Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1284

1284 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني سعيد بن أسد أنا ضمرة عن رجاء بن أبي سلمة قال : قلت لحسان بن أبي سنان : أما تحدثك نفسك بالفاقة ؟ قال : بلى فأقول لها : يا نفس إذا كان ذلك أخذت بالمسحاه فجلست مع الفعلة فأصبت دانقا أو دانقين فتعيشين به فتسكن قال ابن شوذب : كان حسان بن أبي سنان رجلا من تجار أهل البصرة له شريك بالبصرة و هو مقيم بالأهواز يجهز على شريكه بالبصرة ثم يجتمعان على رأس كل سنة يتحاسبان ثم يقتسمان الربح فكان يأخذ قوته من ربحه و يتصدق بما بقي و كان صاحبه يبني الدور و يتخذ الأرض قال : فقدم حسان قدمة البصرة ففرق ما أراد أن يفرق فذكر له أهل بيت لم تكن حاجتهم ظهرت فقال أما كنتم تخبرونا قال : فاستقرض لهم ثلاثمائة درهم فبعث بها إليهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کویعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے ان کو ضمرہ نے ان کو رجاء بن ابو سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے احسان بن ابو سنان سے کہا کہ کیا آپ اپنے نفس کو فاقہ اور محتاج کے بارے میں نہیں بتاتے؟ انہوں نے کہا ہاں بتاتا ہوں ۔ میں اس سے کہتا ہوں ۔ جب یہ محتاجی ہوگی تو میں پھاوڑا لوں گا اور مزدورں کے ساتھ جا بیٹھوں گا اور میں ایک پیسہ یا دو پیسے کما کر لاؤں گا اسی کے ساتھ عیش کرنا اور خوش رہنا۔ ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حسان بن ابو سنان کا ایک کاروباری تاجر شریک تجارت تھا جو کہ اہل بصرہ میں سے تھا اور حسان خود اھواز میں مقیم تھے سفر کی تیاری کرکے اپنے شریک تجارت کے پاس بصرہ جاتے تھے ۔ سال کے آخر میں دونوں اکٹھے ہوتے اور آپ میں تجارت کا حساب و کتاب کیا کرتے تھے ۔ اور منافع آپ میں تقسیم کرتے تھے چنانچہ حسان اپنے منافع میں سے اپنی ضرورت کی روزی کے حساب سے لے لیتے تھے اور باقی منافع جو کچھ بچتا اس کو صدقہ کر دیتے تھے جب کہ ان کا ساتھی اضافی منافع کے ساتھ زمین خرید کرتا تھا اور گھر تعمیر کرتا تھا ۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حسان بصرے میں اپنے تاجر دوست کے پاس گئے اور جتنی مال تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ صدقہ کر دیا ان سے گھر والوں کی ضرورت کا ذکر کیا گیا جو حاجت پہلے ظاہر نہیں تھی، انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا؟ لہذا اس کے بعد انہوں نے گھر کے خرچے کے لئے تین سو درہم قرض لیا اور گھر والوں کے پاس بھیج دیا۔

قلت لحسان بن أبي سنان أما تحدثك نفسك ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← ضَمْرَةُ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1284

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1285

1285 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا أحمد الصيرفي يقول : سمعت أحمد بن زياد يقول : كان أسود بن سالم يتسمسر فإذا أصاب نصف دانق قام و انصرف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو احمد صیرفی سے وہ کہتے تھے میں نے سنا احمد بن زیاد سے کہتے تھے کہ اسود بن سالم راستہ بتانے کی دلالی کرتے تھے جب انہیں ایک پیسہ مل جاتا واپس لوٹ آتے تھے۔ ( اس روز اسی سے گذر بسر کرتے پھر اگلے روز پھر چلے جاتے)۔

كان أسود بن سالم يتسمسر فإذا أصاب نصف دانق قام و انصرف ← أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ ← أبا أحمد الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1285

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1286

1286 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق : في قول الله تعالى : { ومن يتق الله يجعل له مخرجا * ويرزقه من حيث لا يحتسب } قال : مخرجه أن يعلم أن الله يرزقه و هو يعطيه و هو يمنعه { و من يتوكل على الله فهو حسبه } قال : ليس من توكل على الله تعالى كفاه يعني ليس كل من توكل عليه كفاه إلا أنه من توكل على الله يكفر عنه من سيئتاه و يعظم له أجرا { إن الله بالغ أمره } في من توكل على الله و من لم يتوكل { قد جعل الله لكل شيء قدرا } قال أجلا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضر وی نے ا ن کو احمد نجدی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم نے ان کو مسروق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں ۔ (1)۔۔۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً ویرزقہ من حیث لا یحتسب(الطلاق2) جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ خود بناتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ مسروق نے فرمایا کہ اس کا مخرج اور راستہ یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ اللہ ہی اس کو رزق دیتا ہے لہذا وہی اس کو دے گا وہی اس کو اس سے روکے گا۔ (2)۔۔۔۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ (الطلاق3) جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرے وہی اس کو کافی ہے ۔ فرمایا کہ ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اللہ پر توکل کرے اللہ اس شخص کی کفایت کرے مگر جو شخص اس پر توکل کرے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے اور اس اجر بڑا کر دیتا ہے ۔ "ان اللہ بالغ امرہ" بے شک اللہ تعالیٰ اپنے امر تک پہنچنے والا ہے ۔ اس شخص کے بارے جو اللہ پر توکل ۔ اور جو شخص توکل نہ کرے ۔ "قد جعل اللہ لکل شئیء قدراً" اللہ نے ہر شئی کے لئے ایک اندازہ بنایا ہے یعنی ایک وقت مقرر فرمایا ہے ۔

مخرجه ← مسروق في قول الله تعالى ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1286

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1287

1287 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الهروي أنا أبو علي بشر بن موسى ثنا الأصمعي ثنا أبو هلال عن الحسن قال : قال أبو الصهباء ـ يعني صلة بن أشيم ـ : طلبت الرزق بمظانة فأعياني إلا رزق يوم بيوم فعلمت أنه خير لي و أن امرأ جعل رزقه يوما بيوم فلم يعلم أنه خير له لعاجز الرأي قال الحليمي رحمه الله : و في المسئلة وجه ثالث و هو أن من كان قوي العزم يقدر على تجريد الصبر و ترك مجاوزته إلا إلى الدعاء و كان إذا تصبر مدة فلم ينكشف عنه ضره لم يعد إلى التسبب و لم يندم على اختياره التصبر عليه أو لم يكن في عامة أوقاته شاكا في أن الصبر الذي أثره أعود عليه أو التسبب فالصبر له أفضل و من كان ضعيف العزم و كان لا يصبر إلا متكلفا و لا يزال خلال الصبر شاكا في أن ذلك كان أولى به أو التسبب و كان إذا صبر وقتا لم يثبت على صبره و عاد منه إلى التسبب فينبغي له أن يكون مع المتسببين و جعل نظير ذلك الاستكثار من نوافل الصيام و الصلاة إذا لم يتبرم بها و لم يستثقلها و على هذا أكثر أهل المعرفة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو علی حامد بن محمد ہروی نے ان کو ابو علی بشر موسیٰ نے ان کو اصمعی نے ان کو ابو بلال نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں ابو صھبا نے کہا یعنی صلہ بن اشیم نے ۔ میں نے رزق کو تلاش کیا گمان سے لہذا اس نے مجھے تھکا دیا مگر صرف ایک دن کا رزق ( ہی ملتا تھا) لہذا میں نے سوچ لیا کہ یہی میرے حق میں بہتر ہے اور جس آدمی کا رزق ایک ایک دن کا یعنی روز بہ روز کا ہو مگر اس کو نہ سمجھے کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے وہ شخص کمزور سوچ کا مالک ہے ۔

الْحَسَنِ، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← الْأَصْمَعِيُّ ← أبو علي بشر بن موسى ← أبو علي حامد بن محمد الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1287

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1288

1288 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن علي بن يحيى السراج : يقول سئل ابن سالم بالبصرة و أنا أسمع أنحن مستعبدون بالكسب أو بالتوكل ؟ قال ابن سالم : التوكل حال رسول الله صلى الله عليه و سلم و الكسب سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم و إنما أسنن لهم الكسب لضعفهم حين أسقطوا عن درجة التوكل الذي هو حاله لو يسقطهم عن درجة طلب المعاش بالمكاسب الذي هو سنته و لولا ذلك لهلكوا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن علی بن یحییٰ سراج سے وہ کہتے ہیں ابن سالم سے بصرہ میں پوچھا گیا جب کہ میں سن رہا تھا کہ کیا ہم کسب کے ساتھ توکل سے دور ہو جائیں گے ؟ یا توکل کے ساتھ کسب سے دور ہو جائیں گے ۔ ابن سالم نے فرمایا کہ توکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حالت ہے ، اور کسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کے لیے کسب کو سنت ٹھہرایا ۔ ان کے ضعیف اور کمزور ہونے کی وجہ سے جب وہ توکل کے درجے سے نیچے گر گئے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اپنی حالت ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کو کسبوں کے ساتھ طلب معاش کے درجے سے نہیں گرایا جو کہ آپ کی سنت تھی اگر ایسا بھی ہوتا تو لوگ ہلاک ہو جاتے۔

عَبْدَ اللهِ بْنَ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى السِّرَاجَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1288

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1289

1289 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سعمت محمد بن الحسن بن الخشاب يقول : سمعت جعفر بن محمد بن نصير يقول : سمعت الجريري يقول : سمعت سهل بن عبد الله يقول : من طعن في الاكتساب فقد طعن في السنة و من طعن في التوكل فقد طعن في الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن حسن بن خشاب سے انہوں نے جعفر بن محمد بن نصیر سے انہوں نے سنا جریری سے انہوں نے سنا سہل بن عبداللہ سے فرماتے تھے۔ جس نے کسب محنت میں طعن کیا اس نے سنت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں طعن کیا اور جس نے توکل میں طعن کیا اس نے ایمان میں طعن کیا۔

سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← سعمت محمد بن الحسن بن الخشاب ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1289

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1290

1290 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت أبا عثمان الأدمي يقول : سمعت إبراهيم الخواص يقول : لا ينبغي لصوفي أنبأ يتعرض للقعود عن الكسب إلا أن يكون رجل مطلوب فقد أغنته الحال عن المكاسب فأما ما كانت الحاجات فيه قائمة و لم يقع له عزوف يحول بينه و بين التكلف فالعمل أولى به و الكسب أجل له و أبلغ

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ سے انہوں نے ابو عثمان رومی سے انہوں نے ابراہیم خواص سے انہوں نے کہا کہ کسی صوفی کی شان نہیں ہے وہ کسب اور محنت کرنے سے جان چرا کر بیٹھ جائے ہاں مگر یہ کہ کوئی آدمی مطلوب اور مغلوب الحال ہو۔ کسب و محنت سے غافل ہو چکا ہو بہرحال وہ شخص جس میں ضروریات موجود ہوں اور اس میں کوئی روکنے والی چیز بھی نہ ہو جو اس کے اور محنت کے درمیان حائل ہو اس کے لیے کسب وعمل زیادہ بہتر ہے اور منزل کے قریب تر ہے ۔

الكسب إلا أن يكون رجل مطلوب فقد أغنته الحال ← لا ينبغي لصوفي أنبأ يتعرض للقعود ← إِبْرَاهِيمَ الْخَوَّاصَ ← أَبَا عُثْمَانَ الْآدَمِيَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1290

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1291

1291 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الحناط يقول : سمعت رجلا يسأل ذا النون فقال : يا أبا الفيض ما التوكل ؟ قال : خلع الأرباب و قطع الأسباب قال له : زدني فيه حالة أخرى قال : إلقاء النفس في العبودية و إخراجها من الربوبية

ہمیں خبر دی ا بو عبداللہ حافط نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان حناط سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی سے سنا جس نے ذوالنوی مصری سے سوال کیا تھا کہ اے ابو الفیض توکل کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ ارباب کو چھوڑدینا اور اسباب سے منقطع ہو جانا اور اس نے کہا مجھے اور حالت کے بارے میں زیادہ نصیحت کیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ نفس کو عبدیت میں ڈالنا اور اس کو ربوبیت سے نکالنا۔

إلقاء النفس في العبودية و إخراجها من الربوبية ← له زدني فيه حالة أخرى ← خلع الأرباب و قطع الأسباب ← رجلا يسأل ذا النون فقال يا أبا الفيض ما التوكل ← أبا عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1291

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1292

1292 - قال : و سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام التوكل بغض العلائق و ترك التملق في السلائق و استعمال الصدق في الحقائق و ثلاثة من أعلام الثقة بالله سبحانه و تعالى : السخاء بالموجود و ترك الطلب للمفقود و الاستقامة إلى فضل الودود و ثلاثة من أعلام الاستغناء بالله عز و جل : التواضع للفقراء و المتذللين و ترك تعظيم الأغنياء المكثرين و ترك المخالطة لأبناء الدنيا المتكبرين

کہتے ہیں کہ میں نے ذالنون نے مصری سے سنا کہتے تھے کہ توکل کی تین نشانیاں ہیں۔ (1) ۔۔۔ علائق سے بغض ہونا ۔ یعنی ہر وہ چیز جو اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنے میں رکاوٹ بنے اس سے نفرت کرے۔ (2)۔۔۔۔ طبائع میں جاپلوسی کو ترک کر دینا۔ (3)۔۔۔ حقیقتوں میں سچائی کو استعمال کرنا۔ اللہ کے ساتھ یقین کی تین علامات ہیں۔ جو کچھ موجود ہو اس کے ساتھ سخاوت کرنا جو چیز موجود نہ ہو اس کی طلب نہ کرنا ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف پکے امید وار رہنا۔ اللہ کی رحمت کے ساتھ غنی ہونے کی تین علامات ہیں ۔ فقراء اور مساکین کے ساتھ عاجزی اور تواضع کرنا۔ اغنیاء اور دولت مندوں کی تعظیم ترک کرنا۔ ابنائے دنیا اور متکبر لوگوں کا میل جول ترک کرنا۔

ذَا النُّونِ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1292

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1293

1293 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن جعفر بن محمد بن مطر يقول سمعت أبا بكر محمد بن عبد العزيز البردعي يقول : سمعت أبا يعقوب النهرجوري يقول : التوكل على كمال الحقيقة وقع لإبراهيم خليل الرحمن في تلك الحال التي قال لجبريل عليه السلام : أما إليك فلا لأنه عابت نفسه بالله فلم ير مع الله غير الله و كان مهابا بالله من الله إلى الله بلا واسطة و هو من علامات التوحيد و إظهار القدرة لنبيه عليه السلام

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا محمد بن جعفر بن مطرے سے انہوں نے سنا ابو بکر محمد بن عبدالعزیز بردعی سے انہوں نے سنا ابو یعقوب نہر جوری سے فرماتے تھے کہ : توکل اپنی مکمل حقیقت کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عمل میں آیا تھا۔ خصوصاً اس حالت میں جب انہوں نے جب جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ آپ کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے ، اس لئے کہ ان کا اپنا نفس اللہ کی محبت میں غائب ہو چکا تھا لہذا انہوں نے اللہ کے ساتھ غیر اللہ کو نہیں دیکھا تھا ۔ لہذا وہ بغیر کسی واسطے سے ڈر کر اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ اور یہ بات توحید کی علامات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کے لیے اپنی قدرت کے اظہار کی علامات اور دلیل ہے۔

التوكل على كمال الحقيقة وقع لإبراهيم خليل الرحمن في تلك الحال التي ← أبا يعقوب النهرجوري ← أبا بكر محمد بن عبد العزيز البردعي ← محمد بن جعفر بن محمد بن مطر ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1293

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1294

1294 - و بإسناده قال : سمعت النهرجوري يقول : التوكل يصح على حالين أحدهما تدل الأسباب على الله و الصبر تحت الأحجام عند فقد الأسباب و الثاني و الرجوع إلى الله بطلب السكون إليه حتى يقم السكون

اسی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ میں نے نہر جوری سے سنا وہ فرماتے تھے۔ توکل دو حال میں صحیح ہے کہ اسباب خود اللہ تعالیٰ پر دلالت کریں اور اسباب کے فقدان کے وقت اسباب سے صرف نظر کرکے صبر کرنا ۔ اور سکون حاصل کرنے کی طلب میں اللہ کی طرف رجوع کرنا یہاں تک کہ سکون حاصل ہو جائے۔

الْنَهْرَجُورِيَّ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1294

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1295

1295 - و بإسناده قال : سمعت أبا يعقوب النهرجوري يقول : أدنى التوكل ترك الاختيار قال : و لا يتوكل على الله إلا من عرف بالولاية و الخلاية و الكفاية فلا يتعرضوا لأهل التوكل فإنهم صفوة الله و خاصته استضافوه فأضافهم و نزلوا عليه فأحسن نزلهم و توكلوا عليه فكفاهم فهم أغنياء بفقرهم و غيرهم فقيرهم بغناهم فمن أنكر التوكل على الله نسب إلى قلة العلم

انہوں نے اپنی اسناد ساتھ فرمایا کہ میں نے ابو یعقوب نہر جوری سے سنا وہ فرماتے تھے کہ توکل اختیار کر ترک کر دینے کا نام ہے ۔ فرمایا کہ توکل وہی کرتا ہے جو ولایت کے ساتھ اور خلا بت کے ساتھ اور کفایت کے ساتھ تو مصروف ہو اور ولایت اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور محبت کرنا اور خلابت اللہ کی یاد کے لئے ہمہ وقت فارغ رہنا کفایت اللہ کے دئیے ہوئے رزق پر اکتفاء کرنا ۔ اہل توکل کے در پے (آزارنہ ہونا) اس لئے کہ وہ اللہ کے چنے ہوئے لوگ اور اس کے خاص بندے ہوتے ہیں ۔ وہ اسی سے ضیافت چاہتے ہیں یعنی اللہ کے مہمان بنتے ہیں اور وہی ان کی ضیافت کرتا ہے ۔ اور وہ اسی کے گھر میں مہمان بن کر اترتے ہیں اور ہوی ان کو مہمانی دیتا ہے اور بہت اچھے طریقے سے دیتا ہے ۔ وہ لوگ صرف اسی پر توکل کرتے ہیں۔ وہی ان کو کافی ہوتا ہے ۔ وہ لوگ اپنے فقر کے باوجود غنی ہیں ۔ اور ان کے ماسوا سب لوگ ان کے غنا کی وجہ سے ان کے محتاج ہیں ۔ جو شخص اللہ پر توکل کرنے کا انکار کرتا ہے وہ نادان اور کم علم کہلاتا ہے ۔

أدنى التوكل ترك الاختيار ← أبا يعقوب النهرجوري ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1295

chevron_left Previous
1…101112…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood