Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2805

2805 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري ثنا عثمان بن حرزاد ثنا سهل بن بكار ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري قال : قال نبي الله صلى الله عليه و سلم : الطهور شطر الإيمان و الحمد لله تملأ الميزان و لا إله إلا الله و الله أكبر تملان ما بين السماء و الأرض و الصلاة نور و الصدقة برهان و الصبر ضياء و القرآن حجة لك أو عليك و كل الناس يغدوا فبائع نفسه فمعتقها أو موبقها أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمویہ عسکری نے ان کو عثمان بن حرزاد نے ان کو سہل بن بکار نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابو سلام نے ان کو ابو مالک اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔کہ وضو کرنا (طہارت ) نصف ایمان ہے اور الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے اور لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر بھر دیتے ہیں جو کچھ ارض و سماء کے درمیان ہے اور نماز نور ہے اور صدقہ برہان ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے لیے یا تیرے خلاف اور سب لوگ جب صبح کرتے ہیں تو اپنے آپ کو بیچتے ہیں بعض تو اسے آزاد کراتے ہیں اور بعض اس کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں ۔ اسکو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ حُرَّزَادٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2805

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2806

2806 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن الحكم عن عروة بن النزال أو النزال بن عروة عن معاذ بن جبل قال : قلت يا رسول الله : أخبرني بعمل يدخلني الجنة ؟ قال : بخ بخ لقد سألت عن عظيم و إنه ليسير على من يسره الله عليه صل الصلوات المكتوبة و أد الزكاة المفروضة أولا أخبرك برأس الأمر و عموده و ذروة سنامه أما رأس الأمر فالإسلام من أسلم سلم و عموده الصلاة و ذروة سنامه الجهاد في سبيل الله ألا أدلك على أبواب الخير الصوم جنة و الصدقة تطفىء الخطيئة و قيام العبد من جوف الليل و تلا : { تتجافى جنوبهم عن المضاجع } إلى آخر الآية أو لا أخبرك باملك ذلك قال : فاطلع ركب أو راكب فأشار رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده إلى لسانه فقلت و إنا لنؤاخذ بما نتكلم بألسنتنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثكلتك أمك يا معاذ و هل يكب الناس على مناخرهم في النار إلا حصائد ألسنتهم

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو حکم نے ان کو عروہ بن نزال نے یا نزال بن عروہ نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے ایسے عمل کی خبردیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرادے۔ آپ نے فرمایا ٹھہر ٹھہر البتہ تحقیق تم نے بہت بڑی چیز مانگی ہے اور بے شک وہ البتہ آسان ہے اس پر جس پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے۔ تم فرض نمازیں ادا کرو اور فرض زکوٰۃ کرو پہلے یہ کام کرو۔ میں تمہیں خبر دیتا ہوں اصل امر کی اور اس کے ستون کی اور اس کی بلند ترین چوٹی کی ۔ بہر حال اصل امر تو اسلام ہے جو شخص اسلام لایا وہ بچ گیا اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ کیا میں تجھے خیر کے ابواب کی رہنمائی نہ کروں۔ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور بندے کا رات کو تہجد پڑھنے کے لیے قیام کرنا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: تتجا فی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفا وطمعا ومما رزقنھم ینفقون۔ ان لوگوں کی گروٹیں بستروں سے علیحدہ ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف اور امید کی حالت میں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (اس کے بعد فرمایا کہ ) کیا میں تمہیں اس کے سب سے زیادہ مالک کی خبر نہ دوں۔ فرمایا' پس آگاہ رہ سواری یا سوارپر (یعنی نگرانی کر) اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ کیا ہم سے اس پر بھی باز پرس ہو گی جوکچھ ہم اپنی زبانوں کے ساتھ کلام کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تیری ماں تجھے گم پائے اے معاذ لوگوں کو ان کی ناک کے بل جہنم میں نہیں ڈلوائے گی کوئی بھی چیز مگر ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی چیزیں۔ (یعنی محاورہ کہ انسان جو بوتا ہے وہی کچھ کاٹتا ہے جو کچھ زبانیں بولیں گی اسی کا صلہ پائیں گے۔ (مترجم)

قُلْتُ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عروة بن النزال أو النزال بن عروة ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2806

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2807

2807 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن أحمد بن شعيب بن هارون بن موسى الفقيه ثنا زكريا بن يحيى بن موسى بن إبراهيم النيسابوري ثنا يحيى بن يحيى أنا وهب بن جرير ثنا شعبة عن قتادة عن عكرمة عن عمر قال : جاء رجل فقال يا رسول الله أي شيء أحب عند الله في الإسلام قال : الصلاة لوقتها و من ترك الصلاة فلا دين له و الصلاة عماد الدين قال أبو عبد الله : عكرمة لم يسمع من عمر و أظنه أراد عن ابن عمر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن احمدبن شعیب بن ہارون بن موسیٰ فقیہ نے ان کو زکریا بن یحیٰ بن موسی بن ابراہیم نیشا پوری نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو عکرمہ نے ان کو عمر نے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی آیا اور بولا یا رسول اللہ کون سی چیز اللہ کے ہاں زیادہ محبوب ہے اسلام میں فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا اور جو شخص نماز کو چھوڑ دے اس کا کوئی دین نہیں ہے اور نماز دین کا ستون ہے ابو عبداللہ نے کہا کہ عکرمہ سے نہیں سنا اور میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ابن عمر ہے۔

جاء رجل ← عُمَرَ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← زكريا بن يحيى بن موسى بن إبراهيم النيسابوري ← أبو حامد أحمد بن محمد بن أحمد بن شعيب بن هارون بن موسى الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2807

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الحادي و العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الصلوات · حديث 2808

2808 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد الخسروجردي ثنا موسى بن عبد المؤمن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا معاذ بن معاذ العنبري عن عمران بن حدير و حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أحمد بن جعفر بن مالك القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا عبيد الله بن عمر القواريري ثنا عثمان بن عمر ثنا عمران بن حدير عن عبد الملك عن حمران بن أبان عن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من علم أن الصلاة حق واجب دخل الجنة و في رواية معاذ عبد الملك هذا هو ابن عبيد السدوسي حق مكتوب و قال عن حمران مولى عثمان بن عفان و الباقي سواء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد خسرو گردی نے ان کو موسیٰ بن عبدالمومن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو معاذ بن معاذ عنبری نے ان کو عمران بن حدیر نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو احمد بن جعفر بن مالک قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبیداللہ عمر قواریری نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو عمران بن حدیر نے ان کو عبدالملک نے ان کو حمران بن ابان نے ان کو عثمان بن عفان نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے یقین جان لیا کہ نماز واجب حق ہے وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ اور معاذ کی ایک روایت میں ہے یعنی معاذ عبدالملک یہ وہی ابن عبید سدوس ہے (ان کی روایت میں ہے حد مکتوب ۔ ایسا حق جو فرض ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ مروی ہے حمران مولی عثمان بن عفان سے اور باقی تمام سند میں برابر ہیں۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أحمد بن جعفر بن مالك القطيعي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← عمران بن حدير و ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ← أبو حامد الخسروجردي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter twenty-first of the people of faith and it is a chapter in prayers · Hadith 2808

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2809

2809 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ثنا أحمد بن إبراهيم ثنا ابن بكير ثنا الليث عن ابن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أرأيتم لو أن نهرا باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات ما تقولون مبقيا من درنه قالوا : لا يبقى من درنه شيئا قال : فذلك مثل الصلوات الخمس يمحو الله بهن الخطايا رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن الليث و أخرجه البخاري من وجه آخر عن ابن الهاد

"یعنی ان کو ادا کرنے سے جو گناہ مٹتے ہیں"۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ابن ہاد نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ انہوں نے رسول اللہ سے سنا فرماتے تھے۔ تم بھلا بتلاؤ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے کے سامنے نہر ہو جس سے وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تم کیا کہتے ہو اس کی میل باقی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی میل کچھ باقی نہیں رہے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال ہے پانچ نمازوں کی اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیں گے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے اس نے لیث سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ابن ھاد سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2809

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2810

2810 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن يحيى بن بلال ثنا محمد بن الوليد البغدادي بمكة ثنا يعلى بن عبيد الطنافسي و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا عباس بن محمد ثنا يعلي بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الصلوات المكتوبات كمثل نهر جار عذب على باب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات و في رواية الفقيه مثل الصلوات الخمس مثل نهر جار على باب أحدكم يغتسل فيه كل يوم خمس مرات فماذا يبقى من درنه

ہمیں خبر د ی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن یحییٰ بن بلال نے ان کو محمد بن ولید بغدادی نے مکہ مکرمہ میں ان کو یعلیٰ بن عبید طنافسی نے اور ہمیں خبر دی ہےا بو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرض نمازوں کی مثال بہتی نہر کی جیسی ہے جو میٹھے پانی کی ہو تمہارے دروازے پر جس سے وہ روزانہ پانچ بار نہائے۔ اور فقیہ کی روایت میں ہے کہ پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے کے سامنے جاری نہر کی سی ہے۔ جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہائے تو اس کے میل میں سے کیا باقی رہے گا؟

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← يعلى بن عبيد الطنافسي و ← محمد بن الوليد البغدادي بمكة ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلاَلٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2810

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2811

2811 - أخبرنا أبو بكر القاضي أنا الحاجب بن أحمد ثنا محمد بن حماد ثنا أبو معاوية ح و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى ثنا محمد بن أيوب ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو معاوية : فذكره بإسناده على لفظ الفقيه غير أنه قال الحسن و ما يبقى ذلك من الدرن ؟ أخرجه مسلم في الصحيح عن أبي بكر ابن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر قاضی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو ابو معاویہ نے۔ (ح) ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو ابو معاویہ نے پھر مذکورہ حدیث کو اس کی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ فقیہ کی روایت کے الفاظ کے مطابق : علاوہ اس کے انہوں نے کہا ہے کہ حسن نے کہا کہ میل میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا۔

أبي بكر ابن أبي شيبة ← الحسن و ما يبقى ذلك من الدرن أخرجه مسلم في الصحيح ← أبو معاوية فذكره بإسناده على لفظ الفقيه غير أنه ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← الحاجب بن أحمد ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2811

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2812

2812 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا عباس بن محمد ثنا محمد بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار على باب أحدكم يغتسل كل يوم خمس مرات ماذا يبقى من درنه قال أبو الفضل العباس بن محمد الدوري هذا حديث غريب قال البيهقي رضي الله عنه : و هذا لأن الجماعة إنما رووه عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر و محمد بن عبيد رواه عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو عباس بن محمد نے انکو محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سوائے اس کے نہیں کہ پانچ نمازوں کی مثال تمہارے دروازے پر جاری نہر کی جیسی ہے جس میں وہ روز مرہ پانچ بار نہائے اس کی کتنی کچھ میل باقی رہے گی؟ ابو الفضل عباس بن محمد دوری نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ امام بیہقی نے فرمایا کہ اس کے لیے ہے کہ جماعت نے اس کو روایت کیا ہے اعمش سے اس نے ابو سفیان سے اس نے جابر سے اور محمد بن عبید سے اس کو روایت کیا ہے۔ انہوں نے اعمش سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابو ہریرہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2812

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2813

2813 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين القطان أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا علي بن عبد الله و عيسى بن محمد قالا : ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني ابن أخي ابن شهاب عن عمه أخبرني صالح بن عبد الله بن أبي فروة أن عامر بن سعد بن أبي وقاص أخبره أنه سمع أبان بن عثمان قال : قال عثمان بن عفان رضي الله عنه : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أرأيت لو كان بفناء أحدكم نهر يغتسل منه كل يوم خمس مرات ماذا كان مبقيا من درنه ؟ قالوا : لا شيء قال : فإن الصلوات الخمس يذهبن الذنوب كما يذهب الماء الدرن

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین محمد بن حسین قطان سےا س نےعبداللہ بن جعفر نحوی سے اس نے یعقوب بن سفیان سے اس نے علی بن عبداللہ سے اور عیسیٰ بن محمد سے دونوں نے کہا ان کو بیان کیا ہے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے بھتیجے ابن شہاب نے انکو ان کے چچا نے ان کو صالح بن عبداللہ بن ابو فروہ نے کہ عامر بن سعد بن ابو وقاص نے اس کو خبر دی ہے کہ انہوں نے سنا ابان بن عثمان سے انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے تم بتلاؤ بھلا اگر تمہارے کسی ایک صحن میں نہر ہو جس میں سے روزانہ پانچ بار غسل کرے اس کی کتنی میل باقی رہے گی؟ لوگوں نے کہا کہ کوئی شے بھی باقی نہیں رہے گی۔ آپ نے فرمایا بے شک پانچ نمازیں گناہوں کو اسی طرح دو ر کریں گی جیسے پانی میل کچیل کو۔

صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← علي بن عبد الله و عيسى بن محمد ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2813

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2814

2814 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ثنا محمد بن إسماعيل بن مهران ثنا أبو الربيع بن أخي رشدين و أبو الطاهر قالا : ثنا عبد الله بن وهب أخبرني مخرمة بن بكير عن أبيه عن عامر بن سعد بن أبي وقاص قال : سمعت سعدا و ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يقولون كان رجلان أخوان من عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم و كان أحدهما أفضل من الآخر فتوفي الذي هو أفضلهما ثم عمر الآخر بعده أربعين ليلة ثم توفي فذكروا لرسول الله فضيلة الأول على الآخر فقال : ألم يكن يصلي ؟ قالوا : بلى يا رسول الله و كان لا بأس به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فما يدريكم ماذا بلغت به صلاته إنما مثل الصلوات كمثل نهر جار بباب رجل غمر عذب يقتحم فيه كل يوم خمس مرات فماذا ترون يبقى من درنه لا تدرون ماذا بلغت به صلاته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانئ نے ان کو محمد بن اسماعیل بن مہران نے اس نے ان کو ابوالر بیع بن اخی رشدین اور ابو طاہر نے دونوں نے کہا کہ ان کو بیان کی ہے عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی ہے مخرمہ بن بکیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو عامر بن سعد بن ابو وقاص نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعد سے اور اصحاب رسول سے کہ کئی لوگوں سے وہ فرماتے تھے دو آدمی تھے عہد رسول میں دونوں بھائی تھے ایک دوسرے سے افضل تھا جو افضل تھا اس کی وفات ہو گئی تھی اس کے بعد دوسرا بھائی چالیس دن زندہ رہا پھر اس کی بھی وفات ہو گئی۔ لوگوں نے پہلے کی دوسرے پر فضیلت ذکر کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ دوسرا نماز نہیں پڑھتا تھا لوگوں کہا جی ہاں یا رسول اللہ وہ نماز پڑھتا تھا اور وہ لا پروائی کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کس چیز نے تمہیں بتایا ہے کہاں تک پہنچی تھی اس کی نماز یقینی بات ہے کہ نمازوں کی مثال نہر جاری کے ہے جو کسی آدمی کے دروازے کے پاس ہو پانی کثیر بھی ہو شیریں بھی ہو روزانہ وہ اس میں پانچ بار گھستا ہو تم کیا دیکھتے ہو اس کی میل باقی رہے گی تو لوگ نہیں جانتے کہ کہا تک پہنچایا تھا اس کو اس کی نماز نے۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أبو الربيع بن أخي رشدين و أبو الطاهر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2814

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2815

2815 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي قال : ثنا مسدد ثنا يزيد بن زريع ثنا سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن ابن مسعود : أن رجلا أصاب من امرأة قبلة فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فأنزلت : { أقم الصلاة طرفي النهار و زلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين } فقال الرجل : يا رسول الله إلي هذه ؟ قال : لمن عمل بها من أمتي رواه البخاري في الصحيح عن مسدد و و رواه مسلم عن قتيبة و غيره عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحق قاضی نے ان کو مسدد نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان مھدی نے ان کو ابن مسعود نے کہ ایک آدمی نے ایک غیر عورت کو بوسہ لے لیا تھا اس کے بعد (اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ) وہ حجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عرض کی (اللہ تعالیٰ نے اس کی اسی مذمت کی وجہ سے اس کی توبہ قبول کر لی) اور یہ آیت نازل ہوئی۔ اقم الصلوٰۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذالک ذکری للذاکرین۔دن کے دونوں اوقات میں نماز قائم کیجیے اور رات کا ایک حصہ بھی بے شک نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ یاد کرنے والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ ایک آدمی نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اس کا فیض صرف اسی بندے تک پہنچے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر اس بندے کے لیے میری امت میں سے جو اس پر عمل کرے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مسدد سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے قتیبہ وغیرہ سے اس نے یزید سے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2815

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2816

2816 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا محمد بن نافع ثنا عبد الله بن المغيرة ثنا مسعر عن أبي صخرة عن حمدان عن عثمان : جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم عند انصرافه صلى بنا هذه الصلاة و أراها صلاة العصر قال : لا أدري أحدثكم شيئا أو أدع فقلنا : يا رسول الله إن كان خيرا فحدثنا و إن كان غير ذلك فالله و رسوله أعلم فقال : ما من رجل مسلم يتم الطهور الذي كتب الله عز و جل ثم يصلي هؤلاء الصلوات الخمس إلا كن كفارات لما بينهن أخرجه مسلم في الصحيح من حديث وكيع عن مسعر

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو محمد بن نافع نے ان کو عبداللہ بن مغیرہ نے ان کو مسعر نے ان کو ابو صخرہ نے ان کو حمدان نے ان کو عثمان نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے چلے جانے کے بعد جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی تشریف لائے اور ہمیں وہ نماز پڑھائی میرا خیال ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اس کے بعد فرمانے لگے۔ میں نہیں جانتا کہ میں بتاؤں یا چھوڑ دوں ۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ اگر خیر ہے تو پھر بیان کیجیے اور اگر کوئی برائی ہے تو پھر اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی مسلمان آدمی جو پورا پورا وضو کرے جو اللہ نے اس پر فرض کر دیا ہے اس کے بعد یہ پانچ نمازیں پڑھے یہ ان کے درمیانی اوقات کے لئے کفارہ بنیں گی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے حدیث وکیع سے اس نے مسعر سے۔

حمدان ← أَبِي صَخْرَةَ ← مِسْعَرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← محمد بن نافع، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2816

chevron_left Previous
1…8910…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood