Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3768

3768 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عباس بن الفضل الأسفاطي نا خليفة نا المعتمر بن سليمان عن أبيه عن رجل عن عبد قيس عن الفضل بن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حفظه لسانه و سمعه و بصره يوم عرفة غفر له من عرفة إلى عرفة و روينا في هذا المعنى من وجه آخر موصول في كتاب الحج

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل اسفاطی نے ان کو خلیفہ نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ایک آدمی نے عبد قیس سے ان کو فضل بن عباس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ آپ نے فرمایا جو شخص یوم عرفہ کے دن اپنی زبان کی اپنے کانوں کی اور اپنی نظر کی حفاظت کر لے عرفہ سے عرفہ تک کی بخشش ہو جاتی ہے اور ہم نے اسی مفہوم کو روایت کیا ہے اور وجہ سے جو موصول ہے کتاب الحج میں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← عبد قيس ← رَجُلٌ: ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← خَلِيفَةُ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3768

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3769

3769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا عبيد الله بن موسى عن عمارة بن ذكوان بياع الملاء عن مجاهد عن ابن عباس قال : ـ { اذكروا الله في أيام معدودات } قال أيام العشر و الأيام المعلومات أيام النحر قال : و كان المشركون يجلسون في الحج فيذكرون أيام آبائهم و ما يعدون من أنسابهم يومهم أجمع فأنزل الله عز و جل على رسوله في الإسلام : { اذكروا الله كذكركم آباءكم أو أشد ذكرا } كذا وجدته و هو خطأ و الصحيح ما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو عمارہ بن ذکوان نے ان کومجاہد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ "اذکرو اللہ فی ایام معدودات" ۔ اللہ کو یا د کرو چند مخصوص ایام میں فرمایا کہ مراد ہیں دس دن (ایام العشر) اور ایام معلومات (معلوم' مخصوص ایام) ایام النحر میں فرماتے ہیں کہ مشرکین حج میں بیٹھتے تھے اور اپنے آباؤ اجداد کے تذکرے کرتے تھے ان کے ایام کو یاد کرتے اور ان کے انساب کو جامع طور پر بیان کرتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اسلام کا یہ حکم نازل فرمایا " اذکرو اللہ کذکرکم اباء کم اواشد ذکرا " ۔ اللہ کو یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو اور اس سے بھی بہت زیادہ یاد کرو۔ میں نے اس کو ایسے ہی پایا ہے مگر وہ غلط ہے اور صحیح وہ ہے ( جو نیچے درج ہے)۔

أيام العشر و الأيام المعلومات أيام النحر ← اذكروا الله في أيام معدودات ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عمارة بن ذكوان بياع الملاء ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3769

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص يوم عرفة بالذكر · حديث 3770

3770 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا عفان بن مسلم عن هشيم نا أبو بشر عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : الأيام المعلومات أيام العشر و الأيام المعدودات أيام التشريق قال و نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو حذيفة عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : الأيام المعلومات العشر و الأيام المعدودات أيام التشريق

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو ہیثم نے ان کو ابو بشر نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ ایام معلومات ایام عشر ہیں اور ایام معدودات ایام تشریق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے انہوں نے کہا کہ ایام معلومات دس دن میں اور ایام معدودات ایام تشریق ہیں۔ ماہ محرم کا خاص ذکر کرنا۔۔۔ یعنی محرم کا خاص تذکرہ ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " والفجر ولیال عشر "

الأيام المعلومات العشر و الأيام المعدودات أيام التشريق ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← و، ← الأيام المعلومات أيام العشر و الأيام المعدودات أيام التشريق ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating the day of Arafah to mention · Hadith 3770

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ خصيص شهر المحرم بالذكر · حديث 3771

3771 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا نوح بن قيس الحداني نا عثمان بن محصن أن ابن عباس كان يقول في : ـ { الفجر * وليال عشر } قال : الفجر هو المحرم فجر السنة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کوابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو نوح بن قیس حدانی نے ان کو عثمان بن محصن نے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے الفجر ولیا ل عشر کے بارے میں فجر سے مراد ہے سال کی فجر ہے۔

الفجر هو المحرم فجر السنة ← في الفجر وليال عشر ← عثمان بن محصن أن ابن عباس كان ← نوح بن قيسٍ الحداني، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Specially the month of Muharram mentioning · Hadith 3771

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ خصيص شهر المحرم بالذكر · حديث 3772

3772 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا موسى بن إسماعيل و مسدد قالا : نا أبو عوانة قال : و أخبرني أحمد بن سهل البخاري نا قيس بن أنيف نا قتيبة بن سعيد نا أبو عوانة عن أبي بشر عن حميد بن عبد الرحمن الحميري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصيام بعد شهر رمضان شهر الله المحرم و أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل لفظ حديث قتيبة رواه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے اور مسدد نے ان کو خبر دی ہے ابو عوانہ نے انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے احمد بن سہل بخاری نے ان کو قیس بن انیف نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابو عوانہ نے انکو ابو بشر نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کےبعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم کا ہے اور افضل نماز فرض کے بعد تہجد کی نماز ہے۔ یہ الفاظ حدیث قتیبہ کے ہیں اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف ← أحمد بن سهل البخاري ← و، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← موسى بن إسماعيل و مسدد ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Specially the month of Muharram mentioning · Hadith 3772

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ خصيص شهر المحرم بالذكر · حديث 3773

3773 - أخبرنا أبو نصر أحمد بن علي بن أحمد الفامي نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا يحيى بن محمد بن يحيى نا مسدد و الحجبي قالا : نا أبو عوانة عن أبي بشر : فذكره بإسناده مثله

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر احمد بن علیبن احمد الفای نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے اور حجبی نے دونوں کو ابو عوانہ نے ان کو ابو بشر نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے اس نے اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔

أبي بشر فذكره بإسناده مثله ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مسدد و الحجبي ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو نصر أحمد بن علي بن أحمد الفامي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Specially the month of Muharram mentioning · Hadith 3773

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ خصيص شهر المحرم بالذكر · حديث 3774

3774 - قال و نا الحجبي و مسدد قالا : نا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن محمد بن المنتشر عن حميد بن عبد الرحمن الحميري عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أفضل صيام بعد شهر رمضان شهر الله الذي تدعونه المحرم و أفضل الصلاة بعد الفريضة الصلاة في جوف الليل و كذا رواه زائدة بن قدامة و جرير بن عبد الحميد عن عبد الملك و أخرجهما مسلم في الصحيح

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے حجبی نے اور مسدد نے ان دونوں کو ابو عوانہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو محمد بن منتشر نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اس ماہ کا ہے جس کو تم محرم کے نام سے پکارتے ہو اور افضل نماز فرائض کے بعد وہ جو رات کے پیٹ میں ہے (یعنی تہجد کی نماز) اسی طرح اس کو روایت کیا ہے زائدہ بن قدامہ نے اور جریر بن عبدالحمید نے ان کو عبدالملک نے اور ان دونوں کو نقل کیا ہے مسلم نے صحیح میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الحجبي و مسدد ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Specially the month of Muharram mentioning · Hadith 3774

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ خصيص شهر المحرم بالذكر · حديث 3775

3775 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن سعد قال : أتى عليا رجل فقال : يا أمير المؤمنين أخبرني بشهر أصومه بعد رمضان قال : لقد سألت عن شيء ما سمعت أحدا يسأل عنه بعد رجل سأل عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن كنت صائما شهرا بعد رمضان فصم المحرم فإنه شهر الله و فيه يوم تاب قوم و يتاب على آخرين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے ان کو نعمان بن سعد نے انہوں نے کہا کہ حضرت علی کے پاس کوئی آدمی آیا اور بولا اے امیرالمؤمنین مجھے ایک مہینے کے بارے میں خبر دیجئے میں جس میں روزہ رکھوں ماہ رمضان کے بعد۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کے بارے میں پوچھا ہے کہ جس کے بارے میں میں نے کسی کو پوچھتے ہوئے نہیں سنا ہاں ایک آدمی نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رمضان کے علاوہ کا روزہ رکھنا چاہتے ہو تو پھر محرم کے روزے رکھو کیونکہ وہ اللہ کا مہینہ ہے اور اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں ایک پوری قوم نے توبہ کی تھی اور دوسری قوم کی توبہ قبول ہوئی تھی۔

شَيْءٍ مَا ← لقد سألت ← بِشَهْرٍ أَصُومُهُ بَعْدَ رَمَضَانَ ← يَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، ← أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Specially the month of Muharram mentioning · Hadith 3775

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص عاشوراء بالذكر · حديث 3776

3776 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو بكر إسحاق أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا أيوب السختياني أخبرني عبد الله بن سعيد بن جبير عن أبيه عن ابن عباس قال : قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة و اليهود تصوم يوم عاشوراء فقال : ما هذا اليوم الذي يصومونه ؟ قالوا : هذا يوم عظيم أنجى الله فيه موسى و أغرق آل فرعون فيه فصامه موسى شكرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فنحن أحق بموسى منكم فصامه رسول الله صلى الله عليه و سلم و أمر بصيامه أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب سختیانی نے ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن سعید بن جبیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف جب لائے تووہاں آباد یہودی یوم عاشورے کا روزہ رکھتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ساد ن ہے جس کا یہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اللہ نے اسی دن میں موسیٰ علیہ السلام کونجات دی تھی اور اسی دن آل فرعون غرق ہوئی تھی۔ اسی دن موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا شکرانے کا لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ (موافقت کرنے کے لئے) تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں لہذا رسول اللہ نے بھی عاشورا ء محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث سفیان بن عیینہ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أبو بكر إسحاق ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Ashura to mention · Hadith 3776

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص عاشوراء بالذكر · حديث 3777

3777 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل نا عبد الله بن شيرويه نا إسحاق و حميد بن مسعدة عن بشر بن المفضل نا خالد بن ذكوان عن الربيع بنت معوذ بن عفراء قالت : أرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم غداة عاشوراء إلى قرى الأنصار التي حول المدينة من كان أصبح صائما فليتم صومه و من كان أصبح مفطرا فليصم بقية يومه زاد حميد قال فكنا بعد ذلك نصومه و نصوم صبياننا الصغار و نذهب بهم إلى المسجد و نجعل لهم اللعية من العهن فإذا بكى أحدهم على الطعام أعطيناها إياه حتى يكون عند الإفطار أخرجاه في الصحيح من حديث بشر بن المفضل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے اب محمد بن زیاد عدل نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحٰق نے اور حمید بن مسعدہ نے ان کو بشر بن مفضل نے ان کو خالد بن ذکوان نے ان کو ربیع بنت معوذ عفراء نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورے کی صبح کو مدینے کے گرد آباد بستیوں میں نمائندہ بھیج کر کہلوایا جس نے اس حال میں صبح کی ہے کہ وہ روزہ کھ چکا ہے وہ اپنا روزہ پورا کرلے اور جس نے روزہ نہیں رکھا وہ (اب سے روزہ رکھلے) اور باقی دن روزے سے گزارے۔ حمید نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ہم لوگ اس کے بعد عاشوراء محرم کا روزہ رکھتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم لوگ ان کو بھی مسجد میں لے جاتے تھے اور ہم ان کو بہلانے کے لئے اون کے کھلونے بنا لیتے تھے جب کھانے کے لئے ان میں سے کوئی بچہ روتا تو ہم اس کو وہ کھلونا (دےکر بہلاتے تھے) یہاں تک کہ افطار کو وقت ہو جاتا۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں بشر بن مفضل کی حدیث سے۔

الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، ← خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← إسحاق و حميد بن مسعدة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Ashura to mention · Hadith 3777

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص عاشوراء بالذكر · حديث 3778

3778 - حدثنا السيد أبو الحسن العلوي نا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا أحمد بن الأزهر بن منيع نا عبد الرزاق عن ابن جريح عن نافع قال : قال عبد الله بن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و ذكر يوم عاشوراء عنده كان يوما يصومه أهل الجاهلية فمن أحب أن يصوم فليصمه و من أحب أن يدعه فليدعه أخرجاه في الصحيح من حديث الليث و غيره عن نافع

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ دقاق نے ان کو احمد بن ازہر بن منیع نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ابن جریج نے ان کو نافع نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب آپ کے سامنے عاشورے کا ذکر ہوا کہ یہ ایک دن تھا اہل جاہلیت جس کا روزہ رکھتے تھے جو شخص (تم میں سے) پسند کرے روزہ رکھنا اسے چاہیے کہ وہ اس دن کا روزہ رکھے اور جو اس کا روزہ نہ رکھنا چاہے وہ چھوڑ دے نہ رکھے۔ بخاری و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث لیث سے اور دیگر نے نافع سے روایت کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ مَنِيعٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← السيد أبو الحسن العلوي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Ashura to mention · Hadith 3778

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص عاشوراء بالذكر · حديث 3779

3779 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا ابن وهب نا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن أبي يزيد عن ابن عباس أنه قال : ما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتحرى صيام يوم يبتغي فضله على غيره إلا هذا اليوم يوم عاشوراء أو شهر رمضان أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نضر نے ان کو ابن وہب نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عبداللہ بن ابو یزید نے ان کو ابن عباس نے کہ انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن کے روزے کی تلاش کرتے ہوں اور اس کی دوسرے دن پر فضیلت طلب کرتے ہوں مگر یہی دن یوم عاشورا کو یا ماہ رمضان کو۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابن عیینہ کی حدیث سے۔

مَا عَلِمْت. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Ashura to mention · Hadith 3779

chevron_left Previous
1…888990…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood