شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3888
3888 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي نا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا ابن علية عن إسحاق بن سويد قال : تعبد عبد الله بن مطرف فقال له مطرف يا عبد الله العلم أفضل من العمل و الحسنة بين السيئتين و خير الأمور أوساطها و شر السير الحقحقة قال أبو عبيد أما قوله الحسنة بين السيئتين كأنه أراد أن الغلو في العمل سيئة و التقصير عنه سيئة و الحسنة بينهما و هو القصد كما جاء في الحديث الآخر في فضل قارىء القرآن غير الغالي فيه و لا الجافي عنه فالغلو فيه التعمق و الجفا عنه التقصير و كلاهما سيئة قال أبو عبيد و نا عبد الله بن المبارك عن الجريري عن أبي العلاء قال تميم الداري خذ من ذنبك لنفسك و من نفسك لدينك حتى يستقيم بك الأمر على عبادة تطيقها قال أبو عبيد : و كان إسماعيل بن علية يحدثه عن الجريري عن رجل عن تميم و لا يذكر أبا العلاء
ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو ابن علیہ نے ان کو اسحٰق بن سوید نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مطرف نے عبادت کی۔ لہذا مطرف نے اس سے کہا اے عبداللہ علم افضل ہے عمل سے۔ اور نیکی دو برائیوں کے درمیان دائر ہے۔ اور خیر الامور درمیانے امر ہیں اور بدترین سیرت شدت و انتہا پسندی ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ سرکار کا یہ کہنا کہ نیکی دو بدیوں کےدرمیان ہے گویا کہ انہوں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ عمل میں غلو اور زیادتی کرنا برائی اور گناہ ہے ۔ اور اسی طرح اس مین کوتاہی کرنا مقررہ حد سے کمی کرنا بھی غلطی اور گناہ ۔ اور نیکی غلو اور تقصیر کی درمیان کیفیت کا نام ہے اور وہ ہے میانہ روی ۔ جیسے ایک دوسری حدیث میں آیا ہے قرآن پڑھنے والے کی فضیلت کے بارے میں کہ وہ نہ اس میں خالی ہو نا جافی ہو نہ غلو کرے نہ کوتاہی کرے۔ اس میں غلو سے گہرائی میں اترنا ہے۔ اور اس سے جفا تقصیر و کوتاہی کرنا ہے اور یہ دونوں کا م سیئہ اور غلطی ہیں۔ ابو عبید نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن مبارک نے ان کو جریری نے ان کو ابو العلاء نے کہ تمیم داری نے کہا اپنے گناہ سے اپنے نفس کے لئے بولے لیں اور اپنے نفس سے کچھ اپنے دین کے لئے۔ یہاں تک تیرا معاملہ درست اور سیدھا ہو جائے گا ایسی عبادت پر جس کی آپ کو طاقت ہو گی۔ ابو عبید نے کہا اسماعیل بن علیہ اس کو بیان کرتے تھے جریری سے وہ ایک آدمی سے وہ تمیم داری سے اس نے ابو العلاء کا ذکر نہیں کیا ہے۔
إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3888
