Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3804

3804 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى أنا مكي بن خلف ثنا نصر بن الحسين و إسحاق بن حمزة قالا : أنا عيسى و هو النجار عن ابن أبي سفيان عن غالب بن عبيد الله عن عطاء عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجب شهر الله و يدعى الأصم و كان أهل الجاهلية إذا دخل رجب يعطلون أسلحتهم و يضعونها و كان الناس ينامون و تأمن السبل و لا يخافون بعضهم بعضا حتى ينقض قلت و هذا الذي روي في هذا الحديث مشهور عند أهل العلم بالتواريخ أن الأمر في الأشهر الحرم كان على هذه الجملة و إنما المنكر من هذا الحديث رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم و روايته عنه و كان كذلك في أول الإسلام أن لا يقاتلوا ثم أذن الله تعالى في قتل المشركين في جميع الأوقات و بقيت حرمة الأشهر الحرم في تضعيف الأجور و الأوزار فيها حين خص الله تعالى هذه الأشهر بزيادة المنع فيهن عن الظلم فقال : { إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله يوم خلق السموات و الأرض منها أربعة حرم ذلك الدين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم } و لذلك غلظ الشافعي رحمه الله دية من قتل خطأ في الشهر الحرام و روى في ذلك عن ابن عمر و ابن عباس رضي الله عنهما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد کابیسی نے بخارا میں اور ہمیں خبر دی ہے مکی بن خلف نے انن کو نصر بن حسین نے اور اسحٰق بن حمزہ نے دونوں کو خبر دی ہے عیسیٰ نے وہ نجار ہیں ابن ابو سفیان سے اس نے غالب بن عبید اللہ سے اس نے عطاء سے اس نے عائشہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک رجب اللہ کا مہینہ ہے یہ پکارا جاتا ہے "رحم "کے نام سے ۔ جب رجب آتا ہے تو اہل جاہلیت اپنا اسلحہ بے کار کر دیتے اور اسے رکھ دیتے اور لوگ امن کی نیند سو تے (کسی کو کسی سے ڈر نہ ہوتا ) راستے پر امن ہو جاتے تھے اور لوگ ایک دوسرے سے نہیں ڈرتے تھے حتٰی کہ رجب گزر جاتا ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جو اس حدیث میں مروی ہے یہ مشہور ہے تو اریخ میں اہل علم کے نزدیک کہ حرمت والے مہینوں میں معاملہ اسی مجموعی کیفیت پر تھا باقی اس حدیث میں جو چیز منکر کی ہے وہ ہے اس خدمت کا نبی کریم تک پہنچنا اور مرفوع ہونا اور اس کا نبی کریم سے روایت ہونا اور ابتداء اسلام میں ایسے تھا کہ وہ باہم نہ لڑیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو قتل کرنے کی اجازت دے دی تمام اوقات میں اور حرمت والے مہینوں کی حرمت باقی رہ گئی اجر و ثواب دہراہونے میں اور ان میں گناہوں کے دہرا ہونے میں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے خاص کیا ہے ان مہینوں کو منع کرنے کی زیادتی کے ساتھ ان مہینوں میں ظلم کرنے سے اور ارشاد فرمایا "ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھر ا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات الارض فیھا اربعۃ حرم ذالک الدین القیم و فلا تظلمو ا فیھن انفسکم "بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ کی ہے اللہ کی کتاب میں جس دن سے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار محترم ہیں یہی سیدھا دین تو ان مہینوں میں اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو ۔ اسی لئے امام شافعی رحمۃ اللہ نے ایک شخص کی دیت اور خون بہا کو سخت کیا ہے جو بطور خطاء کے قتل کرے اور شہر حرام میں اور اس میں اس نے روایت کی ہے ابن عمر سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← غَالِبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← ابن أبي سفيان ← عيسى و هو النجار ← نصر بن الحسين و إسحاق بن حمزة ← مكي بن خلف ← خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3804

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3805

3805 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الأسماعيلي أنا أبو بكر القريابي و أبو يعلى الموصلي قالا : نا أبو بكر بن أبي شيبة نا عبد الوهاب نا أيوب عن ابن سيرين عن ابن أبي بكرة عن أبي بكرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الزمان قد استدار كهيئة يوم خلق السموات و الأرض السنة اثنا عشرة شهرا منها أربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة ذو الحجة و المرحم و رجب شهر مضر الذي بين جمادي و شعبان رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و أخرجه البخاري

ہمیں خبر دی ہے ابو عمر ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو ابو بکر فریابی نے ان کو ابو یعلیٰ موصلی نے دونوں کو ابو بکر ابن ابی شیبہ نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ایوب نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابن ابی بکرہ نے ان کو ابو بکرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے آپ نے فرمایا بے شک زمانہ گھومتا ہے مثل اسی اپنی صورت کے جس دن اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے تھے سال بارہ مہینے کا ہوتا ان میں چار محترم ہیں تین مہینے مسلسل ہیں ذیقعد ، ذوالحجہ اور محرم اور رجب مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے اس کو مسلم نے ابو بکر ابن ابو شیبہ سے روایت کیا ہے اور بخاری نے بھی اس کو روایت کیا ہے ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو بكر القريابي و أبو يعلى الموصلي ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3805

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3806

3806 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكى أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في قوله : ـ { إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله } إلى قوله : { منها أربعة حرم ذلك الدين القيم فلا تظلموا فيهن أنفسكم } قال : لا تظلموا أنفسكم في كلهن ثم اختص من ذلك أربعة أشهر فجعلهن حرما و عظم حرماتهن و جعل الذنب فيهن أعظم و العمل الصالح و الأجر أعظم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں :" ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السموات والارض منھا اربعۃ حرم ذالک الدین القیم فلا تظلو ا فیھن انفسکم ۔ بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ کی ہے اس دن سے جب سے اللہ آسمان اور زمین تخلیق فرمائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہی دین محکم تم ( ان کی حرمت ریزی کر کے ) ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کیا کرو ۔ ابن عباس نے فرمایا : مراد ہے کہ ان سب مہینوں میں تم اپنے اوپر زیادتی نہ کرو پھر اس کے بعد مخصوص کیا چار مہینوں کو اور اس کو محترم بنایا اور ان کی حرمتوں کی عظیم قرار دیا اور ان میں گناہ کرنے کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا اسی طرح عمل صالح کو ان میں کرنا اور اس کے اجر عظیم بنایا ۔

ابن عباس في قوله إلى قوله ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3806

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3807

3807 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبي نا زهير عن بيان قال : سمعت قيس بن أبي حازم و ذكرنا رجب فقال : كنا نسميه الأصم في الجاهلية من حرمته و شدة حرمته في أنفسنا

ہمیں خبر دی ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبا ر نے ان کو ان کے والد نے ان کو خبر دی زہیر نے ان کو بیان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا قیس بن ابی حازم سے اور ہم نے رجب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اس کو اصم کہتے تھے جاہلیت میں ( گونگا ) اس کی حرمت کی وجہ سے اور ہمارے دلوں میں اس کی حرمت کی شدت کی وجہ سے ۔

قيس بن أبي حازم و ذكرنا رجب ← بَيَانٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3807

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3808

3808 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا الحسن بن الربيع نا مهدي بن ميمون قال : سمعت أبا رجاء العطاردي يقول : كنا في الجاهلية إذا دخل رجل يقول : جاء منصل الأسنة لا يدع حديدة في سهم و لا حديدة في رمح إلا انتزعناها فألقيناها

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو خبر دی حنبل بن اسحٰق نے ان کو حسن بن ربیع نے ان کو مہدی بن میمون نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو رجا ء عطاردی سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جاہلیت کے دور میں ایسے ہوتے تھے کہ جب کوئی آتا تو کہتا آ گیا ہے نیزوں کو بند کر رکھنے والا مہینہ ۔ کوئی لوہا اپنے تیر میں نہ چھوڑا جاتا اور نہ کوئی لوہا کسی بھالے میں مگر ہم اس کو نکال لیتے تھے اور اسے پھینک دیتے تھے ۔

كنا في الجاهلية إذا دخل رجل ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3808

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3809

3809 - و أخبرنا ابن بشران أنا أبو عمرو نا حنبل حدثني أبو عبد الله نا عفان نا مهدي : فذكره غير أنه قال : إلا نزعناها تعظيما للشهر أخرجه البخاري عن الصلت بن محمد عن مهدي بن ميمون أتم منه في قصة مسيلمة الكذاب

اور ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو ابو عمر نے ان کو حنبل نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو عفان نے ان کو مہدی نے پھر اس نے مذکورہ حدیث روایت کی ہے سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے مگر ہم وہ لوہا وغیرہ اس سے نکال دیتے تھے اس ماہ کی تعظیم کے لئے ۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صلت بن محمد سے اس نے مہدی بن میمون سے جو اس مذکورہ سے زیادہ مکمل ہے مسیلمہ کذاب کے قصے میں ۔

مهدي بن ميمون أتم منه في قصة مسيلمة الكذاب ← الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إلا نزعناها تعظيما للشهر أخرجه البخاري ← مهدي فذكره غير أنه ← عَفَّانُ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← حَنْبَلٌ ← أَبُو عَمْرٍو ← ابن بشران، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3809

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3810

3810 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن أبي خالد الأصبهاني العدل قال : سمعت محمد بن إسحاق بن خزيمة نا محمد بن عمرو بن تمام نا عثمان بن صالح حدثني ابن لهيعة أخبرني عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس قال : بينما نحن عند عمر بن الخطاب في يوم يعرض فيه الديوان إذ مر به رجل أعمى أعرج قد عنى قائده فقال عمر حين رآه و أعجبه شأنه من يعرف هذا ؟ فقال رجل من القوم : هذا من بني صنعاء بهلة بريق قال : و ما بريق ؟ قال : رجل من اليمن قلت : زاد غيره فيه اسمه عياض قال : أشاهد قال : نعم فأتي به عمر فقال : ما شأنك و شأن بني صنعا فقال : إن بني صنعا كانوا اثنا عشر رجلا و إنهم جاوروني في الجاهلية فجعلوا يأكلون مالي و يشتمون عرضي استنهيتهم فناشدتهم الله و الرحم فأبوا فأمهلتهم حتى إذا كان الشهر الحرام دعوت الله عليهم و قلت : ( اللهم إني أدعوك دعاء جاهدا اقتل بني صنعا إلا واحدا ) ( ثم اضرب الرجل فذره قاعدا أعمى إذا ما قيل عني القائدا ) فلم يحل الحول حتى هلكوا غير واحد و هو هذا كما ترى قد عنى قائده فقال عمر سبحان الله إن في هذا لعبرة و عجبا فقال رجل آخر من القوم : يا أمير المؤمنين ألا أحدثك مثل هذا و أعجب منه قال : بلى قال : فإن نفرا من خزاعة جاوروا رجلا منهم فقطعوا رحمه و أساءوا مجاورته و إنه ناشدهم الله و الرحم إلا أعفوه مما يكره فأبوا عليه فأمهلهم حتى إذا جاء الشهر الحرام دعا عليهم فقال : ( اللهم رب كل آمن و خائف و سامعا بهتاف كل هاتف ) ( إن الخزاعي أبى يقاصف لم يعطني حقي يناصف ) ( فاجمع لهم الأحبة و إلا لاطف بين فران ثم و النواصف ) ( جمعهم جوف كربة راجف ) قال : فبينما هم عند قليب ينزفونه فمنهم من هو فيه و منهم من هو فوقه تهور القليب بمن كان عليه و على من كان فيه فصار قبورهم حتى الساعة فقال عمر : سبحان الله إن في هذه لعبرة و عجبا فقال رجل من القوم آخر : يا أمير المؤمنين ألا أخبرك بمثل هذا و أعجب منه قال : بلى قال : إن رجلا من هذيل ورث فخذه هو فيها حتى لم يبق منهم أحد غيره فجمع مالا كثيرا فعمد إلى رهط من قومه يقال لهم بنو المؤمل فجعلوا ليمنعوه و ليردوا عليه ماشيته و إنهم حسدوه على ماله و نفسوه ماله فجعلوا يأكلون من ماله و يشتمون عرضه و إنه ناشدهم الله و الرحم ألا عدلوا عنه ما يكره فأبوا عليه فجعل رجل منهم يقال له رباح يكلمهم فيه و يقول : يا بني المؤمل ابن عمكم اختار مجاورتكم على من سواكم فأحسنوا مجاورته فأبوا عليه فأمهلهم حتى إذا كان الشهر الحرام دعا عليهم فقال : ( اللهم أزل عني بني المؤمل و ارم على أقفائهم بمشكل ) ( بصخرة أو عرض جيش جحفل إلا رباحا أنه لم يفعل ) قلت : و في رواية غيره بصخرة صماء أو بجحفل قال : فبينما هم ذات يوم نزول إلى أصل جبل انحطت عليهم صخرة من الجبل لا تمر بشيء إلا طحنته حين مرت بأبياتهم فطحنتها طحنة واحدة إلا رباحا الذي استثناه فقال عمر : سبحان الله إن هذا لعبرا و عجبا فقال رجل من القوم ألا أخبرك يا أمير المؤمنين مثله و أعجب منه ؟ قال : بلى قال : فإن رجلا من جهينة جاور قوما من بني ضمرة في الجاهلية فجعل رجل من بني ضمرة يقال له : ريشة يعدو عليه فلا يزال ينحر بعيرا من إبله و إنه كلم قومه فيه فقالوا : إنا قد خلفناه فانظر أن تقتله فلما رآه لا ينتهي أمهله حتى إذا كان الشهر الحرام دعا عليه فقال : ( أصادق ريشة بآل ضمرة أليس لله عليه قدرة ) ( أما يزال شارف أو بكرة يطعن فيها في سوء النعرة ) ( فصارم ذي رونق أو شغرة اللهم إن كان يعدي فجرة ) ( فاجعل إمام العين من حدره تأكله حين يوافي الحفرة ) فسلط الله عليه أكلة فأكلته حتى مات قبل الحول فقال عمر : سبحان الله إن في هذا لعبرة و عجبا و إن كان الله ليصنع هذا بالناس في جاهليتهم لينزع بعضهم من بعض فلما أتى الله بالإسلام أخر العقوبة إلى يوم القيامة و ذلك أن الله تعالى يقول في كتابه : { إن يوم الفصل ميقاتهم أجمعين } { بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر } و قال : { و لو يؤاخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دابة و لكن يؤخرهم إلى أجل مسمى } قال أحمد : و هذا حديث قد رواه محمد بن إسحاق بن يسار في المغازي عمن سمع عكرمة عن ابن عباس دون ذكر بني ضمرة و ذلك يؤكد رواية ابن لهيعة و روي من وجه آخر عن شهاب بن خراش عن نصير بن أبي الأشعث قال : قسم عمر بن الخطاب قسما فنظر إلى رجل أعمى فذكره و من المناكير التي رويت في هذا الباب ما

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن ابو خالد اصفہانی عدل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن اسحٰق بن خزیمہ سے اس نے محمد بن عمرو بن تمام سے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو خبر دی ہے عطاء بن ابو رباح نے ان کو ابن عباس نے وہ فرماتے ہیں ( دور جاہلیت کے چند ان مظلوموں کے واقعات جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں فوری انصاف دے دیا ) ۔عبرت کا پہلا واقعہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم لوگ حضرت عمر کی محفل میں بیٹھے تھے جس دن رجسٹر پیش کیے جا رہے تھے ۔اچانک ان کے پاس ایک اندھا اور لنگڑا آدمی آیا تحقیق تکلیف اٹھا رہا تھا اس کو چلانے والا حضرت عمر نے اس کو دیکھا تو ان کو اس کی حالت عجیب لگی حیران کن لگی کون جانتا اس کو ؟ موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ شخص بنو صنعا ء بہلہ بریق سے ہے ۔ پوچھا بریق کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ یمن سے ایک آدمی ہے وہ اسلام سے قبل جاہلیت میں میرے پڑوس میں آباد ہو گئے پھر انہوں نے میرا مال کھانا شروع کیا اور گالیاں دیتے عزت نفس مجروح کرتے میں نے ان کو روکا ( تو وہ باز نہ آئے ) اور میں نے ان کو اللہ کی قسم دے کر کہا یعنی اللہ کا واسطہ دے کر اور رشتہ داری کا واسطے دے کر روکا مگر وہ نہ رکے پھر میں نے ان کو مہلت دی حتٰی کہ جب حرمت والا مہینہ آیا تو میں نے ان کے خلاف اللہ سے بد دعا کی ۔ میں نے کہا ۔ اے اللہ میں تجھ سے جہاد کرنے والے کی طرح ( پوری کوشش اور سخت کوشش کرنے والے کی طرح ) بد دعا کرتا ہوں کہ بنو صنعاء سب کو ہلاک کر دے سوائے ایک آدمی کے اس کے بعد اس ایک آدمی کو اند ھا اپاہج کر دے جو کہ بیٹھا رہے اور اس کو میری محتاجی ہو یہ کہ میں اس کو چلاؤں ۔ بس سال پورا نہیں ہوا تھا حتٰی کہ وہ سارے ہلاک ہو گئے ۔ ایک باقی رہ گیا اور وہ یہی ہے اس طرح جو آپ کے سامنے ہے جو چلانے والے کا محتاج ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا سبحان اللہ اس واقعہ میں تو عبرت بھی ہے اور حیرانی بھی ۔ عبرت کا دوسرا واقعہ : مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین میں بتاؤں ایک واقعہ ؟ جو اسی جیسا ہے یا اس سے زیادہ عبرت ناک ہے ۔ حضرت نے فرمایا کہ سنائیے ۔ وہ بولے کہ قبیلہ خزاعہ کے کچھ لوگ ایک آدمی کے پڑوس میں آباد ہو گئے جو کہ انہی میں سے تھا ۔ ان لوگوں نے اس سے قطع رحمی کر لی اور بری طرح اس کے پڑوس میں رہنے لگے ۔ اس نے ان کو اللہ کی قسم دی اور رشتے کا واسطہ دیا مگر انہوں نے اس کو برابر پریشان کر کے رکھا انہوں نے اس کو مہلت دی حتٰی کہ جب شہر حرام ( عزت والا محترم ) مہینہ آیا تو اس نے ان کے خلاف بد دعا کی اور کہا ۔ اے اللہ اے پرامن والے اور ہر خوف کرنے والے کے رب اور ہر خاموشی سے پکارنے والے کی پکار سننے والے بے شک خزاعیوں نے میرا حق دینے سے انکار کر دیا ہے اور میرے ساتھ ظلم کیا ہے کم کردے ان کے دوستوںمدد گاروں کو وگرنہ لطف پیدا کر درمیان قرآن کے پھر نواصف کے ۔ اکٹھا کر ان کو کسی کانپنے اور تڑپانے والی مصیبت کے پیٹ میں ۔ بس اچانک وہ ایک دراڑ ( اور کریک ) کے پاس بیٹھے تھے یا کھڈے کے کنارے پر تھے اس میں سے پانی کھینچ رہے تھے ۔ کچھ اس کے اندر اترتے ہوئے تھے اور کچھ اس کے کنارے بیٹھے تھے اچانک وہ کنارتہ کنویں کا پھٹ کر ان سمیت جو اوپر بیٹھے تھے اندر ان پر جا گرا جو اندر تھے اور وہ سارے اسی میں دب کر ہلاک ہو گئے ( کوئی نکالنے والا تھا نہ کسی نے نکالا ) بس آج تک وہی ان کی قبر ہے ۔ حضرت عمر نے فرمایا : سبحان اللہ ! یہ بھی عبرت و حیرانگی کا موقع ہے ۔عبرت کا تیسرا واقعہ : وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک اور آدمی نے کہا امیر المؤمنین میں بھی اس جیسا یا اس سے زیادہ عبرت والا واقعہ سناؤں ؟ حضرت عمر نے اجازت دی تو اس نے کہا بے شک قبیلہ بنو ہذیل کا ایک آدمی اپنے قبیلے کا وارث بنا یہاں تک کہ ان لوگوں نے میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا بس یہ اکیلا رہ گیا چنانچہ اس نے بہت سارا مال جمع کر لیا اور وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے پاس گیا انو ک بنو مومل کہتے تھے ان کو جا کر کہا کہ میں اکیلا رہ گیا ہوں میں تمہارے پاس رہوں گا تاکہ تم لوگ میری حفاظت کیا کرو گے اور تاکہ اس کے مال مویشی کو پانی وغیرہ بھی پلائیں گے ان لوگوں کو اس کے مال پر حسد ہو گیا انہوں نے اس کے مال کو قیمتی سمجھا لہذا اس کا مال کھانا شروع کر دیا مال بھی کھاتے اور الٹے اس کی بے عزتی بھی کرتے گالی گلوچ کرتے ان میں رباح نام کا ایک آدمی کوئی شریف النفس تھا وہ ان کو ان کی ناجائز حرکت سے روکتا رہتا تھا کہ اے بنو مؤمل یہ تمہارا رشتہ دار ہے چچا کی اولاد ہے اس نے تمہارے پڑوس کا چنا ہے سب لوگوں کو چھوڑ کر اس کے اچھے پڑوسی کا سلوک کروا نہوں نے اس کی بھی بات نہ مانی حتٰی کہ جب محترم مہینہ آیا تو اس شخص نے ان سب کے خلاف بد دعا کی ۔اے اللہ تو مجھ سے بنو مؤمل کو مٹا دے اور ان کی گردن پر کوئی پتھر کا ہتھوڑا مار یا ان پر کوئی خطرناک لشکر بھیج سوائے رباح کے کیونکہ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ (مصنف ) میں کہتا ہوں کہ اس کے علاوہ دیگر روایت میں ہے کہ خاموش پتھر یا لشکر کے ( ساتھ تباہ کر ان کو ) اچانک وہ اسی روش پر تھے کہ ایک دن پہاڑ کے دامن کی طرف اترے یکا یک ان کے اوپر ایک بھاری چٹان لڑھک کر آن گری پہاڑ کے اوپر سے وہ چٹان اتنی بڑی تھی کہ جس چیز کے ساتھ گزری اس کو پیس دیا حتٰی کہ وہ جب ان کے گھروں کے اوپر سے گزری تو یکبارگی ان کو پیس دیا مگر وہی بچ گیا جس کے لئے بددعا نہیں کی تھی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا سبحان اللہ بے شک اس میں تو کئی عبرتیں تھیں اور حیرانگی ہے ۔ اتنے میں ایک اور آدمی بولا امیر المؤمنین میں بھی ایک واقعہ سناتا ہوں جو اسی طرح کا یا اس سے بھی زیادہ عبرت ناک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو بھی اجازت دے دی ۔عبرت کا چوتھا واقعہ : قبیلہ جہینہ کا ایک آدمی قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگوں کے پڑوس میں جا کر رہنے لگا ۔ دور جاہلیت میں چنانچہ بنو ضمرہ کا ایک سرکش آدمی تھا نام اس کا ریشہ تھا وہ اس آدمی پر بہت زیادتی کرتا تھا کبھی اس کا کوئی اونٹ ذبح کر دیتا کبھی کوئی اور تکلیف دیتا اس نے تنگ آکر ایک دن اس کی شکایت اس کی قوم سے کی ان لوگوں نے بجائے اس کو سمجھانے اور روکنے کے اسی مظلوم کی حوصلہ شکنی کی اور بولے کہ میاں ہم اس کی بیک پر اور اس کی پشت پر ہیں ۔ ہم نے اس کو آزادی دے رکھی ہے دیکھ لے اگر تو نے اس کو نقصان پہنچائے گا تو کیا ہو گا ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ باز آنے والا نہیں ہے اس نے اس کو مہلت دی حتٰی کہ جب حرمت والا مہینہ آیا تو اس نے اس کے خلاف بد دعا کی ۔ کہا ریشہ ال ضمرہ سمیت سچا ہے ؟ کیا اللہ کو اس پر قدرت نہیں ہے ؟ کیا وہ نہیں چھوڑے گا نہ اونٹنی کو یا اونٹ کو بری طرح ان کو نیزے مار کر بری طرح زخمی کرے گا ۔ پس کاٹ دے اس کو آب دار تلوار کے ساتھ نکال دے اس کو وادی سے اے اللہ اگر وہ ہے وادی میں حد سے تجاوز کرتا ۔ اے اللہ اگر تو آنکھوں کے سامنے اس کی سزا اور موت جو کھا جائے اس کو حتٰی کہ پہنچ جائے قبر تک ۔ چنانچہ اللہ نے اس پر ایک گوشت خورے کی بیماری مسلط کر دی حتٰی کہ وہ ایک سال کے اندر اندر مر گیا ۔ حضرت عمر نے سن کر فرمایا سبحان اللہ اس میں بھی بڑی عبرت اور حیرت کی بات ہے ۔مذکورہ واقعات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تبصرہ : بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ ان کی جاہلیت کے دور میں ایسے ایسے کرتا تھا ان کے بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تھا ۔جب اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آئے ہیں تو اب اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کو قیامت تک مؤخر کر دیا ہے اس کو ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اپنی مقدس کتاب میں :"ان یوم الفضل میقاتھم اجمعین "بے شک فیصلے کا دن یعنی قیامت ان کو مقررہ وقت ہے سب کا اور بے شک ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے ۔اور قیامت سب سے زیادہ ہولناک ہے اور سب سے زیادہ کڑوی ہے ۔

بينما نحن عند عمر بن الخطاب في يوم يعرض فيه الديوان ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبو بكر محمد بن أحمد بن أبي خالد الأصبهاني العدل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3810

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3811

3811 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو نصر رشيق بن عبد الله الرومي املاء من كتابه بالطابران أنا الحسين بن إدريس الأنصاري نا خالد بن الهياج عن أبيه عن سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان الفارسي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في رجب يوم و ليلة من صام ذلك اليوم و قام تلك الليلة كان كمن صام من الدهر مائة سنة و هو لثلاث بقين من رجب و فيه بعث الله محمدا صلى الله عليه و سلم و روي ذلك بإسناد آخر أضعف من هذا كما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی ابو نصر رشیق بن عبداللہ روی نے ببور املا ءاپنی کتاب سے طہران میں ان کو حسین بن ادریس انصاری نے ان کو خالد بن ہیاج نے ان کو ان کے والد نے ان کو سلیمان تمیمی نے ان کو ابو عثمان نے ان کو سلمان فارسی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ رجب کے مہینے کا ایک دن اور ایک رات ہے جو شخص اس دن کا روزہ رکھے اور اس رات کو قیام کرے وہ ایسے ہے کہ جیسے اس نے سو سال تک سال بھر کا روزہ رکھا ہے اور وہ ہے جب رجب کی تین راتیں باقی رہ جائیں ( یعنی ستائیسویں رات اور دن ) اور اس میں اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو بنوت عطا کی اور یہ روایت ایک اسناد کے ساتھ مروی ہے جو اس سے زیادہ ضعیف ہے (جیسے آنے والی روایت )۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبِيهِ ← خَالِدُ بْنُ الْهَيَّاجِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ← أبو نصر رشيق بن عبد الله الرومي املاء من كتابه بالطابران ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3811

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3812

3812 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو صالح خلف بن محمد ببخارى أنا مكي بن خلف و إسحاق بن أحمد قالا : نا نصر بن الحسين أنا عيسى و هو الغنجار عن محمد بن الفضل عن أبان عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة و ذلك لثلاث بقين من رجب فمن صلى فيها اثنتي عشر ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب و سورة من القرآن يتشهد في كل ركعتين و يسلم في آخرهن ثم يقول : سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر مائة مرة و يستغفر الله مائة مرة و يصلي على النبي صلى الله عليه و سلم مائة مرة و يدعو لنفسه ما شاء من أمر دنياه و آخرته و يصبح صائما فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو صالح نے ان کو خلف بن محمد نے بخارا میں ان کو مکی بن خلف نے اور اسحٰق بن احمد نے دونوں کو نصر بن حسین نے ان کو عیسیٰ نے وہ غنجار ہیں ۔ ان کو محمد بن فضل نے ان کو بان نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کہ آپ نے فرمایا کہ رجب میں ایک ایسی رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے لئے سو سال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ اس وقت ہوتی ہے جب رجب کی تین راتیں باقی رہ جاتی ہیں ( یعنی ستائیسویں ) جو شخص اس میں بارہ رکعت نماز پڑھے بایں صورت کہ ہر رکعت میں فاتحہ الکتاب پڑھے اور قرآن کی کوئی سورۃ پڑھے اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے اور سلام پھیر دے اس کے بعد کہے ۔ سبحان اللہ ولاحمد اللہ والا الہ الا اللہ واللہ اکبر ایک سو مرتبہ اور اللہ سے استغفار کرے ایک سو مرتبہ اور نبی کریم پر صلوٰۃ بھیجے ایک سو مرتبہ اور پھر اپنے لئے دعا مانگے جو چاہے اپنی دنیا اور آخرت کے بارے میں اور صبح کو روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اس کی پوری دعا قبول کریں گے ہاں مگر یہ ہے کہ گناہ کی دعا کرے تو قبول نہیں ہو گی ۔

أَنَسٍ، ← أَبَانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عيسى و هو الغنجار ← نصر بن الحسين، ← مكي بن خلف و إسحاق بن أحمد ← أبو صالح خلف بن محمد، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3812

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3813

3813 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى نا حفص بن أحمد بن نصير حدثني جدي نصير بن يحيى نا عيسى بن موسى عن نوح بن أبي مريم عن زيد العمي عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : خيرة الله من الشهور شهر رجب و هو شهر الله من عظم شهر رجب فقد عظم أمر الله و من عظم أمر الله أدخله جنات النعيم و أوجب له رضوانه الأكبر و شعبان شهري فمن عظم شعبان فقد عظم أمري و من عظم أمري كنت له فرطا و ذخرا يوم القيامة و شهر رمضان شهر أمتي فمن عظم شهر رمضان و عظم حرمته و لم ينتهكه و صام نهاره و قام ليله و حفظ جوارحه خرج من رمضان و ليس عليه ذنب يطلبه الله به قال الإمام أحمد : هذا إسناد منكر بمرة و قد روي عنه عن أنس غير هذا تركته فقلبي نافر عن رواية المناكير التي أتوهمها لا بل أعلمها موضوعة و الله يغفر لنا برحمته و أما الحديث الذي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد کرابیسی نے بخارا میں ان کو حفص بن احمد بن نصیر نے ان کو ان کے دادا نصیر بن یحییٰ نے ان کو عیسیٰ بن موسیٰ نے ان کو نوح بن ابو مریم نے ان کو زید عمی نے ان کو یزید رقاشی نے ان کو انس بن مالک نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ کے پسندیدہ مہینوں میں سے ہے رجب یہ اللہ کا مہینہ ہے جو شخص رجب کی تعظیم کرے اس نے اللہ کے امر کی تعظیم کی اور جس نے اللہ کے امر کی تعظیم کی اللہ اس کو نعمتوں والے باغات میں داخل کریں گے اور اس کے لئے بڑی رضا مندی واجب کر دیں گے اور شعبان میرا مہینہ ہے جو شخص شعبان کی تعظیم کرے گا اس نے میرے امر کی تعظیم کی اور جو میرے امر کی تعظیم کرے گا میں اس کے لئے آخرت کے لئے پیش اور ذخیرہ ہوں گا قیامت کے دن ۔ ماہ رمضان میری امت کا مہینہ ہے جو رمضان کے مہینے کی تعظیم کرے گا اور اس کی حرمت کی تعظیم کرے اور اس کی حرمت ریزی نہ کرے اور اس کے دن کے روزے رکھے اور اس کی راتوں کا قیام کرے اور اپنے اعضا ء کی حفاظت کرے وہ رمضان میں سے نکلے گا حالانکہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کو پیشی کے لئے طلب کرے ۔امام احمد نے فرمایا : یہ ایسی اسناد ہے جو منکر ہے کئی کئی بار اور تحقیق روایت کی گئی ہے ۔ ان سے حضرت انس سے سوائے اس کے ۔ میں نے اس کو ترک کر دیا ہے بس میرا دل نفرت کرتا ہے منکر روایات سے جن کو میں منکر خیال کرتا نہیں ہوں بلکہ جن کو میں موضوع جانتا ہوں اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اپنی رحمت کے ساتھ ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عِيسَى بْنُ مُوسَى، ← جدي نصير بن يحيى ← حفص بن أحمد بن نصير ← خلف بن محمد الكرابيسي ببخارى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3813

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3814

3814 - أخبرنا أبو بكر عبد الله بن محمد السكري أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديبلي بمكة أنا محمد بن علي بن زيد الصائغ نا إبراهيم بن المنذر نا داود بن عطاء نا يزيد بن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب عن سليمان بن علي عن أبيه عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن صوم رجب كله فهكذا رواه داود بن عطاء و ليس بالقوي إنما الرواية فيه عن ابن عباس من فعل النبي صلى الله عليه و سلم ما قدمنا ذكره في أول هذا الباب فحرف الفعل إلى النهي و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو بکر عبداللہ بن سکری نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم یعلیٰ نے مکہ میں ان کو محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو داؤد بن عطا ء نے ان کو یزید بن عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے ان کو سلیمان بن علی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے منع فرمایا تھا پورے رجب کے روزوں سے ۔ پس اسی طرح روایت کیا ہے اس کو داؤد بن عطا ء نے وہ قوی نہیں ہے سوائے اس کے نہیں کہ اس میں روایت ابن عباس سے ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے عمل سے جس کا ہم نے ذکر کیاہے اس باب کے شروع میں لہذا عمل کو پھرا گیا ہے انہی کی طرف ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← سليمان بن علي ← يزيد بن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب ← دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الديبلي بمكة ← أبو بكر عبد الله بن محمد السكري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3814

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص شهر رجب بالذكر · حديث 3815

3815 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن المؤمل نا الفضل بن محمد الشعراني نا القواريري نا زائدة نا زياد النميري عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل رجب قال : اللهم بارك لنا في رجب و شعبان و بلغنا رمضان و كان يقول ليلة الجمعة ليلة غراء أو يوم الجمعة يوم أزهر تفرد يه زياد النميري و عند زائدة بن أبي الرقاد قال البخاري زائدة بن أبي الرقاد عن زياد النميري منكر الحديث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن مؤمل نے ان کو فضل بن محمد شعرانی نے ان کو قواریری نے ان کو زائدہ نے ان کو زیاد نمیری نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی عادت تھی کہ جب رجب آ جاتا تو یوں دعا کرتے تھے اے اللہ برکت عطا فرما ہمارے لئے رجب میں اور شعبان میں اور ہمیں پہنچا دے رمضان تک اور آپ فرماتے تھے جمعہ کی رات کو روشن رات اور جمعہ کا دن یوم ازہر تر و تازہ دن ۔

أَنَسٍ، ← زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the month of Rajab to mention · Hadith 3815

chevron_left Previous
1…919293…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood