Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الصوم في سبيل الله · حديث 3876

3876 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل العنبري نا محمد بن رمح أنا الليث عن يزيد بن الهاد عن سهيل بن أبي صالح عن النعمان بن أبي عياش عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد صام يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم وجهه عن النار سبعين خريفا رواه مسلم عن محمد بن رمح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو النضر فقیہ نے ان کو اسحٰق ابراہیم بن اسماعیل عنبری نے ان کو محمد بن اصم نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن ھاد نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو نعمان بن ابو عیاش نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو بھی بندہ ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھے اللہ اس ایک دن کے سبب اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت دور کر دیں گے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن اصم سے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل العنبري ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting for the sake of God · Hadith 3876

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3877

3877 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أخبرني علي بن محمد بن عيسى نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني سعيد بن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أني أقول لأصومن النهار و لأقومن الليل ما عشت فقلت له قد قلت بأبي و أمي قال فإنك لا تستطيع ذلك فصم و أفطر و صل و نم و صم من الشهر ثلاثة أيام فإن الحسنة بعشر أمثالها و ذلك مثل صيام الدهر قال : فقلت إني أطيق أفضل من ذلك قال فصم يوما و أفطر يوما و ذلك صيام داود و هو أعدل الصيام قال فقلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أفضل من ذلك رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو خبر دی علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے ان کو زہری نے ان کو سعید بن مسیب نے اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے یہ کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے کہا خبر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ضرور روزہ رکھوں گا اور راتوں کا قیام بھی ضرور کروں گا چنانچہ میں نے اس سے کہا تحقیق آپ نے کہا ہے ، میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بے شک آپ اس کی استطاعت نہیں رکھیں گے کبھی روزہ رکھئے اور کبی چھوڑ دیجئے ۔ اور نماز بھی پڑھئے اور نیند بھی کیجئے ۔ اور مہینے میں تین دن روزہ رکھئے بے شک دس گنا ہوتی ہے یہی مثال سال بھر کے روزے کی ہے ۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن نہ رکھ اور یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا یہ سب سے زیادہ اعتدال والا روزہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا مجھے اس سے افضل کی طاقت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ اس سے کوئی افضل نہیں ہے ۔اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے ابو الیمان سے ۔

سعيد بن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3877

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3878

3878 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي الحافظ ببغداد نا أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري أخو أبي عمرو بن حمدان نا الحسين بن محمد نا حامد بن عمر الثقفي نا أبو عوانة عن حصين عن مجاهد أن عبد الله بن عمرو حدثه قال : كنت مجتهدا في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا رجل شاب فزوجني أبي امرأة من المسلمين فجاء يوما يزورنا فقال كيف تجدين بعلك ؟ قالت نعم الرجل لا ينام الليل و لا يفطر قال فوقع بي أبي و قال زوجتك امرأة من المسلمين فعضلت و فعلت قال : فجعلت لا التفت إلى قوله مما أجد من القوة إلى أن ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لكني أنام و أصلي و أصوم و أفطر فصم من كل شهر ثلاثة أيام قال : قلت إني أقوى من ذلك فلم يزل حتى قال : فصم صوم داود صم يوما و أفطر يوما و اقرأ القرآن في كل شهر قال : قلت إني أقوى أكثر من ذلك قال : إلى أن قال : خمسة عشر قال : قلت إني أقوى من ذلك قال اقرأه في كل سبع حتى انتهى إلى ثلاث قال : قلت ثلاث قال : فقال : إن لكل عمل شرة و لكل شرة فترة فمن كانت فترة إلى سنتي فقد اهتدى و من كانت إلى غير ذلك فقد هلك فسمعته و هو يقول قد كبرت و ضعفت و لا أستطيع أن أدع ما انتهيت إليه

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد بن غالب خوارزمی حافظ نے بغداد میں ان کو ابو العباس محمد بن احمد نیشا پوری نے ابوعمر بن حمدان کے بھائی نے ان کو حسین بن محمد ان کو حامد بن عمر ثقفی نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو حصین نے ان کو مجاہد نے یہ کہ عبید اللہ بن عمرو نے ان کو حدیث بیان کی ہے فرماتے ہیں کہ میں عہد رسول میں سخت کوشش اور مشقت کرتا تھا ۔ اور میں جوان آدمی تھا میرے باپ نے ایک مسلمان عورت کے ساتھ میری شادی کر دی ایک دن ہم سے ملنے آئے تو انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے خاوند کو کیسے پاتی ہو ؟ اس نے کہا کہ وہ بہت اچھے آدمی ہیں رات کو سوتے نہیں دن کو روزہ چھوڑتے نہیں ۔ کہتے ہیں کہ میرے والد مجھ پر ناراض ہوئے اور کہا کہ تیری بیوی ایک مسلمان عورت ہے ۔ تم نے اس کو لاتعلق چھوڑ رکھا ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں والد کی بات کی طرف توجہ نہیں دیتا تھا بوجہ اپنی جوانی کی طاقت کے حتیٰ کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے ذکر کیا تو حضور نے مجھ سے فرمایا میں نیند بھی کرتا ہوں اور میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ چھوڑ بھی دیتا ہوں لہذا تم ہر مینے تین روزہ رکھا کر و وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے اس سے زیزادہ کی طاقت ہے ۔ آپ بار بار مجھے کہتے رہے پھر فرمایا اچھا پھر تم داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھو ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو اور پورا مہینہ میں ایک قرآن مجید کی تلاوت کرو ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ان۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ دن میں ختم کر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تم ہر ہفتے ایک ختم کرو ۔ حتٰی کہ تین دن تک بات جا پہنچی ۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا بے شک ہر عمل کی ایک تیزی اور حد ہوتی ہے انتہا ہوتی ہے اور ہر حد کی ایک کمزوری اور فترہ اور رک جانا ہوتا ہے جس کی فترہ رک جانا اور کمزوری میری سنت کے مطابق ہے اس نے ہدایت پالی ہے اور جو شخص اس سے ہٹ کر ہے وہ ہلاک ہو گیا ہے میں نے ان کی بات سنی وہ فرما رہے تھے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور کمزور ہو گیا ہوں اور میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں چھوڑ دوں اس کو جہاں تک میں پہنچا تھا ۔

مُجَاهِدٍ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حامد بن عمر الثقفي ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري أخو أبي عمرو بن حمدان ← أبو بكر احمد بن محمد بن غالب الخوارزمي الحافظ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3878

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3879

3879 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز و أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري نا محمد بن عمرو بن البختري نا سعدان بن نصر البزار نا وكيع بن الجراح عن الأسود بن شيبان عن أبي نوفل بن أبي عقرب عن أبيه قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم عن الصوم قال : صم يوما من الشهر قال : قلت يا رسول الله إني أقوى فقال : إني أقوى إني أقوى قال : صم يومين من الشهر قلت : يا رسول الله زدني فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صم ثلاثة أيام من الشهر

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بن عمر دراز نے ان کو ابو عبداللہ حسین بن حسن غضائری نے ان کو محمد بن عمرو بن بختری نے ان کو سعدان بن نصر بزار نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو اسود بن شیبان نے ان کو ابو الفضل بن ابو عقرب نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا روزے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا ۔ مہینے میں ایک دن روزہ رکھو وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا مجھے بھی زیادہ کی طاقت ہے ۔ مجھے بی زیادہ کی طاقت ہے ۔ پھت فرمایا کہ دو دن روزہ رکھو مہینے میں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اور مجھے زیادہ کی اجازت دیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا مہینے میں تین دن روزہ رکھئے ۔

قُلْتُ ← صم يوما من الشهر ← الصوم ← سألت النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← سعدان بن نصر البزار ← محمد بن عمرو بن البختري، ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الغضائري ← أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز و ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3879

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3880

3880 - حدثنا أبو الحسن العلوي نا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا عبد الله بن هاشم نا وكيع بن الجراح نا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي سلمة عن أم سلمة قالت : كان أحب العمل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الدائم و إن قل

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو سفیان نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ام سلمہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل دائمی عمل تھا اگرچہ وہ کم بھی ہو

أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3880

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3881

3881 - أخبرنا أبو الحسين المقري نا الحسين بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا معن بن محمد عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : الدين يسر و لن يغالب الدين أحد إلا غلبه فسدودوا و قاربوا و ابشروا و استعينوا بالغدوة و الروحة و شيء من الدلجة كذا وجدته و أحسبه سقط عمر بن علي بن محمد بن أبي بكر و معن بن محمد رواه البخاري عن عبد السلام بن مظهر عن عمر بن علي

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو معن بن محمد نے ان کو سعید بن ابو سعید نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ کہ دین آسان ہے ۔ کوئی شخص دین پر غالب نہیں آئے گا۔ یا ہر گز دین پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرے گا مگر دین اس سے غالب رہے گا پس سیدھے اور صحیح چلو اورمیانہ روی اختیار کرو ، اور خوش رہو اور مدد طلب کرو (نیک اعمال کے لئے) صبح و شام کے ساتھ اور تھوڑا سا رات کے اندھیرے سے بھی۔ یا (کچھ حصہ رات کے آخری حصے سے بھی) ایسے پایا ہے میں نے اس کو اور میں گمان کرتا ہوں کہ ساقط ہو گیا ہے عمر بن علی بن محمد بن ابو بکر اور معن بن محمد ۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبدالسلام بن مطر سے اس نے عمر بن علی سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مَعْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسين بن محمد بن إسحاق، ← أبو الحسين المقري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3881

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3882

3882 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمر عثمان بن أحمد السماك نا الحسين بن أبي معشر نا وكيع بن الجراح عن عيينه بن عبد الرحمن بن جوشن عن أبيه عن بريدة الأسلمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم هديا قاصدا فإنه من شاد هذا الدين يغلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر عثمان بن احمد سماک نے ان کو حسین بن ابو معشر نے ان کو وکیع بن جراح نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن بن جوشق نے ان کو ان کے والد نے ان کو بریدہ اسلمی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: لازم پکڑو تم میانہ روی کی سیرت کو بے شک جو شخص شدت اختیار کرے گا اس دین پر وہ اس سے غالب آ جائے گا ۔ (یا آسان طرز زندگی اختیار کرو)۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ← أبو عمر عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3882

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3883

3883 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا عيينه بن عبد الرحمن عن أبيه عن بريدة قال : خرجت يوما أمشي فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فظننته يريد حاجة فعارضته حتى رآني فأرسل إلي فأتيته فأخذ بيدي فانطلقنا نمشي جميعا فإذا رجل بين أيدينا يصلي يكثر الركوع و السجود فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تراه مرائيا ؟ قلت الله و رسوله أعلم فأرسل يدي فقال عليكم هديا قاصدا فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو انس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو بریدہ نے وہ کہتے ہیں میں ایک پیدل چلتے ہوئے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا میں نے ان کے بارے میں گمان کیا کہ وہ کسی ضرورت کا ارادہ رکھتے ہیں لہٰذا میں ان کے سامنے آیا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا تو میں آپ کے پاس آ گیا آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم لوگ ساتھ ساتھ چلنے لگے پس یکا یک ہمارےسامنے ایک آدمی آگے نماز پڑھ رہا تھا جو کثرت کے ساتھ رکوع اور سجود کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ اس کو دیکھتے ہیں دیکھا وا کرنے والا؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضور نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے لازم پکڑو تم لوگ میانہ روی کی سیرت کو بے شک حقیقت ہے کہ جو شخص اس دین پر سختی سے کام لے گا دین اس پر غالب آ جائے گا۔

بُرَيْدَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3883

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3884

3884 - حدثنا عبد الله بن يوسف نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني أنا عبد الله بن صالح أبو صالح حدثني أبو شريح أنه سمع سهل بن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تشددوا على أنفسكم فإنما أهلك من كان قبلكم بتشديدهم على أنفسهم و ستجدون بقاياهم في الصوامع و الديارات

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو شریح نے انہوں نے سنا سہل بن ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نفسوں پر شدت اور سختی نہ کرو بے شک تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا ان کے اپنے نفسوں پر سختی کرنے کی وجہ سے عنقریب پاؤ گے تم ان کے بقایا لوگوں کو گرجا گھروں میں اور راہبوں کی کوٹھیوں میں۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3884

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3885

3885 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين علي بن محمد المصري نا عبد الله بن أبي مريم نا علي بن معبد نا عبيد الله بن عمرو عن محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن هذا الدين متين فأوغل فيه برفق و لا تكرهوا عباد الله إلى عباده فإن المنبت لا يقطع سفرا و لا يستبقي ظهرا و رواه أبو عقيل يحيى بن المتوكل عن محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر عن جابر و رواه أبو معاوية عن محمد بن سوقة عن محمد بن المنكدر عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و هو الصحيح و قيل غير ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین علی بن محمد بن مصری نے ان کو عبداللہ بن ابو مریم نے ان کو علی بن معبد نے ان کو عبدالہ بن عمرو نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا بے شک یہ دین مضبوط ہے۔ یا فراخی ہے اس میں داخل ہوئے نرمی کے ساتھ اور اللہ کے بندوں کو زبردستی نہ کرو مجبو رنہ کرو اس کے بندوں کی طرف بے شک کمزور بچہ نہیں طے کر سکتا سفر کو۔ اور نہیں سبقت کرتا پچھلے پاؤں چلنے سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو عقیل یحییٰ بن متوکل نے محمد بن سوقہ سے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے جابر سے اور اس کو روایت کیا ہےا بو معاویہ نے محمد بن سوقہ نسے اس نے محمد بن منکدر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً وہی صحیح ہے اور کہا گیا ہے سوائے اس کے۔

عَائِشَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أبو الحسين علي بن محمد المصري ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3885

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3886

3886 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى نا الفضل بن محمد الشعراني نا أبو صالح نا الليث عن ابن عجلان عن مولى لعمر بن عبد العزيز عن عبد الله بن عمرو بن العاص : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن هذا الدين متين فأوغل فيه برفق و لا تبغض إلى نفسك عبادة ربك فإن المنبت لا سفرا قطع و لا ظهرا أبقى فاعمل عمل امرىء تظن أن لن يموت أبدا و احذر حذرا تخشى أن تموت غدا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو ابو صالح نے ان کو لیث نے ان کو ابن عجلان نے ان کو مولیٰ عمر بن عبدالعزیز نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کہ بے شک یہ دین ٹھوس اور مضبوط ہے اس میں نرمی کے ساتھ داخل ہوئیے۔ اور اپنے رب کی عبادت کو اپنے نفس کی طر ف نا پسند نہ کیجئے۔ (بغض اور نا پسندیدگی نہ کیجئے) اس لئے کہ معذور نہیں طے کر تا سفر کو نہ ہی مدد کرنا باقی رکھتا ہے ۔ عمل کیجئے اس آدمی کے عمل کرنے کی طرح جو گمان کرے کہ تم کبھی نہیں مرو گے اور ڈرئیے ایسا ڈر نہ کہ آپ کو یہ خطرہ ہو کہ جیسے صبح آپ فوت ہو جائیں گے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← مولى لعمر بن عبد العزيز ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3886

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ القصد في العبادة · حديث 3887

3887 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا جعفر بن أحمد بن عاصم نا هشام بن عمار نا مروان نا الحكم بن أبي خالد عن زيد بن رفيع عن معبد الجهني عن بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العلم أفضل من العمل و خير الأعمال أوسطها و دين الله عز و جل بين القاسي و الغالي و الحسنة بين السيئتين لا ينالها إلا بالله و شر السير الحقحقة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو جعفر بن احمد بن عاصم نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو مروان نے ان کو حکم بن ابو خالد نے ان کو زید بن رفیع نے ان کو معبد جہنی نے ان کو بعض اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علم افضل ہے عمل سے اور اعمال میں بہتر عمل ان کا درمیانہ عمل ہے اور اللہ کا دین شدت و سختی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے درمیان ہے۔ (یعنی نہ تو شدت ہو نہ ہی دین میں غلو کیا جائے یعنی بلا وجہ کا مبالغہ) اور ایک نیکی دو برائیوں کے درمیان ہے۔ اس کو انسان نہیں پا سکتا مگر اللہ کی مہربانی کے ساتھ اور بدترین طریقہ شدت پسند ی ہے۔ (یا لالچ و حرص ہے)۔

بعض أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ← زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ← الحكم بن أبي خالد ← مَرْوَانَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جعفر بن أحمد بن عاصم ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Intention in worship · Hadith 3887

chevron_left Previous
1…979899…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood