شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3804
3804 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى أنا مكي بن خلف ثنا نصر بن الحسين و إسحاق بن حمزة قالا : أنا عيسى و هو النجار عن ابن أبي سفيان عن غالب بن عبيد الله عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجب شهر الله و يدعى الأصم و كان أهل الجاهلية إذا دخل رجب يعطلون أسلحتهم و يضعونها و كان الناس ينامون و تأمن السبل و لا يخافون بعضهم بعضا حتى ينقض قلت و هذا الذي روي في هذا الحديث مشهور عند أهل العلم بالتواريخ أن الأمر في الأشهر الحرم كان على هذه الجملة و إنما المنكر من هذا الحديث رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم و روايته عنه و كان كذلك في أول الإسلام أن لا يقاتلوا ثم أذن الله تعالى في قتل المشركين في جميع الأوقات و بقيت حرمة الأشهر الحرم في تضعيف الأجور و الأوزار فيها حين خص الله تعالى هذه الأشهر بزيادة المنع فيهن عن الظلم فقال : { إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله يوم خلق السموات و الأرض منها أربعة حرم ذلك الدين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم } و لذلك غلظ الشافعي رحمه الله دية من قتل خطأ في الشهر الحرام و روى في ذلك عن ابن عمر و ابن عباس رضي الله عنهما
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد کابیسی نے بخارا میں اور ہمیں خبر دی ہے مکی بن خلف نے انن کو نصر بن حسین نے اور اسحٰق بن حمزہ نے دونوں کو خبر دی ہے عیسیٰ نے وہ نجار ہیں ابن ابو سفیان سے اس نے غالب بن عبید اللہ سے اس نے عطاء سے اس نے عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک رجب اللہ کا مہینہ ہے یہ پکارا جاتا ہے "رحم "کے نام سے ۔ جب رجب آتا ہے تو اہل جاہلیت اپنا اسلحہ بے کار کر دیتے اور اسے رکھ دیتے اور لوگ امن کی نیند سو تے (کسی کو کسی سے ڈر نہ ہوتا ) راستے پر امن ہو جاتے تھے اور لوگ ایک دوسرے سے نہیں ڈرتے تھے حتٰی کہ رجب گزر جاتا ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جو اس حدیث میں مروی ہے یہ مشہور ہے تو اریخ میں اہل علم کے نزدیک کہ حرمت والے مہینوں میں معاملہ اسی مجموعی کیفیت پر تھا باقی اس حدیث میں جو چیز منکر کی ہے وہ ہے اس خدمت کا نبی کریم تک پہنچنا اور مرفوع ہونا اور اس کا نبی کریم سے روایت ہونا اور ابتداء اسلام میں ایسے تھا کہ وہ باہم نہ لڑیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو قتل کرنے کی اجازت دے دی تمام اوقات میں اور حرمت والے مہینوں کی حرمت باقی رہ گئی اجر و ثواب دہراہونے میں اور ان میں گناہوں کے دہرا ہونے میں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے خاص کیا ہے ان مہینوں کو منع کرنے کی زیادتی کے ساتھ ان مہینوں میں ظلم کرنے سے اور ارشاد فرمایا "ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھر ا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات الارض فیھا اربعۃ حرم ذالک الدین القیم و فلا تظلمو ا فیھن انفسکم "بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ کی ہے اللہ کی کتاب میں جس دن سے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار محترم ہیں یہی سیدھا دین تو ان مہینوں میں اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو ۔ اسی لئے امام شافعی رحمۃ اللہ نے ایک شخص کی دیت اور خون بہا کو سخت کیا ہے جو بطور خطاء کے قتل کرے اور شہر حرام میں اور اس میں اس نے روایت کی ہے ابن عمر سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ۔
عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← ابن أبي سفيان ← عيسى و هو النجار ← نصر بن الحسين و إسحاق بن حمزة ← مكي بن خلف ← خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3804
