Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3840

3840 - و عن الزهري حدثني أيضا عثمان بن محمد بن المغيرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من يوم طلعت شمسه فيه إلا يقول من استطاع أن يعمل في خير فليعمله فإني غير مكرر عليكم أبدا و ما من يوم إلا ينادي مناديان من السماء يقول أحدهما : يا طالب الخير ابشر و يقول الآخر : يا طالب الشر اقصر و يقول أحدهما : اللهم أعط منفقا مالا خلفا و يقول الآخر : اللهم أعط ممسكا مالا تلفا هذا منقطع و روينا بعضه موصولا

زہری سے مروی ہے ان کو بھی خبر دی ہے عثمان بن محمد بن مغیرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا دن نہیں ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے مگر وہ کہتا ہے جو شخص کسی چیز کے عمل کی استطاعت رکھتا ہے اسے وہ کر لینا چاہئے کیونکہ میں ہمیشہ تمہارے اوپر لوٹ کر نہیں آؤں گا اور ہر دن آسمان سے دو اعلان کرنے وال اعلان کرتے ہیں ۔ ایک کہتا ہے کہ اے خیر کے طالب خوش ہو جا اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ مال کو روک رکھنے والے کا انجام مال کو تلف کر دینا بنا دے ۔ یہ روایت منقطع ہے اور ہم نے اس کا بغض حصہ موصول روایت کیا ہے ۔

أيضا عثمان بن محمد بن المغيرة ← الزُّهْرِيِّ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3840

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3841

3841 - أخبرنا عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو جعفر محمد بن بسطام القومسي بقربة و إنه نا أبو جعفر أحمد بن محمد بن جابر حدثني أحمد بن عبد الكريم نا خالد الحمصي عن عثمان بن سعيد بن كثير عن محمد بن المهاجر عن الحكم بن عتبة عن إبراهيم قال : قال علي رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة النصف من شعبان قام فصلى أربعة عشرة ركعة ثم جلس بعد الفراغ فقرأ بأم القرآن أربع عشرة مرة و قل هو الله أحد أربع عشرة مرة و قل أعوذ برب الفلق أربع عشرة مرة و قل أعوذ برب الناس أربع عشرة مرة و آية الكرسي مرة { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } الآية فلما فرغ من صلاته سألته عما رأيت من صنعه قال : من صنع مثل الذي رأيت كان له عشرين حجة مبرورة و صيام عشرين سنة مقبولة فإن أصبح في ذلك اليوم صائما كان له كصيام سنتين سنة ماضية و سنة مستقبلة قال الإمام أحمد : يشبه أن يكون هذا الحديث موضوعا و هو منكر و في رواية مثل عثمان بن سعيد مجهولون و الله أعلم

ہمیں خبر دی عبدالخالق ابن مؤذن نے ان کو ابو جعفر محمد بن بسطام قومیسی نے بستی میں اور ہم لوگوں کو خبر دی ہے ابو جعفر احمد بن محمد بن جابر نے ان کو علی احمد بن عبدالکریم نے ان کو خالد خمصی نے ان کو عثمان بن سعید بن کثیر نے ان کو محمد بن مہاجر نے حکم بن عقبہ سے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا تھا شعبان کی پندرہویں شب میں ۔ آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے چودہ رکعتیں پڑھی تھیں فراغت کے بعد آپ بیٹھ گئے تھے اور انہوں نے چودہ مرتبہ فاتحہ پڑھی اور قل ھواللہ احد پڑھی چودہ مرتبہ اور قل اعوذ برب الفلق پڑھی چودہ مرتبہ اور قل اعوذ برب الناس چودہ مرتبہ اور آیت الکرسی ایک مرتبہ اور یہ آیت پڑھی ۔ لقد جا ء کم رسول من انفسکم ۔ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہو گئے تو میں نے جو کچھ دیکھا تھا اس کے بارے میں آپ سے پوچھا ۔ حضور نے فرمایا کہ جو شخص یہی عمل کرے جو میں نے کیا ہے اس کے لیے بیس حج مقبول کا ثواب ہو گا اور بیس سال مقبول روزوں کا اور اگر اس دن صبح روزہ رکھے تو اس کے لیے دو سال کے روز کا ثواب ہو گا ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ ۔ امام احمد نے کہا کہ زیادہ امکان ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہو اور وہ روایت منکر کی ہے اور ایک روایت میں ہےعثمان بن سعید کے جیسے مجہول ہیں ۔ واللہ اعلم ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الحكم بن عتبة ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، ← خالد الحمصي ← أَحْمد بن عبد الْكَرِيم ← أبو جعفر أحمد بن محمد بن جابر ← أبو جعفر محمد بن بسطام القومسي بقربة و إنه ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3841

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3842

3842 - أنبأني القاضي أبو بكر إجازة أنا محمد بن أحمد الهروي نا إبراهيم بن إسحاق الحربي نا عفان نا قيس نا الأغر عن خليفة بن حصين عن علي قال : كان أكثر ما دعا به رسول الله صلى الله عليه و سلم عشية عرفة : اللهم لك الحمد كالذي نقول و خير ما نقول اللهم لك صلاتي و نسكي و محياي و مماتي اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر و وسوسة الصدر اللهم إني أسألك من خير ما تجيء به الرياح و أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح

مجھے خبر دی ہے قاضی ابو بکر نے بطور اجازت کے ان کو خبر دی محمد بن احمد ہروی نے ان کو نصیر بن اسحٰق حربی نے ان کو عفان نے ان کو قیس نے ان کو اغرانے ان کو خلیفہ بن حصین نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ عرفہ کے شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی اکثر یہ دعا ہوتی تھی ۔ اے اللہ حمد تیرے لیے ہی ہے ۔ جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور ہم جو کہتے ہیں اس میں سے سب سے بہتر حمد تیرے لئے ہے ۔ اے اللہ تیرے لیے ہی ہے میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری مقت ۔ اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے اور سینوں کے وسوسوں سے ۔اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس چیز کا جس کو ہوا لاتی ہے اور میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جس کے ساتھ ہوا چلتی ہے ۔

عَلِيٍّ، ← خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْأَغَرِّ ← قَيْسٍ ← عَفَّانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← محمد بن أحمد الهروي ← القاضي أبو بكر إجازة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3842

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3843

3843 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا شعبة عن العباس الجريري عن أبي عثمان عن أبي هريرة قال : أوصاني خليلي صلى الله عليه و سلم بثلاث لا أدعهن حتى أموت : الوتر قبل النوم و صوم ثلاثة أيام من الشهر و من الضحى ركعتين أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے اب جو شعبہ نے ان کو عباس جریری نے ان کو ابو عثمان نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے چیزوں کی مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ان کو نہ چھوڑوں حتیٰ کہ میں مر جاؤں ۔ نیند سے پہلے وتر ہر مہینے تین دن کے روزے اور چاشت کی دو رکعتیں ۔ بخاری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہےصحیح میں حدیث شعبہ سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3843

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3844

3844 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو داود الطيالسي نا حماد بن زيد و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا سليمان بن حرب و مسدد قالا نا حماد بن زيد عن غيلان بن جرير عن عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة قال : إن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله كيف نصوم ؟ قال : فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأى ذلك عمر قال : رضينا بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله و من غضب رسول الله فلم يزل عمر يرددها حتى سكن من غضب النبي صلى الله عليه و سلم قال يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر أو كله قال : لا صام و لا أفطر قال مسدد أو لم يصم و لم يفطر شك غيلان قال يا رسول الله : فكيف بمن يصوم يومين و يفطر يوما ؟ قال أو يطيق ذلك أحد قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما و يفطر يومين ؟ قال : وددت أني أطقت ذلك قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما و يفطر يوما قال : ذلك صوم داود عليه السلام ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كل شهر و رمضان إلى رمضان فهذا صيام الدهر كله و صيام عرفة إني احتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله و السنة التي بعده و صوم عاشوراء إني احتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کوحماد بن زید نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داستہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور مسدد نے دونوں کو حماد بن زید نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو عبداللہ بن معبد زمانی نے ان کو ابو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ہم روزے کیسے رکھیں ؟ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ناراض ہو گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ کیفیت دیکھی تو کہنے لگے :رضینا باللہ ربا ،وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا نعوذ باللہ من غضب اللہ ومن غضب رسولہ "ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے اور اس کے رسول کے غضب سے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بار بار یہ الفاظ دہراتے رہے حتیٰ کہ نبی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو عرض کیا یا رسول اللہ جو زندگی بھر کا روزہ رکھے یا پورا سال رکھے وہ کیسا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی نہ رکھا ۔مسدد نے کہا کہ یا نہ روزہ رکھا ہے نہ ہی افطار کیا ہے یہ غیلان کو شک ہوا ہے پھر انہوں نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ کیساہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن رکھے؟حضور نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی توفیق ہو جائے پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کیسا ہے جو ایک دن رکھے اور دوسرے دن نہ رکھے آپ نے فرمایا کہ یہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ہر ماہ تین دن کے روزے اور رمضان آئندہ رمضان تک یہی سال بھر کا روزہ ہے اور عرفہ کا روزہ میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد والے کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورے کا روزہ میں امید کرتا ہوں کہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ بن جائے ۔

إن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و مسدد ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ و ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3844

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3845

3845 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا موسى بن إسماعيل نا مهدي نا غيلان عن عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة بهذا الحديث زاد : قال يا رسول الله أرأيت صوم الإثنين و الخميس ؟ قال فيه ولدت و فيه أنزل علي القرآن أخرجه مسلم في الصحيح من حديث حماد و مهدي بن ميمون

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو مہدی نے ان کو غیلان نے ان کو عبداللہ بن معبد زمانی نے ان کو ابو قتادہ نے اسی حدیث کے ساتھ کیا کہ اس نے کہا یا رسول اللہ آپ بتائیے پیر اور جمعرات کے روزے کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا اور اس دن مجھ پر قرآن نازل ہوا ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث حماد سے اور مہدی بن میمون سے ۔

أَبِي قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ ← مَهْدِيٌّ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3845

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3846

3846 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا ابن أبي مريم نا ابن لهيعة نا جعفر بن ربيعة عن أبي فراس أنه سمع عبد الله بن عمرو يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صام نوح الدهر إلا يوم الفطر و الأضحى و صام داود نصف الدهر و صام إبراهيم ثلاثة أيام من كل شهر صام الدهر و أفطر الدهر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو ابو مریم نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو جعفر بن ربیعہ نے ان کو ابن فراس نے کہ انہوں نے سنا عبداللہ بن عمر سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرماتے تھے نوح علیہ السلام نے سال بھر کا روزہ رکھا سوائے عیدالطفر اور عیدالاضحیٰ کے اور روزہ رکھا داؤد علیہ السلام نے آدھے سال کا اور روزہ رکھا ابراہیم علیہ السلام نے ہر ماہ تین روزے ۔ یوں سال بھر روزہ بھی رکھا اور سال بھر نہیں بھی رکھا ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي فِرَاسٍ أَنَّهُ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3846

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3847

3847 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان و أبو الحسين علي بن محمد السبعي قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا علي بن الحسن بن شقيق نا أبو حمزة السكري نا عاصم بن بهدله عن زر عن عبد الله بن مسعود قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم ثلاثا من غرة كل شهر و قل ما كان يفوته صوم يوم الجمعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عثمان سعید بن محمد بن عبدان نے اور ابو الحسن علی بن محمدسبعی نے سب نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو علی بن حسین بن شفیق نے ان کو ابو حمزہ سکری نے ان کو عاصم بن بہدلہ نے ان کو ذر نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ہر ماہ کے تیرہ ، چودہ ،پندرہ تاریخ کے روزے رکھتے اور جمعہ کا روزہ بہت کم کبھی فوت ہوتا تھا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3847

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3848

3848 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن قطر بن خليفة عن يحيى بن بسام عن موسى بن طلحة عن أبي ذر قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم بصيام ثلاثة أيام البيض ثلاث عشرة و أربع عشره و خمس عشره و رواه سعيد بن سليمان عن شريك قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من كل شهر ثلاثة أيام الاثنين من أول الشهر و الخميس الذي يليه ثم الخميس الذي يليه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو قطر بن خلیفہ نے ان کو یحییٰ بن بسام نے ان کو موسیٰ بن طلحہ نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا ہے رسول اللہ نے تین روشن دنوں کے روزوں کا تیرہویں ، چودھویں اور پندرہویں کا ۔ اس کو روایت کیا ہے سعید بن سلیمان نے شریک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہر مہینے تین دن کے روزے رکھتے تھے پیر شروع مہینے میں اور جمعرات جو اس کے متصل ہے پھر جمعرات جو اس کے متصل ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يحيى بن بسام ← قَطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3848

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3849

3849 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن علي نا سعيد بن سليمان نا شريك : فذكره و رواه الأعمش عن يحيى قال : سمعت موسى بن طلحة يقول سمعت أبا ذر فذكره و قيل عن موسى بن طلحة عن ابن الحوتكيه عن أبي ذر و قيل عن موسى عن أبي هريرة و روي في ذلك عن قتادة بن ملحان القيسي عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن علی نے انکو سعید بن سلیمان نے ان کو شریک نے پھر اسی مذکور کو ذکر کیا ہے اور اس کو اعمش نے روایت کیا ہے یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے موسیٰ بن طلحہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے اور ابو ذر سے پھر اس نے مذکور کو ذکر کیا ہے اور کہا گیا ہے موسیٰ بن طلحہ سے اس نے ابن حوتکیہ سے اس نے ابو ذر سے اور کہا گیا ہے موسیٰ سے اس نے ابو ہریرہ سے اور روایت کیا گیا ہے اسی کو قتادہ بن ملحان قیسی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← قتادة بن ملحان القيسي ← أبي هريرة و روي في ذلك ← مُوسَى ← أبي ذر و قيل ← ابْنِ الْحَوْتَکِيَّةِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← أبا ذر فذكره و قيل ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَحْيَى ← شريك فذكره و رواه الأعمش ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن علي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3849

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3850

3850 - أخبرنا أبو الحسن المقريء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عبد الواحد بن غياث نا حماد بن سلمة عن عاصم بن بهدله عن سواء عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصوم ثلاثة أيام من الشهر الاثنين و الخميس و الاثنين من الجمعة الأخرى

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے انکو یوسف بن یعقوب نے ان کو عبدالواحد بن غیاث نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عاصم بن بھدلہ نے ان کو سواء نے ان کو حفصہ زوجہ نبی کریم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مہینے میں تین دن کے روزے رکھتے تھے پیر اور جمعرات کا اور پیر کا دوسرے ہفتے میں سے ۔

حفصة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← سواء ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3850

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3851

3851 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الأسفاطي نا أحمد بن يوسف نا شريك عن الحر بن الصباح عن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم من الشهر الخميس ثم الاثنين الذي يليه ثم الخميس أو الاثنين الذي يليه ثم الاثنين يصوم ثلاثة أيام

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسفاطی نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو شریک نے حر بن صباح سے اس نے ابن عمر سے اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مہینے میں سے جمعرات کا اس کے بعد پیر کا جو اس کے متصل ہوتا اس کے بعد جمعرات کا یا پیر کا جو اس کے متصل ہوتا اس کے بعد پیر کا اس کے بعد پیر کا تین دن روزہ رکھتے تھے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← الحر بن الصباح ← شَرِيکٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3851

chevron_left Previous
1…949596…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood