Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1272

1272 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبي ثنا الإمام محمد بن إسحاق بن خزيمة قال : سمعت محمد بن يحيى الأزدي يقول سمعت عبد الله بن داود الخريبي و سئل عن التوكل فقال : أرى التوكل حسن الظن بالله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن اسحاق نے ان کو ان کے والد نے ان کو امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا محمد بن یحییٰ ازدی سے انہوں نے سنا عبداللہ بن داؤد خریبی سےجب ان سے توکل کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ توکل اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کرنے کا نام ہے ۔

التوكل فقال أرى التوكل حسن الظن بالله عز و جل ← عبد الله بن داود الخريبي و سئل ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← الإمام محمد بن إسحاق بن خزيمة ← أَبِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1272

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1273

1273 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت سعيد بن أحمد البلخي يقول : سمعت أبي يقول : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت خالي محمد بن الليث يقول : سمعت حامدا اللفاف يقول : سمعت حاتم الأصم يقول : سمعت شقيق بن إبراهيم يقول : التوكل طمأنينه القلب بموعود الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا سعید بن احمد بلخی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ سے انہوں نے سنا اپنے ماموں محمد بن لیث سے انہوں نے سنا حامد لفاف سے ۔ انہوں نے حاتم اصم سے انہوں نے شقیق بن ابراہیم سے وہ کہتے ہیں کہ توکل اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر دلی اطمینان کا نام ہے ۔

التوكل طمأنينه القلب بموعود الله عز و جل ← شقيق بن إبراهيم ← حَاتِمٌ الْأَصَمُّ، ← حامدا اللفاف ← خالي محمد بن الليث ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي ← سعيد بن أحمد البلخي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1273

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1274

1274 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر بن أبي دارم يقول : ثنا عمر بن الحسن بن نصر بن طرخان قال : سمعت محمد بن أبي عبدان قال : قيل لحاتم الأصم : على ما بنيت أمرك هذا من التوكل ؟ قال : على أربع خلال : علمت أن رزقي لا يأكله غيري فلست أهتم له و علمت أن علمي لا و يعمله غيري فأنا مشغول به و علمت أن الموت يأتيني بغتة فأنا أبادره و علمت أني بعين الله في كل حال فأنا أستحيي منه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو بکر بن دارم سے ان کو عمر بن حسن بن نصر بن طرخان نے انہوں نے سنا محمد بن ابو عبدان سے وہ کہتے ہیں کہ حاتم اصم سے کہا تھا۔ آپ نے اس معاملے یعنی توکل کی بنیاد کس چیز پر رکھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار صفات پر (1) ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ میرا رزق میرے سوا کوئی نہیں کھائے گا ۔ لہذا میں نے اس کے لیے اہتمام اور فکر نہیں کرتا ہوں۔ (2) ۔۔۔ ۔ اور میں جانتا ہوں کہ میرا عمل اور کام میرے سوا دوسرا کوئی نہیں کرے گا لہذا میں اسی میں مصروف رہتا ہوں۔ (3)۔۔۔۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ موت میرے پاس اچانک آجائے گی لہذا میں اس سے پہلے کام کو سمیٹتا ہوں۔ (4)۔۔۔۔ اور میں بھی جانتا ہوں کہ میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ہوں لہذا میں اس سے شرم و حیا کرتا رہتا ہوں۔

محمد بن أبي عبدان ← عمر بن الحسن بن نصر بن طرخان ← أبا بكر بن أبي دارم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1274

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1275

1275 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا يوسف بن عمر الزاهد ثنا الحسن بن موسى بن إسحاق ثنا ابن أبي الدنيا ثنا أحمد بن إبراهيم ثنا أبو إسحاق الطالقاني حدثنا زافر عن أبي رجاء عن أبي رجاء عن عباد بن منصور قال : : سئل الحسن عن التوكل ! فقال : الرضا عن الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو یوسف بن عمر زاہد نے ان کو حسن بن موسیٰ بن اسحٰق نے ان کو ابو الدنیا نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو ابو اسحاق طالغانی نے ان کو زافر نے ان کو ابو رجاء نے ان کو عباد بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ حسن بصری سے توکل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ۔ کہ اللہ تعالیٰ سے ہر حال میں راضی رہنا تو کل علی اللہ ہے ۔

الله عز و جل ← التوكل فقال الرضا ← سُئِلَ الْحَسَنُ ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ، ← زَافِرُ، ← أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الحسن بن موسى بن إسحاق ← يوسف بن عمر الزاهد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1275

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1276

1276 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد بن نصير قال : سمعت أبا محمد الجريري يقول : سمعت سهل بن عبد الله يقول : كمال المعرفة بالله التواضع له قال : و كمال التواضع الرضا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد نصیر نے انہوں نے سنا ابو محمد جریری سے انہوں نے سنا سہل بن عبداللہ سے وہ فرماتے ہیں کہ معرفت باللہ کامل ہو تی ہے عاجزی اور تواضع کے ساتھ اور تواضع کامل ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ پر راضی رہنے کے ساتھ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ معرفت مکمل ہوتی ہے ۔ عاجزی سے اور عاجزی مکمل ہوتی ہے رضا سے۔

و كمال التواضع الرضا ← كمال المعرفة بالله التواضع له ← سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبا محمد الجريري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1276

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1277

1277 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد الرازي قال : كان أبو عثمان يقول في مواعظه : يا عبد الله فيماذا تتعب قلبك ؟ و تنازع إخوانك و تعادي على طلب الرياسة و العز أشكالك و أخدانك ؟ و تعمل في هلكة حياتك بالحسد لمن هو فوقك ؟ كأنك لم تؤمن بمن أخبر أنه يعز من يشاء و يذل من يشاء و يؤتي الملك من يشاء و ينزع الملك ممن يشاء ؟ فاستعمل العلم في ظاهرك إن كنت تاجرا أو كاسبا أو زارعا و أجمل في الطلب و اترك الحرام و الشبهات جميعا فإن نفسا لن تموت حتى تستوفي رزقها و حظها من عزها و رياستها و رزقها و لو هرب العبد من رزقه لأدركه رزقه كما لوفر من الموت لأدركه الموت قال : و اليقين لا يمنع الموقنين من طلب الحظ الوافي من الدنيا و إنما يدل على ترك الفضول رضا بالقليل و الزاهدين مع وصفنا من الأمن بمالك و الأياس مما ليس لك و أن ما أصابك لم يكن ليخطئك و ما أخطأك لم يكن ليصيبك و من رغم أن اليقين يمنع طلب القوت و الكفاف فقد جهل اليقين و خالف سنن السلف الصالحين فقد تقدم في ذلك مع صدق التوكل الأنبياء و أتباعهم و خلافهم خلاف الحق و موافقتهم موافقه الحق و الله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد رازی نے کہتے ہیں کہ ابو عثمان ( مشہور واعظ) اپنی تقریر اور وعظ میں کہتے تھے۔ اے اللہ کے بندہ کس چیز کے لیے اپنے دل کو مشقت میں ڈالتے ہو۔ اور اپنے بھائیوں سے جھگڑتے ہو۔ اور سردار و بڑا بننے کی طلب میں اور عزت بنانے کی ہوس میں اپنے دوستوں اور یاروں سے دشمنی مول لیتے ہو؟ اور اپنے سے اونچے کے ساتھ حسد کر کے اپنی زندگی کی ہلاکت و تباہی کا کام کیوں کرتے ہو؟ آپ تو ایسے ہو گئے ہیں جیسے کہ آپ کا اس بات پر ایمان ہی نہیں ہے جس نے یہ فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ وہی جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکومت دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے ؟ آپ علم کو اپنے ظاہر میں استعمال کیجئے خواہ آپ تاجر ہیں یا محنت کش ہیں یا کاشت کار ہیں ۔ طلب کرنے میں احسن طریقہ اختیار کیجئے۔ حرام اور مشتبہ سب چھوڑ دیجئے۔ بے شک کوئی سانس لینے والا اس وقت تک ہر گز نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنے رزق پورا پورا نہ پالے ۔ اور جب تک اپنا حصہ اپنے رزق سے اپنی حکومت سے اور عزت سے پورا پورا وصول نہ کر لے ۔ اگر کوئی بندہ اپنے رزق سے بھاگے گا تو اس کا رزق اس کو پالے گا۔ جیسے کہ اگر وہ موت سے فرار اختیار کرے گا تو موت اس کو پالے گی۔ اور فرمایا کہ یقین ، یقین کرنے والوں کو دنیا کا پورا پورا حصہ طلب کرنے سے مانع نہیں ہوتا حقیقت یہ ہے کہ یقین قلیل کے ساتھ راضی ہو کر زیادہ کو ترک کرنے کی رہنمائی کرتا ہے اور کثرت کی (لالچ) سے زہد اور بے تعلقی سکھاتا ہے ۔ اتباع رسول اور اتباع صحابہ کرنے کے لئے ، کیونکہ وہ لوگ امام المتوکلین تھے اور زاہدوں کے پیشوا تھے ۔ اس کے با وجود آپ کا مال محفوظ ہو گا۔ اور جو آپ کا نہیں ہے اس سے آپ کو مکمل مایوس اورناتعلق ہونا ہوگا۔ اور جو کچھ آپ کو ملا ہے وہ آپ سے خطا کرنے اور نہ ملنے والا نہیں تھا اور جو کچھ نہ ملے وہ ملنے والا نہیں تھا۔ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ پر یقین کرنا روزی کی طلب سے منع کرتا ہے یا بقدر ضروری روزی کی تلاش سے مانع ہے وہ شخص یقین کو نہیں سمجھا ہے اور اس نے سلف صالحیں کے طریقوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اس سلسلہ میں پہلی بات گذر چکی ہے کہ انبیاء اور ان کے اتباع کرنے والے سچے توکل والے تھے، ان کی مخالفت کرنا یا ان کے طریقے کے خلاف کرنا حق کی مخالفت کرنا ہے۔ اور ان کی موافقت کرنا حق کی موافقت کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے ۔

كان أبو عثمان ← علي بن محمد الرازي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1277

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1278

1278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن قال : سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل يقول : قال الله تبارك و تعالى : { و كفى بالله وكيلا } و قال : { لا تتخذوا من دوني وكيلا } فالله الوكيل الكافي لأنه بكل شيء عليم و هو على كل شيء قدير و هو على كل شيء حفيظ و هو العزيز الحكيم و هو الغني الحميد فالمتوكل عليه هو المكتفى به و كما أنه الكافي لعبده لا حاجة له إلى أحد في كفايته لعبده و كذلك المتوكل عليه المكتفي به غني بن مستغن به عن جميع خلقه لا حاجة به فيما يحتاج إليه إلى غير ربه و بسط الكلام في ذلك ثم قال : فالتوكل عليه هو الاكتفاء به معتمدا عليه وحده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو عثمان سعید بن اسماعیل نے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ "وکفی باللہ وکیلا" (سورۃ نساء 81) کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔ اور ارشاد فرمایا:۔ " الا تتخذوامن دونی وکیلا " (سورۃ اسر21) یہ کہ مت بناؤ میرے سوا کوئی دوسرا کارساز ۔ اللہ تعالیٰ ایسا کار ساز ہے جو کہ کافی ہے اس لئے کہ وہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اور وہ ہر شے کی حفاظت کرنے والا ہے وہ غالب ہے حکمت والا ہے وہ غنی ہے ، تعریفوں کا مستحق ہے اسی پر توکل ہوتا ہے ، اور بھروسہ کے قابل ہے جیسا کہ وہ اپنے بندے کے لئے کافی ہے اس کو اپنے بندے کی ضرورت پوری کرنے اور کفایت کرنے کے لیے کسی اور کی ضرورت نہیں تو ایسا توکل توکل کیا ہوا ہے اور ایسا ہی کفایت کیا ہوا ہے وہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ انسان غنی اور مستغنی ہو جاتا ہے اس کی تمام مخلوقات سے اس کے ساتھ اور وہ اپنی ضروریا ت پوری کرنے میں اپنے رب کے سوا کسی کا محتاج نہیں۔ اس سلسلہ میں واعظ نے بڑا لمبا کلام کیا ہے اس کے بعد فرمایا اللہ پر توکل کرنا اسی پر اکتفا کرنا ہے صرف اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے ۔

أَبَا عُثْمَانَ سَعِيدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1278

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1279

1279 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسبن علي بن أحمد البوشنجي : أنه سئل عن التوكل فقال : التبرئة من حولك و قوتك و حول مثلك قوة مثلك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بوشنجی نے کہ ان سے توکل کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ۔ گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی اپنی قوت سے بیزاری کرنا اور دوسروں کی یعنی دوسری تمام تر مخلوقات کی ایسی قوت سے بیزار کرنا ۔ یعنی نہ تم کچھ کر سکتے ہو اور نہ کوئی اور مخلوق کچھ کر سکتی ہے سب کچھ اللہ کرتا ہے یہی توکل ہے ۔

التوكل فقال التبرئة من حولك و قوتك و حول مثلك قوة مثلك ← أبو الحسبن علي بن أحمد البوشنجي أنه سئل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1279

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1280

1280 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا بكر الرازي يقول : سمعت الكتاني يقول : التوكل في الأصل إتباع العلم و في الحقيقة استعمال اليقين

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو بکر رازی نے انہوں نے سنا الکتانی سے وہ کہتے تھے ۔ توکل دراصل اتباع علم ہےاور حقیقت میں یقین کا استعمال کرنا ہے ۔

التوكل في الأصل إتباع العلم و في الحقيقة استعمال اليقين ← الكتاني ← أبا بكر الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1280

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1281

1281 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا الحسين الفارسي يقول : سمعت جعفرا الخلدي يقول : سمعت إبراهيم الخواص يقول : التوكل تناول السبب من الله

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابو الحسن فارسی سے انہوں نے سنا جعفر خلدی سے انہوں نے سنا ابراہیم خواص سے وہ فرماتے ہیں ۔ توکل اللہ تعالیٰ سے عطا ہونے والے سبب کو اختیار کرنا ہے ۔

التوكل تناول السبب من الله ← إِبْرَاهِيمَ الْخَوَّاصَ ← جعفرا الخلدي ← أَبَا الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1281

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1282

1282 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : و قال الأستاذ أبو سهل محمد بن سليمان : التوكل أن لا يخطر بقلبك نافعا و لا ضارا غيره و أن تستلم لكل حال يرد عليك و لا يضطرب قلبك منه و قال : التوكل قطع الطمع عن الخلق و ترك طلب الحلية منهم و قال : التوكل التطاول إلى الألوان و ما فيها بعين النقص و الرجوع إلى من لا يحلقه النقص بحال

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو استاذ ابو سہل محمد بن سلیمان نے توکل یہ ہے کہ تیرے دل پر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کے نفع دینے والا یا نقصان دینے والا ہونے کا کھٹکا نہ ہو اور ہر حال میں اپنے آپ کو اسی کے سپرد کرنا جو بھی حال تجھ پر آئے یہاں تک کہ تیرا دل اس سے پریشان نہ ہو۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ۔ توکل مخلوق سے امید توڑنا اور ان سے حیلہ اور تدبیر کی طلب چھوڑ دینے کا نام ہے ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ۔ توکل رنگوں کی طرف گردن اونچی کرکے دیکھنا اور اس میں جو نقص اور عیب ہے اس میں نظر کرنا پھر سب سے لوٹ کر اس ذات کی طرف رجوع کرنا جس کو کسی بھی حال میں نقص لا حق نہیں ہوتا۔

الأستاذ أبو سهل محمد بن سليمان التوكل ← و، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1282

شعب الإيمان · الثالث عشر من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب التوكل بالله عز و جل و التسليم لأمره تعالى في كل شيء ـ · حديث 1283

1283 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت فارس بن عيسى الصوفي ـ و كان من المتحققين بعلوم أهل الحقائق ـ يقول سمعت الجنيد بن محمد يقول : الفقراء ثلاثة : فقير لا يسأل و إن أعطي لم يأخذ فذاك من الروحانيين و فقير لا يسأل و إن أعطي أخذ فذلك من المقربين و فقير يسأل و كفارة مسألته صدقة قال فارس : شرط الطلب أن يكون الطالب غير معتقد أولا أن لا سبب للطلب و لا مميز و لا قاصد إلى زيد دون عمرو و لا إلى عمرو دون زيد بل يعتقد أن الله هو الرزاق و يطلب الرزق من حيث أمر فيكون الله المعطي و العبد سببا و الله المسيب و هو قول النبي صلى الله عليه و سلم : لو توكلتم على الله حق توكله الحديث لما أثبته النبي صلى الله عليه و سلم متوكلا لم يخل مع توكل من الحركات مع عدم المطالب و القاصد في حركاته كان المتحرك بالوصف الذي قدمنا ذكره متوكلا مع وجود الحركة منه كالطير مع وجود الحركة فيه بتصحيح النبي صلى الله عليه و سلم التوكل له و لم يمنعه من الحركة على معنى وصفه قال البيهقي رحمه الله : فمن ذهب إلى هذا فتكسب بإذن الله تعالى في ذلك و شكر الله تعالى على أنه جعله سببا لمعاشه و أنه هداه له و أعانه عليه و نفعه به ثم من زهد منهم في الدنيا و رغب في الآخرة اكتفى بأقل ما يكون قوتا و تصدق بالباقي كما كان القراء من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يصنعونه أو اقتصر على اكتساب أقل ما يكون قوتا ثم اشتغل بعد ذلك في العبادة و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا رفارس بن عیسٰی سے اور وہ اہل حقائق کے علوم کا ادعاء رکھتے تھے ۔ اس نے سنا جنید صوفی بن محمد سے وہ کہتے تھے ۔ فقیر تین قسم کے ہیں: ۔(1) ایک فقیر وہ ہے جو سوال نہ کرے اور اگر اسے بن مانگے دیا جائے تو نہ لے انکار کر دے۔ ایسا فقیر تو فرشتوں میں سے ہے ۔ (2) وہ فقیر جو سوال نہ کرے اور اس کو بن مانگے ملے تو وہ لے لے ، یہ مقربین میں سے ہے ۔ (3) وہ فقیر جو سوال کرے اور اس کے سوال کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔ فارس کہتے ہیں کہ ۔ طلب کی شرط یہ ہے کہ شروع میں طالب غیر معتقد ہو یہ کہ طلب کے لئے کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تمیز کرنے والا اور نہ ہی کوئی قصد کرنے والا زید کی طرف نہ کہ عمر کی طرف اور نہ ہی عمرو کی طرف سوائے زید کے بلکہ یہ اعتقاد رکھے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے وہ رزق طلب کرتا ہے جہاں سے امر کرتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ عطا کنندہ ہو گا اور بندہ سبب ہوگا اور اللہ تعالیٰ مسبب ہو گا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو دیتا ہے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے (اس شخص کو جو توکل کرنے کے ساتھ پرندوں کی طرح کوشش بھی کرے ) متوکل ثابت کیا ہے ، اور توکل کے ہوتے ہوئے تحصیل رزق کی تک و دو اور کوشش توکل میں خلل نہیں ڈالتی باوجود عدم مطالب کے ، اور اپنی کوششوں میں سے ارادہ کرنے والا ، تو مذکورہ صورت کے ساتھ کوشش اور سعی کے باوجود تو کل کرنے والا ہوگا۔ پرندے کی طرح کہ کوشش وہ بھی کرتا ہے مگر اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کے توکل کو صحیح قرار دیتے ہوئے اس کی تمثیل دی ہے اور انسان کو پرندے کی تعریف کرتے ہوئے کوشش سے منع نہیں فرمایا۔

الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← فارس بن عيسى الصوفي و كان من المتحققين بعلوم أهل الحقائق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirteenth of the people of faith › And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything · Hadith 1283

chevron_left Previous
1…91011…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood