Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1248

1248 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر بن بالويه قالا : أنا بشر بن موسى ثنا عبد الله بن يزيد المقرئ ثنا موسى بن علي بن رباح يقول : سمعت أبي يقول : سمعت عمرو بن العاص يقول : بعث إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتيته فأمرني أن آخذ علي ثيابي و سلاحي ثم آتيه قال : ففعلت ثم أتيته و هو يتوضأ فصعد في النظر ثم طأطأ ثم قال : يا عمرو إني أريد أن أبعثك على جيش فيغنمك الله و يسلمك و أرغب لك رغبة صالحة من المال فقلت : يا رسول الله إني لم أسلم رغبة في المال و لكن أسلمت رغبة في الإسلام و أن أكون مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لي : يا عمرو : نعم المال الصالح للرجل الصالح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو ابو بکر بن بالویہ نے دونوں کو بشر بن موسیٰ نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو موسیٰ بن علی بن رباح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور میں حاضر ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں کپڑے بدل لوں اور اسلحہ سنبھال لوں چنانچہ یہی سب کچھ کرکے میں حاضر ہو گیا۔ اس وقت اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرمارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نیچے سے اوپر تک اور اوپر سے نیچے تک اچھی طرح نظر اٹھا کر دیکھا اس کے بعد فرمایا۔ اے عمرو میں چاہتا ہوں کہ میں تجھے ایک لشکر میں روانہ کروں اللہ تعالیٰ مال غنیمت عطا کرے گا اور صحیح سالم واپس لائے گا اور میں تیرے لئے مال کی نیک خواہش کرتا ہوں۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مال میں رغبت نہیں رکھتا ہوں بلکہ اسلام میں رغبت رکھتا ہوں ۔ اور یہ خواہش کرتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ۔ اے عمرو اچھا اور حلال مال نیک آدمی کے لئے ہوتا ہے۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر بن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1248

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1249

1249 - أخبرنا أبو عبد الله السوسي ثنا أبو جعفر البغدادي ثنا إسماعيل القاضي ثنا ابن أبي أويس قال : ثنا مالك بن أنس عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحديث الذي ذكر فيه بركات الأرض : إن هذا المال خضرة حلوة فمن أخذه بحقه و وضعه في حقه فنعم المعونة هو مخرج في الصحيح و رواه هلال بن أبي ميمونة عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال فيه : فمن أخذه بحقه بورك له فيه و نعم صاحب المال من أعطى فيه المسكين و اليتيم و ابن السبيل أو كما قال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ موسیٰ نے ان کو ابو جعفر بغدادی نے ان کو اسماعیل قاضی نے ان کو ابن ابی اویس نے ان کو مالک بن انس نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو حضرت ابو سعید خدری نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث میں جس میں زمین کی برکتیں ذکر فرمائی ہیں ۔ اور فرمایا کہ بے شک یہ مال ہرا بھرا ہے ( یعنی تروتازہ اور پسند آنے والا ہے ) اور میٹھا ہے جو شخص اس کو حق کے ساتھ حاصل کرے اسے چاہیے کہ وہ اس کو اس کے حق پر خرچ کرے ( یعنی جائز مقاصد کے لئے استعمال کرے ۔ تو یہ بہترین مدد بھی ہے ۔ اور اس کو روایت کیا ہے ہلال بن ابو میمونہ نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو ابو سعید نے نبی کریم سے اور آپ نے اس میں فرمایا ۔ جو شخص مال کو اس کے حق کے ساتھ حاصل کرتا اس کے لئے اس میں برکت عطا کی جاتی ہے اور بہترین مال دار وہ ہے جو شخص اپنا مال مسکین یتیم اور مسافر کو دیا کرے۔

فيه بركات الأرض ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّوسِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1249

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1250

1250 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم الصيدلاني ثنا الحسين بن الفضل ثنا أبو النضر حدثنا مرجى بن رجاء عن شعبة عن قتادة عن أنس رفعه قال : لا خير فيمن لا يحب المال ليصل به رحمه و يؤدي به أمانته و يستغني به عن خلف ربه كذا وجدته في كتاب شعبة و قال فيه غيره عن أبي النضر هاشم بن القاسم عن المرجى بن رجاء عن سعيد عن قتادة عن أنس

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو احمد بن اسحٰق بن ابراہیم صیدلانی نے ان کو حسین بن فضل نے ان کو ابو النصر نے ان کو مرجٰی بن رجاء نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے اس روایت کو مرفوعاً نقل کی اہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے جو صلہ رحمی کرنے کے لئے مال سے محبت نہیں کرتا ۔ تاکہ مال کے ساتھ اپنے مالی حقوق ادا کرے اور مال کے ذریعے اپنے رب کی مخلوق سے مستغنیٰ ہو جائے۔ میں نے کتاب شعبۃ الایمان (مصنف شیخ حلیمی میں) اس حدیث کو اسی طرح پایا ہے ۔ دوسرے لوگوں نے اس میں کہا ہے کہ یہ ابو النصر سے ہاشم بن قاسم سے مرجٰی بن رجا سے اور سعید نے قتادہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔

أنس رفعه ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1250

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1251

1251 - حدثناه السلمي ثنا عبد الرحمن بن حامد بن متويه ثنا أحمد بن عبد الله بن مالك الترمذي ثنا أبو سالم الرواس العلاء بن مسلمة ثنا أبو النضر : فذكره هكذا روي بهذا الإسناد و قال فيه روايه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و لكني هبته و إنما يروي هذا الكلام بعينه من قول سعيد بن المسيب

ہمیں وہ حدیث بیان کی ہے سلمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن حامد متویہ نے ان کو احمد بن عبداللہ بن مالک بن مالک ترمذی نے ان کو ابو سالم اور اس نے علاء بن مسلمہ سے ان کو ابو نضر سے پھر اسی حدیچ کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے اسی اسناد کے ساتھ ۔ اور اس کے راوی نے اس میں یہ بھی کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ لیکن میں مال کے بارے میں ڈرتا بھی ہوں ۔ اور یہی کلام بعینہ حضرت سعید بن مسیب کے قول کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے ۔

فيه روايه ← أبو النضر فذكره هكذا روي بهذا الإسناد و ← أبو سالم الرواس العلاء بن مسلمة ← أحمد بن عبد الله بن مالك الترمذي ← عبد الرحمن بن حامد بن متويه ← السلمي

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1251

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1252

1252 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن صالح ثنا الليث بن سعد عن يحيى حدثني سعيد بن المسيب قال : لا خير فيمن لم يحب المال يصل به رحمه و يؤدي به أمانته و يستغني به عن خلق ربه عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بکر بن سہل دمیاطی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یحییٰ نے ان کو سعید بن مسیب نے انہوں نے فرمایا اس شخص میں کوئی خیرو بھلائی نہین ۃے جو مال سے محبت نہیں کرتا ( مال سے محبت کرتا تو) اس کے ذریعہ صلہ رحمی کرتا اور اس کے ساتھ اس کی امانت اس کے مالی حقوق ادا کرتا ۔ اور اپنے رب کی مخلوق سے مستغنی و بے پرواہ رہتا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَى ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1252

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1253

1253 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب : أنه لما حضره الموت ترك دنانير قال : اللهم إنك تعلم أني لم أجمعها إلا لأصون بها حسبي و ديني رواه وكيع عن سفيان قال : إلا لأصون بها عرضي

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو ذکر کیا سفیان نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیب نے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کچھ رقم دینار کی شکل میں چھوڑی اور کہا کہ اے اللہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں یہ رقم صرف اس لئے جمع کی تھی کہ میں اس کے ذریعہ اپنے اور اپنے دین کی حفاظت کروں گا۔ اس کو وکیع نے روایت کیا ہے سفیان سے انہوں نے کہا تا کہ میں اس کے ذریعہ اپنی عزت کو حفاظت کرو گا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1253

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1254

1254 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو الحسين محمد بن جعفر بن مشكان ببغداد ثنا جعفر بن محمد القيسي البصري ثنا إبراهيم بن محمد التيمي القاضي عن أبيه عن جده عن أبي أمامة الباهلي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال : دينك لمعادك و درهمك لمعاشك و لا خير في أمر بلا درهم

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابوا لحسین محمد بن جعفر بن مشکان نے بغداد میں ان کو جعفر بن محمد قیسی بصری نے ان کو ابراہیم بن محمد تیمی قاضی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو حضرت ابو امامہ باہلی نے ان کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : "دینک لمعادک و درھمک لمعاشک ولا خیر فی امربلا درہم"۔ آپ کا دین آپ کی آخرت کی ضرورت کے لئے ہیں اور اپ کا روپیہ پیسہ آپ کی دینوی اور معاشی ضروریات کے لئے ہے۔ اور روپے پیسے کے بغیر کسی بھی معاملے میں کوئی چیز نہیں ہے ۔

دينك لمعادك و درهمك لمعاشك و لا خير في أمر بلا درهم ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، ← جعفر بن محمد القيسي البصري ← أبو الحسين محمد بن جعفر بن مشكان ببغداد ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1254

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1255

1255 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا دعلج بن أحمد ثنا محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا أحمد بن شبيب ثنا أبي عن يونس عن ابن شهاب عن خالد بن أسلم قال : خرجنا مع عبد الله بن عمر فقال أعرابي : يقول الله عز و جل : { و الذين يكنزون الذهب و الفضة } قال ابن عمر : من كنزهما فلم يؤد زكاتهما فويل له إنما كان هذا قبل أن تنزل الزكاة فلما نزلت جعلها الله طهرا للأموال ثم التفت إلي فقال : ما أبالي لو كان لي مثل أحد ذهبا أعلم عدده و أزكيه و أعمل فيه بطاعة الله أخرجه البخاري في الصحيح فقال : و قال أحمد بن شبيب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن علی بن زید ضائغ نے ان کو احمد بن شبیب نے ان کو ان کے باپ نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو خالد بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ عمر کے ساتھ نکلے ایک دیہاتی نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ۔ " والذین یکنزون الذھب والفضۃ " (توبہ 34) جو لوگ سونے چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں مگر اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دیجیے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے جو شخص سونے چانادی کو جمع کرکے رکھے اور ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اس کے لئے ہلاکت ہے ۔ یہ وعید اور دھمکی اس وقت تک تھی جب تک زکوٰۃ کا حکم نہیں آیا تھا جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا اور میں اس کی تعداد جان لوں تو میں اس کی زکوٰۃ دوں گا اور میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کروں گا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں نقل کیا ہے اور فرمایا کہ احمد بن شبیب نے فرمایا ہے ۔

خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1255

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1256

1256 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن عبيد الله ذكر عمر أو غيره قال : ما جاءني أجلي في مكان ما عدا في سبيل الله عز و جل أحب إلي من أن يأتيني و أنا بين شعبتي رحلي أطلب من فضل الله و رواه غيره فقال عن عمر بن الخطاب لم يشك و زاد و تلا هذه الآية : { و آخرون يضربون في الأرض يبتغون من فضل الله }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کوا بو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عبید اللہ نے انہوں نے حضرت عمر کا ذکر کیا یا دیگر کا کہ انہوں نے فرمایا۔ کہ جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ اگر مجھے موت آئے تو مجھے سب سے زیادہ پسند ہو گا کہ مجھے موت اس حال میں آئے کہ میں اپنے گھر کے کسی کام میں مصروف ہوں اور اللہ کا فضل تلاش کر رہا ہوں۔ اس کو عبید اللہ کے سوا دوسروں نے روایت کیا ہے اور اس نے کہا کہ حضرت عمر سے مروی ہے (یعنی راوی کو شک نہیں ہے ) اور اس نے یہ اضافہ بھی کیا ہے ۔ انہوں نے اس آیت کا تلاوت کیا۔"واخرون یضوبون فی الا رض یبتغون من فضل اللہ" (المزمل60) اور دوسرے لوگ وہ ہیں جو دھرتی پر چلتے ہیں اللہ کے فضل کی تلاش کرتے ہیں۔

عمر أو غيره ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1256

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1257

1257 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شمر بن عطية عن مغيرة بن سعد بن الأخرم عن أبيه عن عبد الله بن مسعود قال : و الذي لا إله غيره ما يضر عبدا يصبح على الإسلام و يمسي عليه ماذا أصابه من الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو شمر بن عطیہ نے ان کو مغیرہ بن سعد بن اخزم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس بندے کا کوئی نقصان نہیں ہے جو صبح کرتا ہے تو اسلام پر ہوتا ہے اور شام کرتا ہے تو بھی اسلام پر ہوتا ہے ، دنیا میں سے (تھوڑا بہت) جو بھی اس کو ملے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← مغيرة بن سعد بن الأخرم ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1257

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1258

1258 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه قال : كان سعد بن عبادة يقول : اللهم هب لي مجدا و لا مجد إلا بفعال و لا فعال إلا بمال اللهم لا يصلحني القليل و لا أصلح عليه و كان مناد ينادي على أطمة : من كان يريد الشحم و اللحم فليأت سعدا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے وہ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ فرمایا کرتے تھے ۔ اے اللہ مجھے مجد اور بزرگی عطا فرما اور عظمت و بزرگی بڑے اعمال و افعال کے بغیر نہیں ہوتی ، اور بڑے بڑے کام مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ اے اللہ تھوڑے مال سے میرا کام نہیں بنتا اور نہ ہی میں اس کے ساتھ اپنے کام بنا سکتا ہوں ( اس دعا کا اثر ہو اور اللہ نے اتنا دیا کہ ) کہ اونچی جگہ کھڑے ہو کر اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرنا پڑتا تھا کہ جو شخص گوشت اور چربی کھانے کا ارادہ رکھتا ہو وہ سعد بن عبادہ کے پاس آئے۔ (یعنی ان کا دستر خواں وسیع تھا جس سے لوگ آ کر کھاتے تھے۔)

كَانَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1258

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1259

1259 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر حدثني موسى بن مكرم قال : سأل رجل الحسن فقال : يا أبا سعيد أفتح مصحفي فاقرأه حتى أمسي قال الحسن : اقرأه بالغداة و اقرأه بالعشي وكي سائر نهارك في منفعتك و ما يصلحك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو موسیٰ بن مکرم نے وہ کہتے ہیں کہ کسی آدمی نے حسن بصری سے پوچھا اے ابو سعید میں اپنا قرآن شریف کھول کر جو نہی پڑھنا شروع کرتا ہوں تو شام ہو جاتی ہے ، حسن بصری نے فرمایا ، آپ قرآن کو صبح و شام پڑھا کیجئے اور پورا دن اپنے فائدے میں اور اپنے کام کاج میں رہا کیجئے۔

يا أبا سعيد أفتح مصحفي فاقرأه حتى أمسي ← سَأَلَ رَجُلٌ الْحَسَنَ ← موسى بن مكرم ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1259

chevron_left Previous
1…789…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood