شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1284
1284 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني سعيد بن أسد أنا ضمرة عن رجاء بن أبي سلمة قال : قلت لحسان بن أبي سنان : أما تحدثك نفسك بالفاقة ؟ قال : بلى فأقول لها : يا نفس إذا كان ذلك أخذت بالمسحاه فجلست مع الفعلة فأصبت دانقا أو دانقين فتعيشين به فتسكن قال ابن شوذب : كان حسان بن أبي سنان رجلا من تجار أهل البصرة له شريك بالبصرة و هو مقيم بالأهواز يجهز على شريكه بالبصرة ثم يجتمعان على رأس كل سنة يتحاسبان ثم يقتسمان الربح فكان يأخذ قوته من ربحه و يتصدق بما بقي و كان صاحبه يبني الدور و يتخذ الأرض قال : فقدم حسان قدمة البصرة ففرق ما أراد أن يفرق فذكر له أهل بيت لم تكن حاجتهم ظهرت فقال أما كنتم تخبرونا قال : فاستقرض لهم ثلاثمائة درهم فبعث بها إليهم
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کویعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن اسد نے ان کو ضمرہ نے ان کو رجاء بن ابو سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے احسان بن ابو سنان سے کہا کہ کیا آپ اپنے نفس کو فاقہ اور محتاج کے بارے میں نہیں بتاتے؟ انہوں نے کہا ہاں بتاتا ہوں ۔ میں اس سے کہتا ہوں ۔ جب یہ محتاجی ہوگی تو میں پھاوڑا لوں گا اور مزدورں کے ساتھ جا بیٹھوں گا اور میں ایک پیسہ یا دو پیسے کما کر لاؤں گا اسی کے ساتھ عیش کرنا اور خوش رہنا۔ ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حسان بن ابو سنان کا ایک کاروباری تاجر شریک تجارت تھا جو کہ اہل بصرہ میں سے تھا اور حسان خود اھواز میں مقیم تھے سفر کی تیاری کرکے اپنے شریک تجارت کے پاس بصرہ جاتے تھے ۔ سال کے آخر میں دونوں اکٹھے ہوتے اور آپ میں تجارت کا حساب و کتاب کیا کرتے تھے ۔ اور منافع آپ میں تقسیم کرتے تھے چنانچہ حسان اپنے منافع میں سے اپنی ضرورت کی روزی کے حساب سے لے لیتے تھے اور باقی منافع جو کچھ بچتا اس کو صدقہ کر دیتے تھے جب کہ ان کا ساتھی اضافی منافع کے ساتھ زمین خرید کرتا تھا اور گھر تعمیر کرتا تھا ۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حسان بصرے میں اپنے تاجر دوست کے پاس گئے اور جتنی مال تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ صدقہ کر دیا ان سے گھر والوں کی ضرورت کا ذکر کیا گیا جو حاجت پہلے ظاہر نہیں تھی، انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں تھا؟ لہذا اس کے بعد انہوں نے گھر کے خرچے کے لئے تین سو درہم قرض لیا اور گھر والوں کے پاس بھیج دیا۔
قلت لحسان بن أبي سنان أما تحدثك نفسك ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← ضَمْرَةُ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ
Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1284
