Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3828

3828 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن يحيى الوراق نا جعفر بن أحمد الحافظ نا يعقوب بن حميد بن كاسب نا عبد الله بن وهب عن عمرو بن الحارث عن عبد الملك بن عبد الملك و هو من ولد ابن حميد عن مصعب بن أبي ذئب عن القاسم بن محمد بن أبي بكر عن عمه عن جده أبي بكر الصديق : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه قال : لكل نفس إلا إنسان في قلبه شحناء أو مشرك بالله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن یحییٰ وراق نے ان کو جعفر بن احمد حافظ نے ان کو یعقوب بن حمید بن کاسب نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبدالملک بن عبدالملک نے اور وہ ابن حمید کی اولاد میں سے ہیں انہوں نے مصعب بن ابو ذئب سے اس نے قاسم بن محمد بن ابو بکر سے اس نے اپنے چچا ابو بکر صدیق سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پھر اس نے اسی مذکور کو ذکر کیا ہے علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے ہر نفس کو مگر وہ انسان جس کے دل میں بغض اور کینہ ہو یا وہ مشرک ہو ۔

لكل نفس إلا إنسان في قلبه شحناء أو مشرك بالله ← النبي صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه ← جده أبي بكر الصديق ← عَمِّہٖ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← مُصْعَبِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ← عبد الملك بن عبد الملك و هو من ولد ابن حميد ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أبو بكر محمد بن يحيى الوراق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3828

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3829

3829 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا سعيد بن عثمان الأهوازي نا أحمد بن عيسى المصري نا عبد الله بن وهب بإسناده غير أنه قال عن أبيه و عمه عن أبي بكر الصديق و قال : فيغفر لكل مؤمن إلا العاق أو المشاحن

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے انکو احمد بن عبید نے انکو سعید بن عثمان اہوازی نے ان کو احمد بن عیسیٰ مصری نے ان کو عبداللہ بن وہب نے اپنی اسناد کے ساتھ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے اپنے والد سے اور اپنے چچا سے انہوں نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بخش دیتے ہیں ہر مومن کو مگر والدین کے نافرمان کو یا کینہ پرور کو ۔

فيغفر لكل مؤمن إلا العاق أو المشاحن ← أبي بكر الصديق و ← أبيه و عمه ← عبد الله بن وهب بإسناده غير أنه ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← سعيد بن عثمان الأهوازي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3829

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3830

3830 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا شجاع بن الوليد أنا زهير بن معاوية أنا الحسن بن الحر حدثني مكحول : أن الله يطلع على أهل الأرض في النصف من شعبان فيغفر لهم إلا لرجلين إلا كافرا أو مشاحن لم يجاوز به مكحولا و قد روي عن مكحول عن من فوقه مرسلا موصولا عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو شجاع بن ولید نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو حسن بن حر نے ان کو مکحول نے کہ بے شک اللہ تعالیٰ جھانکتا ہے اہل زمین کی طرف نصف شعبان میں اور ان کو بخش دیتا ہے مگر دوآدمیوں کو نہیں بخشتے کافر کو یا کینہ پرور کو اس نے اس روایت کے ساتھ مکحول سے آگے تجاوز نہیں کیا اور تحقیق روایت کی گئی ہے مکحول سے اس نے اس سے جو اس کے اوپر ہے بطور مرسل بھی اور بطور موصول بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

مَكْحُولٌ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3830

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3831

3831 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا أبو سهل بن زياد القطان أنا إسحاق بن الحسن الحربي نا عفان نا عبد الواحد بن زياد عن الحجاج عن مكحول عن كثير بن مرة الحضرمي : عن النبي صلى الله عليه و سلم في ليلة النصف من شعبان يغفر الله عز و جل لأهل الأرض إلا المشرك و المشاحن هذا مرسل جيد و روي من وجه آخر عن مكحول عن أبي ثعلبة الخشني عن النبي صلى الله عليه و سلم و هو أيضا بين مكحول و أبي ثعلبة مرسل جيد كما

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ا ن کو اسحٰق بن حسن حربی نے انکو عفان نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو حجاج نے مکحول سے اس نے کثیر بن مرہ حضرمی سے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے نصف شعبان کی رات کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ مغفرت فرماتے ہیں اہل زمین کی سوائے مشرک کے اور بغض رکھنے والے کے یہ مرسل ہے جید ہے اور دوسرے طریق سے مروی ہے مکحول سے اس نے ابو ثعلبہ خشنی سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ بھی مکحول اور ابو ثعلبہ کے درمیان مرسل جید ہے ۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← الْحَجَّاجِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3831

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3832

3832 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال نا محمد بن إسماعيل الأحمس نا المحاربي عن الأحوص بن حكيم عن المهاجر بن حبيب عن المكحول عن أبي ثعلبة الخشني : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان ليلة النصف من شعبان اطلع الله إلى خلقه فيغفر للمؤمن و يملي للكافرين و يدع أهل الحقد بحقدهم حتى يدعوه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے انکو ابو حامد بن بلال نے ان کو محمد بن اسماعیل احمش نے ان کو محاربی نے ان کو احوص بن حکیم نے ان کو مہاجربن حبیب نے ان کو مکحول نے ان کو ابو ثعلبہ خشنی نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے وہ فرماتے ہیں جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف جھانکتے ہیں پس مومن کو معاف کرتے ہیں اور کافر کو ڈھیل دیتے ہیں اور اہل بغض کو ان کے بغض اور کینے میں ہی چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← المكحول ← المهاجر بن حبيب ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← محمد بن إسماعيل الأحمس ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3832

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3833

3833 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو أحمد الحافظ نا أبو جعفر محمد بن عمران النسوي النيسابوري نا أبو الوليد محمد بن أحمد بن برد الأنطاكي نا محمد بن كثير المصيصي نا الأوزاعي عن مكحول ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي و أبو بكر القاضي قالوا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي نا هشام بن خالد نا أبو خليد يعني عتبة بن حماد الحكمي عن الأوزاعي عن مكحول و ابن ثابت يعني عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن مالك بن يخامر عن معاذ بن جبل : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يطلع الله في ليلة النصف من شعبان فيغفر لجميع خلقه إلا المشرك أو مشاحن و في رواية المصيصي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و الباقي سواء و قد روينا هذا من وجه و في ذلك دلالة على أن للحديث أصلا من حديث مكحول و قد رواه ابن لهيعة عن الزبير بن سليم عن الضحاك بن عبد الرحمن عن أبيه قال : سمعت أبا موسى الأشعري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر بمعناه لفظ النزول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمران نسوی نیسا پوری نے ان کو ابو الولید محمد بن احمر بردانطا کی نے ان کو محمد بن کثیر مصیصی نے ان کو اوزاعی نے ان کو مکحول نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور اسحٰق بن محمد بن یوسف سو سی نے اور ابو بکر قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یزید بن محمد بن عبدالصمد دمشقی نے ان کو ہشام بن خالد نے انکو ابو جلید نے یعنی عتبہ بن حماد حکمی نے ان کو اوزاعی نے ان کو مکحول نے اور ابن ثابت نے یعنی عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان نے انکو ان کے والد نے ان کو مکحول نے ان کو مالک بن یخامر نے ان کو معاذ بن جیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں جھانکتے ہیں پس اپنی مخلوق کو معاف کر دیتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ ور کے اور مصیصی کی ایک روایت میں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اور باقی روایت حسب سابق ہے اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے کئی طریقوں سے او ر اس میں دلیل ہے اس بات پر کہ حدیث کےلئے کچھ اصل ہے حدیث مکحول سے اور تحقیق اس کو روایت کیا ہے ابن لھیعہ نے زبیر بن سلیم سے اس نے ضحاک بن عبدالرحمٰن سے اس نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں سنا تھا ابو موسیٰ اشعری سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہ سے اس نے ذکر کیا اس کا مفہوم لفظ نزول کے ساتھ ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3833

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3834

3834 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس نا الصنعاني نا أبو الأسود أنا ابن لهيعة : فذكره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس نے ان کو خبر دی صنعانی نے ان کو ابو الاسود نے ان کو ابن لھیعہ نے پھر اس نے مذکور کو روایت کیا ہے ۔

ابْنُ لَهِيعَةَ، فَذَكَرَهُ. ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3834

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3835

3835 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور محمد بن أحمد بن الأزهري الهروي نا الحسين بن إدريس نا أبو عبيد الله ابن أخي ابن وهب نا عمي نا معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث أن عائشة قالت : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم من الليل يصلي فأطال السجود حتى ظننت أنه قد قبض فلما رأيت ذلك قمت حتى حركت إبهامه فتحرك فرجعت فلما رفع إلي رأسه من السجود و فرغ من صلاته قال : يا عائشة أو يا حميراء أظننت أن النبي قد خاس بك قلت : لا و الله يا رسول الله و لكنني ظننت أنك قبضت لطول سجودك فقال : أتدرين أي ليلة هذه ؟ قلت : الله و رسوله أعلم قال : هذه ليلة النصف من شعبان إن الله عز و جل يطلع على عباده في ليلة النصف من شعبان فيغفر للمستغفرين و يرحم المسترحمين و يؤخر أهل الحقد كما هم قال الأزهري : قوله قد خاس بك يقال للرجل إذا غدر بصاحبه فلم يؤته حقه قد خاس به قلت : هذا مرسل جيد و يحتمل أن يكون العلا بن الحارث أخذه من مكحول و الله أعلم و قد روي في هذا الباب أحاديث مناكير رواتها قوم مجهولون قد ذكرنا في كتاب الدعوات منها حديثين

ان کو خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور محمد بن احمد بن ازہری ہروی نے انکوحسین بن ادریس نے ان کو ابو عبداللہ بن اخی ابن وہیب نے ان کو ان کے چچا نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علاءبن حارث نے یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو آپ نے کافی لمبا سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے گمان کر لیا کہ حجور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم فوت ہو گئے ہیں ۔ جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں ( ڈرتے ہوئے )اٹھ کر اور آپ کے انگوٹھے کو حرکت دی آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حرکت کی لہذا میں واپس آ گئی ۔ جب آپ نے سجدے سے سر اٹھا یا اور نماز سے فارغ ہو کر آئے توفرمانے لگے ۔ اے عائشہ یا یوں کہا اے حمیرا کیا تم نے یہ گمان کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے تیرے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ لیکن میں نے گمان کیا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے قبض کر لیا ہے بوجہ اس کے لمبے سجدے کے ۔ حضور نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ یہ کون سی رات ہے ؟میں نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے حضور نے فرمایا کہ یہ شعبان کی پندرہویں شب ہے بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جھانکتے ہیں شعبان کی پندرہویں شب میں پس بخشش مانگنے والوں کو بخش دیتے ہیں اور رحم کی درخواست کرنے والوں پر رحم کر دیتے ہیں اور کینہ رکھنے والوں کو پیچھے کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ ہیں ۔ازہری نے کہا حضور یہ تو قد خاس بک ۔ یہ اس وقت کسی آدمی سے کہا جاتا ہے جب وہ اپنے ساتھی کے ساتھ عذر کرے دھوکہ دے اور اس کو حق اس کو نہ دے تو کہتے قد خاس بہ فلاں نے فلاں کے ساتھ دغا کیا دھوکہ کیا ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ مرسل چیز ہے اور احتمال ہے کہ علاء بن حارث نے اس کو مکحول سے لیا ہو واللہ اعلم اور اسی باب میں کئی منکر روایات بھی مروی ہے ان کے راوی مجہول ہیں ۔ ہم نے کتاب الدعوات میں ان میں سے دو حدیثیں ذکر کی ہیں ۔

العلاء بن الحارث؛ أنَّ عائشةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَمِّي، ← أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أبو منصور محمد بن أحمد بن الأزهري الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3835

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3836

3836 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن أحمد الرياحي نا جامع بن صبيح الرملي نا مرحوم بن عبد العزيز عن داود بن عبد الرحمن عن هشام بن حسان عن الحسن عن عثمان بن أبي العاص : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان ليلة النصف من شعبان فإذا مناد هل من مستغفر فاغفر له هل من سائل فأعطيه فلا يسأل أحد إلا أعطي إلا زانية بفرجها أو مشرك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن احمد ریاضی نے ان کو جامع بن صبیح رملی نے ان کو مرحوم بن عبدالعزیز نے ان کو داؤد بن عبدالرحمن نے ہشام بن حسان سے اس نے حسن سے ۔ اس نے عثمان بن ابو العاص سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے انہوں نے کہا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تی ہے اچانک اعلان ہوتا ہے کیا ہے کوئی بخشش مانگنے والا میں اس کو بخش دوں کیا ہے کوئی سائل میں عطا کروں ؟ جو بھی مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے مگر بدکار عورت یا مشرک کے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← جامع بن صبيح الرملي ← محمد بن أحمد الرياحي ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3836

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3837

3837 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عيسى بن حيان المدائني نا سلام بن سليمان أنا سلام الطويل عن وهيب المكي عن أبي رهم أن أبا سعيد الخدري دخل على عائشة فقالت له عائشة : يا أبا سعيد حدثني بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم و أحدثك بما رأيته يصنع قال أبو سعيد كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرج إلى صلاة الصبح قال : اللهم املء سمعي نورا و بصري نورا و من بين يدي نورا و من خلفي نورا و عن يميني نورا و عن شمالي نورا و من فوقي نورا و من تحتي نورا و عظم لي النور برحمتك و في رواية محمد و أعظم لي نورا قالت عائشة دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضع عنه ثوبيه ثم لم يستتم أن قام فلبسهما فأخذتني غيرة شديدة فظننت أنه يأتي بعض صويحباتي فخرجت اتبعه فأدركته بالبقيع بقيع الغرقد يستغفر للمؤمنين و المؤمنات و الشهداء فقلت بأبي و أمي أنت في حاجة ربك و أنا في حاجة الدنيا فانصرفت فدخلت حجرتي و لي نفس عال و لحقني رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما هذا النفس يا عائشة ؟ فقالت بأبي و أمي أتيتني فوضعت عنك ثوبيك ثم لم تستتم أن قمت فلبستهما فأخذتني غيرة شديدة ظننت أنك تأتي بعض صويحباتي حتى رأيتك بالبقيع تصنع ما تصنع قال : يا عائشة أكنت تخافين أن يحيف الله عليك و رسوله بل أتاني جبريل عليه السلام فقال هذه الليلة ليلة النصف من شعبان و لله فيها عتقاء من النار بعدد شعور غنم كلب لا ينظر الله فيها إلى مشرك و لا إلى مشاحن و لا إلى قاطع رحم و لا إلى مسبل و لا إلى عاق لوالديه و لا إلى مدمن خمر قال : ثم وضع عنه ثوبيه فقال لي يا عائشة تأذنين لي في قيام هذه الليلة فقلت : نعم بأبي و أمي فقام فسجد ليلا طويلا حتى ظننت أنه قبض فقمت التمسته و وضعت يدي على باطن قدميه فتحرك ففرحت و سمعته يقول في سجوده : أعوذ بعفوك من عقابك و أعوذ برضاك من سخطك و أعوذ بك منك جل وجهك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك فلما أصبح ذكرتهن له فقال : يا عائشة تعلمتهن ؟ فقلت : نعم فقال : تعلميهن و علميهن فإن جبريل عليه السلام علمنيهن و أمرني أن أرددهن في السجود و هذا إسناد ضعيف و روى من وجه آخر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عیسیٰ بن حبان مدائنی نے ان کو سلام بن سلیمان نے ان کو خبر دی ہے سلام طویل نے ان کو وہب مکی نے ان کو ابو مریم نے کہ ابو سعید خدری سیدہ عائشہ کے پاس گئے سیدہ عائشہ نے ان سے فرمایا ۔ اے ابو سعید مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنی ہو اور میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں گی جو میں نے ان کو خود کرتے دیکھا ہے ۔ ابو سعید نے کہا کہ رسول اللہ کی عادت تھی کہ وہ جب صبح کی نماز کے لئے نکلتے تو یہ دعا کرتے تھے ۔ اللھم ۔الخ ۔ اے اللہ میرے کانوں کو نور سے بھر دے میری آنکھوں کو نور سے اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نور میرے دائیں جانب نور اور میرے بائیں جانب نور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور بہت بڑا کردے میرے لیے نور کو اپنی رحمت کے ساتھ اور ایک روایت محمد میں ہے ۔ واعظم لی نورا ۔اب سیدہ عائشہ نے بتایا نبی کریم میرے پاس تشریف لائے اور اوپر اوڑھنے کے دونوں کپڑے رکھ دئیے پھر زیادہ دیر نہیں ٹھہرے یہ کہ کھڑے ہو گئے اور وہ کپڑے دوبارہ زیب تن کر لئے ۔مجھ سخت غیرت و غصہ آ گیا کہ ( ابھی آئے ہیں پھر جا رہے ہیں میں نے یہ گمان کیا کہ آپ میری کسی سوکن کے پاس جائیں (حضور باہر نکلے تو ) میں بھی آپ کے پیچھے چلی میں نے ان کو بقیع میں بقیع غرقد میں پا لیا۔ حجور اہل ایمان کے لئے یعنی مؤمن مردوں اور مؤمنہ عورتوں کے لئے بخشش مانگ رہے تھے اور شہداء کے لیے ( یعنی اہل قبور کے لئے دعا مانگنے گئے تھے ) میں نے کہا میرے ماں باپ قربان جائیں آپ تو اپنے رب کے کام میں لگے ہیں اور میں دنیا کی حاجت میں ہوں واپس لوٹ آئی اور میں اپنے حجرے میں داخل ہوئی اور میری سانس لمبی ہو گئی تھی رسول اللہ میرے پیچھے تشریف لائے آپ نے پوچھا کہ یہ کیسی لمبی سانسیں ہیں اے عائشہ ؟ وہ بولی میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کے اوپر ، آپ جیسے ہی میرے پاس تشریف لائے اوپر والے کپڑے اتار کے رکھے پھر آپ بالکل نہیں رکے فوراً کھڑے ہو گئے کپڑے پہن لیے ( یعنی سر کا کپڑا اور اوڑھنے کا ) مجھے سخت غصہ آ گیا تھا میں نے یہ گمان کر لیا کہ آپ شاید میری کسی سوکن کے پاس چلے گئے ہیں حتٰی کہ میں نے آپ کو بقیع میں دیکھ لیا آپ کو جو کرنا تھا آپ وہ کر رہے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ کیا تم ڈرتی ہو یہ کہ اللہ اور اس کو رسول تم پر ظلم کریں گے ؟ ( بات یوں نہیں ہے بلکہ ) میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور فرمایا تھا کہ یہ شعبان کی پندرہویں شب ہے اس رات اللہ تعالیٰ کے جہنم سے آزاد کیے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ۔کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر ۔نہیں نظر کرم فرماتا اللہ تعالیٰ اس رات میں کسی مشرک کی طرف اور نہ کسی کینہ پرور کی ، نہ قطع رحمی کرنے والے کی طرف اور نہ ہی فخر و غرور سے تہہ بند نیچے گھسیٹنے والے کی طرف نہ ہی والدین کے نافرمان کی طرف نہ ہی دائمی شرابی کی طرف ۔ اس کے بعد آپ نے وہ دو کپڑے اتار لیے اور مجھ سے کہنے لگے اے عائشہ کیا تم مجھے اس رات کے قیام کی اجازت دو گی ؟ میں عرض کی بالکل دوں گی ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں۔ حضور کھڑے ہو گئے ( اور نماز پڑھنی شروع کی ) آپ نے انتہائی لمبا سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے گمان کر لیا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے میں آپ کو تلاش کرنے ( یعنی آپ کو دیکھنے کے لیے کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ) اور میں نے اپنا ہاتھ حضور کے قدم مبارک کے نیچے کی طرف یعنی تلوؤں کو لگایاتو حضور نے حرکت کی لہذا میں خوش ہو گئی کہ ( خیریت ہے ) اور میں نے ( کان لگایا تو ) آپ سجدے میں یہ دعا مانگ رہے تھے ۔اوعوذ بعفوک من عقابک واعوذ برضاک من سخطک واعوذبک جل وجھک لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ میں تیرے عذاب سے تیری معافی کے ساتھ پناہ لیتا ہوں اور تیری رضا کے ساتھ تیری ناراضگی سے پناہ لیتا ہوں اور میں تیرے ساتھ تجھ سے پناہ لیتا ہوں ذات جلیل القدر ہے ۔ میں تیری حمد و ثنا ء کا احاطہ نہیں کر سکتا آپ نے جیسے اپنی ذات کی تعریف کی ہے ۔میں کہا جی حضور نے فرمایا آپ نا کو سیکھ لیجئے اور وہ اوروں کو سکھائیے یہ الفاظ مجھے جبرئیل علیہ السلام نے سکھائے اور مجھے حکم فرمایا کہ میں ان کو سجدے میں دہراتا رہوں ۔ ۔ یہ اسناد ضعیف ہے اور یہ ایک اور طریق سے بھی مروی ہے ۔

أَبِي رُهْمٍ ← وُهَيْبٍ الْمَکِّيِّ ← سَلَّامُ الطَّوِيلُ، ← سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد بن عيسى بن حيان المدائني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3837

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3838

3838 - كما أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور أحمد بن الأزهري الأديب الهروي بها املاء أنا أبو علي الحسين بن إدريس الأنصاري أنا أبو عبد الله ابن أخي ابن وهب حدثني محمد بن الفرج الصدفي نا عمرو بن هاشم البيروتي عن ابن أبي كريمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : كانت ليلة النصف من شعبان ليلتي و كان رسول الله صلى الله عليه و سلم عندي فلما كان في جوف الليل فقدته فأخذني ما يأخذ النساء من الغيرة فتلفعت بمرطي أما و الله ما كان من خز و لا قز و لا حرير و لا دبياج و لا قطن و لا كتان قيل لها مم كان يا أم المؤمنين ؟ قالت كان سداه شعرا و لحمته من أوبار الإبل قالت فطلبته في حجر نسائه فانصرفت إلى حجرتي فإذا أنا به كالثوب الساقط و هو يقول في سجوده سجد لك خيالي و سوادي و آمن بك فؤادي فهذه يدي و ما جنيت بها على نفسي يا عظيم يرجا لكل عظيم يا عظيم اغفر الذنب العظيم سجد وجهي للذي خلقه و شق سمعه و بصره ثم رفع رأسه ثم عاد ساجدا فقال : أعوذ برضاك من سخطك و أعوذ بعفوك من عقابك و أعوذ بك منك أنت كما أثنيت على نفسك أقول كما قال أخي داود اعفر وجهي في التراب لسيدي و حق لسيدي أن يسجد له ثم رفع رأسه فقال اللهم ارزقني قلبا نقيا من الشر لا جافيا و لا شقيا ثم انصرف و دخل معي في الخميلة و لي نفس عال فقال ما هذا النفس يا حميراء فأخبرته فطفق يسمح بيده على ركبتي و هو يقول ويس هاتين الركبتين ما لقينا هذه الليلة ليلة النصف من شعبان ينزل الله تعالى فيها إلى السماء الدنيا فيغفر لعباده إلا المشرك أو المشاحن

جیسا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصو ر احمد بن ازہروی ادیب ہروی نے ہرات میں بطور املاء کے ان کو ابو علی حسین بن ادریس انصاری نے ان کو ابو عبداللہ بن اخی ابن وہب نے ان کو محمد بن فرج صدنی نے ان کو عمرو بن ہاشم بیرونی نے ان کو ابن ابو کریمہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے فرماتی ہیں کہ دو مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب کے موقع پر رسول اللہ میرے پاس تھے جب آدھی رات ہو گئی تو میں نے حضور کو گھر سے غائب پایا مجھے وہ غیرت آ گئی جو عورتوں کو آجاتی ہے لہذا میں نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹا اللہ کی قسم نہ وہ خزکا ریشم تھی نہ قزکانہ باریک ریشم کی نہ موٹے ریشم کی نہ کپاس کی نہ کتان کی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز کی تھی اے ام المؤمنین ؟ فرماتی ہیں کہ اس کا تانا بالوں کا تھا اور بانا اونٹوں کی بشم کا کہتی ہیں کہ میں نے ان کو تلاش کیا ان کی عورتوں کے کمروں میں پھر میں اپنے کمرے کی طرف لوٹ آئی ۔ میں نے دیکھا تو آپ ایسے محسوس ہوئے جیسے گرا ہوا کپڑا بے حرکت ہوتا ہے آپ سجدے میں یہ کہہ رہے تھے اپنے سجدے کی حالت میں ۔میرا وجود اور میرا خیال تیرے لیے سجدے میں جھکا رہا ہے ، میرا دل تیرے ساتھ ایمان لے آیا ہے ۔یہ میرے ہاتھ ہیں اور وہ ہے جو کچھ ان کے ذریعے میں نے اپنے اوپر ظلم کیاہے اے عظمت والی ذات ۔ اے عظیم ذات ہر عظیم سے امیدیں باندھی جاتی ہیں ۔ میرا گناہ معاف کر دے ۔ میرا چہرہ جھک گیا ہے اس ذات کےلئے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس نے اس کو چیر کر اس کے کان بنائے اور آنکھیں بنائیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور پھر سجدے میں چلے گئے اور یوں دعا کرنے لگے میں تیری رضا کے ساتھ تیری ناراضگی سے پناہ چاہتی ہوں تیرے عفوو در گزر کے ساتھ تیرے پکڑ اور سزا سے پناہ لیتا ہوں اور تیرے ساتھ تجھ ہی سے پناہ لیتا ہوں آپ ویسے ہی ہیں جیسے آپ نے اپنی تعریف خود کی ہے ۔ میں ویسے کہتا ہوں جیسے میرے بھائی داؤد علیہ السلام نے کہا تھا ۔ میں اپنے چہرے کو مٹی میں آلودہ کرتا ہوں اپنے ملک کے لیے اور میرے مالک کا یہ حق ہے کہ اس کا سجدہ کیا جائے اس کے بعد آپ نے سجدے سے سر اٹھایا اور پھر دعا کی اے اللہ مجھ برائی سے صاف ستھرا دل عطا فرما جو نہ ظالم ہو اور نہ بد بخت محروم ہو اس کے بعد آپ جائے نماز سے ہٹے اور میرے ساتھ کمبل میں داخل ہو گئے ۔ میری سانس لمبی ہو رہی تھی لہذا آپ نے پوچھا کہ یہ کیسی سانس ہے حمیرا میں نے ان کو وہ بات بتائی آپ نے اپنا ہاتھ میرے گھٹنوں پر پھیرا وہ فرما رہے تھے ۔ کیا ہیں یہ دونوں گھٹنے ؟ کس چیز کو پا لیا ہےدونوں نے اس رات میں یعنی شعبان کی پندرہویں شب اللہ تعالیٰ اس رات میں آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے پس وہ اپنے بندوں کو معاف کرتا ہے سوائے مشرک کے اور کینہ پرور کے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← محمد بن الفرج الصدفي ← أبو عبد الله ابن أخي ابن وهب ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ← أبو منصور أحمد بن الأزهري الأديب الهروي بها ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3838

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3839

3839 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا محمد بن علي الوراق نا سعيد بن سليمان نا ليث بن سعد عن عقيل عن الزهري عن عثمان بن المغيرة بن الأخنس قال : تقطع الآجال من شعبان إلى شعبان قال : إن الرجل لينكح و يولد له و قد خرج اسمه في الموتى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو عقیل نے انکو زہری نے ان کو عثمان نے ان کو محمد بن مغیرہ بن اخنس نے وہ کہتے ہیں کہ شعبان سے شعبان تک اجل یعنی موت کے اوقات طے کیے جاتے ہیں اور کہا کہ بے شک ایک آدمی نکاح کر رہا ہوتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہو رہے ہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام مرنے والوں کی لسٹ میں آ چکا ہوتا ہے ۔

إن الرجل لينكح و يولد له و قد خرج اسمه في الموتى ← تقطع الآجال من شعبان إلى شعبان ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ الأَخْنَسِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3839

chevron_left Previous
1…939495…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood