Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1332

1332 - أخبرنا أبو سعد الزاهد أنا عبد الرحمن بن محمد الأردني بمصر ثنا عمر بن عراك قال : قال لي أبو القاسم القرشي : جاء رجل إلى بنان الحمال فقال : ادع لي فإني مضيق علي في رزقي و الله لقد بعت اليوم صينية بأحد عشر درهما لها عندي أربع عشرة سنة ! فقال : يا قوم رأيتم أعجب من هذا قد رزقه الله رزقها من أربع عشرة سنة و هو يشكو الفقر في مأكله

ہمیں خبر دی ابو سعد زاہد نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد اردنی نے مصری میں ان کو عمر بن عراک نے کہتے ہیں کہ مجھے ابو القاسم قرشی نے کہا کہ ایک آدمی بنان حمال ( سامان برادر) کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے اس لئے کہ میرا رزق بہت تنگ ہو گیا ہے ۔ اللہ کی قسم میں نے آج اپنے گھر کا ایک تھال گیا وہ درہم کے بدلے میں فروخت کیا ہے جو پچھلے چودہ سال سے میرے پاس تھا اس نے کہا اے قوم دیکھا تم نے اس سے زیادہ تعجب والی بات کہ اللہ تعالیٰ چودہ سال سے اس کو رزق دے کر رکھا تھا مگر وہ آج کھانے برتن کے بارے میں فقر کی شکایت کر رہا ہے ۔

لي أبو القاسم القرشي جاء رجل إلى بنان الحمال ← عمر بن عراك ← عبد الرحمن بن محمد الأردني ← أبو سعد الزاهد

Hadith 1332

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1333

1333 - أخبر أبو الحسن علي بن السقاء حدثني والدي أبو علي ثنا أبو الفضل أحمد بن عبد الله بن نصر ثنا أبو هاشم وريزة بن محمد الغساني ثنا محمد بن داود بن صبيح عن علي بن بكار قال : شكا رجل إلى إبراهيم بن أدهم كثرة عياله فقال له إبراهيم : يا أخي انظر كل من في منزلك ليس رزقه على الله فحوله إلى منزلي

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن سقاء نے ، اس نے کہا کہ مجھ کو میرے والد ابوعلی نے حدیث بیان کی ، ان کو ابو الفضل احمد بن عبداللہ بن نصر نے ، ان کو ابو ہاشم و ریزہ بن محمد غسانی نے ، ان کو محمد داؤد بن صبیح نے ان کو علی بن بکار نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابراہیم بن ادھم کے آگے اپنے عیال کے زیادہ ہونے کی شکایت کی تو ابراہیم نے اس سے کہا کہ اے میرے بھائی ! آپ گھر میں جا کر دیکھ لیجئے کہ ان سب لوگوں میں سے جس جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اسے آپ میرے گھر بھیج دیجئے۔

شكا رجل إلى إبراهيم بن أدهم كثرة عياله ← عَلِيُّ بْنُ بَكَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صُبَيْحٍ، ← أبو هاشم وريزة بن محمد الغساني ← أبو الفضل أحمد بن عبد الله بن نصر ← والدي أبو علي ← أخبر أبو الحسن علي بن السقاء

Hadith 1333

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1334

1334 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا جعفر بن محمد بن نصير ثنا إبراهيم بن نصر المنصوري ثنا إبراهيم بن بشار قال : أمسينا مع إبراهيم بن أدهم ذات ليلة و ليس معنا شيء نفطر عليه و لا لنا حيلة فرآني مغتما حزينا قال : يا إبراهيم بن بشار ماذا أنعم الله على الفقراء و المساكين من النعم و الراحة في الدنيا و الآخرة ! لا يسألهم الله يوم القيامة عن زكاة و لا حج و لا صدقة و لا عن صلة رحم و لا عن مواساة و إنما يسأل و يحاسب عن هذا هؤلاء المساكنين أغنياء في الدنيا فقراء في الآخرة أعزة في الدنيا أذلة يوم القيامة لا تغتم و لا تحزن فرزق الله مضمون سيأتيك نحن و الله الملوك الأغنياء نحن الذين تعجلنا الراحة في الدنيا لا نبالي على أي حال أصبحنا و أمسينا إذا أطعنا الله ثم قام إلى الصلاة و قمت إلى صلاتي فما لبثنا إلا ساعة و إذا نحن برجل قد جاء بثمانية أرغفة و تمر كثير فوضعها بين أيدينا و قال : كلوا رحمكم الله قال : فسلم ثم قال : كل يا مغموم فدخل سائر و قال : أطعمونا شيئا فأخذ ثلاثة أرغفة مع تمر فدفعها إليه و أعطاني ثلاثة و أكل رغيفين و قال المؤاساة من أخلاق المؤمنين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر نے ان کو ابراہیم بن نصر منصوری نے ان کو ابراہیم بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم بن ادھم کے ساتھ ایک رات کو شام کے ٹائم حاضر تھے ۔ ہم لوگ روزے سے تھے ۔ مگر شام ہوجانے کے باوجود ہم لوگوں کے پاس ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس کے ساتھ ہم افطار کرتے اور نہ ہی کوئی تدبیر تھی ۔ ابراہیم نے مجھے پریشان اور مغموم دیکھا تو فرمایا کہ اے ابراہیم بن بشار دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے فقراء اور مساکین پر کس قدر انعام فرمایا ہے ۔ دنیا اور آخرت کی نعمتوں اور راحتوں سے جن کے بارے میں ان سے اللہ قیامت کے دن پوچھیں گے بھی نہیں نہ زکوٰۃ کے بارے میں نہ ہی حج کے بارے میں ۔ نہ ہی صدقہ کے بارے میں اور صلہ رحمی اور غمخواری کے بارے میں ۔ ہاں ان چیزوں کے بارے میں حساب کتاب ان مساکین سے لیا جائے گا جو دنیا کے اغنیاء تھے ۔ اور آخرت کے فقیر ہوں گے جو دنیا میں عزت دار تھے مگر قیامت میں ذلیل ہوں گے ۔ لہذا آپ نہ فکر کریں اور نہ غم کریں ۔ اللہ کی طرف سے رزق ضمانت دیا گیا ہے اور محفوظ کر دیا گیا ہے۔ عنقریب تیرے پاس آ جائے گا۔ اللہ کی قسم ہم بادشاہ اغنیاء ہیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں راحت کی جلدی کر لی ہے ۔ ہم پرواہ نہیں کرتے کہ کونسے حال میں ہم نے صبح کی ہے اور شام کی ہے ۔ جب ہم اللہ کی اطاعت کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد وہ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ میں بھی اپنی نماز کی طرف کھڑا ہو گیا ۔ ہم چند ساعات ہی ٹھہرے تھے کہ اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی آیا اور اس کے پاس آٹھ روٹیاں تھیں اور بہت سی کھجوریں تھیں۔ اس نے لا کر ہمارے آگے رکھ دیں اور کہنے لگا کھاؤ ، اللہ تم پر رحم فرمائے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے سلام پھیرا پھر فرمایا۔ کھائیے اے غمگین ۔ اتنے میں کوئی سائل بھی آگیا ۔ اس نے سوال کیا کہ مجھے بھی کچھ کھانے کو دو۔ لہذا ابراہیم نے تین روٹیاں اور کچھ کھجوریں اٹھائیں اور اس کو دے دیں اور تیں روٹیاں مجھے دے دیں اور دو روٹیاں خود کھالیں اور فرمایا کہ غمخواری کرنا اہل ایمان کے اخلاق کا حصہ ہے ۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← إبراهيم بن نصر المنصوري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1334

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1335

1335 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا بكر محمد بن أحمد البلخي يقول : سمعت محمد بن حامد يقول : سمعت أحمد بن خضرويه يقول : قال رجل لحاتم الأصم : من أين تأكل ؟ فقال : { ولله خزائن السماوات والأرض ولكن المنافقين لا يفقهون }

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، انہوں نے سنا ابو بکر محمد بن احمد بلخی سے ، وہ کہتے ہیں ہم نے سنا محمد بن حامد سے ، انہوں نے سنا احمد بن خضرویہ سے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حاتم اصم سے کہا کہ آپ کہاں سے کھاتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: " وللہ خزائن السماوات والا رض ولکن المنافقین لا یفقھون" (المنافقون7) اللہ ہی کے لئے ہیں خزانے آسمانوں کے اور زمین کے ۔لیکن منافق لوگ نہیں سمجھتے۔

ولله خزائن السماوات والأرض ولكن المنافقين لا يفقهون ← رجل لحاتم الأصم من أين تأكل ← أحمد بن خضرويه ← محمد بن حامد ← أبا بكر محمد بن أحمد البلخي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1335

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1336

1336 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن حمشاد يقول : سمعت إبراهيم بن أبي طالب يقول : سمعت محمد بن حميد يقول : سمعت هارون بن المغيرة عن سفيان الثوري قال : قرأ واصل الأحدب هذا الآية : { وفي السماء رزقكم وما توعدون } فقال أرى رزقي في السماء و أنا أطلبه في الأرض و الله لا أطلبه في الأرض أبدا فدخل خربة بالكوفة فلم يأته يومين شيء فلما كان اليوم الثالث إذا هو بدوخلة من رطب و كان له أخ أحسن نية منه فأصاب دوخلتين فكان ذلك حالهما حتى فرق الموت بينهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، انہوں نے سنا علی بن خمشاد سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ابراہیم بن ابو طالب سے انہوں نے سنا محمد بن حمید سے ، کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا ہارون بن مغیرہ سے ، اس نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا کہ حضرت واصل بن احدب نے اس آیت کو تلاوت کیا: "وفی السماء رزقکم وما توعدون" (الذاریات 22) تمہارا رزق آسمانوں میں اور جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔ احدب نے کاہ کہ مجھےبتایا گیا ہے میرا زرق آسمانوں میں اور میں اس کو زمین میں تلاش کروں؟ اللہ کی قسم میں ان کو زمین میں کبھی بھی تلاش نہیں کروں گا۔ پھر وہ کوفے کے ایک ویرانے میں داخل ہوگئے دو دن تک کوئی خبر نہ آئی جب تیسرا دن ہوا تو وہ کھجور کے تازہ ٹوکرے کے ساتھ واپس آئے اور ان کا ایک بھائی تھا جو کہ ان سے بھی زیادہ نیک نیت تھا۔ ان کو دو ٹوکرے موصول ہوئے چنانچہ ان کا یہی حال تھا یہاں تک کہ دونوں کے مابین موت نے فاصلہ پیدا کر دیا۔

أرى رزقي في السماء و ← قرأ واصل الأحدب هذا الآية وفي السماء رزقكم وما توعدون ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1336

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1337

1337 - و فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ رحمه الله إجازة ثنا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن الكارزي ثنا أبو رجاء محمد بن أحمد القاضي قال : سمعت أبا الفضل العباس بن الفرج الرياشي يقول : سمعت عبد الملك بن قريب الأصمعي يقول : أقبلت ذات يوم من مسجد الجامع بالبصرة و بينما أنا في بعض سككها إذ أقبل أعرابي جلف جاف على قعود له متقلدا سيفه و بيده قوس فدنا و سلم و قال : ممن الرجل ؟ فقلت : من بني الأصمع فقال لي : أنت الأصمعي ؟ قلت : نعم قال : من أين أقبلت ؟ قلت : من موضع يتلى كلام الرحمن فيه قال : أو للرحمن كلام يتلوه الآدميون ؟ فقلت : نعم يا أعرابي فقال : أتل علي شيئا منه فقلت انزل من قعودك فنزل و ابتدأت بسورة { الذاريات ذروا } حتى انتهيت إلى قوله تعالى : { و في السماء رزقكم و ما توعدون } قال الأعرابي يا أصمعي هذا كلام الرحمن ؟ قلت : إي و الذي بعث محمدا بالحق إنه لكلامه أنزله على نبيه محمد صلى الله عليه و سلم فقال لي حسبك فقام إلى ناقته فنحرها بسيفه و قطعها بجلدها و قال : أعني على تفرقتها فوزعناها على من أقبل و أدبر ثم كسر سيفه و قوسه و جعلها تحت الرملة و ولى مدبرا نحو البادية و هو يقول : { و في السماء رزقكم و ما توعدون } يرددها فلما تغيب عني في حيطان البصرة أقبلت على نفسي ألومها و قلت : يا أصمعي ! قرأت القرآن منذ ثلاثين سنة و مررت بهذه و أمثالها و أشباهها فلم تتنبه لما تنبه له هذا الأعرابي و لم يعلم أن للرحمن كلاما فلما قضى الله من أمري ما أحب حججت مع هارون الرشيد أمير المؤمنين فبينا أنا أطوف بالكعبة إذا أنا بهاتف يهتف بصوت رقيق : تعال يا أصمعي ! تعال يا أصمعي قال فالتفت فإذا أنا بالأعرابي منهوكا مصفارا فجاء و سلم علي و اخذ بيدي و أجلسني وراء المقام فقال : اتل من كلام الرحمن ذلك الذي تتلوه فابتدأت ثانيا بسورة الذاريات فلما انتهيت إلى قوله : { وفي السماء رزقكم و ما توعدون } صاح الأعرابي و قال : قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا ثم قال : يا أصمعي هل غير هذا للرحمن كلام ؟ قلت : نعم يا أعرابي يقول الله عز و جل : { فورب السماء والأرض إنه لحق مثل ما أنكم تنطقون } فصاح الأعرابي عندها و قال : يا سبحان الله ! من ذا أغضب الجليل حتى حلف ؟ فلم يصدقوه بقوله حتى ألجأوه إلى اليمين قالها : ثلاثا و خرجت نفسه

ان اخبار میں سے ہے جن کے بارے میں ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ بطور اجازت کے ان کو ابولحسین محمد بن محمد بن حسن کارزی نے ان کو ابورجآء محمد بن احمد قاضی نے کہتے ہیں میں نے سنا ابوالفضل عباس بن فرج ریاشی سے وہ فرماتے ہیں میں نے سنا عبدالملک بن قریب اصمعی سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں بصرہ کی جامع مسجد میں آیا جب میں بصرے کی گلیوں سے گذر رہا تھا میں نے وہاں ایک دیہاتی آدمی کو دیکھا ۔ جو اچانک میرے آگے آگیا ۔، انتہائی سخت مزاج اور خشک مزاج آدمی تھا اونٹنی پر سوار تھا تلوار حائل کر رکھی تھی اس کے ہاتھ میں کمان تھی قریب ہوا اور اس نے سلام کیا اور میرے بارے میں دریافت کیا کہ کس قبیلے سے تعلق ہے ؟ میں نے کہا کہ بنی اصمع سے تعلق ہے مجھے کہنے لگے کہ تو اصمعی ہے ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، اور پوچھا کہ کہاں سے آ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ اس جگہ سے جہاں اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھا جاتا ہے ، اس نے پوچھا کہ کیا رحمین کا بھی کوئی کلام ہے جسے بندے پڑھتے ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ہے اے اعرابی اس نے کہا کہ اس میں سے کچھ آپ میرے سامنے پڑھیں میں نے اس سے کہا کہ آپ اپنی اونٹنی سے نیچے اتریں وہ نیچے اترا اور میں نے تلاوت کی ابتدا کرتے ہوئے سورۃ والذاریات پڑھی یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچا۔" وفی السمآء رزقکم وما توعدون"۔تمہارا رزق آسمانوں میں ہے اور جو کچھ تم وعدہ دئیے گئے ہو۔ لہذا اعرابی نے کہ اے اصمعی ! کیا یہ رحمٰن کا کلام ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ وہ کلام ہے جس کواس نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر یعنی اپنے نبی پر نازل فرمایا ہے لہذا اس اعرابی نے کہا بس اتنا کافی ہے اور اٹھ کر وہ اپنی اونٹنی کے پاس گیا اور جا کر اسے اپنی تلوار سے ذبح کر دیا اور اس کی کھال اتاری اور مجھ سے کہنے لگا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں میرے ساتھ مدد کریں۔ لہذا ہم لوگوں نے اس کو آنے جانے والے لوگوں میں تقسیم کر دیا اس کے بعد اس نے اپنی تلوار توڑ دی ۔ اور کمان بھی توڑ ڈالی اور انہیں ریت کے نیچے دبا دیا اور پیچھے کی طرف واپس لوٹ گیا ۔ دیہات کی طرف اور وہ یہ پڑھ رہا تھا وفی السماء رزقکم وما توعدون " بار بار اس کو دہرا رہا تھا۔ جب وہ مجھ سے بصرے کی باغات میں غائب ہو گیا تو میں اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوا اور اسے ملامت کرنے لگا میں نے اس اپنے آپ سے کہا اے اصمعی تم نے تو تیس سال تک قرآن کو پڑھا اور اس آیت کو اور اس جیسی بہت سی آیات کو پڑھا مگر مجھے ایسے ایسا تنبہ نہ ہوا جیسے یہ شخص اعرابی متنبہ ہوا ہے ۔ جو کہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ رحمٰن کا بھی کوئی کلام ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے میرے معاملے میں وہ فیصلہ فرمایا جو میں پسند کرتا ہوں، میں نے ہارون رشید امیر المؤمنین کے ساتھ حج کیا اچانک میں نے طواف کعبہ کے دوران ایک مخفی اور ہلکی سی آواز سنی جو بڑی نرم آواز تھی۔ ادھر آؤ اے اصمعی ۔ ادھر آئیے اسے اصمعی۔ کہتے ہیں کہ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہی اعرابی ہے جو کمزور ہو چکا ہے رنگ پیلا ہو چکا ہے مجھے بلا رہا ہے۔ چنانچہ وہ خود آیا اور مجھے سلام کیا اور میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مقام ابراہیم کے پیچھے لے جا کر بیٹھا دیا اور کہنے لگا کہ تھوڑا سا رحمٰن کا کلام پڑھئیے وہی جس کو آپ پڑھتے ہیں لہذا میں نے دوبارہ بھی سورۃ الذاریات پڑھی جب میں اسی آیت پر پہنچا ۔ " وفی السماء رزقکم وما توعدون" تو اعرابی نے چیخ ماری اور کہنے لگا ہمارے رب نے ہمیں جو وعدہ دیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا ہے ۔ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اسے سچا پالیا ہے ۔ پھر بولا کہ اے اصمعی کیا اس کے سوا بھی رحمٰن کا کلام ہے ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں ہے اے اعرابی اللہ تعالیٰ اس کے بعد فرماتے ہیں ۔ "فوب السماء والا رض انہ لحق مثل ماانکم تنطقون(الذاریات23) پس قسم ہے ارض و سماء کے رب کی بے شک وہ حق ہے جیسے تم بولتے ہو۔ یہ سن کر پھر دیہاتی نے چیخ ماری اور کہنے لگا یا سبحان اللہ ۔ وہ کون ہے ؟ جس نے رب جلیل کو غصہ دلادیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس نے قسم کھائی ہے پھر انہوں نے اس کو سچا نہیں مانا اس کے قول میں ، جس کی وجہ سے انہوں نے اسے قسم کھانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ تین بار اس نے یہ بات کہی اور پھر اس کی روح پرواز کر گئی۔

عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← أَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيَّ، ← أبو رجاء محمد بن أحمد القاضي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و فيما

Hadith 1337

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1338

1338 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي لم بن معاوية النيسابوري ثنا أبو حامد أحمد بن محمد بن أحمد بن بالويه العفصي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن عمار الدهني عن سالم : أن دانيال طرح في جب و طرح عليه السباغ فجعلن يلحسنه و يتبصبصن إليه فأتاه رسول فقال : يا دانيال فقال : من أنت ؟ قال : أنا رسول ربك أرسلني إليك بطعام فقال : الحمد لله الذي لا ينسى من ذكره

ہمیں خبر دی ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی معاویہ نیسا پوری نے ان کو ابوحامدبن محمد بن احمد بن بالویہ عفصی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو عمار دھنی نے ان کو سالم نے کہ حضرت دانیا علیہ السلام ایک گہرے کنویں میں پھینک کر ان کے اوپر درندے چھوڑ دئیے گئے تھے مگر ان درندوں نے بجائے ان کو کاٹنے کے ان سے محبت کرنا ان کے ہاتھ پیر چاٹنا اور کتے کی طرح چاپلوسی کرتے ہوئے دم ہلانا شروع کر دیا ۔ چنانچہ ان کے پاس ایک فرشتہ نمائندہ بن کر آیا اور آ کر کہا کہ اے دانیال (کیا آپ کو میری ضرورت ہے ۔) انہوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ میں آپ کے رب کا نمائندہ ہوں اس نے مجھے کھانا دے کر تیرے پاس بھیجا ہے ۔ دانیال علیہ السلام نے فرمایا: ۔الحمدللہ الذی لا ینسی من ذکرہ" اس اللہ کا شکر ہے جو اس کو نہیں بھلاتا جو اس کو یاد کرے۔

سَالِمٍ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو حامد أحمد بن محمد بن أحمد بن بالويه العفصي، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي لم بن معاوية النيسابوري

Hadith 1338

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1339

1339 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا مطين ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو بكر بن عياش عن هشام بن حسان عن ابن سيرين عن أبي هريرة قال : أصاب رجلا حاجة فخرج إلى البرية فقالت امرأته : اللهم ارزقنا ما تعتجن و نختبز فقال : فجاء الرجل فإذا الجفنة ملأى عجين و في التنور جنوب و شواء و الرحى تطحن فقال : من أين هذا ؟ فقالت من رزق الله عز و جل فكنس ما حول الرحى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تركها لدارت أو لطحنت إلى يوم القيامة قال البيهقي رحمه الله :

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن راج نے ان کومطین نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو بکر بن عیاش نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو ابن سیرین نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو ایک حاجت درپیش آئی چنانچہ وہ جنگل کی طرف نکل گئے اور اس کی بیوی نے دعا کی اے اللہ ہمیں رزق عطا فرما جس کا ہم آٹا گوندھیں اور روٹیاں پکائیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی واپس آیا تو کیا دیکھتا ہے کہ تھال گوندے ہوئے آتے سے بھرا ہوا ہے ۔ اور تندور میں روٹیاں پک رہی ہیں اور گوشت بھن رہا ہے اور چکی آٹا پیس رہی ہے ، ( اس نے حیران ہو کر پوچھا ) یہ سب کچھ کہاں سے آیا ہے ؟ خاتون بولی کہ یہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے ، لہذا اس نے آٹے کے اس غبار جو چکی کے گرد تھا صافی سےسمیٹا اور صاف کرنا شروع کر دیا ( اور وہ سلسلہ ختم ہو گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسے اپنی حالت پر رہنے دیتا تو وہ چکی چلتی رہتی اور قیامت تک وہ آٹا پیستی رہتی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 1339

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1340

1340 - و روينا عن المقرئ عن أبي هريرة : في هذا المعنى و هو مذكور في كتاب دلائل النبوة

ہم نے روایت کی ہے مقری سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مذکورہ مفہوم میں اور وہ کتاب دلائل النبوۃ میں مذکور ہے ۔

أبي هريرة في هذا المعنى و هو مذكور في كتاب دلائل النبوة ← الْمُقْرِئُ ← و روينا

Hadith 1340

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1341

1341 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل محمد بن أحمد بن سهل الصيرفي ببغداد ثنا أحمد بن محمد بن مسروق قال : ثنا سعيد بن عثمان الحناط حدثني عبد الله بن محمد قال : قال لي الأصمعي : مررت بأعرابيه في البادية في كوخ فقلت لها : يا أعرابية من يؤنسك ها هنا ؟ قالت : يؤنسني مؤنس المؤتى في قبورهم قلت فمن أين تأكلين ؟ قالت : يطعمني مطعم الذرة و هي أصغر مني

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابولفضل محمد بن احمد بن سہل صیرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے ان کو سعید بن عثمان حناط نے ان کو عبداللہ بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے اصمعی نے کہا کہ میں ایک دیہاتی عورت کے پاس سے دیہات میں گذرا جو ایک جھونپڑی میں رہتی تھی۔ میں نے اس سے کہا اے خاتون آپ کو اس ویرانے میں کون انس اور محبت دیتا ہے ؟ وہ بولی مجھے وہ انس دیتا ہے جو مردوں کو ان کی قبروں میں انس دیتا ہے میں نے اس سے کہا کہ آپ کھاتی کہاں سے ہیں ؟ بولی مجھے وہ کھلاتا ہے جو کہ چیونٹی کو کھلاتا ہے حالانکہ وہ مجھ سے بہت چھوٹی ہے۔

عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سعيد بن عثمان الحناط ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← أبو الفضل محمد بن أحمد بن سهل الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1341

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1342

1342 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان ثنا عن الله بن محمد حدثني محمد بن الحسين ثنا يحيى بن راشد حدثني عبد الله بن مبشر من ولد توبة العنبرة قال : دعا عتبة الغلام ربه عز و جل أن يهب له ثلاث خصال في دار الدنيا دعا ربه أن يمن عليه بصوت حزين و دمع غزير و طعام من غير تكلف فكان إذا قرأ بكى و أبكى و كانت دموعه جارية دهره و كان يأوي إلى منزله فيصيب قوته و لا يدري من أين يأتيه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ان کوحسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو محمدبن حسین نے ان کو یحییٰ بن راشد نے ان کو عبداللہ بن مبشر نے اولاد تو بہ عنبری سے انہوں نے کہا کہ عتبہ نام کے غلام نے اپنے رب سے التجاء کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ تین صفات عطا فرما دنیا کے اندر۔ (1) اس نے یہ دعا کی کہ اللہ مجھے ہر مغموم آواز کے ساتھ احسان فرما۔ (2) ہر وقت بہنے والے آنسو عطا فرما۔ (3) اور بلا کلف رزق عطا فرما۔ (اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی اور ) جب وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو خود بھی روتے تھے لوگوں کو بھی رولاتے تھے۔ اور اس کے آنسو سدا بہتے رہتے تھے اور جب گھر میں داخل ہوتے تو اس کی روزی اس کے پاس پہنچ جاتی تھی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ کہاں سے اس کے پاس آتی ہے ۔

عبد الله بن مبشر من ولد توبة العنبرة ← يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الله بن محمد ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 1342

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1343

1343 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسين المحمودي المروزي ثنا محمد بن علي الحافظ ثنا محمد بن المثنى ثنا الحسن بن عبد الرحمن الحارثي ثنا ابن عون قال : كان محمد ـ يعني ابن سيرين يقول لأيوب : ألا تزوج ؟ ألا تزوج ؟ فشكى ذلك إلي فقال : إذا تزوجت فمن أي أنفق ؟ قال : فقلت ذاك لابن محمد عبد الله فقال لأبيه : فقال : يرزقه الذي يرزق الطير من السماء و أشار بإصبعه قال : فتزوج قال : فقد رأيت بعد ذلك في سفرته الدجاج

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن محمودی مروزی نے ان کو محمد بن علی حافظ نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو حسن بن عبدالرحمٰن حارثی نے ان کو ابن عون نے فرماتے ہیں کہ ۔ کہ حضرت محمد بن سیرین ایوب سے کہتے تھے کہ کیا آپ شادی نہیں کر رہے ؟ کیا آپ شادی نہیں کر رہے ؟ انہوں نے اس بات کی شکایت میرے آگے کر دی۔ اور بولے کہ اگر میں شادی کر لوں تو میں کہاں سے خرچ کروں گا؟ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات ابن محمد عبداللہ سے کہ ( کہ وہ کہتے ہیں میں کہاں سے خرچ کروں گا؟) انہوں نے یہ بات اپنے والد سے کہ ۔ ان کے والد نے کہا اس کو وہی رزق دے گا جو پرندے کو فضا میں رزق دیتا ہے اور ہاتھ سے اوپر اشارہ بھی کیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے شادی کر لی ۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے بعد میں اس کے دستر خوان پر مرغی کھائی۔

فقد رأيت بعد ذلك في سفرته الدجاج ← فتزوج ← يرزقه الذي يرزق الطير من السماء و أشار بإصبعه ← لأبيه ← فقلت ذاك لابن محمد عبد الله ← إذا تزوجت فمن أي أنفق ← لأيوب ألا تزوج ألا تزوج فشكى ذلك إلي ← كان محمد يعني ابن سيرين ← ابْنِ عَوْنٍ ← الحسن بن عبد الرحمن الحارثي، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← أبو الحسين المحمودي المروزي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1343

chevron_left Previous
1…1415161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood