Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1150

1149 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني سعيد بن أسد ثنا ضمرة عن ابن شوذب قال : قال محمد بن واسع : يكفي من الدعاء مع الورع اليسير كما يكفي القدر من الملح

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ۔ ان کو سعید بن اسد نے ان کو حمزہ نے ان کو ابن شوذب نے ۔ کہتے ہیں کہ محمد بن واسع نے کہا۔تقویٰ کے ساتھ تھوڑی سی دعا کافی ہے جیسے ہانڈی کو تھوڑا سا نمک کافی ہوتا ہے ۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Hadith 1150

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1151

1150 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن عمرو بن ميمون عن طاوس قال : يكفي الصدق من الدعاء كما يكفي الطعام من الملح

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ہے عمرو بن میمون سے انہوں نے طاؤس سے وہ کہتے ہیں ۔ سچائی دعا میں کفایت کرتی ہے جیسے نمک طعام میں کفایت کرتا ہے ۔

يكفي الصدق من الدعاء كما يكفي الطعام من الملح ← طَاوْسٍ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Hadith 1151

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1152

1151 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت عبد الله بن محمد الدمشقي يقول : سمعت أبا بكر الشبلي يقول : في قوله عز و جل : { ادعوني أستجب لكم } قال : أدعوني بلا غفلة أستجب لكم بلا مهلة

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ محمد دمشقی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر شبلی سے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : " ادعونی اسجب لکم (غافر60) اس کا مطلب ہے : "ادعونی بلا غفلۃ استجت لکم بلا مھلۃ"۔ کہ مجھے بلا غفلت کے پکارو میں بلاتاخیر تمہارے لئے قبولیت کروں گا۔

«ادْعُونِي بِلَا غَفْلَةٍ أَسْتَجِبْ لَكُمْ بِلَا مُهْلَةٍ» ← في قوله عز و جل ادعوني أستجب لكم ← أَبَا بَكْرٍ الشِّبْلِيَّ، ← عبد الله بن محمد الدمشقي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Hadith 1152

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1153

1152 - أخبرنا أبو حازم الحافظ قال : سمعت محمد بن إسماعيل العلوي يقول : سمعت محمد بن إسماعيل بن موسى يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : إلهي أسألك تذللا فأعطني تفضلا

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم حافظ نے وہ فرماتے ہیں میں نے سنا محمد بن اسماعیل علوی سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا محمد بن اسماعیل بن موسیٰ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے تھے ۔ الٰہی میں تجھ سے انتہائی عاجزی کے ساتھ سوال کرتا ہوں تو مجھے انتہائی فضل کے ساتھ عطا فرما۔

إلهي أسألك تذللا فأعطني تفضلا ← يحيى بن معاذ الرازي ← محمد بن إسماعيل بن موسى ← محمد بن إسماعيل العلوي ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Hadith 1153

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1154

1153 - و بإسناده قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : كيف امتنع بالذنب من الدعاء و لا أراك تمتنع بالذنب من العطاء

اپنی اسناد کے ساتھ (محمد بن اسماعیل بن موسیٰ) کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معاذ رازی سے سنا کہتے تھے کہ میں گناہ کی وجہ سے دعا سے کیسے رک جاؤں حالانکہ میں تجھے نہیں دیکھتا کہ تو گناہ کی وجہ سے عطا کرنے سے رک جائے۔

كيف امتنع بالذنب من الدعاء و لا أراك تمتنع بالذنب من العطاء ← يحيى بن معاذ الرازي ← و بإسناده

Hadith 1154

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1155

1154 - أخبرنا أبو حازم قال : سمعت أحمد بن الخليل الحافظ يقول : سمعت أحمد بن يعقوب المقرئ يقول : سمعت أبا العباس بن حكمويه يقول : سمعت أبا زكريا يحيى بن معاذ الرازي يقول : لا تستبطئن الإجابة إذا دعوت و قد سددت طرقها بالذنوب

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم نے انہوں نے سنا احمد بن خلیل حافظ سے انہوں نے سنا احمد بن یعقوب سے انہوں نے سنا ابو العباس بن حکمویہ سے انہوں نے سنا ابو زکریا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں کہ آپ دعا کی قبولیت میں تاخیر بالکل نہ سمجھئے جس وقت آپ دعا کرتے ہیں ، حالانکہ آپ نے خود گناہوں کے ساتھ اس کے راستے بند کر لئے ہیں۔

لا تستبطئن الإجابة إذا دعوت و قد سددت طرقها بالذنوب ← أبا زكريا يحيى بن معاذ الرازي ← أبا العباس بن حكمويه ← أحمد بن يعقوب المقرئ ← أحمد بن الخليل الحافظ ← أَبُو حَازِمٍ

Hadith 1155

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1156

1155 - و قد أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن الخليل هذا ثنا أحمد بن الحسن بن يعقوب : فذكره

تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد بن خلیل نے ان کو احمد بن حسن بن یعقوب نے پھر اسی حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

أحمد بن الحسن بن يعقوب فذكره ← أبو سعيد أحمد بن محمد بن الخليل هذا ← و قد

Hadith 1156

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1157

1156 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرئ قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان ثنا مالك بن دينار قال : بلغنا أن بني إسرائيل خرجوا إلى مخرج لهم فقيل لهم : يا بني إسرائيل تدعوني بألسنتكم و قلوبكم بعيدة عني باطل ما ترهبون

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے ان دونوں کو ابو العباس رحمۃاللہ علیہ نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو یسار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو مالک بن دینار نے وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل اپنی ایک پناہ گاہ کی طرف یا اپنے نکلنے کی جگہ کی طرف نکلے تو انہیں کہا گیا تھا ۔ اے بنی اسرائیل تم اپنی زبانوں کے ساتھ تو تم مجھے پکارتے ہو حالانکہ تمہارے دل مجھ سے دور ہیں ۔ لہذا تم جو راہب بنتے ہو یا ڈر ظاہر کرتے ہو وہ باطل ہے ۔

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Hadith 1157

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1158

1157 - و بهذا الإسناد ثنا مالك بن دينار قال : بلغني أن بني إسرائيل خرجوا مخرجا لهم فأوحى الله إليهم تخرجون إلى الصعيد و ترفعون إلي أكفا سفكتم بها الدماء و ملأتم بها بطونكم من الحرام الآن حين اشتد غضبي عليكم و لم تزدادوا مني إلا بعدا

اسی مذکورہ سند کے ساتھ ہمیں بات بیان کی مالک بن دینار نے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے مخرج اور راستے کی طرف نکلے جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف الہام کیا تھا کہ تم میدان خاص کی طرف نکل جاؤ ( اور دعا کے لئے ) میری طرف اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ ، جن ہاتھوں کے ساتھ تم نے خون بہایا تھا اور جن کے ساتھ تم نے اپنے پیٹوں کو حرام سے بھرا تھا ۔ اب جب کہ میرا غضب تمہارے اوپر شدید ہو گیا ہے تو تم مجھ سے آگے نہیں بڑھے مگر دوری میں ( یعنی دورتر ہی ہو گئے ہو۔)

مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← و بهذا الإسناد

Hadith 1158

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1159

1158 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا عبد الرحمن بن صالح ثنا الأشجعي عن أبي كدينة عن ليث قال : أوحى الله تعالى غلى نبي من أنبياء بني إسرائيل أن قومك يدعونني بألسنتهم وقلوبهم مني بعيدة رفعوا إلى أيديهم يسألونني الخير و قد ملأوا بها بيوتاتهم من السحت الآن حين اشتد غضبي عليهم ؟

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو عبدالرحمٰن بن صالح نے ان کو اشجعی نے ان کو ابو کدینہ نے ان کو لیث نے وہ فرماتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء بنی اسرائیل میں سے کسی ایک نبی کی طرف وحی کی تھی کہ تیری قوم کے لوگ اپنی زبانوں سے مجھے پکارتے ہیں حالانکہ ان کے دل مجھ سے دور ہیں ، انہوں نے میری طرف اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں مجھ سے خیر مانگ رہے ہیں حالانکہ انہوں نے اپنے گھروں کو مال حرام سے بھر رکھا ہے ۔ اور اب جب کہ میرا غضب ان پر شدید ہو چکا ہے ( یعنی اب وہ مجھ سے دعا کرتے ہیں۔)

لَيْثٌ، ← أَبِي كُدَيْنَةَ ← الْأَشْجَعِيُّ ← عبد الرحمن بن صالح ← عبد الله بن محمد القرشي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 1159

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1160

1159 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا علي بن محمد المصري ثنا سليمان بن شعيب ثنا أسد بن موسى ثنا الفضيل بن مرزوق عن عدي بن ثابت عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أيها الناس إن الله عز و جل طيب لا يقبل إلا طيبا و إن الله عز و جل أمر المؤمنين بما به المرسلين فقال : { يا أيها الرسل كلوا من الطيبات } و قال : { يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم } ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يده إلى السماء يا رب ! يا رب ! و مطعمه حرام و مشربه حرام و ملبسه حرام و غذي بالحرام فأنى يستجاب له أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن فضيل بن مرزوق

ہمیں خبر دی ہے ابولحسین بن بشران نے ان کو علی بن محمد مصری نے ان کو سلیمان بن اشعب نے ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو فضیل بن مرزوق نے ان کو عدی بن ثابت نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " یا ایھاالناس ان اللہ عزوجل طیب لا یقبل الا طیبا ، ان اللہ عزوجل امر المؤمنین بما امربہ المرسلین فقال(یا ایھا الرسل کلوا من الطیبت") (المؤمنون 51)" وقال یا ایھالذین امنواکلو امن طیبات مارزقنا کم" (البقرہ 172)اے لوگو بے شک اللہ عزوجل پاک ہے وہ پاک شئی کے سوا قبول نہیں کرتا ، اور بے شک اللہ عزوجل نے اہل ایمان کو بھی وہی حکم دیا ہے جس کا حکم رسولوں کو دیا ہے ۔ اور فرمایا کہ اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔ اور ارشاد فرمایا کہ اے اہل ایمان ہم نے تمہیں پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آدمی کا ذکر فرمایا۔ جو لمبا سفر کرتا ہے ۔ "اشعت اغیر یمدیدہ الی السماء یارب یارب ومطعمہ حرام و مشربہ حرام ، وملبسہ حرام ، وغذی بالحرام فانی یستجاب لہ"۔ بسا اوقات انسان بکھرے ہوئے بالوں والا غبار الود چہرے والا آسمان کی طرف پریشان حال ہاتھ اٹھاتا ہے اے میرے رب اے میرے رب کہہ کر پکارتا ہے ۔ حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہوتا ہے ۔ اس کا پینا حرام کا ہوتا ہے اور پہناوا اور لباس حرام سے ہوتا ہے (الغرض) پوری پرورش حرام کے ساتھ ہوتی ہے ، پھر کہا سے قبولیت ہو گی اس کے لئے۔ اس کو امام مسلم نے صحیح میں ایک اور طریقہ سے فضیل بن مرزوق سے روایت کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ ← علي بن محمد المصري، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 1160

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1161

1160 - حدثنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو حامد بن الشرقي حدثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي ثنا إبراهيم بن سليمان الزيات ثنا سفيان الثوري عن فضيل بن مرزوق : فذكر بإسناده غير أنه لم يقل في أوله يا أيها الناس

ہمیں حدیث بیان کی ہے سید ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو حامد بن سرقی نے ان کو علی بن حسن بن ابو عیسیٰ ہلالی نے ان کو ابراہیم بن سلیمان زیات نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو فضیل بن مرزوق نے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے ۔ سوائےاس کے اس نے اس کے شروع میں یاایھاالناس نہیں کہا۔

فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الزَّيَّاتُ، ← علي بن الحسن بن أبي عيسى الهلالي ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي

Hadith 1161

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood