Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3816

3816 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أخبرني مالك و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو النضر الفقيه و أخبرنا أبو عبد الله و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : أنا أحمد بن محمد بن عبدوس قالا : نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك بن أنس عن أبي النضر مولى عمر بن عبد الله عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين أنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم حتى نقول لا يفطر و يفطر حتى نقول لا يصوم و ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم استكمل شهرا قط إلا رمضان و ما رأيت أكثر صياما منه في شعبان لفظ حديث القعنبي أخرجاه من حديث مالك و رواه ابن أبي لبيد عن أبي سلمة قال : سألت عائشة عن صيام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : كان يصوم حتى نقول قد صام و يفطر حتى نقول قد أفطر و لم أره صام من شهر قط أكثر من صيامه في شعبان كان يصوم شعبان كله إلا قليلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی مالک نے (ح) او ر ہمیں خبر دی ابو النضر فقیہ نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے دونوں کو کہا مولیٰ عمر بن عبداللہ نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو عائشہ ام المؤمنین نے کہ وہ یہ کہتی ہیں رسول اللہ روزے رکھتے تھے حتٰی کہ ہم سمجھتے کہ اب چھوڑیں گے نہیں پھر چھوڑ دیتے تھے اور کبھی چھوڑے رکھتے تھے ہم سمجھتے کہ اب تو رکھیں گے نہیں مگر پھر رکھنا شروع کر دیتے ۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو پورے مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے رمضان کے اور شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے کے روزے میں نے رکھتے نہیں دیکھے ۔ یہ قعنبی کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مالک سے اور اس کو روایت کیا ہے ابن ابی لبید نے ابو سلمہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ سے رسول اللہ کے روزے کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا روزے رکھتے تو ہم سمجھتے کہ اب ختم نہیں کریں گے اور نہیں رکھتے تو ہم سمجھتے کہ اب نہیں رکھیں گے اور ہم نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے رکھتے نہیں دیکھا تقریباً پورا شعبان روزے رکھتے تھے سوائے کم دنوں کے ۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبي النضر مولى عمر بن عبد الله ← القعنبي فيما قرأ على مالك بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أبو عبد الله و أبو زكريا بن أبي إسحاق ← أبو النضر الفقيه و ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← مَالِکٌ و ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3816

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3817

3817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان عن ابن أبي لبيد : فذكره رواه مسلم عن أبي بكر و عمرو عن سفيان و رويناه عن محمد بن إبراهيم و غيره عن أبي سلمة عن عائشة قالت : ما كان يصوم في شهر ما كان يصوم في شعبان كان يصوم كله إلا قليلا بل كان يصومه كله 3817 - مكرر ـ و حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن أبي سلمة عن أم سلمة : أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن يصوم شهرين يجمع بينهما إلا شعبان و رمضان

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کوابن الولید نے پھر اس مذکور کو ذکر کیا ہے روایت کیا ہے اس کو مسلم نے ابو بکر اور عمر سے اور سفیان سے او ر ہم نے روایت کیا ہے اس کو محمدبن ابراہیم وغیرہ سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ حضور جس قدر شعبان کے روزے زیادہ رکھتے تھے اس قدر کسی اور مہینے کے نہیں رکھتے تھے ۔ تقریباً پورا شعبان روزے رکھتے تھے کم روزے چھوڑتے تھے بلکہ پورا ہی مہینہ روزہ رکھتے تھے ۔مکرر ہے اور ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے ان کو سالم بن ابوا لجعد نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ام سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم دومہینوں کے کبھی روزے نہیں رکھتے تھے اس طورپر کہ دونوں کو جمع کرتے ہوں سوائے شعبان اور رمضان کے

أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← ما كان يصوم في شهر ما كان يصوم ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← محمد بن إبراهيم و غيره ← سفيان و رويناه ← أبي بكر و عمرو ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3817

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3818

3818 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا عبد الله بن وهب أخبرني معاوية بن صالح عن عبد الله بن أبي قيس أنه سمع عائشة تقول : أحب الشهور إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يصوم شعبان ثم يصله برمضان

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نضر نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو عبداللہ بن ابو قیس نے کہ اس نے سنا سیدہ عائشہ سے وہ کہتی تھیں مہینوں میں محبوب مہینہ رسول اللہ کے نزدیک روزوں کے لیے شعبان تھا ان کے بعد اس کو رمضان سے ملا لیتے تھے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3818

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3819

3819 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا محمد بن عبد الملك الدقيقي نا يزيد بن هارون أنا صدقة بن موسى نا ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : قيل يا رسول الله أي الصوم أفضل ؟ قال : صوم شعبان تعظيما لرمضان قال فأي الصدقة أفضل ؟ قال : صدقة في رمضان

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن عبدالملک دقیقی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو صدقہ بن موسیٰ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا یا رسول اللہ کون سا روزہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ شعبان کا روزہ رمضان کی تعظیم کے لئے پوچھا گیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا صدقہ کرنا رمضان میں ۔

قِيلَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← صدقة بن موسى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3819

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3820

3820 - أخبرنا أبو صادق محمد بن أحمد الصيدلاني نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب نا ثابت الغفاري نا أبو سعيد المقبري ح و أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب البخاري نا يحيى بن أبي طالب نا زيد بن الحباب نا ثابت الغفاري حدثني المقبري عن أبي هريرة عن أسامة بن زيد قال : قلت يا رسول الله إني أراك تصوم في شهر ما لا أراك تصوم في شهر ما تصوم فيه قال أي شهر ؟ قلت شعبان قال : شعبان بين رجب و شهر رمضان يغفل الناس عنه يرفع فيه أعمال العباد فأحب أن لا يرفع عملي إلا و أنا صائم قلت : أراك تصوم يوم الإثنين و الخميس فلا تدعهما ؟ قال : إن أعمال العباد ترفع فأحب أن لا يرفع عملي إلا و أنا صائم لفظ حديث عبد الخالق تفرد به هذا الغفاري و هو أبو الغصن ثابت بن قيس رواه عنه أيضا ابن أبي أويس عن أبي سعيد المقبري عن أسامة بن زيد قال : كان يصوم رسول الله صلى الله عليه و سلم فيسرد الأيام لا يكاد يفطر و يفطر فيسرد الأيام لا يكاد يصوم قال : و كان يصوم من كل جمعة يومين لا يكاد يدعهما إن كانا من صيامه الذي يصوم و إن لم يكونا منه و كان أكثر ما يصوم فيه من الشهور شعبان قال : فقلت له يا رسول الله رأيتك تصوم يومين من كل جمعة إن كانا من صيامك و إن لم يكونا منه قال : أي يومين ؟ فقلت : الاثنين و الخميس قال : ذانك يومان تعرض فيهما الأعمال على رب العالمين فأنا أحب أن يعرض عملي و أنا صائم قال : قلت رأيتك تصوم في شعبان ما لا تصوم في غيره من الشهور قال : ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب و رمضان و فيه ترفع الأعمال لرب العالمين فأنا أحب أن يرفع عملي و أنا صائم

ہمیں خبر دی ابو صادق محمد بن احمد صید لانی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو زید بن حباب نے ان کو ثابت غفاری نے ان کو مقبری نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کو اسامہ بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں آپ کو ایک مہینے میں اتنی زیادہ روزے رکھتے دیکھتا ہوں کہ جس قدر روزہ رکھتے ہیں میں آپ کو کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ۔ آپ نے پوچھا کہ کون سامہینہ ہے ؟ میں نے کہا وہ شعبان ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ شعبان ، رجب اور رمضان کے درمیان میں ہے اس لئے اس سے غافل ہو جاتے ہیں اس میں لوگوں کے اعمال اٹھا ئے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال جب وہر کو جائیں میں اس وقت روزہ دار ہوں ۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا میں دیکھتا ہوں کہ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ نہیں چھوڑتے ؟ آپ نے فرمایا کہ بے شک بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال اوپر کو جائیں تو میں روزہ دار ہوں یہ عبدالخالق کی حدیث کے الفاظ ہیں اس کے ساتھ غفاری کا تفرد ہے اور وہ ابو الغصن ثابت بن قیس ہے اس کو روایت کیا ہے اس سے ابن ابی اویس نے ان کو ابو سعید مقبری نے ان کو اسامہ بن زیدنے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم روزہ رکھتے تھے تو مسلسل رکھتے جاتے چھوڑتے نہیں تھے اور چھوڑتے تو کئی کئی دن چلاتے روزہ نہیں رکھتے تھے اور ہر ہفتے میں دو دن روزہ رکھتے تھے ۔ ان کو چھوڑتے نہیں تھے اگرچہ وہ دونوں ایام ترتیب کے اعتبار سے ان روزوں ایام ترتیب کے اعتبار سے ان روزوں میں سے ہوں جو آپ روزے رکھ رہے ہوں یا اس ترتیب میں نہ ہوں ۔ اکثر روزے جس مہینے کے رکھتے تھے وہ شعبان ہوتا تھا ۔ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ ہر ہفتے دو دن کے روزے رکھتے ہیں اگرچہ وہ آپ کے ترتیب کے روزوں میں سے ہوں نہ ہوں ان میں سے ۔ آپ نے کہا کہ وہ کون سے دن میں کہا کہ وہ پیر اور جمعرات ہیں ۔ حضور نے فرمایا یہ وہ دو دن ہیں جن میں اعمال رب العالمین کے آگے پیش کیے جاتے ہیں ۔ میں پسند کر تا ہوں کہ میرے اعمال جب پیش کیے جائیں تو میں روزہ دار ہوں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ شعبان میں جتنے روزے رکھتے ہیں اتنے اور کسی مہینے میں نہیں رکھتے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس سے غافل رہتے ہیں رجب اور رمضان کے درمیان اس میں اعمال اٹھائے جاتے ہیں رب العالمین کی طرف میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال جب اٹھائے جائیں تو میں روزہ دار ہوں ۔

قُلْتُ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ثابت الغفاري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب البخاري ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ ← و، ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ← ثابت الغفاري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو صادق محمد بن أحمد الصيدلاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3820

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم شعبان · حديث 3821

3821 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد السري نا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أبو الغصن ثابت بن قيس مولى عقيل : فذكره و رواه أيضا عبد الرحمن بن مهدي عن ثابت بن قيس عن أبي سعيد المقبري في ذكر شعبان

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد سری نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو ابوالغصن ثابت بن قیس مولیٰ عقیل نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اور اس کو روایت کیا ہے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو ثابت بن قیس نے ان کو ابو سعید مقبری نے شعبان کے ذکر میں۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting of Sha'ban · Hadith 3821

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3822

3822 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس المكي نا محمد بن علي بن زيد الصائغ نا الحسن بن علي بن عبد الرزاق نا ابن أبي سبرة عن إبراهيم بن محمد عن معاوية بن عبد الله بن جعفر عن أبيه عن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلتها و صوموا يومها فإن الله تعالى يقول : ألا من مستغفر فأغفر له ألا من مسترزق فأرزقه ألا من سأل فأعطيه ألا كذا حتى يطلع الفجر

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن احمد بن فراس نے ان کو محمد علی بن زید صائغ نے ان کو حسن بن علی بن عبدالرزاق نے ان کو ابن ابی سبرہ نے ان کو ابراہیم بن محمد نے ان کو معاویہ بن عبداللہ بن جعفر نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ جس وقت شعبان کی نصف کی شب ہوتی ہے تو تم لوگ اس را ت کو قیام کیا کرو اور دن کو روزہ رکھا کرو ۔ پس بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کو معاف کردوں کیا ہے کوئی رزق مانگنے والا پس میں اس کو رزق دے دوں کیا ہے کوئی سائل میں اس کو عطا کر دوں کیا ہے کوئی ایسے ؟ ایسے ؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔

أبي طالب ← أَبِيهِ ← معاوية بن عبد الله بن جعفر ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابن أبي سبرة ← الحسن بن علي بن عبد الرزاق ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس المكي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3822

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3823

3823 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ نا إبراهيم بن أبي طالب نا الحسن بن علي الحلواني : فذكره بإسناده و ذكر فيه لفظ النزول و قال بدل السائل ألا مبتلي فأعافيه ألا كذا غير أنه قال : عن محمد بن عبد الله بن جعفر عن أبيه و لم يذكر عليا قال إبراهيم بن أبي طالب إبراهيم بن محمد مولى زينب بنت جحش

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ ن ان کو علی ب ن حمشاد نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو حسن بن علی حلوانی نے انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ اور اس میں ذکر کیا ہے نزول کا لفظ اور سائل کے بجائے کیا ہے کوئی تکلیف میں مبتلا میں اس کو عافیت دے دوں ۔ خبردار ہے کوئی سوا اس کے انہوں نے کہا ہے مروی ہے محمد بن عبداللہ بن جعفر سے ان کو ان کے والد نے لیکن انہوں نے علی حلوانی کا ذکر نہیں کیا ۔ کہا ہے اے ابراہیم بن ابو طالب ابراہیم بن محمد مولیٰ زینب بنت حجش نے ۔

إبراهيم بن أبي طالب إبراهيم بن محمد مولى زينب بنت جحش ← أبيه و لم يذكر عليا ← محمد بن عبد الله بن جعفر ← بدل السائل ألا مبتلي فأعافيه ألا كذا غير أنه ← فيه لفظ النزول و ← الحسن بن علي الحلواني فذكره بإسناده و ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3823

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3824

3824 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن حمدان المروزي نا أبو سعيد مكي بن خالد بن الفضل السرخسي نا سعيد بن يعقوب الطالقاني نا عبد الله بن المبارك عن يعقوب بن القعقاع عن الحجاج عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كانت ليلة النصف من شعبان يغفر الله من الذنوب أكثر من عدد شعر غنم كلب قال أبو عبد الله : إنما المحفوظ هذا الحديث من حديث الحجاج بن أرطأة عن يحيى بن أبي كثير مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن حمدان مروزی نے ان کو ابو سعید مکی بن خالد بن فضل سرخسی نے ان کو سعد بن یعقوب طالقانی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یعقوب بن قعقاع نے ان کو حجاج نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب شعبان کی نصف کی شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ گناہوں کو معاف کرتے ہیں ۔ ابو عبداللہ نے کہا ہے کہ سوائے اس کے کہ یہ حدیث محفوظ ہے حجاج بن ارطات سے انہوں نے یحییٰ بن ابو کثیر سے بطور مرسل روایت کے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← أبو سعيد مكي بن خالد بن الفضل السرخسي ← أبو بكر محمد بن أحمد بن حمدان المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3824

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3825

3825 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن إسحاق الفقيه نا محمد بن رمح أنا يزيد بن هارون أنا الحجاج بن أرطأة عن يحيى بن أبي كثير قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة و خرجت عائشة تطلبه في البقيع فرأته رافعا رأسه إلى السماء فقال : أكنت تخافين أن يحيف الله عليك و رسوله قالت : قلت يا رسول الله ظننت أنك أتيت بعض نسائك فقال : إن الله يغفر ليلة النصف من شعبان لأكثر من عدد شعر غنم كلب و لهذا الحديث شواهد من حديث عائشة و أبي بكر الصديق و أبي موسى الأشعري و استثنى في بعضها المشرك و المشاحن و في بعضها المشرك و قاطع الطريق و العاق و المشاحن و قد رواه محمد بن مسلمة الواسطي عن يزيد بن هارون موصولا كما

جیسے ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو محمد بن رمح نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حجاج بن ارطات نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نکلے اور سیدہ عائشہ ان کو تلاش کرنے نکلی بقیع میں سیدہ نے انہیں دیکھ لیا کہ آپ آسمان کی طرف سر اٹھا ئے ہوئے تھے ۔ حضور نے فرمایا کیا تم ڈر رہی تھیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول تم پر ظلم کریں گے ۔ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے گمان کیا تھا کہ آپ اپنی بعض بیویوں کے پاس گئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات میں بنو کلب کی بکریوں کے بالوںسے بھی زیادہ گناہ معاف کرتے ہیں اور اس حدیث کے کئی شواہد ہیں ۔ حدیث عائشہ ۔ حدیث ابو بکر صدیق اور حدیث ابو موسیٰ اشعری سے ۔ بعض میں مشرک اور کینہ پرور کو بخشش سے مستثنی کیا گیا ہے اور بعض میں مشرک اور ڈاکو کو اور والدین کے نافرمان کو اور کینہ پرور کو اور تحقیق روایت کیا ہے اس کو مسلمہ واسطی نے ان کو یزید نم ہارون نے بطور موصول روایت کے مثلاً درج ذیل روایت

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← أحمد بن إسحاق الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3825

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3826

3826 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا محمد بن مسلمة نا يزيد بن هارون أنا الحجاج عن يحيى بن أبي كثير عن عروة عن عائشة قالت : فقدت النبي صلى الله عليه و سلم ذات ليلة فخرجت أطلبه فإذا هو بالبقيع رافعا رأسه إلى السماء فقال : يا عائشة أكنت تخافين أن يحيف الله عليك و رسوله قالت : قلت و ما بي من ذلك و لكنني ظننت أنك أتيت بعض نسائك فقال : عن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب قال أحمد : و هذا النزول المراد به و الله أعلم فعلا سماه الرسول عليه السلام نزولا بلا انتقال و لا زوال أو أراد به نزول ملك من ملائكته بأمره و قد ذكرناه في غير هذا الموضع مفسرا

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو محمد بن مسلم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حجاج نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو گھر میں نہ پایا تو آپ کو تلاش کرنے نکلی پس وہ بقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے کھڑے تھے ۔ فرمانے لگے اے عائشہ تم ڈر گئی تھیں اس سے کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے ۔ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا میرے ساتھ ایسی کوئی بات نہیں تھی مگر میں نے یہ گمان کیا تھا کہ آپ آئے ہیں اپنی بعض عورتوں کے پاس ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اترتے ہیں شعبان کے نصف کی رات کو آسمان دنیا کی طرف پس بخش دیتے ہیں بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ کو ۔ احمد نے فرمایا کہ اس نزول سے مراد بطور فعل کے رسول اللہ نے اس کا نام رکھاہے نزول بغیر انتقال و زوال کے یا اس سے ارادہ کیاہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے نزول فر شتہ کا فرشتوں میں سے اپنے حکم کے ساتھ ۔ ہم نے اس مقام کے علاوہ وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3826

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ما جاء في ليلة النصف من شعبان · حديث 3827

3827 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق أنا خالد بن خراش و أصبغ بن الفرج قالا : نا ابن وهب عن عمرو بن الحارث عن عبد الملك بن عبد الملك أن مصعب بن أبي ذئب حدثه عن القاسم بن محمد بن أبي بكر عن أبيه عن عمه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ينزل الله إلى السماء الدنيا ليلة النصف من شعبان فيغفر لكل شيء إلا رجل مشرك أو رجل في قلبه شحناء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے انکو محمد بن اسحٰق نے ان کو خالد بن خراش نے اور اصبغ بن فرج نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابن وہب نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبدالملک بن عبدالملک نے کہ مصعب بن ابی ذئب نے اس کو حدیث بیان کی ہے قاسم بن محمد بن ابو بکر سے اس نے اپنے والد سے اس نے ان کو چچا سے اس نے اپنے دادا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب کو آسمان دنیا کی طرف اتر آتا ہے اور ہر شے کو بخش دیتا ہے مگر مشرک آدمی کو یا اس آدمی کو جس کے دل میں بغض اور کینہ ہو ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ ← عبد الملك بن عبد الملك أن مصعب بن أبي ذئب ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← خالد بن خراش و أصبغ بن الفرج ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › What came on the night of the fifteenth of Shaban · Hadith 3827

chevron_left Previous
1…929394…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood