Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1212

1212 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا علان بن عبد الصمد ثنا إسماعيل بن مسعود الجحدري ثنا خالد بن يحيى بن أبي قرة حدثني عمي المغيرة ابن أبي قرة عن أنس بن مالك قال : جاء رجل على ناقة له فقال : يا رسول الله أدعها و أتوكل ؟ فقال : اعقلها و توكل

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو علان بن عبدالصمد نے ان کو اسماعیل بن مسعود حجدری نے ان کو خالد بن یحییٰ بن ابو قرہ نے ان کو ان کے چاچا مغیرہ اب و قرہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ آدمی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کو چھوڑ دوں اور توکل کر لوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ اس کے پیر میں رسی ڈال دیجئے اور اللہ پر بھروسہ کر لیجئے۔

جاء رجل على ناقة له فقال ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عمي المغيرة ابن أبي قرة ← خالد بن يحيى بن أبي قرة ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← علان بن عبد الصمد ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1212

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1213

1213 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا عبد الوهاب بن نجدة و موسى بن مروان الرقي قالا ثنا بقية بن الوليد عن بحير بن سعد عن خالد بن معدان عن سيف قوله عن عوف بن مالك : أنه حدثهم أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى بين رجلين فقال المقضي عليه لما أدبر : حسبي الله و نعم الوكيل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل يلوم على العجز و لكن عليك بالكيس فإن غلبك أمر فقل حسبي الله و نعم الوكيل

خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبدالوہاب بن نجدہ نے اور موسیٰ بن مروان رقی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو بحربن سعد نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو سیف نے ان کو عوف بن مالک نے انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ فرمایا جس کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا جب وہ واپس لوٹا تو کہنے لگا:۔"حسبی اللہ و نعم الوکیل " مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے سستی و کسمپرسی کو معیوب فرمایا ہے لیکن آپ دانائی ہوشیاری کو لازم کر لیجئے پھر اگر کوئی امر تجھ سے غالب آ جائے تو پھر یہ کہے :۔ "حسبی اللہ و نعم الوکیل"۔

عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ ← سيف قوله ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عبد الوهاب بن نجدة و موسى بن مروان الرقي ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1213

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1214

1214 - قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و روينا عن ابن شهاب مرسلا في هذه القصة : أن أحدهما تهاون ببعض حجته لم يبلغ فيها ثم حين قضى للآخر فقال هذا القول فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اطلب حقك حتى تعجر فإذا عجزت فقل حسبي الله و نعم الوكيل فإنما يقضي بينكم على حججكم فلم يرض تجريد التوكل عن الطلب

امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے ابن شہاب سے مرسلاً ذکر کیا ہے اسی قصے کے بارے میں کہ ان دو مذکورہ آدمیوں سے ایک اپنی حجت اور دلیل میں لازمی کمزور ہو گیا یعنی دلیل پیش نہ کر سکا جب فیصلہ دوسرے کے حق میں ہو گیا تو اس نے یہ بات کہی لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ اپنا حق طلب کیجئے اس وقت تک کہ آپ عاجز آ جائیں اگر آپ عاجز آ جائیں تو پھر آپ یہ کہیے: "حسبی اللہ و نعم الوکیل"۔یہ حقیقت ہے کہ تم دونوں کے درمیان فیصلہ تمہارے دلائل کی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ توکل کو طلب سے الگ کرنا غیر پسندیدہ بات ہے ۔

الطَّلَبِ» ← هَذَا الْقَوْلَ

Hadith 1214

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1215

1215 - و روي عن معاوية بن قرة : أن عمر بن الخطاب أتى على قوم فقال : ما أنتم ؟ قالوا : نحن المتوكلون قال بل أنتم المتكلون ألا أخبركم بالمتوكلين ؟ رجل ألقى حبة في بطن الأرض ثم توكل على ربه و قوله المتكلون يعني على أموال الناس

معاویہ بن قرہ سے روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا کہ تم لوگ کیا ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم توکل کرنے والے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم دوسروں کے مال کا سہارا کرنے والے ہو۔ اور بندوں کا سہارا کرنے والے کیا میں تمہیں متوکل کے بارے میں بتاؤں ؟ ایک انسان زمین کے پیٹ میں دانہ ڈال دیتا ہے اس کے بعد وہ اپنے رب پر توکل کرتا ہے ( ان لوگوں نے کہا تھا کہ ہم متوکلون ہیں مطلب ہے اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم متکلون ہو یعنی پرائے مال پر نظر رکھنے والے لوگوں کے مال پر تکیہ کرنے والے ۔)

نحن المتوكلون ← ما أنتم ← معاوية بن قرة أن عمر بن الخطاب أتى على قوم ← و روي

Hadith 1215

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1216

1216 - و روينا عن عمر أنه قال : يا معشر القراء ! ارفعوا رؤوسكم فقد اتضح الطريق استبقوا الخيرات و لا تكونوا عيالا على المسلمين

ہم نے روایت کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا اے قاریوں کی جماعت اپنے سروں کو اوپر اٹھاؤ تحقیق راستہ واضح ہو چکا ہے ۔ نیکیوں اور بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت کرو اور مسلمانوں پر بوجھ نہ بنو۔

عُمَرَ أَنَّهُ ← و روينا

Hadith 1216

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1217

1217 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماتي الكوفي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا طلق بن غنام عن المسعودي عن جواب بن عبيد الله عن المعرور بن سويد عن عمر رضي الله عنه قال : يا معشر القراء ارفعوا رؤوسكم ما أوضح الطريق ! فاستبقوا الخيرات و لا تكونوا كلا على المسلمين

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین بن مانی کوفی نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرزہ نے ان کو طلق بن غنام نے ان کو مسعودی نے ان کو جواب بن عبید اللہ نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں اے قراء کی جماعت اپنے سر اٹھاؤ کس قدر راستہ واضح ہے خیرات میں نیکیوں میں مسابقت کر اور مسلمانوں پر بوجھ نہ ہو۔

عُمَرَ، ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← جَوَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مَاتِي الْكُوفِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1217

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1218

1218 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة ثنا جرير بن حازم ثنا أيوب عن نافع قال : دخل شاب قوي المسجد و في يده مشاقص و هو يقول : من يعينني في سبيل الله ؟ قال : فدعا به عمر فأتي به فقال : من يستأجر مني هذا بعمل في أرضه ؟ فقال رجل من الأنصار : أنا يا أمير المؤمنين قال : بكم تؤجره كل شهر ؟ قال : بكذا و كذا قال : خذه فانطلق به ليعمل في أرض الرجل أشهرا ثم قال عمر للرجل : ما فعل أجيرنا ؟ قال : صالح يا أمير المؤمنين قال : آيتني به و بما اجتمع له من الأجر فجاء به و بصرة من دراهم فقال خذ هذه فإن شئت الآن فاغز و إن شئت فاجلس

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس رحمۃاللہ علیہ نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے وہ فرماتے ہیں کہ ایک نوجوان آدمی مسجد میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں تیرے کے چوڑے بھالے تھے ۔ وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ کی راہ میں کون میری مدد کرے گا ؟ نافع کہتے ہیں حضرت عمر نے اسے طلب فرمایا لہذا آپ کے پاس اسے لایا گیا حضرت عمر نے فرمایا کوئی اس کو مجھ سے اجرت پر اپنی زمین پر کام کرنے کے لئے لے گا؟ چنانچہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین میں ان کو مزدوری پر لیتا ہوں ۔ حضرت نے فرمایا تم اس کو ہر مہینے کتنی اجرت دو گے ؟ اس نے بتایا کہ اتنی مزدوری دوں گا۔ حضرت نے فرمایا اس کو لے جاؤ۔ تاکہ یہ زمین پر چند ہفتے کام کرے ۔ اس کے بعد حضرت عمر نے پوچھا ہمارے مزدور نے کیا کیا؟ یعنی مزدور کیسا ہے ؟ اس نے بتایا مزدور اچھا ہے اے امیر المؤمنین۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اس مزدور کو لے آنا اور اس کی مزدوری بھی ساتھ لے آنا جو کچھ جمع ہو گئی ہے ۔ وہ شخص مزدور کو لے آیا اور ایک تھیلی دراہم کی بھری ہوئی لے آئے۔ آپ نے اس جوان سے کہا کہ یہ اپنی مزدوری لے لو اگر تم اب چاہو تو جہاد کرو۔ چاہو تو بیٹھ جاؤ۔

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Hadith 1218

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1219

1219 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد آباذي ثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن يزيد المنادي ثنا وهب بن جرير بن حازم أبو العباس ثنا شعبة عن قتادة عن مطرف عن حكيم بن قيس بن عاصم قال أوصى قيس بن عاصم بنيه فقال : أوصيكم بتقى الله تعالى و أن تسودوا أكبركم فإنكم إذا فعلتم ذلك خلفتم أباكم و لا تسودوا أصغركم فإنكم إذا فعلتم ذلك أزرى بكم من أكفائكم و عليكم بالمال و اصطناعه فإن المال منبهة للكريم و يستغنى به عن اللئيم و إياكم و مسألة الناس فإنها أخس كسب الرجل و إذا أنا مت فلا تنوحوا علي فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينح عليه و ادفنوني في أرض لا يعلم بمدفني بكر ابن وائل فإني كنت أغاولهم أو أغاورهم في الجاهلية شك وهب

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبید اللہ بن یزید منادی نے ان کو وہب بن جریر بن حازم نے ان کو ابو العباس نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو مطرف نے ان کو حکیم بن قیس بن عاصم نے وہ کہتے ہیں کہ قیس بن عاصم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور یہ کہ تم میں سے جو بڑا ہو اس کو سردار بنانا جب تم لوگ ایسا کرو گے تو اپنے آباؤ اجداد کے نائب بن جاؤ گے اور اپنے میں سے چھوٹے کو سر پرست نہ بنانا۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے برابر والوں میں ذلیل وحقیر کر دے گا ۔ تم اپنے آپ کو اور مال کو لازم رکھو اور مال کمانے یا مال بنانے کو بھی اس لئے کہ مال سیخی اور شریف کی یاد دہانی کرتا ہے اور سخی کی عزت ہے اور بخیل اور کمینہ خصلت سے بے پرواہ کرتا ہے اور مستغنی کرتا ہے اپنے آپ کو لوگوں سے مانگنے سے بچانا اس لئے کہ سوال کرنا انسان کی خسیس اور ذلیل ترین کمائی ہے ۔ اور میں جب مر جاؤں تو مجھ پر نوحے اور بین نہ کرنا بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی نوحے اور بین نہیں کئے گئے تھے اور مجھے ایسی زمین میں دفن کرنا جہاں بکر بن وائل میرے دفن کی جگہ کو نہ جان سکیں اس لئے کہ میں دور جاہلیت میں ان پر لوٹ مار کیا کرتا تھا۔

أوصى قيس بن عاصم بنيه ← حكيم بن قيس بن عاصم ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمِ أبو الْعَبَّاسِ، ← أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن يزيد المنادي ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1219

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1220

1220 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا سفيان قال : اشترى سلمان ـ و قال غيره سلمان الفارسي ـ و سقا من الطعام و قال إن النفس إذا أحرزت رزقها اطمأنت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو سفیان نے انہوں نے کہا کہ سلمان نے ایک وسق (ساٹھ صاع) غلہ خریدا۔ بعض نے کہا کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خریدا۔۔۔ اور یہ فرمایا کہ :۔ "ان النفس اذا احرزت رزقھا اطمئنت" انسان کا نفس جب اپنے رزق کو محفوظ کر لیتا ہے تو مطمئن ہو جاتا ہے ۔

إن النفس إذا أحرزت رزقها اطمأنت ← غيره سلمان الفارسي و سقا من الطعام و ← اشترى سلمان و ← سُفْيَانَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1220

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1221

1221 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن ثنا أبو عثمان ثنا أحمد ثنا مروان عن سهل بن هاشم عن إبراهيم بن أدهم قال : قال سعيد بن المسيب : من لزم المسجد و قبل كلما يعطي فقد ألحف في المسئلة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن نے ان کو ابو عثمان نے ان کو احمد نے ان کو مروان نے ان کو سہل بن ہاشم نے ان کو ابراہیم بن ادھم نے وہ فرماتے ہیں حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا جو شخص مسجد میں آنے جانے کو لازم کر لیتا ہے اور جب بھی اس کو ملے قبول کر لیتا ہے وہ سوال (مسئلہ معلوم ) کرنے میں اصرار کرتا ہے ۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← سَهْلُ بْنُ هَاشِمٍ ← مَرْوَانَ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1221

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1222

1222 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير حدثني الجنيد بن محمد قال : سمعت السري يذم الجلوس في المسجد و يقول جعلوا مسجد الجامع حوانيت ليس لها أبواب قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : هذا لما فيه من التعرض للسؤال و ما في السؤال من الكراهية إذا وجد إلى الكسب سبيلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد نصیر نے ان کو خیبر بن محمد نے وہ کہتے ہیں میں نے ( مشہور صوفی بزرگ) سری سے سنا وہ مسجد میں جم کر بیٹھنے کو عیب اور مذموم سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ جامع مسجد کو لوگوں نے ایسی دوکانیں بنا رکھا ہے جن کے دروازے نہیں ہیں ۔(ظاہر) ہے کہ جب جم کر مسجد میں بیٹھے رہیں گے کمانے کھانے کی فکر نہیں کریں گے تو لا محالہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پھر سوال کریں گے اور ہاتھ پھیلائیں گے یہی مقصدہے سری سقطی مرحوم کا۔(مترجم)

جعلوا مسجد الجامع حوانيت ليس لها أبواب ← السري يذم الجلوس في المسجد و ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1222

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1223

1223 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا وكيع بن الجراح عن هشام بن عروة عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتى الجبل فيجيء بحزمة من حطب على ظهره فيبيعها فيستغني بها خير له من أن يسال الناس أعطوه أو منعوه أخرجه البخاري في الصحيح عن يحيى بن موسى عن وكيع و أخرجه مسلم من حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و فيه من الزيادة : فيتصدق منه و يستغني به عن الناس

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ا ن کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ البتہ اگر کوئی شخص تم میں سے رسی اٹھا ئے اور جا کر لکڑی کی گانٹھ اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرے اور اس عمل کے ساتھ وہ لوگوں سے مستغنی ہو جائے تو یہ بات اس کے لئے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے اسے دیں اور کچھ اس کو منع کریں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور اس میں ایک زیادتی اور اضافہ ہے وہ یہ ہے ۔ کہ (وہ کمانے والا شخص ) اس کمائی سے اللہ کی راہ میں صدقہ کرے اور اس کے ساتھ لوگوں سے بھی مستغنی ہو جائے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Hadith 1223

chevron_left Previous
1…456…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood