑھیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہو:۔ " اللھم صلی علی محمد و ازواجہ و ذریتہ کما صلیتہ علیٰ ابراہیم وبارک علی محمد وا زواجہ و ذریتہ کما بارکت علیٰ ابراھیم انک حمید مجید"۔ اے اللہ رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسے آپ نے رحمتیں نازل کیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیسے آپ نے برکتیں نازل کیں ابراہیم علیہ السلام پر بے شک آپ حمد و الے بزرگی والے ہیں۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُمْ ← و قد روينا

Hadith 1503

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1504

1504 - و قال في حديث أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم من سره أن يكتال بالمكيال الأوفى إذ صلى علينا أهل البيت فليقل اللهم صل على محمد النبي و أزواجه أمهات المؤمنين و ذريته كما صليت على إبراهيم إنك أنت حميد مجيد وقد ذكرنا ذلك مع ما ورد في فضلهن في كتاب الفضائل

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت ہے ۔ جو شخص چاہتا ہے کہ پورے پیمانے کے ساتھ تولا جائے یا نا پا جائے جب وہ ہم لوگوں اہل بیت پر رحمت کی دعا کرے ، تو اسے چاہیے ۔ یوں پڑھے۔ " اللھم صلی علی محمدن النبی وازواجہ امھات المؤمنین و ذریتہ کما صلیت علی ابراہیم انک حمید مجید" اے اللہ رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو کہ نبی ہیں اور ان کی بیویوں پر جو کہ مؤمنوں کی مائیں ہیں اور ان کی اولاد پر جیسے آپ نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر بے آپ تعریف اور بزرگی والے ہیں ۔ تحقق ہم نے ذکر کیا ہے اس کی دیگر فضائل کے ساتھ کتاب الفضائل میں۔

في حديث أبي هريرة ← و،

Hadith 1504

شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1505

1505 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ( ح ) و أخبرنا أحمد بن أبي العباس الزوزني ثنا أبو بكر بن خنب ثنا أبو بكر محمد بن سليمان الباغندي قالا : ثنا محمد بن عمران بن أبي ليلى ثنا سعيد بن عمرو السكوني عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي ليلى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يؤمن عبد حتى أكون أحب إليه من نفسه و تكون عترتي أحب إليه من عترته و ذايت أحب إليه من ذاته و يكون أهلي أحب إليه من أهله و يدخل في جملة حب النبي صلى الله عليه و سلم حب أصحابه لأن الله عز و جل أثنى عليهم و مدحهم فقال : { محمد رسول الله و الذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم } و قال : { لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة فعلم ما في قلوبهم فأنزل السكينة عليهم وأثابهم فتحا قريبا } و قال : { والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه } و قال : { والذين آمنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله والذين اووا ونصروا أولئك هم المؤمنون حقا لهم مغفرة ورزق كريم } فإذا انزلوا هذه المنزلة استحقوا على جماعة المسلمين أن يحبوهم و يتقربوا إلى الله عز و دجل بمحبتهم لأن الله تعالى إذا رضي عن أحد أحبه و واجب على العبد أن يحب من يحبه مولاه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ا ن کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی احمد بن ابو العباس زوزنی نے ان کو ابوبکر بن خنب نے ان کو ابوبکر محمد بن سلیمان باغندی نے دونوں کو محمد بن عمران بن ابی لیلیٰ نے ان کو سعید بن عمرو سکونی نے ابن ابی لیلیٰ سے ان کو حکم نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کو ابو لیلیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کوئی بندہ مؤمن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ میں اس کے نفس سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ اور میری اولاد اس کے نزدیک اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے اور میر ذات اس کی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے اور میرے گھر والے اس کے گھر والوں سے زیادہ نہ محبوب ہو جائیں۔

أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو السَّكُونِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاغِنْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أحمد بن أبي العباس الزوزني، ← و، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1505

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood