Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3888

3888 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي نا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا ابن علية عن إسحاق بن سويد قال : تعبد عبد الله بن مطرف فقال له مطرف يا عبد الله العلم أفضل من العمل و الحسنة بين السيئتين و خير الأمور أوساطها و شر السير الحقحقة قال أبو عبيد أما قوله الحسنة بين السيئتين كأنه أراد أن الغلو في العمل سيئة و التقصير عنه سيئة و الحسنة بينهما و هو القصد كما جاء في الحديث الآخر في فضل قارىء القرآن غير الغالي فيه و لا الجافي عنه فالغلو فيه التعمق و الجفا عنه التقصير و كلاهما سيئة قال أبو عبيد و نا عبد الله بن المبارك عن الجريري عن أبي العلاء قال تميم الداري خذ من ذنبك لنفسك و من نفسك لدينك حتى يستقيم بك الأمر على عبادة تطيقها قال أبو عبيد : و كان إسماعيل بن علية يحدثه عن الجريري عن رجل عن تميم و لا يذكر أبا العلاء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابن علیہ نے ان کو اسحٰق بن سوید نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مطرف نے عبادت کی۔ لہذا مطرف نے اس سے کہا اے عبداللہ علم افضل ہے عمل سے۔ اور نیکی دو برائیوں کے درمیان دائر ہے۔ اور خیر الامور درمیانے امر ہیں اور بدترین سیرت شدت و انتہا پسندی ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ سرکار کا یہ کہنا کہ نیکی دو بدیوں کےدرمیان ہے گویا کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ عمل میں غلو اور زیادتی کرنا برائی اور گناہ ہے ۔ اور اسی طرح اس مین کوتاہی کرنا مقررہ حد سے کمی کرنا بھی غلطی اور گناہ ۔ اور نیکی غلو اور تقصیر کی درمیان کیفیت کا نام ہے اور وہ ہے میانہ روی ۔ جیسے ایک دوسری حدیث میں آیا ہے قرآن پڑھنے والے کی فضیلت کے بارے میں کہ وہ نہ اس میں خالی ہو نا جافی ہو نہ غلو کرے نہ کوتاہی کرے۔ اس میں غلو سے گہرائی میں اترنا ہے۔ اور اس سے جفا تقصیر و کوتاہی کرنا ہے اور یہ دونوں کا م سیئہ اور غلطی ہیں۔ ابو عبید نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن مبارک نے ان کو جریری نے ان کو ابو العلاء نے کہ تمیم داری نے کہا اپنے گناہ سے اپنے نفس کے لئے بولے لیں اور اپنے نفس سے کچھ اپنے دین کے لئے۔ یہاں تک تیرا معاملہ درست اور سیدھا ہو جائے گا ایسی عبادت پر جس کی آپ کو طاقت ہو گی۔ ابو عبید نے کہا اسماعیل بن علیہ اس کو بیان کرتے تھے جریری سے وہ ایک آدمی سے وہ تمیم داری سے اس نے ابو العلاء کا ذکر نہیں کیا ہے۔

إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3888

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3889

3889 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أحمد بن الهيثم نا هارون بن معروف نا ابن الدراوردي عن موسى بن عقبة عن حرب بن قيس عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يحب أن تؤتى عزائمه كذا قال عن موسى بن عقبة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن ہثیم نے ان کو ہارون بن معروف نے ان کو ابن دراوردی نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو حرب بن قیس نے ان کو ابن عمر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ عزوجل پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتیں بھی ادا کی جائیں (یعنی رخصت پر رخصت ہی کی جائے) جیسے وہ یہ پسند کرتے ہیں کہ ا س کی عزیمتیں اداء کی جائیں (جیسے احکام اد کئے جائیں )۔ اسی طرح کہا ہے موسیٰ بن عقبہ سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3889

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3890

3890 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي معروف الفقيه أنا أبو سهل الاسفرايني أنا أحمد بن الحسين الحذاء نا علي بن المديني نا عبد العزيز بن محمد عن عمارة بن غزيه عن حرب بن قيس عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما لا يحب أن تؤتى معصيته

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن ابو معروف فقیہ نے ان کو ابو سہل اسفرائنی نے ان کو احمد بن حسین حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو عمارۃ بن عزیہ نے ان کو حرب بن قیس نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں بروئے کار لائی جائیں جیسے وہ یہ نہیں پسند کرتے کہ اس کی نا فرمانی کی جائے فصل ۔۔۔۔ ایام تشریق میں روزہ کی ممانعت جو شخص روزے کو چلانے میں حرج نہیں سمجھتا جب وہ اپنے نفس پر نہ خوف کرے کمزوری کا۔ اور روزہ نہ رکھے ان ایام میں جن کے روزے سے منع کیا گیا ہے ۔ اور وہ یوم فطر اور یوم اضحیٰ ۔ اور تین دن ایام تشریق کے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَذَّاءُ ← أبو سهل الاسفرايني ← أبو الحسن محمد بن أبي معروف الفقيه

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3890

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3891

3891 - أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمد بن رجاء الأديب نا يحيى بن منصور القاضي إملاء أنا أبو عبد الله محمد بن أيوب أخبرني أبو الوليد عن الضحاك بن يسار اليشكري نا أبو تميمة الهجيمي عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من صام الدهر ضيقت عليه جهنم و قبض أصابعه كلها قال الإمام أحمد رحمه الله : و رواه قتادة عن أبي تميمة عن أبي موسى موقوفا عليه و قوله ضيقت عليه جهنم معناه ضيقت عنه جهنم حتى لا يدخلها و الله أعلم قال المزنى رحمه الله

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن احمد بن محمد بن رجاء ادیب نے ان کو عیسیٰ بن منصور قاضی نے بطور املاء کے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ایوب نے ان کو خبر دی ہے ابو الولید نے ان کو ضحاک بن یسار یشکری نے ان کو ابو تمیمہ ہجیمی نے ان کو ابو موسیٰ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سال بھر کا روزہ رکھے اس پر جہنم تنگ ہو جائے گی اور اس کی تمام انگلیاں قبض ہو جائیں گی۔ امام احمد نے فرمایا : اس کو روایت کیا ہے قتادہ نے ابو تمیمہ سے اس نے ابو موسیٰ سے بطور موقوف روایت کے اور یہ قول کہ اس پر جہنم تنگ ہو جائے گی۔ کا مطلب ہے کہ اس سے جہنم تنگ ہو جائے گی حتیٰ کہ وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ واللہ اعلم مزنی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، ← الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ الْيَشْكُّرِىِّ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو عبد الله محمد بن أيوب ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو بكر محمد بن أحمد بن محمد بن رجاء الأديب

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3891

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3892

3892 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير عن ابن معانق أو أبي معانق عن أبي مالك الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن في الجنة غرفة يرى ظاهرها من باطنها و باطنها من ظاهرها أعدها الله لمن الان الكلام و أطعم و تابع الصيام و صلى بالليل و الناس نيام

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو ابن معانق نے یا ابو معانق نے ان کو ابو مالک اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک جنت میں ایک بالا خانہ ہے جس کا اندر باہر سے اور باہر اندر سے نظر آتا ہے۔ اللہ نے اس کو اس انسان کے لئے تیار کیا ہے جو بات نرم کرے، کھانا کھلائے۔ لگاتار روزے رکھے ۔ راتوں کو نماز پڑھے جب لوگ سو رہے ہوں۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← ابْنِ مُعَانِقٍ، أَوْ أَبِي معانق، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3892

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3893

3893 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان نا مهدي بن ميمون نا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب عن رجاء بن حيوة عن أبي أمامة قال : قلت يا رسول الله مرني بعمل آخذه عنك ينفعني الله به قال : عليك بالصوم فإنه لا مثل له قال فكان أبو أمامة و امرأته و خادمه لا يلقون إلا صياما فإذا رأوا نارا أو دخانا في منزلهم عرفوا أنهم قد اعتراهم ضيف

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو اسحاق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو محمد بن عبداللہ بن ابو یعقوب نے ان کو رجاء بن حیوۃ نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسے کام کا حکم دیجئے جو میں آپ سے سیکھ لوں جس کے ساتھ اللہ مجھے نفع دے۔ آپ نے فرمایا روزے کو لازم پکڑ لو بے شک اس کے مثل کوئی شئی نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ تھا ابو امامہ اور اس کی بیوی اور اس کا خادم ہر وقت روزے سے ملتے تھے۔ جب ان کے گھر میں آگ یا دھواں نظر آ جاتا تو لوگ سمجھ لیتے کہ آ ج ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3893

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3894

3894 - أخبرنا أبو الحسين المقري أنا الحسين بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أحمد بن عيسى نا ابن وهب نا عمرو بن الحارث عن سعيد عن خديج بن صوفي أنه سمع الزر بن حمام يقول : أخبرني رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : جلسنا يوما في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا لفتى فينا اذهب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسله ما يعدل الجهاد ؟ فأتاه فسأله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا شيء ثم أرسلناه الثانية فقال مثلها ثم قلنا انها من رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاث فإن قال لا شيء فقل ما تقرب منه فأتاه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا شيء فقال : ما يقرب منه يا رسول الله قال : طيب الكلام و إدامة الصيام و الحج كل عام و لا يقرب منه شيء بعد و روينا عن عمر و ابن عمر و أبي طلحة و عائشة رضي الله عنهم في سرد الصيام و رويناه عن سعيد بن المسيب

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے انکو احمد بن عیسیٰ نے ان کو ابن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو سعید نے ان کو خدیج بن صوفی نے کہ انہوں نے سنا تھا ابن حمام سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ایک آدمی نے اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک دن ہم لوگ مسجد رسول میں بیٹھے ہوئے تھے ایک نوجوان سے ہم نے کہا کہ جو ہمارے ساتھ بیٹھے تھے تم جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر یہ پوچھو کہ جہاد کے برابر کیا چیز ہے؟ وہ نوجوان حضور کے پاس گیا اور ان سے اس نے پوچھا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ کوئی بھی چیز اس کے برابر نہیں ہے۔ پھر ہم نے اس کو دوسری بار بھیجا پھر بھی آپ نے اسی طرح کا جواب دیا۔ پھر ہم لوگوں نے کہا کہ اب رسول اللہ ے تین بار جواب ہو جائے گا۔ آپ اگر فرمائیں گے کہ جہاد کے برابر کوئی شئی نہیں ہے تو پوچھو کہ اس سے قریب قریب کیا چیز ہے؟ پھر وہ گیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیا تو اس نے پوچھا اس کے قریب کیا چیز ہے؟ اے اللہ کے رسول ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پاکیزہ بات کرنا' روزہ ہمیشہ رکھنا' ہر سال حج کرنا اس کے بعد کوئی شئی ا س کے قریب نہیں ہے۔ اور ہم نے روایت کی ہے عمر سے اور ابن عمر سے اور ابو طلحہ سے اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روزے کو چلانے کے بارے میں اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے سعید بن مسیب سے۔

خديج بن صوفي ← سَعِيدٌ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسين بن محمد بن إسحاق، ← أبو الحسين المقري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3894

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3895

3895 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل نا جدي نا عبدة بن سليمان قال : سمعت رجلا سأل ابن المبارك : عن رجل الذي يصوم يوما و يفطر يوما قال : يضيع نصف عمره أولا يصومها فيضيعها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ان کو خبر دی ہے اسماعیل بن محمد فضل نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عبیدہ بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اس نے پوچھا ابن مبارک سے اس آدمی کے بارے میں جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے۔ انہوں نے کہا وہ نصف عمر ضائع کر تا ہے ۔ کیا اس نصف کا روزہ نہیں رکھے گا تو ضائع نہیں کرے گا؟

يضيع نصف عمره أولا يصومها فيضيعها ← رجل الذي يصوم يوما و يفطر يوما ← رجلا سأل ابن المبارك ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3895

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3896

3896 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا روح بن عبادة نا حبيب بن الشهيد عن ابن أبي ملكية قال : كان ابن الزبير يواصل سبعة أيام ثم يصبح اليوم الثامن و هو الثنيا يعني أقوانا و هذا يكون محمولا على أنه لم يسمع النهي عن الوصال أو سمعه فحمله على أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما نهى عنه إبقاء على أصحابه لا على التحريم كما نهى عن صوم الدهر كذلك لا على التحريم و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو حبیب بن شہید نے ان کو بن ابی ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر مسلسل سات دن روزے رکھتے تھے پھر آٹھوا دں دن ہوتا تو وہ دہرے ہوتے تھے یعنی ہم سب سے زیادہ قوی ہوتے تھے۔ مسلسل روزے سے نہی کے باوجود عبداللہ بن زبیر کا یہ عمل اس توجیہ پر محمول ہو گا کہ اس نے صوم و صال کی نہی رسول اللہ سے نہیں سنی ہو گی یا سنی تو ہو گی مگر اس نے اس کو محمول کیا ہو گا اس بات پر کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا تھا اس کو اپنی امت پر باقی رکھنے کےلئے تحریم کرنے کے لئے نہیں۔ جیسے منع کیا تھا صوم الدھر سے اسی طرح منع ہے تحریم کے لئے نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

ابن أبي ملكية ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3896

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 3897

3897 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الزعفراني نا عبيدة بن حميد نا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يواصل من السحر إلى السحر ففعل ذلك بعض أصحابه فنهاه فقال : أنت يا رسول الله تفعل ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم لستم مثلي إني أظل عند ربي يطعمني و يسقيني فأكلفوا من الأعمال ما يطيقونه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو عبیدہ بن حمید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاتے تھے سحر سے سحر تک لہٰذا آپ کے بعض اصحاب نے بھی آپ کو دیکھ کر ایسے ہی کیا تو آپ نے اس کو منع کر دیا اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ تو اس پر عمل کرتے ہیں؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم میرے جیسے نہیں ہو میں ہوتا ہوں اپنے رب کے پاس وہ مجھے کھلاتا ہے پلاتا ہے لہٰذا اعمال کی اتنی تکلیف کرو جس کی تم طاقت رکھو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عبيدة بن حميد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Season · Hadith 3897

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3898

3898 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز نا أبو عمرو بن السماك نا محمد بن عبدك الفرار نا عبد الله بن بكر السهمي نا هشام بن حسان عن حفصة بنت سيرين عن امرأة يقال لها الرباب من بني ضبة عن سلمان بن عامر الضبي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فعلى ماء فإن الماء طهور

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤد رزاز نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو محمد بن عبدک فرار نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حفصہ بنت سیرین نے ایک خاتون سے جسے رباب کہا جاتا تھا ۔ بنی ضبہ میں سے تھی ان کو سلمان بن عمار ضبی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی افطار کرے تو اسے چاہیے کہ کھجور کے ساتھ افطار کرے اگر وہ کھجور نہ پائے تو پھر پانی کے ساتھ بےشک پانی پاک ہے۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا الرَّبَابُ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ، ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← محمد بن عبدك الفرار ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3898

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3899

3899 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا محمد بن جعفر البغدادي نا القاسم بن غضن نا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قال : ما رأيت النبي صلى الله عليه و سلم صلى المغرب و هو صائم حتى يفطر و لو على شربة من ماء

ہمیں حدیث بیان کی ہے بو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو محمد بن جعفر بغدادی نے ان کو قاسم بن غضن نے ان کو سعید بن ابی عروبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا رسول اللہ نے روزے سے ہونے کی حالت میں مغرب کی نما ز پڑھائی ہو بلکہ نماز سے پہلے روزہ افطار کر لیتے تھے اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← القاسم بن غضن ← محمد بن جعفر البغدادي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3899

chevron_left Previous
1…9899100…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood