Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1188

1187 - أخبرنا أبو محمد السكري ببغداد أنا أبو بكر الشافعي أنا جعفر بن محمد بن الأزهر ثنا المفضل بن غسان الغلابي ثنا أبو داود الطيالسي عن ابن المبارك عن سعد بن سعيد أخى يحيى بن سعيد الأنصاري ثنا الزهري حدثني رجل من بلي قال : ا : نطلقت مع أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فناجى أبي دوني فقلت لأبي : ما قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قال : إذا أردت أمرا فعليك بالتؤدة حتى يجعل الله لك مخرجا أو قال فرجا

ہمیں خبر دی ابو محمد سکری نے بغداد میں ، ان کو ابو بکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن ازھر نے ان کو مفصل بن غسان غلابی نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سعید بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی نے ان کو زہری نے ان کو ایک آدمی نے بلتی سے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس گیا چنانچہ میرے والد نے میرے سواء رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سرگوشی کی ۔ واپس آئے تو میں نے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ سے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: آپ جب کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے اوپر صبر کو لازم کر لیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لئے کوئی راستہ اور فراخی فرمادیں۔

رَجُلٍ مِنْ بَلِيٍّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سعد بن سعيد أخي يحيى بن سعيد الأنصاري ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَابِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Hadith 1188

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1189

1188 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن بندار ثنا محمد بن أحمد بن يحيى الترمذي ثنا أبو حفص عمر بن عميرة التنيسي و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا أبو العباس بن ميكال ثنا علي بن سعيد ثنا الصغاني ـ ح ـ و أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن إسحاق الصغاني قالا : ثنا ابن أبي مريم ثنا نافع بن يزيد حدثني عياش بن عباس أن عبد الملك بن مالك الغفاري حدثه أن جعفر بن عبد الله بن الحكم حدثه عن خالد بن رافع : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لابن مسعود : لا تكثر همك ما يقدر يكن و ما ترزق يأتك لفظ حديث الصغاني غير أن في رواية ابن أبي الدنيا عنه في إسناده أن عبد الملك بن نافع المعافري حدثه كذا وجدته و في رواية التينسي عن عبد الله بن مالك المعافري أن جعفر بن عبد الله بن الحكم حدثه عن خالد بن رافع أو نافع و رواه معاوية بن يحيى عن سعيد بن أبي أيوب عن عياش بن عباس عن مالك بن عبد الله المعافري قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بابن مسعود فقال : لا تكثر همك فإنه ما يقدر يكن و ما ترزق يأتك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن بندار نے ان کو محمد بن احمد بن یحییٰ تروزی نے ان کو ابو حفص عمر بن عمیرہ تنیسی نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو العباس بن مکیال نے ان کو علی بن سعید نے ان کو صنعانی نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا ہے ۔ ابن ابی مریم نے ان کو نافع بن یزید نے ان کوعیاش بن عباس نے ان کو عبدالملک بن مالک غفاری نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ ان کو جعفر بن عبداللہ بن حکم نے ان کو خالد بن رافع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابن مسعود سے فرمایا تجھے زیادہ فکرو غم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جو کچھ مقدر کیا گیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور جو کچھ رزق دیا گیا ہے وہ تیرے پاس آ جائے گا۔ یہ الفاظ صنعانی کی روایت کے ہیں علاوہ ازیں ابن ابوالدنیا کی روایت میں ان کی اسناد میں ہے کہ عبدالملک بن نافع مغافری نے اس کو حدیث بیان کی ہے اسی طرح میں نے اس کو پایا ہے ۔ اور تنیسی کی روایت میں عبداللہ بن مالک مغاری سے ہے کہ جعفر بن عبدالحکم نے ا س کو حدیث بیان کی ہے خالد بن رافع یا نافع سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے معاویہ بن یحییٰ نے سعید بن ابو ایوب سے انہوں نے عیاش بن عباس سے انہوں نے مالک بن عبداللہ مغافری سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس سے گذرے اور فرمایا اپنے فکر و غم کو زیادہ نہ کرنا اس لئے کہ جو کچھ مقدر ہو چکا وہ ہوگا ۔ اور جو کچھ تیرا رزق لکھا ہے وہ تیرے پاس آئے گا۔

خالد بن رافع ← أن جعفر بن عبد الله بن الحكم ← عياش بن عباس أن عبد الملك بن مالك الغفاري ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران ← و، ← الصَّغَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو العباس بن ميكال ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← أبو حفص عمر بن عميرة التنيسي و ← محمد بن أحمد بن يحيى الترمذي ← علي بن بندار ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1189

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1190

1189 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن ناصح ثنا بقية بن الوليد عن معاوية بن يحيى أبي مطيع : فذكره هكذا منقطعا رواه أيضا سلمة بن الخليل عن بقية و رويناه في كتاب القدر من حديث يحيى بن أيوب عن عياش بن عباس عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه رآه مهموما فقال هذا القول قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و هو إن صح فليس فيه المنع من الطلب و إنما فيه المنع من الهم و ذلك عمل أهل الحرص الشديد لا يزال أحدهم مع جده و اجتهاده مهموما قلقا يخشى أن يضيع ما عنده و لا يأيته ما ليس عنده و ذلك خلاف التوكل

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حصین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے ان کو محمد بن ناصح نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو معاویہ بن یحییٰ ابو مطیع نے انہوں نے اس کو اسی طرح منقطع ذکر کیا ہے ۔ اور اس کو مسلمہ بن خلیل نے بھی بقیہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے ، کتاب القدر میں یحییٰ بن ایوب کی روایت کے ساتھ عیاش بن عباس سے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی سے انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو مغموم اور پریشان دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے مذکورہ بات کہی تھی۔

هَذَا الْقَوْلَ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← بقية و رويناه في كتاب القدر من حديث يحيى بن أيوب ← معاوية بن يحيى أبي مطيع فذكره هكذا منقطعا رواه أيضا سلمة بن الخليل ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَاصِحٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أبو حسين بن بشران

Hadith 1190

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1191

1190 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن غالب بن حرب ثنا شيبان ثنا أبو عوانة عن الأعمش عن عبد الرحمن بن ثروان عن هزيل بن شرحبيل عن ابن عمر أن : سائلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فإذا بتمرة عائرة فقال : أما إنك لو لم تأتها لأتتك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابن حرب نے ان کو شیبان نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو اعمش نے ان کو عبدالرحمٰن بن ثروان نے ان کو ہریل بن شرحبیل نے ان کو ابن عمر نے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کچھ مانگا۔ دیکھا تو ایک کھجور گری ہوئی اٹھا رہا تھا آپ نے فرمایا خبردار اگر تم اس کے پاس نہ آتے تو یہ تمہارے پاس خودبخود آجاتی۔

هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 1191

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1192

1191 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمرو بن نجيد السلمي ثنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا هشام بن خالد الأزرق الدمشقي ثنا الوليد بن مسلم عن ابن جابر عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء عن أبي الدرداء : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الرزق يطلب العبد كما يطلبه أجله و كذلك رواه هشام بن عمار عن الوليد مرفوعا و المراد بهذا ـ و الله تعالى أعلم ـ أن ما قدر له من الرزق يأتيه فليثق به و لا يجاوز الحد في طلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن نجید سلمی نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ہشام بن خالد ازرق دمشقی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن جابر نے ان کو اسماعیل بن عبید اللہ نے ان کو ام درداء رضی اللہ عنہا نے ان کو ابو درداء رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "ان الرزق یطلب العبد کما یطلبہ اجلہ"۔ بے شک رزق بندے کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اس کو اس کا اجل تلاش کرتا ہے ۔ ہشام بن عمار نے ولید سے اس کو موفوعاً روایت کیا ہے ۔ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ اس کے لئے جو کچھ مقرر کیا گیا ہے وہ رزق اس کے پاس آئے گا اسے چاہیے کہ وہ اس بات کا یقین رکھے اور اس کی تلاش میں حد سے تجاوز نہ کرے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو عمرو بن نجيد السلمي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 1192

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1193

1192 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ثنا الهيثم بن خارجة ثنا عبد الله بن عبد الرحمن قال : سمعت أم الدرداء تقول : سمعت أبا الدرداء يقول : لو أن رجلا هرب من رزقه كهربه من الموت لأدركه رزقه كما يدركه الموت فذكره موقوفا على أبي الدرداء و هذا أصح و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مصر نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار صوفی نے ان کو ہشیم بن خارجہ نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے سنا اسماعیل بن عبید اللہ سے انہوں نے سنا ام درداء سے انہوں نے ابو درداء سے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنے رزق سے ایسے بھاگے جیسے اپنی موت سے بھاگتا ہے تو اس کو رزق ایسی پا لے گا جیسے اس کو موت پالیتی ہے ۔ اس روایت کو ابو درداء پر موقوف ذکر کیا ہے راوی نے اور یہ صحیح ہے۔

أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Hadith 1193

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1194

1193 - و روي عن عطية عن أبي سعيد مرفوعا : بمعناه و هو كما روي عن عمر بن الخطاب أنه قال : ما من امرئ إلا و له أثر هو واطئه روزق هو آكله و أجل هو بالغه و حنق هو قاتله حتى لو أن رجلا من رزقه لا تبعه حتى يدركه كما أن الموت يدرك من هرب منه ألا فاتقوا الله و أجملوا في الطلب

اور عطیہ سے روایت ہے انہوں نے ابو سعید سے مذکورہ حدیث کے مفہوم کی روایت کی ہے ۔ جیسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہر آدمی کے قدموں کے نشان طے ہیں جہاں جہاں وہ قدم رکھے گا اس کا رزق طے ہے جو کچھ وہ کھائے گا اور اس کی زندگی کی مدت طے ہے جس تک وہ پہنچے اور اس کا کوئی مغضوب جسے وہ قتل کرے گا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اپنے رزق کو لینے سے بھاگ جائے تو اس کا رزق اس کا پیچھا کرے گا اور اس کو پالے گا۔ جیسے موت اس کو (نہیں چھوڑتی) جو اس سے بھاگتا ہے بلکہ پالیتی ہے ۔ خبر دار اللہ سے ڈرو اور رزق کی تلاش میں خوبصورت طریقہ یعنی (جائز طریقہ اختیار کرو۔)

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← أبي سعيد مرفوعا بمعناه و هو كما روي ← عَطِيَّةَ، ← و روي

Hadith 1194

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1195

1194 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاد أنا يزيد بن الهيثم أن صبيح بن دينار حدثهم قال : ثنا المعافى ثنا إسماعيل بن عياش عن ثعلبة بن مسلم عن أبي المحرر عن عمر بن الخطاب : فذكره و حين أمر بالإجمال في الطلب علمنا أنه لم يمنع من الكسب أصلا و لكن كره له شدة الحرص و كثرة الهم فعل من يرى أن رزق الله إنما يحصل بجده و جهده دون تقرير خالقه و رازقه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی حمشاذ نے ان کو یزید بن ہیثم نے ان کو صبیح بن دینار نے ان کو معافی نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو ثعلبہ بن مسلم نے ان کو ابو المحر ر نے ان کو عمر بن خطاب نے پھر اس کو ذکر کیا ہے ۔ جب طلب اور تلاش کرنے میں اجمال کرنے کا امر فرمایا ہے تو ہم نے جان لیا ہے کہ کسب اور کمائی سے بالکل منع نہیں کیا ہے ۔ لیکن طلب کرنے والے کے لیے شدید حرص اور کثرت فکر کو ناپسند کیا ہے جیسے اس شخص کے فعل کو ناپسند کیا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ کا رزق اس کی جدو جہد سے حاصل ہوتا ہے اس کے خالق و رازق کی تقدیر سے نہیں۔

أبي المحرر ← ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْمُعَافَي ← يزيد بن الهيثم أن صبيح بن دينار ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1195

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1196

1195 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان املاء قال : أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي أنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو حفص عمر بن يزيد الرفاء بالبصرة ثنا شعبة بن الحجاج عن عمرو بن مرة عن شقيق بن سلمة عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بال أقوام يشرفون المترفين و يستخفون بالعابدين و يعملون بالقرآن ما وافق أهواءهم و ما خالف أهواءهم تركوه فعند ذلك يؤمنون ببعض و يكفرون ببعض و يسعون فيما يدرك بغير سعي من القدر المقدور و الأجل المكتوب و الرزق المقسوم و لا يسعون فيما لا يدرك إلا بالسعي من الجزاء الموفور و السعي المشكور و التجارة التي لا تبور هذا حديث يعرفه بعمرو بن يزيد الرفاء هذا و هو بهذا الإسناد باطل ذكره أبو أحمد بن عدي الحافظ فيما أخبرنا أبو سعد الماليني عنه و روي ذلك بإسناد آخر أضعف منه لم أذكره

ہمیں حدیث بیان کی ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان سے بطور املا کرانے ان کو ابو علی حامد بن محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو حفص بن یزید وفاء نے بصرہ میں ان کو شعبہ بن حجاج نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو شفیق بن سلمہ نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کیا حال ہے لوگوں کا جو ظالموں کو تو عزت دیں گے اور نیکو کار عبادت گذاروں کو ذلیل و خوار سمجھیں گے اور بے عزت سمجھیں گے ۔ اور قرآن کے اس بعض حصے پر عمل کریں گے جو ان کی خواہشات سے مطاب ہو گا، اور جو کچھ ان کی خواہشات کے خلاف ہو گا اس کو چھوڑ دیں گے ( اس پر عمل نہیں کریں گے ) جب ایسا کریں گے تو کچھ کو مانیں گے ( جس پر عمل کریں گے ) اور کچھ کے ساتھ کفر کریں گے ( جس پر عمل نہیں کریں گے) اور ان امور میں اور ان چیزوں میں پوری کوشش کریں گے جو چیز بغیر کوشش کے حاصل ہو جاتی ہے طے شدہ تقدیر سے لکھے ہوئے اجل سے تقسیم شدہ رزق سے اور ان چیزوں میں کوشش نہیں کریں گے جو سع و کوشش کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں پوری پوری جزا، سعی مقبول اور ایسی تجارت جو نقصات سے پاک ہو۔ یہ ایسی روایت ہے جو عمرو بن یزید رفاء سے مذکورہ اسناد کے ساتھ جانتے ہیں جب کہ وہ اس اسناد کے ساتھ باطل ہے ۔ اور اس کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ذکر کیا ہے ان روایات میں سے جن کی ہمیں خبر دی تھی ابو سعید مالینی نے ان سے ۔ اور یہ ایک اور اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے مگر وہ اس سے زیادہ ضعیف ہے میں نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أبو حفص عمر بن يزيد الرفاء بالبصرة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء

Hadith 1196

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1197

1196 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و القاضي أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا ابن فضيل عن حصين بن عبد الرحمن عن سالم بن أبي الجعد عن أبي الدرداء أنه قال : ما لي أرى علماءكم يذهبون و أرى جهلاءكم لا يتعلمون ؟ اعلموا قبل أن يرفع العلم فإن رفع العلم ذهاب العلماء ما لي أراكم تحرصون على ما تكفل لكم به و تضيعون ما وكلتم به ؟ لأنا أعلم بشراركم من البيطار بالخيل هم الذين لا يأتون الصلاة إلا دابرا و لا يسمعون القرآن إلا هجرا و لا يعتق محرروهم هذا موقوف و فيه معنى اللفظ الذي في آخر الحديث المرفوع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور قاضی ابوبکر احمد بن حسن نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابن فضیل نے حصین بن عبدالرحمٰن سے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو حضرت ابو درداء نے انہوں نے فرمایا :۔ کیا ہوا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے علماء (دنیا سے ) جا رہے ہیں ، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے جاہل علم نہیں سیکھ رہے ۔ تم لوگ جان لو اس سے قبل کہ علم اٹھا دیا جائے ۔ بے شک علم کا اٹھ جانا عالم کا (دنیا) سے چلے جانا ہے ۔ کیا ہوا میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ ان چیزوں میں حرص کر رہے ہو جن کی ذمہ داری تم سے ہٹا کر اپنے ذمے لے لی گئی ہے اور ان چیزوں کو تم ضائع کر رہے ہو جن کی ذمہ داری تمہارے سپرد کی گئی ہے کیونکہ ہم خوب جانتے ہیں تمہارے شریروں کو اور گھوڑوں کی نعل سازی پر فخر کرنے والوں کو یہ وہی لوگ ہیں جو نمازوں میں سب سے بعد میں آتے ہیں اور قرآن کو سنتے ہیں جیسے تھکے ہارے (بغیر دلچسپی کے) ان کے آزاد شدہ بھی آزاد نہیں ہوں گے۔ ( یعنی جہنم سے نہیں بچیں گے ۔) یہ روایت موقوف ہے ۔ اور اس میں اس لفظ کا مفہوم ہے جو مرفوع حدیث کے آخر میں ہے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و القاضي أبو بكر أحمد بن الحسن

Hadith 1197

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1198

1197 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر أحمد بن سعيد الاخميمي بمكة ثنا عبد الجليل بن عاصم المديني ثنا هارون بن يحيى الحاطبي ثنا عثمان بن عمر بن خالد ـ و قال مرة : عثمان بن خالد بن الزبير عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما تكون الصنيعة إلى ذي دين أو حسب و جهاد الضعفاء الحج و جهاد المرأة حسن التبعل لزوجها و التودد نصف الدين و ما عال امرؤ اقتصد و واستنزلوا الرزق بالصدقة و أبى الله أن يجعل أرزاق عباده المؤمنين من حيث يحتسبون و قال مرة أخرى : و ما عال امرؤ قط على اقتصاد قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و هذا حديث لا أحفظه على هذا الوجه إلا بهذا الإسناد و هو ضعيف بمرة فإن صح فمعناه : أبى الله أن يجعل جميع أرزاقهم من حيث يحتسبون و هو كذلك فإن الله يرزق عباده من حيث يحتسبون كما أن التاجر يرزقه من تجارته و الحارث يرزقه من حراثته وغير ذلك و قد يرزقهم من حيث لا يحتسبون كالرجل يصيب معدنا أو كنزا أو يموت له قريب فيرثه أو يعطى من غير إشراف نفس و لا سؤال و نحن لم نقل : إن الله تعالى لم يوصل أحدا إلى خير إلا بجهد و سعي و إنما قلنا : أنه قد بين لخلقه و عباده طريقا جعلها أسبابا لهم إلى ما يريدون فالأولى بهم أن يسلكوها متوكلين على الله تعالى في بلوغ ما يؤملونه دون أن يعرضوا عنها و يجردوا التوكل عنها و ليس في شيء من هذه الأحاديث ما يفسد قولنا و الله تعالى أعلم

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر احمد بن سعید احمیسی نے مکہ مکرمہ میں ان کو عبدالجلیل بن عاصم مدینی نے ان کو ہارون بن یحییٰ حاطبی نے ان کو عثمان بن عمر بن خالد نے اور ایک دفع یوں کہا ۔ عثمان بن خالد بن زبیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی بن حسین نے ان کو ان کے باپ نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ کہ نیکی کرنا اور احسان کرنا دیندار یا شریف الا صل کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اور کمزوری کا جہاد (حج) کرنا ہے اور عورت کا جہاد اپنے شوہر کی خدمت کرنا( یا اس کے لئے آراستہ ہونا ہے ) شوہر سے محبت اور دوسری کرنا آدھا دین ہے ۔ جو انسان میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ صدقہ کے ساتھ رزق (ا ترواؤ) یعنی زیادہ کرو۔ صدقہ کر کے رزق بڑھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے انکار کیا ہے کہ مؤمنوں کا رزق ایسی جگہ سے بنا ئے جہاں سے وہ خیال و گمان کرتے ہیں (بلکہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے ان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس کی تائید کرتا ہے :۔ "ومن یعق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب"۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستہ خود بناتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے ۔ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ (مترجم) ایک اور موقع پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جو (خرچ میں) میانہ روی کرتا ہے تنگ دست نہیں ہوتا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبِيهِ ← مرة عثمان بن خالد بن الزبير ← عثمان بن عمر بن خالد و ← هارون بن يحيى الحاطبي ← عبد الجليل بن عاصم المديني ← أبو بكر أحمد بن سعيد الاخميمي بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 1198

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1199

1198 - و قد أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا عبد الله بن روح المدائني ثنا شبابة ثنا ورقاء عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن ابن عباس قال : كان أهل اليمن يحجون و لا يتزودون و يقولون نحن متوكلون فيحجون إلى مكة فيسألون الناس فأنزل الله عز و جل : { و تزودوا فإن خير الزاد التقوى } أخرجه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بشر عن شبابة قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و في هذا إن الله تعالى أمر زوار بيته بالتزود و قال : { إن خير الزاد التقوى } يعني ـ و الله تعالى أعلم ـ فإن خير الزاد ما عاد على صاحبه بالتقوى و قال الحليمي رحمه الله تعالى : و هو أن لا يتوكل على أزواد الناس فيؤذيهم و يضيق عليهم و من دخل البادية بلا زاد متوكلا فإنما يرجو أن يقبض الله تعالى من يواسيه من زاده و هذا عين ما أشارت الآية إلى المنع منه فبأن أنه لا معنى لاستحبابه و إنما المستحب هو التزود أو الجلوس إذا لم يكن زاد حتى يكون

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو عبداللہ بن روح مدائنی نے ان کو شبانہ نے ان کو ورقاء نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں : ۔ اہل یمن حج کرنے آتے تھے مگر سامان سفر تیار نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم لوگ توکل کرنے والے ہیں ۔ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ مکہ کا قصد و ارادہ کرتے اور لوگوں سے سوال کرتے لہذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔ "وتزودوافان خیر الزاد التقوی(البقرہ 197) سامان سفر تیار کیا کرو بے شک بہترین سامان سفر تقویٰ ہے ۔ بخاری نے اس کو صحیح میں یحییٰ بن بشر سے اس نے شبابہ سے روایت کیا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ آیت مقدسہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے زائرین کو بھی سامان سفر تیار کرنے کا حکم دیا ہے اور پھر ارشاد فرمایا: " ان خیر الزاد التقویٰ" ۔ بہترین سامان سفر تقوی ہے ۔ یعنی بے شک بہترین سفر وہ ہے جو اپنے مالک کو تقویٰ دے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بہترین خرچ تقویٰ ہے کا مطلب ہے کہ لوگوں کے سفر خرچ پر بھروسہ نہ کرے کہ پھر ان کو تکلیف پہنچائے اور ان کے لیے تنگی کر دے ۔ جو شخص دیہات میں بغیر سفر خرچ کے داخل ہو تا ہے توکل کرنے والا ۔ وہ یہ امید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا بندہ کھڑا کر دے گا جو اپنے سفر خرچ سے اس کے ساتھ ہمدردی کرلے گا یہ بعینہ وہی چیز ہے اللہ تعالیٰ نے آیت میں جس سے منع کرنے کا اشارہ فرمایا ہے ۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اس کے مستحب ہونے کا کوئی معنی نہیں ہے بلکہ مستحب یہی ہے کہ یا تو سفر خرچ تیار کرے ورنہ اس وقت تک سفر نہ کرے جب تک سفر خرچ موجود نہ ہو جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و قد

Hadith 1199

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood